ایکروپولس کا معبد،خواتین اورزندگی کا بوجھ
28 جولائی 2020 (23:02) 2020-07-28

لاہور کے تعارف کے لیے کوئی ایک تصویردکھانی ہوتوقدیم لاہور کی پہچان کے طورپر شاہی قلعے اور جدید لاہورکی پہچان کے لیے مینارپاکستان کی تصویردکھائی جاتی ہے۔ کراچی کی شناخت مزارقائداعظم ہے ۔خیبرپختوانخوا، درئہ خیبرسے اور بلوچستان ،زیارت ریزیڈنسی سے پہچاناجاتاہے۔ اسی طرح یونان کی پہچان ایکروپولس پردُوردُور سے دکھائی دینے والی قدیم ترین عمارت پارتھینان ہے ۔ایتھنزکا مطلب قلعہ یا بلندوبالا حصار ہے اور پارتھینان کا مطلب ہے کنواری کا مستقر۔یہ قدیم یونانی تصورات کا وجودی اظہارہے ۔کہتے ہیں کہ یہ دنیاکے قدیم تاریخی آثارمیں کامل ترین عمارت ہے جو ڈھائی ہزارسال سے ایکروپولس پر ایستادہ ہے۔ ایکروپولس کی اونچی اور چوڑی پتھریلی سیڑھیاں چڑھ کر اوپرآئیں تو اس معبدکے چونتیس چونتیس فٹ اونچے ستون آپ کاا ستقبال کرتے ہیں۔ حذیفہ اور میں یہاں پہنچے تو ان اونچے ستونوں ہی نے نہیں تیز ہوانے بھی ہمارا استقبال کیا ۔ قدیم یونانی فن تعمیرکے اس شاہ کارکویونانی عقیدے کے مطابق اہل یونان کی سرپرست ایتھنا دیوی سے نسبت تھی ۔ایتھنا؛تخلیق، تمدن اور تعقل کی دیوی کانام ہے۔ایتھنزکا نام اسی کے نام پررکھاگیا ۔یونانِ قدیم کی تاریخ کے مطابق اس قدیم ترین معبد میںایتھنا دیوی کاسونے کے لباس، زیورات، نیزے ،ڈھال اور نشان فتح سے آراستہ ہاتھی دانت کا بناہواقریباً چالیس فٹ اونچامجسمہ ہواکرتاتھا۔ یہ معبد ۴۸۰ قبل مسیح میں ایرانی فتوحات کے زمانے میں بربادہوگیا۔بعدمیں جب یونانیوںنے ایرانیوں پر غلبہ پالیاتو انھوںنے اسی معبدکی جگہ پر ۴۴۷ قبل مسیح میںیہ عمارت تعمیرکی ۔یہ تعمیر نوبرس میں مکمل ہوئی۔

یونان میںظہورِعیسائیت پر چھٹی صدی عیسوی میںایتھنا دیوی یہاں سے رخصت ہوئی اور اس عمارت کو مریم عذراکے کلیسا میں تبدیل کردیاگیا ۔ عثمانی ترکوں نے یونان پرتصرف حاصل کرلیا تو اسے بہ طور مسجداستعمال کیاجانے لگا۔صومعہ ہویاکلیسا،خانقاہ ہویا مسجد، ارشاد قرآنی صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللَّہِ کَثِیْرا کے مطابق راہبوں کے خلوت خانے ، عیسائیوں کے گرجے ، یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں ،سب میں اللہ کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے اس لیے سب ہی محترم ہیں ۔میں اور حذیفہ ماضی کے اس کلیسا اور مسجد کے سامنے کھڑے اس کی شکست و ریخت کا شکار پیشانی کو دیکھ رہے تھے ۔یہ پیشانی جب سلامت تھی تو اس پر تاج اور یونانی دیومالا کے سنگی نقوش ثبت تھے جنھیں تواریخ اور متخیلہ کی مدد سے کمپیوٹر آج بھی ابھارکردکھاسکتاہے۔اب تو اس پر ایک ہی نقش مرتسم ہے اور وہ کہنگی کاہے۔اس عمارت کے ماضی کوتصورمیں لاتے ہوئے مجھے خورشیدرضوی صاحب کا شعریادآیا ؎

ثبت ہیں دیوارودرپر تیری آوازوں کے نقش

میں خدا ناکردہ پتھر پو جنے والا نہیں

یہاں اس شعر کے خالق کی یاد کا ایک اور قرینہ بھی تھا۔وہ یہ کہ میں یونان میں تھا اور ادھرپاکستان میں میری کتاب ارمغان خورشیدکی تقریب ہورہی تھی جس کے لیے منتظمین نے مطالبہ کیاتھا کہ میں یونان سے ویڈیو کے ذریعے اپنے خیالات ریکارڈ کرکے بھیجوںجو اس تقریب کے شرکا کو دکھائے اور سنائے جاسکیں۔ڈاکٹرحسین پراچہ صاحب نے صرف مطالبہ ہی نہیںکیا بلکہ اپنی بنائی ہوئی رائزنگ پاکستان نامی فورس کے نوجوانوںکوباقاعدہ میرے تعاقب کا فریضہ بھی سونپ دیا جنھوںنے باربار ٹیلی فون اور پیغامات کے ذریعے وطن سے دوری کے باوصف مجھے مصروفیت اور فراموش کاری کے کسی بھی عذر کا موقع نہیں دیا۔ارمغان خورشید دراصل ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب سے دہائیوں پر پھیلے تعلق کا نتیجہ ہے جس کے لیے میں بیس پچیس برس سے خاموشی کے ساتھ کام کررہاتھا اور جس کے شائع ہوجانے تک موضوع ِسخن کو اس بارے میں کوئی زحمت کجا اطلاع تک نہیں دی گئی۔جب کتاب چھپ کر آگئی تو ایک شب سروہم سر کے اعزازمیں کھانے کی دعوت کا اہتمام کرکے یہ کتاب ان کی خدمت میں پیش کی گئی۔ حذیفہ نے پارتھینان کے اس تاریخی مقام کو دیکھتے ہوئے تجویزکیاکہ مجھے لاہورمیں منعقدہونے والی ارمغان خورشیدکی تقریب پذیرائی کے لیے جو تقریر ریکارڈکرکے بھجوانی ہے وہ یہیں ریکارڈ ہونی چاہیے چنانچہ حذیفہ نے دوہزارسال سے زیادہ عرصے تک اپنی اصل پر قائم رہنے والی اس عمارت کوپس منظرمیں لے کر میری تقریرریکارڈ کی۔میں جہاں کھڑاتھا میرے عقب میں عمارت کی تین تہوں پر اٹھائی جانے والی بِناتھی۔ ان تینوں تہوں کی نشان دہی کے لیے تین سیڑھیاں /قدم بنائے گئے تھے ۔قدیم معابدمیں جب سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں تو ان کی تعداد طاق رکھی جاتی تھی اور ان میں داخل ہونے کے آداب میں یہ بات شامل تھی کہ پہلی سیڑھی پر دایاں قدم رکھاجائے ۔ اس طرح معبد کے فرش تک پہنچتے ہوئے ہر زائر معبدمیںاپنا دایاں قدم رکھ کر داخل ہوتاتھا۔عمارت کے سامنے آٹھ

اور اطراف میں سترہ ستون ہیں۔یہ بھی ایک یادگار بات ہوئی کہ اسی دن مجھے ایتھنزکے ایک جلسے میں بھی خطاب کرناتھا جس کی تفصیل اپنی جگہ پر آئے گی اور اسی دن پاکستان میں منعقدہونے والی تقریب سے بھی خطاب کیاگیا۔ یہ تقریب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقدہوئی اور مجھے اسی سفر کے دوران اس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی ملی جس میں میرا ایتھنزسے کیاہوا خطاب دکھایاگیاتھا۔ گویا اس معبد،کلیسااورمسجد کے روبرو خطاب نے ایک دن میں دوبراعظموں میں خطاب کے تجربے سے آشنا کردیا۔

ریکارڈنگ کے دوران میں حذیفہ نے پارتھینان ہی کے پس منظرپر اکتفانہ کیا بلکہ میرارخ بدلواکر اس کے سامنے واقع ایک عجیب و غریب عمارت کو بھی ویڈیوکے پس منظر میں لیناچاہا لیکن فاصلہ زیادہ ہونے کے باعث وہ اس کے قابومیں نہ آسکی اور اس نے کیمرے کا رخ دوبارہ پارتھینان ہی کی طرف کردیا ۔یہ ایک جھروکا ہے جوچارcaryatidesاور ان کے پیچھے مزید دوcaryatidesستونوں پر مشتمل ہے ۔caryatidesعورت کی شکل کے ستون کو کہتے ہیں ۔یہ ایک عجیب و غریب جھروکاہے جسے چھیعورتیں اپنے سروں پر اٹھائے کھڑی ہیں۔اس عجیب عمارت کی جڑیں بھی ایتھنز کی اساطیری روایات میں گڑی ہوئی ہیں ۔پوری عمارت تین حصوں پر مشتمل ہے ۔یہ ساری عمارت Erechtheusنامی ایک شخص کی تعمیرہے اور اسی لیے The Erechtheumکہلاتی ہے۔Erechtheusکے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ اسی عمارت کے اندردفن ہے ۔تاریخی طور پر یہ عمارت ایتھنا دیوی کے ایک خشبی مجسمے کامسکن رہی ہے۔ ہومرکے مطابق Erechtheus زمین کا بچہ تھا جسے ایتھنا دیوی نے پالالیکن ہومر یہ بھی کہتاہے کہ ایکروپولس پر ایتھنادیوی کا مندرErechtheusکی پیدائش سے بھی پہلے موجودتھا ۔بعض مآ خذ میںاس کا زمانہ تعمیر ۴۲۱ ق م سے ۴۰۵ ق م بتایاگیاہے۔عیسوی دورمیں بادشاہ جسٹینین نے اس عمارت کو گرجے میں تبدیل کردیاتھا عثمانی دورمیں اسے حرم سرابنادیاگیاتھا ۔آج کل اس کی حیثیت کھنڈرات کی سی ہے ۔

قدیم یونان میں ہرسال ایتھنا دیوی کاایک دن منایاجاتاتھا ۔ اس دن سارا شہردیوی کی خدمت میں حاضری دینے کے لیے ایکروپولس پر آیاکرتاتھاپارتھینان کی دیواروں پرایسے جلوسوں کی تصاویر بنائی گئی تھیں۔ان جلوسوں کے ساتھ آنے والے اپنے ساتھ اپنے مال واسباب خاص طور پر مویشیوں کو بھی لایاکرتے تھے۔یہ تہوار جون یاجولائی کے مہینوں میں منایاجاتاتھا ۔ اس تہوارکے موقعے پر جو لباس پہناجاتاتھااگر آپ وہ لباس دیکھناچاہیں تو ان چھ کنواریوں کو دیکھ لیں ۔ان کنواریوں کے روپ میں وہ روایتی ساتر لباس آج بھی محفوظ چلاآرہاہے ۔ان چھ کی ترتیب یوں ہے کہ چار تو بالکل سامنے ہیں جب کہ دو ان کے عقب میں دائیں بائیں چھت کو سرپر اٹھائے کھڑی ہیں۔ان میں سے شمال کی جانب ایستادہ ایک کنواری کوچرالیاگیاتھا ۔یونانی روایت ہے کہ اپنی ایک ساتھی کے چرالیے جانے پر باقی کنواریاں رات بھر روتی رہی تھیں۔اس کی جگہ اب اس تمثال کی مثال نصب ہے۔ یہ تمثال اپنی اصل کے اتنی قریب ہے کہ عام زائر، اِن میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا۔ عمارتوں کے علو شان کے مناظر تو بہت دیکھے تھے اور ان سے انسان ہی کی عظمت ہویداہوتی تھی کہ ایک فانی وجودکے حامل انسان نے کیسی کیسی لافانی عمارتیں تخلیق کی ہیں۔ مصر میں ایسے معابد بھی دیکھنے کا موقع ملا جن کی تعمیر پانچ سو برس میں مکمل ہوئی اور جن کے بنانے والے تو ہزاروں برس پہلے مٹی میںمل کر گم ہوچکے لیکن ان کے بناکردہ درودیوار آج بھی ان کے عزم و ہمت کی گواہی دے رہے ہیں۔ اہرام مصرہویادیوار ِچین آج بھی وقت پر انسان کے غلبے کی خواہش کااظہارکرتے، ابدیت کی تصویربنے کھڑے ہیں لیکن اس تعمیرمیں میں انسان، عمارت سے مغلوب دکھائی دیااوراس مقصدکے لیے انسانوں میں سے بھی یہ بار صنف ِناز ک پر ڈالاگیاہے ۔ہمارے ہاں تو صنف نازک پرگھریلو وسائل مہیاکرنے کا باربھی نہیں ڈالاجاتایہاں ان کے سروں پر پوری عمارت کا بار ڈال دیاگیاہے ۔

مجھے قاہرہ میں ایک آزادخیال ڈپلومیٹ کے گھر پرپیش کی جانے والی چائے یادآئی۔ جس میزپر چائے پیش کی گئی وہ ایک خاتون کے وجودسے عبارت تھی۔ میزکے طول کی جانب خاتون کی زلفوں میں اس کا چہرہ تھا ۔اس کے ہاتھ اور پائوں میز کے پایوں کاکام دے رہے تھے اور اس کی کمر پر چائے کے اسباب دھرے تھے ۔میزبان نے بڑے فخر کے ساتھ اس میز کے حصول کی داستان بیان کی لیکن مجھے یہ منظردیکھ کر اس ہستی کی توہین کا شدید احساس ہوا جس کے باعث تصویرکائنات میں رنگ ہے، جس کے سازسے زندگی میں سوزدروں ہے ۔جو نہ ہوتی تو دنیا پھیکی اور بے رنگ ہوتی جس نے سقراطوں اورافلاطونوں کو جنم دیا۔اس کے وجود کا یہ استحصال…؟ میزبان کے اظہارِتفاخرسے میری طبیعت مزیدملول ہوگئی اور میں وہ چائے نہ پی سکا ۔میں اس تکلیف دہ یاد کے حصارسے نکلاتو ایک بارپھرعمارت کے بوجھ تلے دبی ان خواتین کو دیکھا۔مجھے یوں لگاجیسے زندگی ہی میںمیرے اوپرمنوں وزن ڈال دیاگیاہوجس کے بوجھ تلے میں دباجارہاہوں۔میںبری طرح تھکن محسوس کرنے لگا۔

ہوسکتاہے ایسے نمونوںکو آرٹ کہاجائے لیکن آرٹ کو انسانی عظمت کا مظہر ہوناچاہیے ،اس کی بے توقیری کا نہیں۔ کوئی من چلاکہہ سکتاہے کہ گھرکی ذمہ داریوں کابار بھی توعورت کی کمر پرڈالا جاتاہے۔ اگرچائے کے اسباب اس کی کمرپررکھ دیے گئے یااسے گھربار کا سارابوجھ اٹھائے دکھا دیاگیا تو اس سے کیافرق پڑتاہے…نہیں جناب دونوباتوں میں بہت فرق ہے …وہی فرق جو ایک آزادوفعال ہستی اور زمانہ ماضی کے غلام یالونڈی میں ہے۔ مغرب بالخصوص اورجدید تمدن بالعموم صنف ِنازک کی حمایت کا بہت مدعی ہے۔ صنف نازک کی مخالفت تو کوئی بے شعورہی کرسکتاہے ۔’’غالب کے طرف دار‘‘ کی حیثیت سے ہمارے لیے تویہ بات بھی حیرت کا باعث ہے کہ جدیددنیامیںیکساں اوقات ِکار ہونے کے باوصف خواتین کا معاوضہ مردوں سے کم رکھاجاتاہے۔ جب اس کا سبب پوچھاجاتاہے تو جواب ملتاہے کہ خواتین کی آئوٹ پٹ مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے ۔اس اعتبار سے ہم اہل پاکستان جیسے مشرقی ہی بہترہیں جن کے ہاںایسی کوئی تمیزروانہیں رکھی جاتی۔ مردوں اور عورتوں کو یکساں اوقات ِکار کا یکساں معاوضہ دیاجاتاہے ۔یہاں تو فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْراً یَرَہُ ، وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَرَہُ ُ ( تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بُرائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔زلزال۷، ۸)کی رُوسے انجام ِکار میں جینڈرکا سوال ہی زیربحث نہیں آتا۔شاید اسی لیے ہمارے معاشرے، اس بارے میں کسی قسم کی تفریق کاسوچ بھی نہیں سکتے۔یہی حال فن تعمیرکاہے ۔اوّل تو ہمارے فن ِتعمیرمیں کسی انسان کو عمارت کے زیربار کرنے کا تصورہی نہیںاور پھر انسانوں میں بھی خواتین پر یہ بارڈالنا تو بالکل ہی ناممکن ہے جسے یہ ’چھ کنواریاں‘ چپ چاپ اٹھائے کھڑی ہیں۔ حالی کی زبان سے دی گئی ’’چپ کی داد‘‘یادآگئی ؎

پیدا اگرہوتیں نہ تم بیڑا نہ ہوتا پار یہ

چیخ اٹھتے دودن میں اگر مردوں پہ پڑتاباریہ


ای پیپر