منشور تو بس ”اقتدار“ ہے۔۔۔۔!
28 جون 2018 2018-06-28

ٹکٹوں کی تقسیم کی مشکلات تو اپنی جگہ پر ، منشور کسی سیاسی جماعت نے عوام کے سامنے نہیں رکھا لیکن امیدوار بھی الیکشن کے لیے تیار بلکہ ٹکٹوں کے لیے لڑنے مرنے پر تلے بیٹھے ہیں تو ووٹرز بھی ”ٹھپے“ لگانے کو تیار ہیں، اس کا کیا مطلب ہے ؟

دنیا بھر کی جمہوریتوں میں سیاسی جماعتیں اپنا منشور یا پروگرام عوام کے سامنے رکھتی ہیں اور اس کی بنیاد پر لوگ کسی جماعت میں شامل ہونے یا ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہیں، یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے کہ لوگ ”ٹھپہ“ لگانے اور لگوانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں وجہ کسی کو بھی معلوم نہیں، نہ امیدوار کو پتہ ہے کہ جیت کر اس نے کیا کرنا ہے اور نہ جتانے والے کو معلوم ہے کہ اسے جتانے سے اس کوکیا فائدہ ملے گا۔ سب لوگ ”جیت“ کا ”ہار“ گلے میں ڈالنے کے لیے گردن آگے کیے بیٹھے ہیں!

میرے خیال میں سوویت یونین کے انہدام سے باقی دنیا بھر میں کوئی تبدیلی آئی یا نہیں لیکن پاکستان میں نظریات کی سیاست کا ”بولورام“ ہو گیا۔ 70ءکے انتخابات میں مشرقی پاکستان جہاں جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی نہیں تھی تعلیم اور سیاسی شعور کی شرح نسبتاً بلند تھی مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب جیسے لوگوں نے ملک کے مشرقی حصہ کی محرومی سے متعلق عوامی جذبات کا درست اندازہ کیا اور 6 نکات کی آڑ میں ان جذبات کے ساتھ کھیل کر اکثریت حاصل کر لی کیونکہ حسین شہید سہروردی جیسے ”پاکستان“ پر یقین رکھنے والے سیاست دانوں کو ایوب خان نے گھر بھیج دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اسلامی سوشلزم اور عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے ایک پروگرام عوام کے سامنے رکھا تھا جس کے بعد روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے نے منشور کی شکل اختیار کر لی۔

اس وقت کی فوج کی سوچ اپنی جگہ پر لیکن غلط یا صحیح سیاستدانوں نے دو واضح پروگرام عوام کے سامنے رکھے جس کی بنیاد پر عوام نے فیصلہ کیا، غالباً یہی وہ فیصلہ اور اس کے نتائج تھے جس کے بعد یہ طے کر لیا گیا کہ عوام کو شعور نہیں کہ وہ سیاسی فیصلے درست کر سکیں لہٰذا عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ کیا فیصلہ کرنا ہے حالانکہ اگر 70ءکے انتخابات کے نتائج کو ”آپ“ پسند نہیں کرتے تو آپ کو یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ آخر وہ کونسے عوامل اور محرومیاںتھیں جن کے باعث عوام کو دینے کے لیے اس وقت کے سیاست دانوں نے یہ پروگرام سامنے رکھے؟ اور وہ حالات کیا تھے؟ اور حالات کو وہاں لانے کا ذمہ دار کون تھا؟

ان وجوہات کو دور کر کے ”سسٹم“ ٹھیک کرنا چاہیے تھا لیکن اس وقت سے فیصلہ کر لیا گیاکہ سسٹم کی ہی ضرورت نہیں ہے ۔ جس کے باعث 85ءکے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوئے ،محمد خان جونیجو مرحوم (اللہ ان کی مغفرت کرے) جیسے بھی لائے گئے لیکن سیاست اور معاشرے کی حرکیات سے آگاہ تھے اور وزیراعظم کے منصب کی ذمہ داریوں سے بھی واقف تھے لہٰذا انہیں بھی گھر بھیجنا پڑا۔

اس کے بعد قانون ساز، گلی، سڑک، اور موری ممبر کے درمیان تفرق ختم ہو گئی۔ پیسے کی دوڑ70ءکی دہائی کے آخر میں شروع ہو چکی تھی لیکن لوگ ڈرتے تھے، رشوت کو حق نہیں سمجھتے تھے، معاشرتی طور پر ”چٹی“ (رشوت) لینے والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، ایسے گھرانوں میں رشتہ داری سے شریف لوگ احتراز کیا کرتے تھے۔ ایسے میں سیاسی رشوت کا آغاز ہواکہ چینی کے ڈپو کا لائسنس اور فیکٹری یا مل کے پرمٹ کے لین دین کے سلسلہ موجود تھے۔ 80ءکی دہائی میں ترقیاتی بجٹ، پولیس میں اے ایس آئی کی نوکری اور محکمہ مال میں پٹواری اور نائب تحصیلدار کی براہ راست بھرتی نے وہ سارے عذاب نازل کیے جو آج بطور معاشرہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔ سیاست میں اجتماعی بھلائی یا نظریات کے بجائے ذاتی اور گروہی مفادات نے لے لی۔ اس کے بعد نہ تو کسی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور نہ ہی ان پیچھے رہ جانے والوں کو ساتھ لینے کا انتظار یا انتظام کیا۔

جب سارے خواص ”بے ایمانی کے حمام“ میں کپڑے اتار چکے تو عوام کیوں پیچھے رہتے جس نے سیاستدانوں کی انتخابی مہم میں جلسہ کرایا، ٹرانسپورٹ مہیا کی وہ ٹھیکہ دار بن گیا اور اپنی سرمایہ کاری معہ سود میری اور آپ کی جیب سے وصول کرنے لگا۔ جس شخص نے پولیس یا محکمہ مال یا کسی بھی محکمہ میں ایم پی اے یا ایم این اے کے کوٹے سے نقد پیسے دیکر نوکری حاصل کی، اس نے بھی دن رات ایک کر کے منافع سمیت اپنا ایک ایک پیسہ ہڈیاں چچوڑ کر نکالا۔

نتیجہ یہ ہے کہ اب جس طرح کرکٹ کے میچ ، ٹورنامنٹ اور ٹرافیوں کا جواری انتظار کرتے ہیں، اسی طرح پیشہ ور سیاستدان اور ان کے فنانسر حواریوں کی ٹیموں پر بھی اب پیسے لگائے جاتے ہیں اور جیتنے والے امیدوار پر سرمایہ کاری کرنے والے اپنی رقوم ”ڈبلاتے“ ہیں تو ہارنے والے فریق کے سرمایہ کار پانچ سال یا جب بھی ممکن ہو، اگلے میچ یا انتخاب کا انتظار کرتے ہیں۔

آپ خود فیصلہ کیجیے جو امیدوار چند دن پہلے ایک سیاسی جماعت کے تحت کسی ایک لیڈر کے نام کے نعرے لگا رہا ہوتا ہے وہ راتوں رات کسی دوسرے نظریئے کا قائل ہو کر کیسے کسی دوسرے لیڈر کے نام کی مالا جپناشروع کر دیتا ہے ؟

ایجنڈا، منشور یا پروگرام کسی کی زبان پر نہیں ہے اور نہ تحریر میں لیکن اس کے باوجود لوگ قائل ہو کر آیا جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی منشور یا ایجنڈا ہے لیکن ”زبانی“ ہے تحریری نہیں لیکن وہ اتنا طویل یا مشکل نہیں کہ سمجھ میں نہ آ سکے۔ ویسے بھی جب مجھے پتہ چلا تو معلوم ہو گیا کہ یہ سمجھنا اور قائل ہونا آسان ہے ، ویسے بھی لمبی چوڑی تحریروں کے طوطا مینا کے بجائے ایک لفظی ایجنڈا سمجھنا تو کسی کے لیے بھی مشکل نہیں اور وہ منشور ہے ” اقتدار“

تو جناب یہ ہے وہ پروگرام، وہ منشور جس کے تحت انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور آپ اور میں ”ٹھپے“ لگانے کے لیے مرے جا رہے ہیں، لیکن مجھے خیال آیا ہے کہ جب ہم ووٹ کو محض ”ٹھپے“ کے طور پر لگاتے ہیں تو جواباً اتنے ہزار یا لاکھ ٹھپے لینے کے بعد جب وہ ہمارا ”مکو ٹھپتے“ ہیں بجلی گیس، ہسپتال اور تھانے کچہری کے ذریعے تو ہم آخر اتنا چیختے کیوں ہیں؟

بھلائی کا زمانہ ہی نہیں رہا جس کا گلا دباﺅ وہی آنکھیں دکھاتا ہے !


ای پیپر