چاہِ یوسف ؑ
28 جولائی 2020 (23:01) 2020-07-28

قرآنِ کریم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص بتایا گیاہے۔ یہ ایک اساطیری داستان نہیں بلکہ ٹھوس اور مستندتاریخ ہے۔ یہ واقعہ اسلام ، نصرانیت اور یہودیت کی مشترک میراث ہے۔ اْردو ادب میں بہت سے استعارے یہاں سے مستعار لیے گئے ہیں۔ چاہِ یوسف سے برادرانِ یوسف تک اور زندان ِ مصر سے زنانِ مصر تک اْردو اَدب کے محاوروں اور تلمیحات کے ذخیروں کو زرخیز کرتے رہے ہیں۔ صبر ایوبؑ کی طرح گریۂ یعقوب بھی اُردو ادب میں بے مثل تلمیح ہے، بچپن میں ایک شعر یاد کروایا گیا تھا

صبرِ ایوب ؑ کیا، گریہ یعقوب ؑ کیا

کیا کیا نہ ترے ہجر میں محبوب کیا

آج کل سورۃ یوسف زیرِ مطالعہ ہے، بحکمِ مرشد قرآن بغیر تفسیر کے پڑھتا ہوں۔ قرآن کے بطون بے شمار ہیں۔ ہر باطن کے اندر ایک اور باطن کا دروازہ کھلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک جگہ پڑھا تھا کہ اس کتاب میں تمہارا تذکرہ ہے۔

ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے سورہ یوسف میں رہروانِ حق اورسالکانِ طریقت کا تذکرہ اپنے تمام تر اسباق کے ساتھ موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایسی خداداد خوبی ہے‘ جو اہل ِ خاندان میں کسی اور کے پاس موجود نہیں، یعنی اگر آپ کسی خوبی میں یوسف مثال ہیں تو جان رکھیں کہ اپنے بھائی بندوں کے حاسدانہ رویے کا شکار ہوسکتے ہیں، عین ممکن ہے آپ کو گمنامی کے اندھے کنوئیں میں گرا دیا جائے، نظر انداز کرنا بھی چاہِ یوسف میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ برادرانِ یوسف تو ایسے ہی بدنام ہیں‘ خواہرانِ یوسف کا محاورہ اس لیے ز بان زدِ عام نہ ہو سکا کہ اس زمانے میں خواتین پسِ پردہ ہوتی تھیں، اور یہاں پردہ دَری نہیں بلکہ پردہ داری مطلوب و مقصود ہے۔پرانے زمانے میں خواتین کا پلیٹ فارم مختلف ہوتا تھا، اگر وہ پالیسی سازی میں شاملِ کار ہوتیں تو ان کا تذکرہ بھی موجود ہوتا۔ اپنے باپ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے… یعنی آپ کو مرکز ِ نگاہ بننے سے روکنے کیلئے خیر خواہی کی آڑ میں آپ کو گھر سے دُور رکھا جا سکتا ہے۔ عین ممکن ہے‘ آپ کو دعوت ہی نہ دی جائے اور گھر میں یہ مشہور کر دیا کہ آپ کو مصروفیت نام کا بھیڑیا نگل گیا ہے۔ آپ کے نام پر قصداً جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔ حسد کے بارے میں احادیث میں درج ہے کہ حسدحاسد کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ یعنی حاسد نیک بھی ہو سکتا ہے، بابندِ صوم وصلوٰۃ ہو سکتا ہے، لیکن شومئی قسمت اْس کی نیکیاں اس کے حسد کی وجہ سے برباد ہو جاتی ہیں۔ لکڑی

جب تک آگ سے دور ہے ایک پائیدار چیز قرار دی جاتی ہے، اس سے فرنیچر سے لے کر چوکھٹ اور دروازے تک تعمیر ہوتے ہیں، مخلوقِ خدا کے کام آتے ہیں اور دیکھنے میں دیدہ زیب ہوتے ہیں… لیکن آہ! آگ کی ایک لپٹ اِس قیمتی اثاثے کو کوئلہ بنا دیتی ہے۔

قصہ میں درج ہے کہ بھائیوں نے قافلے والوں کے ہاتھ جناب ِ یوسف کو چند درہموں میں بیچ دیا۔ مصر پہنچنے پر عزیزِ مصر انہیں منہ مانگی قیمت دے گھر لے آتے ہیں اور اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں کہ اسے بہت عزت و اکرام سے رکھنا ، عین ممکن ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ یوسف ِ وقت کیلئے دیارِ غیر میں ذی مقام لوگوں کے دلوں میں مقام بنایا جارہا ہے، انہیں تاویل الاحادیث کا علم دیا جا رہا ہے، یعنی چیزوں کی حقیقت تک پہنچنے کی حکمت عطا کی جاتی ہے۔ چشمِ فلک کیا منظر دیکھتی ہے ‘ وہ یوسف جسے اپنے ہاں محبت کے قابل نہ سمجھا گیا‘ دیارِ غیر میں اس کی قدر دانی کا یہ عالم ہے کہ زلیخا اس پر فدا

ہوئے جاتی ہے۔ حسن ِ یوسف کی سحر انگیزی دیکھیں کہ مصر پہنچنے سے پہلے ہی زلیخا کے خواب وخیال میں جلوہ آرا ہوا جاتا ہے۔ باب العلم صاحب ِ نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ جسے اپنے چھوڑ دیں‘ اسے غیر اپنا لیتے ہیں۔ کسی نوجوان نے ایک بزرگ سے کہا‘ حضرت! آج کل زلیخائیں بہت ہیں‘ اس نے جواب دیا‘ میاں ! تم یوسف بن جاؤ! سنت ِ یوسف یہی ہے کہ " معاذ اللہ" کہہ کر دعوت کی بجائے ملامت قبول کرلی جائے۔ خواب ، خیال اور عمل کا کس قدرحسین امتزاج ہے ‘قصہ یوسف!! زلیخا کی دعوت سے انکار یوسف کو مقامِ بالا پر متمکن کر گئی… اور یوں عشقِ مجاز سے عشقِ حقیقی تک پہنچنے کی منزل زلیخا کا مقدر ہوئی۔

سالک ِ راہ ِ حق کے راستے میں ایک اور آزمائش بھی آتی ہے۔ اسے کوئے ملامت سے گزارا جا سکتا ہے، پاک بازی اور راست بازی کے باوجود اس پرکذب اور بے راہ روی کابہتان لگایا جا سکتا ہے‘ سے جھوٹے الزام میں پابند ِ سلاسل کیا جا سکتا ہے۔لیکن وہ کوچہ عصیاں میں آباد ہونے کی نسبت گوشہ گمنامی میں بسر کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ بھی ریاضت کا ایک باب ہے۔ اس باب سے پامردی سے گزرنے کے دوران ہی میں اسے ماوارئی علوم سے متصف کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سے کرامت کا باب شروع ہو جاتا ہے۔ عوام الناس اس کی شخصیت کی ایک نئی جہت سے متعارف ہوتے ہیں۔ چاہِ کنعان سے زندانِ مصر تک سارا سفر دراصل حکمت و دانائی اور علم سے روشناس کروانے کی حسین روداد ہے۔ واقعات اتنے اہم نہیں ‘جتنے ان واقعات سے ملنے والے ظاہر و باطن کی دنیا میں نتائج اہم ہیں۔ ایک عام شخص اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ردّعمل پر اْتر آتا ہے۔ وہ انتقام کی راہ لیتا ہے یا پھر شکوہ و شکایت کاراستہ اختیار کر لیتا ہے۔

قدرت رکھنے کے باوجود انتقامی کاروائی سے اجتناب کرنا پیغمبروں کی سنت ہے۔ قدرت ِ کاملہ نے جناب ِ یوسف ؑ کو ودیعت کیے گئے علم و حکمت کی جھلک شاہی ایوانوں میں بیٹھے اربابِ حل وعقد کو دکھلا دی تو وہ اپنے خزانوں کی چابیاں ان کے ہاتھ میں دینے پر مجبور ہو گئے۔ یہ سب کچھ ماورائی طریق پر ہوتا چلا گیا۔ شاہِ مصر کسی دلیل اور تبلیغ سے متاثر نہ ہوا تھا بلکہ اپنے ہی دیکھے گئے ایک خواب کی تعبیر سننے کے اشتیاق میں اَسیر یوسف کی زلف کا اَسیر ہوا۔ اس کے خواب کا جواب موجود علم وہ ہنر پر دسترس رکھنے والوں کی دسترس میں نہ تھا۔ جب جناب ِ یوسف کو تخت ِ اختیار پر متمکن کیا گیا تو انہوں نے اپنی الہامی علم کی تاثیر سے زمینی معاملات درست کرنے شروع کر دیے۔ آسمانی علم جب زمینی معاملات پر دسترس حاصل کر لے تو اسے انقلاب کہتے ہیں… دینی انقلاب!!

اختیار پانے کے بعد اپنے اختیار کو مزاجِ قادرِ مطلق کے مطابق استعمال کرنا ہی اللہ کا رنگ اختیار کرنا ہے… اور" اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہو سکتا ہے" …" لاتثریب علیکم الیوم" سنت ِ یوسفی بھی ہے اور سنتِ محمدیؐ بھی۔ فتح مکہ کے موقع پر رسولِ رحمتؐ نے اہلِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ‘کیا تمہیں معلوم ہے آج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟ مفتوحین و محجوبین نے ملتجی انداز میں کہا کہ آپؐ کی ذات کریم ہے۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا کہ آج میں تمہارے ساتھ وہی سلوک کرنے والا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا، اور وہ یہ کہ آج تمارے لیے کوئی سزا نہیں۔مرشدی واصف علی واصفؑ کی نعت کا ایک معروف شعر ہے :

توؐ مصوری کا کمال ہیْ تو خدا کا حسنِ خیال ہے

جنہیں تیراؐ جلوہ عطا ہوا‘ وہ ترےؐ جمال میں ڈھل گئے

جسے شانِ کریمی ملتی ہے ‘ وہ معاف کرنے میں فراخ دل ہو جاتا ہے، اس کیلئے معاف کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ چاہِ یوسف ہو‘ یا پھرشعبِ ابی طالب…سبق یہی ملتا ہے کہ پامردی، استقامت اورتوکل الی اللہ ہر مشکل کی سبیل ہو جاتی ہے۔ چاہِ یوسف سے ابھرنے والی صدا کی بازگشت ابھی تک حساس دلوں کو مرتعش کر رہی ہے… چاہِ یوسف ؐکی تاریکی میں صبر کے نور نے اجالا کر دیا۔ شعب ِ ابی طالب کے محصورین نے اپنے عزم اور استقامت سے رہتی دنیا تک تمام عالم ِ انسانیت کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔


ای پیپر