File Photo

جنرل الیکشن 2018ءکے دلچسپ پہلو
28 جون 2018 (16:32) 2018-06-28

رانا اشتیاق احمد : 2018 ءکے عام انتخابات قریب ہیں اور پاکستان کا سیاسی منظرنامہ مختلف خدشات ، امکانات اور توقعات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا انتخاب بھی ہوچکا ہے ۔ انتخابات کے حوالے سے نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں،کہیں سیاسی اتحاد بن رہے ہیں،کہیں سیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے بات چیت ہو رہی ہے اورکہیں سیاسی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے۔کئی سیاسی ”پرندے“ نئی”چھتوں“ پر بیٹھ چکے ہیں۔ سیاست دان ایک دوسرے پر الزامات عائدکرتے ہوئے اگلے الیکشن میں اپنی حکومت بنانے کے دعوے کررہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی انتخابات کے انعقادکی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ملکی سیاست میں صوبہ پنجاب کو ہمیشہ سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کون سیاست دان وفاق کی سطح پرکامیابی حاصل کرے گا اور کون حکومت سازی کےلئے فیورٹ ہے اس کا فیصلہ اسی صوبے کی سیاست سے ہوتا ہے۔ صوبہ پنجاب قومی اسمبلی کی141نشستوں کے ساتھ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی صوبے کی سیاست سے اس بات کا بھی تعین ہوتا ہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب کس امیدوارکے پاس جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب میں دو بار مسلم لیگ (ن)کو حکومت بنانے کا اعزاز حاصل ہوا لیکن اس بار تحریک انصاف کے عمران خان پنجاب کی سیاست میں خاصے سرگرم ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں اس بار تبدیلی آئے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی طرح دیگر سیاسی پارٹیاں بھی اپنے منشورکے مطابق بلند وبالا دعوے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری کی جانب سے بھی یہی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پنجاب اس بار ان کا ہوگا۔ یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذکے نام پر عوام کو کس حد تک قائل کیا اور کس حد تک ان کے خیالات تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی، مسلم لیگ (ن)کی تو یہی کوشش ہے کہ پنجاب میں مسلسل تیسری حکومت ان کی بنے لیکن زرداری کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبے کا لالی پاپ اور تحریک انصاف کی جانب سے تبدیلی کے نعرے کیا عوام کو قائل کر سکیں گے اس کیلئے تو انتظار کرنا ہوگا۔
الیکشن کا سماںاورعدلیہ کاکردار
ملک میں سیاسی گہما گہمی کے ساتھ عدلیہ کا فعال کردار بھی جاری ہے۔ اعلیٰ عدلیہ صاف پانی سے لے کرحکمرانوں اور سیاسی رہنماوں کی کرپشن اور اختیارات سے تجاوزکر نے سے متعلق مقدمات کی سماعت کررہی ہے، عدلیہ کی اس فعالیت کو سراہا بھی جا رہا ہے اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔
الیکشن سے قبل پاکستانی معیشت کی صورتحال
ملکی معیشت حکمرانوں کے بلند بانگ دعووں کے برعکس غیرتسلی بخش ہے،کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر بے قابو ہوچکا اور پاکستانی روپے کی بے قدری بڑھتی جارہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائرکا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، غیر ملکی قرضے بڑھ چکے ہیں، افراط زر بھی اپنی جگہ موجود ہے اورکئی ترقیاتی منصوبے غیرشفاف ہیں۔ اشیاءصرف کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ درآمدات اور برآمدات کا توازن بگڑ چکا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی تیزی پیداکرکے اسے مندی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔گزشتہ عام انتخابات میں عوام کوغربت ، بیروزگاری ، لوڈشیڈنگ، دہشتگردی اور جرائم کے خاتمے کی نوید سنائی گئی تھی۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود عوام اِنہی مسائل اور مشکلات سے دوچارہیں، جن سے وہ 2013ءمیں تھے،انہیں کوئی ریلیف نہیں ملاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں کا تعلق پنجاب، سندھ ، کے پی کے یا بلوچستان کے ہوں ، وہ اپنے زیادہ ترانتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شدید گرمی کے با وجود بعض جگہوں پر لوڈ شیڈنگ اب بھی جاری ہے۔ بیروزگاری کا عفریت نوجوانوں کو جرائم کی دلدل میںدھکیل رہا ہے۔
الیکشن 2018 ءگزشتہ انتخابات سے مختلف کیوں ہیں؟
یقینی طور الیکشن 2018 ءپاکستان میں سابقہ الیکشنوں سے مختلف ہے اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ 2013 ءکے مقابلے میں دہشتگردی میں قدرے کمی آئی، جس کا کریڈٹ سیاسی حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جاتا ہے۔ تاہم کراچی جیسے شہر میں اسٹریٹ کرائم، چوری، قتل وغارت گری کا سلسلہ کم شدت کے ساتھ اب بھی جاری ہے۔ دوسری اہم بات اس مرتبہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کشید گی بہت زیادہ ہے۔پاکستان کی بعض بڑی سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں ۔اور وہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو سیاست سے آوٹ کرنا چاہتے ہیں اس لےے مخصوص سیاسی پارٹی اداروں پر بھی الزام لگا رہی ہے کہ ان کے خلاف گٹھ جوڑ کر لیا گیا ہے ، دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف بھی اس مرتبہ پوری قوت کے ساتھ نمودار ہو رہی ہے، دوسری پارٹیوں سے لوگ جوق در جوق اس پارٹی میں شامل ہوئے ہیں، اور اس پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا بھی کہا جا رہا ہے ۔ اس طرح ہر طرف تضاد ہی تضاد ہے ۔سیاسی رسی کشی عروج پر ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی جماعتوں کی صورتحال
الیکشن کمیشن میں مجموعی طور پر ساڑھے تین سو سے زائد چھوٹی بڑی، قومی ، علاقائی اور مذہبی جماعتیں رجسٹرڈ تھیں لیکن نئے ایکٹ پر پورا ا±ترنے والی صرف 34 سیاسی ومذہبی جماعتوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قراردیا گیا ہے۔علاوہ ازیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ا±میدواروں کےلئے انتخابی اخراجات کی حد اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے کےلئے جو فیس مقررکی گئی ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والاکوئی شخص عام انتخابات میں حصہ لینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے کہ ان میں مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ انتشارکا شکار ہیں، متحدہ قومی موومنٹ سے مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں بننے والے گروپ کے بعد ایم کیو ایم پی آئی بی اور بہادرآبادگروپ میںتقسیم ہو چکی ہے، مسلم لیگ (ن) کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنی قیادت کو داغ مفارقت دے کے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں شامل ہو ہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کے جانب سے سندھ، پنجاب میں صوبائی حکومتیں اور مرکز میں حکومت بنانے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں، پارٹی کے حلقوں اور جلسوں میں بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے کارکن پ±رامید ہیں کہ کپتان عمران خان ہی ملک کے نئے وزیر اعظم ہوںگے۔ لیکن اس سب کے باوجود مجموعی طور پر ملک کے سیاسی ا±فق پر مایوسی اور بے یقینی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی تیاریاں عروج پر
موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی ہیں۔ جس کے بعد نگراں حکومت قائم کی گئی ہے ،جو 60 دن کے اندر عام انتخابات کرانے کی پابند ہوگی، بشرطیکہ صورت حال معمول کے مطابق رہے اور کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے۔ عام انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضہ ہے۔ اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے انعقاد کے لئے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ حلقہ بندیوں پر اعتراضات داخل کرانے کا وقت ختم ہوچکا ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق 72 لاکھ سے زائد نئے ووٹوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ نئے ووٹروں کے اندراج کے لئے ملک بھر میں 26 مارچ سے 14ہزار4 سو87 ڈسپلے سنٹر زقائم کئے گئے تھے، جن میں صوبہ پنجاب میں 7ہزار 928، سندھ میں 2 ہزار 585،خیبر پختونخوا میں دو ہزار 545 اور بلوچستان میں ایک ہزار429 مراکز قائم کئے گئے۔ تنازعات سے بھر پورموجودہ سیاسی صورت حال میں بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے شفاف اورغیر جانبدارانتخابات کے انعقادکے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ لیکن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی گروپوں کی جانب سے حلقہ بندیوں پراعتراضات مستردکرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ حلقہ بندی کرنے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کو ہے، بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس پر شدید تنقیدکی گئی۔
پیچیدہ سیاسی فضا کے باعث گو مگوں کی کیفیت
پاکستان کی سیاسی صورت حال جتنی پیچیدہ ان دنوں ہے، اتنی شایدکبھی نہ تھی، سابق وزیر اعظم نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب سے نا اہل ہونے کے بعد اب سیاسی جماعت کی قیادت کے لئے بھی نا اہل ہوچکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اب بھی بلاشبہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور عوامی سطح پر میاں نواز شریف کی مقبولیت کے حوالے سے دو رائے ممکن نہیں ہے لیکن موجودہ صورت حال میں مسلم لیگ (ن) خاصی مشکل میں نظرآرہی ہے۔ عام انتخابات سے قبل اس کے لئے سیاسی فضا نا سازگار ہوتی چلی جارہی ہے، لیکن یہ کہنا بھی بہت مشکل ہے کہ پنجاب میں اس صورت حال کا بھر پور فائدہ تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی سمیت کوئی اور جماعت اٹھا سکتی ہے، لیکن موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ بات واضح ہورہی ہے کہ 2018 ءکے انتخابات میں مقابلہ کانٹے دار ہوگا اورکوئی بھی سیاسی جماعت بھاری مینڈیٹ تود±ورکی بات سادہ اکثریت بھی نہیں لے سکے گی۔ مبصرین کا اس بات پراصرار ہے کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمان وجود میں آنے کا قوی امکان ہے۔ کوئی نیا ’بزنجو‘ اور نیا ’سنجرانی‘ بھی سامنے آسکتا ہے۔ جب کہ بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام انتخابات کے تناظر میں ملکی سیاست میں بڑی افراتفری پھیلنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔
لاہور کے انتخابی میدان میں سخت مقابلے متوقع
صوبائی دارالحکومت میں کئی ایسے حلقے ہیں جہاں سے کئی سیاسی جماعتوں کے اہم اور نمایاں اُمیدوار میدان میں ہیں، صوبہ پنجاب قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 نشستوں پر مشتمل ہے۔ صوبہ پنجاب اور قومی اسمبلی کی پہلی نشست کا حلقہ این اے اور پی پی ایک اٹک سے شروع ہوتا ہے جبکہ اس کا اختتام راجن پور کے بارڈر پر ہوتا ہے۔ حلقہ بندیوں سے قبل اس حلقے میں قومی اسمبلی کی 148 نشستیں تھیں جبکہ نئی حلقہ بندیوں میں یہ تعداد گھٹ کر 141 تک آگئی، یہ صورتحال ان امیدواروں کیلئے خاصی پریشان کن تھی جو ماضی میں ان حلقوں سے مسلسل کامیاب ہوتے آئے تھے۔ ایک نجی خبر رساں ادارے کے سروے کے مطابق مسلم لیگ ن کو پنجاب میں 52 فیصد ، پی ٹی آئی کو 39 فیصد مقبولیت حاصل ہے۔ جبکہ پاکسان پیپلز پارٹی کو ایک فیصد اور دیگر جماعتوں کو 8 فیصد مقبولیت حاصل ہے۔
لاہور کے حلقوں میں کون کہاں سے اُمیدوار ہو گا؟
آئندہ عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشستوں کےلئے مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔ لاہور کے حلقہ این اے 123 سے مسلم لیگ ن کے ملک ریاض کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں، ان کے مقابلے میں تاحال تحریک انصاف سے کسی امیدوار کا اعلان نہیں کیا گیا، پیپلزپارٹی کی جانب سے اقبال ملک بھی اسی حلقے سے میدان میں ہیں۔این اے 124سے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز کا مقابلہ پی ٹی آئی کے نعمان قیصر سے ہوگا جبکہ پیپلزپارٹی کے چودھری ظہیر کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں۔ این اے 125 سے مسلم لیگ ن کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کو الیکشن لڑانے کی تجویز ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے ڈاکٹر یاسمین راشد اور پیپلزپارٹی کے زبیرکاردار بھی الیکشن لڑیں گے۔ این اے 126 سے مسلم لیگ ن کے مہراشتیاق ، پی ٹی آئی کے حماد اظہر اور پیپلزپارٹی کے اورنگزیب برکی کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ این اے 127سے مسلم لیگ ن کے سابق وزیر ملک پرویز، پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ اور پیپلزپارٹی کے زاہد ذوالفقار خان آمنے سامنے ہونگے۔این اے 128سے مسلم لیگ ن کی جانب سے شیخ روحیل اصغر ، پی ٹی آئی کے اعجاز ڈیال اور پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے حاجی ناصر خان میدان میں ہونگے جبکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے ڈاکٹر آصف اشرف جلالی بھی اسی حلقے سے کاغذات نامزدگی حاصل کر چکے ہیں، ان سب امیدواروں میں سے شیخ روحیل اصغرنے حلقے کی عوام کو سب سے زیادہ وقت دیا اس لیے انہیں شکست دینا کسی کے بس میں نہیں۔این اے 129سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سردار ایاز صادق کا مقابلہ پی ٹی آئی کے عبدالعلیم خان اور پیپلزپارٹی کے اشرف بھٹی سے ہو گا۔ اسی حلقے سے پی ٹی آئی کے ولید اقبال آزاد حیثیت میں کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ ان کی ٹکٹ کے بارے میں مقررہ تاریخ تک فیصلہ نہ ہو سکا تو وہ یہ کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے۔اور پارٹی کے فیصلے پر سرتسلیم خم کریں گے۔این اے 130 سے مسلم لیگ ن کے خواجہ احمد حسان ، پی ٹی آئی کے شفقت محمود اور پیپلزپارٹی کے عاصم محمود بھٹی الیکشن لڑیں گے۔این اے 131 سے بڑی سیاسی جماعتوں کے بڑوں کے درمیان بڑا مقابلہ ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق آمنے سامنے ہوں گے جبکہ برابری پاکستان پارٹی کے چیئرمین جواد احمد نے بھی اسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے۔این اے 132 سے مسلم لیگ ن کے چودھری عبدالغفور، پی ٹی آئی کے چودھری محمد منشا سندھو اور پیپلزپارٹی کی جانب سے ثمینہ خالد گھرکی یا نوید چودھری مدمقابل ہوں گے۔این اے 133 سے مسلم لیگ ن کے زعیم قادری ، پی ٹی آئی کے اعجاز چودھری اور پیپلزپارٹی کے فیصل میر الیکشن لڑیں گے۔ این اے 134 سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، پی ٹی آئی کے ظہیر عباس کھوکھر اور پیپلزپارٹی کے مصطفیٰ جٹ مدمقابل ہوں گے۔ این اے 135 سے مسلم لیگ ن کے سیف الملوک کھوکھر، پی ٹی آئی کے کرامت کھوکھر اور پیپلزپارٹی کے امجد جٹ جبکہ این اے 136 سے مسلم لیگ ن کے افضل کھوکھر ، پی ٹی آئی کے خالد گجر اور پیپلزپارٹی کے جمیل منج میدان میں اتریں گے۔
بڑا معرکہ.....مہنگا ترین الیکشن
لاہور میں علیم خان اور ایاز صادق میں بڑا معرکہ ہونے کی امید ہے۔ عبدالعلیم خان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور وہ عمران خان کے انتہائی قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار کئے جاتے ہیں جبکہ ایاز صادق بھی اپنی ملنسار اور دھیمی طبیعت کے حوالے سے حلیفوں اور حریفوں دونوں میں اپنا ایک حلقہ احباب رکھتے ہیں۔ ایاز صادق سابق دور حکومت میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے اور پھر قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔گزشتہ الیکشن کی طرح اس سال بھی یہ حلقہ انتحابی لحاظ سے مہنگا ترین تصور کیا جارہاہے۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی سعد رفیق کی طرح تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان سے خائف ہیں اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے مقابلے میں الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ ضمنی الیکشن میں بھی ایاز صادق ،،عبدالعلیم خان سے انتہائی کم مارجن سے بمشکل جیت پائے تھے۔اگر ہم ان اخراجات کی بات کریں تو اس الیکشن پر اربوں روپے خرچ ہوئے تھے۔لہذا اس بار بھی اس الیکشن پر اربوں روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔
سندھ میں مد مقابل اُمیدوار
سندھ کی سیاسی شخصیات میں سے پاک سرزمین پارٹی کے رہنماجمیل راٹھورنےاین اے227حیدرآباد سے کاغذات جمع کروادیئے ہیں۔ کراچی کے ڈپٹی میئر نے این اے254 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ۔ ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے وا لے رضا علی عابدی نے این اے243 اور244 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ۔ پیپلزموومنٹ آف پاکستان کے انواراحمد نے این اے243 سے کاغذات جمع کروائے جبکہ ایاز موتی والا نے کراچی کے این اے 243 سے کاغذات ِ نامزدگی جمع کرائے ہیں ، وہ صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے بھی امید وار ہیں۔شہدا د کوٹ کے حلقے این اے202سے آفتاب شعبان میرانی نے نا مزدگی فارم جمع کرائے ہیں ، ان کا تعلق شکار پور سے ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے این اے 200 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔جب کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے غیر متوقع طور پر کراچی کے تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے، اُنہوں نے این اے248، 249 اور 250 سے کا غذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دوسری طرف ہری پور میں این اے17سے مسلم لیگ ن کے بابرنواز نے کاغذات نامزدگی جمع کروادئیے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے عمرایوب نے کاغذات جمع کروائے ۔ بلوچستان سے قومی اسمبلی کےلئے کاغذات جمع کرانے والے اُمیدوار جمعیت العلمائے اسلام ( ف) نے دس سال بعد حافظ حسین احمد کو این اے 266 کوئٹہ سے ایم ایم اے کا امید وا ر نامزد کردیا ہے، اُنہیں ٹکٹ نہ دینے سے جے یوآئی ف گزشتہ الیکشن میں ہارگئی تھی۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے تاحال اس حلقے سے تا حال اُمیدوارکااعلان نہیں کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری انتخابی فہرست کے مطابق پارٹی چیئرمین عمران خان کراچی، لاہور، اسلام آباد، بنوں اور میانوالی سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔عمران خان کراچی سے این اے 243، این اے 65 بنوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 95 میانوالی اور این اے 131 لاہور سے الیکشن لڑیں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اُمیدواروں کو جاری کر دہ نئے حلف نامہ پر ٹکٹ کے حصول کے لیے پارٹی کو پیسے دینے کا خانہ درج تھا ، جس پر اُمیدواروں کی جانب یہاں ہاں یا نہ لکھنا ہے تاہم اس حوالے سے امیدوار تذبذب کا شکار ہوئے ، اور بعض امید واروں نے قانونی ماہرین سے بھی رائے لی کہ کل کو کہیں الیکشن کمیشن کے قابو نہ آجائیں۔
سعد رفیق کا عمران خان کا مقابلہ
وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے عام انتخابات 2018ءمیں لاہور سے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو مقابلے کا چیلنج کرتے ہوئے مقابلے کا اعلان کیا۔ اِن کا کہنا ہے کہ میرے انتخابی حلقے کی چیر پھاڑ کر دی گئی، عمران خان جس حلقے سے انتخاب لڑیں گے، میں مقابلہ کروں گا۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک متاثر نہیں ہو گا، نواز شریف کا جمہوری بیانیہ ہی انتخاب میں بکے گا۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ حلقہ 131 عمران لاڈلے کے لئے بطور خاص تیار کروایا گیا، عمران خان بہتان کی سیاست پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ سعد رفیق نے مزید کہا کہ سخت اعتراضات کے باوجود عمران پر کو اعتراض دائر نہیں کیا، سیاستدانوں کو سیاسی مقابلہ عدالتوں کی بجائے عوامی میدان میں کرنا چاہئے،ان کا کہنا تھا کہ شدید مشکلات میں بھی نواز شریف کی ثابت قدمی مخالفین کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ شریف قیادت پر کرپشن کے الزمات لوگ سچ ماننے کو تیار نہیں، ہماری اصل طاقت عوام کے اندر پیدا شدہ شعور ہے۔ نواز شریف کی مقبولیت پر ٹارگٹ کرنے والے پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عالمی طاقتوں کا شدید دباو مسترد کر کے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا۔نواز شریف نے استقلال سے مشرف دور میں 17 ماہ جیل کاٹی۔ نواز شریف نے خطرات کے باوجودعدلیہ بحالی تحریک کی قیادت کی۔عمران خطرے کے خوف سے اسلام آباد میں چھپے رہے۔نوازشریف اور عمران کا واقعی کوئی موازنہ نہیں جبکہ نواز شریف قوم کے لئے عمران اپنی ذات کے لئے سوچتے ہیں۔بعدازاں یہ خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ اب خواجہ سعد رفیق عمران خان سے مقابلہ کرنے سے کترا رہے ہیں۔ لیکن اب چونکہ سعد رفیق عمران خان کو مقابلے کا چیلنج کر چکے ہیں اور اب اگر وہ اس انتخاب سے دستبردار ہوتے ہیں تو یہ شرمندگی کی بات ہوگی چونکہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں کڑا مقابلہ متوقع ہے ۔اس لیے دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے تگڑے امیدواروں کو اتارنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے جس حلقے سے عمران خان الیکشن لڑیں گے اسی حلقے سے میں بھی الیکشن لڑوں گا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جمہوریت پسندی ہی عوام میں مقبول ہو گی۔۔نواز شریف پر کرپشن کے الزامات لگانے والے سابق وزیر اعظم کی مقبولیت سے خائف ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ہماری طاقت جمہوریت ہے اور قوم کا شعور ہی ہماری سیاسی طاقت بنے گا اور ہم عام انتخابات میں ایک بار پھر کامیاب ہو کر اپنے مخالفین کو کرارا جواب دیں گے۔
٭٭٭


ای پیپر