دشتِ وفا کی ہیرو پاک فوج
28 جون 2018 2018-06-28

یاد کرو ان ستم شعار اور خون آشام لیل و نہار کو جب ایک سر پھری اور ادھ مغزی طاقت روس نے 24 اکتوبر 1979ء کو افغانستان میں گھس کر افغانیوں کو آتش مصائب و آلام میں جھونک دیا تھا، افغانستان ان کی منزل ہرگز نہ تھا بلکہ وہ افغانستان کو اپنی نخوت کی نشوونما کا مرکز اور طاقت کی ایک افزائش گاہ سمجھتے تھے۔ درحقیقت وہ پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے مگر 15 فروری 1989ء تک افغانستان ان کیلئے ایک ایسی آزمائش گاہ بن چکا تھا کہ جس نے روس کی ریاستوں کو تتر بتر اور لیر و لیر کر کے حال فقیر بنا کر رکھ دیا تھا، پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے اتنی نفاست کے ساتھ روس کے حصے بخرے کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا کہ روس خود کو بچا ہی نہ پایا۔
1989ء میں روس کی شکست و ریخت کے بعد دنیا میں واحد سپر پاور امریکہ بن گیا تھا جو 2001ء تک 12 سال کی بالی عمر یا میں کھیلن کو چاند (افغانستان) مانگنے کی ضد کر بیٹھا اور اپنی اس الھڑ ضد کی تکمیل کیلئے ناٹو فورسز کے غول اور جتھے لے کر 7 اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر چڑھ دوڑا، دنیا سمجھ بیٹھی تھی کہ اب افغانستان کو تاخت و تاراج کر کے ہمیشہ کیلئے نابود کر دیا جائے گا مگر دور اندیشی کی صفت سے متصف آئی ایس آئی زیر لب کچھ اور طرح کی مسکراہٹ لیے بیٹھی تھی۔ ایک ایسا تبسم جس سے امریکہ کی بھیانک شکست پنہاں تھی اس لئے کہ امریکہ کا بھی اصل ہدف افغانستان نہیں بلکہ ایٹمی پاکستان تھا۔ افغانستان میں امریکہ کو پھینٹی لگنا شروع ہو گئی اور وہ کسی بھی گھاؤ سے اٹھنے والے درد پر چیخ پکار تک نہیں کر سکا کہ اس کیلئے سپر پاور ہونے کے مقام اور مرتبے کا لحاظ ہر درد اور کرب پر مقدم تھا۔ افغانیوں کے ہاں فتح کے پیمانے ساری دنیا سے نرالے ہیں۔ افغانی کسی بھی قابض طاقت کو جتنا طویل عرصے تک افغانستان میں الجھا کر اس کے ساتھ جنگ کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس کو اپنی فتح گردانتے ہیں، جنگ لڑنے اور جیتنے کی کسوٹی جدید دنیا کی ہو یا افغانستان کے کہنہ مزاج لوگوں کی ہر دو سطح پر امریکہ شکست کھا چکا ہے اور آج امریکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کی شکست میں پاکستانی فوج کا کردار سب سے اہم ہے۔ پاک فوج نے بڑی حکمت اور تدبیر کے ساتھ دو ایسی سپر طاقتوں کو افغانستان ہی میں خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا جو پاکستان پر قبضے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آئی تھیں۔
سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت
ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں
آج امریکہ اور بھارت مل کر پاک فوج اور پاک عوام کے مابین محبت آمیز رشتے میں دراڑیں ڈالنے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ یہ بات ذہن نشین کر لے کہ پاک فوج کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنا ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جسے ہم نے ہر سطح پر ناکام و نامراد کرنا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہمیں ان محبتوں میں شگاف ڈالنے والی ساری دلیلوں اور منطقوں کا سرنگوں کرنے کا ہنر بھی بخوبی آتا ہے۔
پاک فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ محبت اور عقیدت کے جو رشتے ہم استوار کئے بیٹھے ہیں یہ کسی سے مستعار نہیں لیے گئے یہ تو پاک فوج کی بے لوث قربانیوں کے مرہون منت ہیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے کتنے ہی فوجیوں کے لاشے گھر آئے، کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جو اس ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جان سے گزر گئے۔ ملک و ملت کی نگہبانی کے لئے اپنی جوانیوں کو تج دنیا اتنا آسان تو نہیں ہوا کرتا، اپنے دن کے سکون اور راتوں کی نیند کو اپنی قوم کیلئے قربان کر ڈالنا کوئی معمولی قربانی تو نہیں، پاک فوج کے ہر شیر کے لئے یہ شعر میری طرف سے تحفہ خاص ہے
تیرے لئے یہ دل جو بہت فکر مند ہے
میں کیا کروں کہ دوست مجھے تو پسند ہے
آج انتہائی کم وسائل کے باوجود دنیا کی 20 بہترین افواج میں پاکستان کی فوج بھی شامل ہے۔ اپنی فوج پر 627 ارب ڈالر سالانہ خرچ کرنے والے ملک امریکہ کی فوج کو اگرچہ پہلا نمبر دیا گیا ہے مگر دنیا بخوبی جانتی ہے کہ قربانیاں دینے اور توانا عزم کے ساتھ کسی بھی دشمن کا سامنا کرنے میں پاک فوج کا کوئی ثانی نہیں ہے، شاید امریکہ کی 20 لاکھ فوج میں ایک جوان بھی ایسا نہ ملے جو بررضا و رغبت اپنے ملک کے لئے قربان ہونے کے لئے تیار ہو مگر ہماری فوج کا ایک ایک سپاہی جان قربان کرنا اپنے لئے اعزاز و افتخار سمجھتا ہے۔ اگر جان قربان کرنے کے جذبات و احسات کے گوشوارے مرتب کرنا ممکن ہوں تو ہماری فوج امریکہ اور روس کی فوج سے بھی بلند مرتبے پر فائز ہے۔اغیار یہ بھی مان چکے ہیں کہ دنیا کی دس بہترین خفیہ ایجنسیوں میں آئی ایس آئی کا پہلا نمبر ہے۔ امریکہ کی سی آئی اے دوسری جبکہ برطانیہ ایم آئی 6 تیسری بہترین خفیہ ایجنسی قرار دی گئی ہے۔ بھارت کی را کا چھٹا اور اسرائیل کی موساد کا دسواں نمبر ہے۔ بھارت کے سابق را چیف امرجیت سنگھ دلت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے کسی ممبر کی وفاداری کو بدلنا ناممکن ہے اور یہ کہ آئی ایس آئی دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی ہے۔
آج پاک فوج پر بدنمائی کے چھینٹے مارنے کی جسارتیں کی جا رہی ہیں۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر ہزاروں فیک اکاؤنٹس بنا کر یہ مذموم اور شرانگیز مہم چلائی جا رہی ہے۔ پاک فوج کے ساتھ محبتوں کے بے کراں جذبے کو مشکوک بنانے کیلئے بعض لوگ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ پاک فوج کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے اس لئے لوگ مجبوراً اسے پسند کرتے ہیں۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ تو محبت کے قواعد و ضوابط اور اصولوں سے منحرف بات ہے کہ محبتیں کبھی ڈنڈے کے زور پر نہیں کی جاتیں، اہل دل بخوبی جانتے ہیں کہ دولت، طاقت اور اختیارات کے بل بوتے پر کسی کو اپنا گرویدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ جو تعمیل میں ہر حد سے گزر جاتے ہیں اور جو اپنی قوم کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر ڈالتے ہیں وہی سپوت تحصیل محبت میں کامران ٹھہرتے ہیں۔ غیور قومیں ایسے نوجوانوں کو اپنے ماتھے کا جھومر بنا کر رکھا کرتی ہیں۔ دشت وفا میں اپنا لہو نچوڑنے والے پاک فوج کے جوانوں کو ساری قوم عقیدت بھر اسلام کہتی ہے:
فیصلہ وقت کرے گا مگر اے دشت وفا
ہم تو رگ رگ سے لہو اپنا نچوڑ چکے ہیں


ای پیپر