خطے میں نئی تبدیلیاں
28 جولائی 2020 (23:01) 2020-07-28

ڈھاکہ اور دہلی پانچ دہائیوں سے تزویراتی اتحادی رہے شیخ حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے سے اتحاد کو نئی جہت ملی متنازع انتخابی نتائج کے بعد 2019 میں دوبارہ شیخ حسینہ واجد نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو اہلِ نظر کا اندازہ تھا کہ بھارت اور بنگلہ دیش نہ صرف مزید قریب ہونگے بلکہ خطے میں چین کے بڑھتے کردار کو روکنے کے لیے بھارت کو بنگلہ دیش کی صورت میں ایک ایسا اتحادی میسر رہے گا جو بیجنگ کی طرف دیکھنے کی بجائے دہلی کی منشا کے مطابق چلت رہے گالیکن جلد ہی حالات نے اندازوںاور توقعات کے برعکس کروٹ لی آسام سے بیس لاکھ بنگالی نژاد پر بے دخلی کاخوف اور تشدد سے ہونے والی اموات نے دہلی سے ڈھاکہ کودور کردیا ہے کئی فیصلوں سے دوری کاتاثر ہویدا ہے دور کیوں جائیں حال ہی میں بنگلہ دیش نے سلہٹ کے ایم اے جی عثمانیہ ائرپورٹ میں ایک نیا اورجدید ٹرمینل بنانے کا ٹھیکہ چینی کمپنی (بی یوسی جی)بیجنگ اربن تعمیراتی گروپ کو دیدیا حالانکہ بھارت نے شدید تشویش ظاہر کی تھی اوریہ ٹھیکہ کسی بھارتی کمپنی کو دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اِس فیصلے کو خطے میں تبدیلیوں پر نظررکھنے والوں نے ڈھاکہ کی تبدیل ہوتی پالیسی کا مظہر جاناممکن ہے ایسا نتیجہ اخذ کرنے والوںکوجلدبازی کا شکار قرار دیا جائے لیکن یہ بات طے ہے کہ بنگلہ دیش بھارت سے قریبی مراسم رکھنے کی پالیسی پر نظرثانی کررہا ہے اوراب دہلی کے علاوہ اِدھر اُدھر دیکھنے سے اجتناب کی سوچ ترک کر دی ہے۔

خطہ تبدیلیوں کے نرغے میں ہے سری لنکا،مالدیپ اور نیپال پکے ہوئے پھل کی طرح چین کی گود میں آگرے ہیں خطے میں چین سے قریبی تعلقات بنانے کے لیے ایک دوڑ سی لگی محسوس ہوتی ہے یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا ؟کاقیافہ لگاتے واقفانِ راز کہتے ہیں کہ چین اپنے عالمی کردار کو وسعت دینے کے ساتھ خطے میں حریف بھارت کے گرد بھی گھیرا تنگ کر رہا ہے تاکہ امریکی شہ پر بھارت کی طرف سے چین کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکے ایران میںبھی چینی موجودگی وسیع ہونے لگی ہے اور چینی قیادت محتاط چالیں چلنے کی بجائے قدرے کُھل کر امریکہ مخالف ممالک کے قریب ہونے اور بھارت کو دوستوں سے دور کرنے کے مشن پر عمل پیرا ہے اسی بنا پر ایران نے کئی منصوبوں سے بھارت کو الگ کر دیا ہے جن میں چاہ بہار بندرگاہ ،ریل اور گیس منصوبے شامل ہیں یہ معمولی فیصلے نہیں بلکہ یہ فیصلے خطے میں بھارت کے سُکڑتے ومحدود ہوتے کردار کا آئینہ دار ہیں ۔۔

بنگلہ دیش کو طفیلی ملک رکھنے کے لیے بھارت نے ہمیشہ دروغ گوئی سے کام لیا ہے بنگالیوں کو قومیت پرستی کا زہرپلانے اورپھر دسمبر 1971میں الگ ملک بنانے کے لیے فوجی چڑھائی اور پھر پاکستانی فوج پر آبروریزی جیسے الزامات لگانے کا مقصد یہ تھا کہ بھارت کے شمال مشرق میں ایسا ملک بنایا جائے جو مکمل طور پر بھارت کے رحم وکرم پرہولیکن بھارتی توقعات خاک میں ملتی دکھائی دیتی ہیں اور شیخ حسینہ واجد جیسی بھارت نواز وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے چین کی طرف جھکائو دہلی کے لیے بڑے دھچکا ہے اِس طرح خطے کی بالادست طاقت بننے کابھارتی خواب پورا ہونے کا امکان ہے سری لنکا میںکولمبواور ہربن ٹوٹاکے ساتھ میانمر کی بندرگاہ چینی تصرف میں ہے جنوبی بحیرہ چین میں چین نے مصنوعی جزائر بنا پر طاقت کے اظہار کے لیے میزائل سسٹم نصب کر رکھے ہیں اب بنگلہ دیش کا چین کی طرف ہاتھ بڑھانا چینی کردار کی تصدیق ہے اِن حالات کے تناظر میں بھارت کی متعصب قیادت خطے کی طاقت بن پائے گی؟یقین نہیں آتا۔

عمران خان کی بھارت وبنگلہ دیش کے تعلقات میں خلیج کے ایام میں شیخ حسینہ واجد سے طویل گفتگو کو دہلی میں خطرے کا الارم تصور کیا جارہا ہے حالانکہ سربراہانِ حکومت کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت انہونی بات نہیں بلکہ تبادلہ خیال سے نکتہ نظرسمجھنا مقصود ہوتا ہے مگر بڑی تبدیلیوں کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے تب مملکتوں کی ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ملکی مفادت اور ضروریات مدِ نظر رکھی جاتی ہیں تین اطراف سے بھارت میں گھراملک جس کی درآمدات و برآمدات کا بھارت پر انحصار ہے اگر چین سے مراسم فروغ دینے کو بے قرار ہے تو یہ نیپال اور بھوٹان کے بعد بھارت کی ایک اور سفارتی ناکامی سے کم نہیں ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمشنر ریواگنگولی داس چارماہ سے شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کے لیے کوشاں ہیں تاکہ بھارتی تحفظات سے بنگلہ دیش قیادت کو آگاہ کیا جا سکے مگرنہ کسی مکتوب کا جواب مل رہا ہے اور نہ ملاقات کے لیے وقت دیا جا رہاہے یہ تعلقات میں کشیدگی کا اشارہ ہے جس پر بھارت کی طرف سے ڈھاکہ میں سفارتخانے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کی بازگشت سُنائی دینے لگی ہے لیکن پیشِ نظر رکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا خرابی سفارتخانے میں ہے؟یا بھارتی پالیسیوں میں ، جن کی بنا پر ہمسایہ ممالک دور ہوتے جارہے ہیں موجودہ دور میں ریاستوں کولاحق خطرات میں اضافہ ہونے کے ساتھ نوعیت بھی بدل گئی ہے اسی لیے تبدیلیاں زیادہ محسوس ہوتی ہیں مگر جنوبی ایشیا میں بھارت کی جارحانہ پالیسیاں اور چین کی طرف سے بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری نے نئے اتحادوں کی راہ ہموار کردی ہے ۔

بھارت کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں فروغ پذیر تعلقات کی پشت پر چین کا کردار ہے اسی وجہ سے ڈھاکہ اچانک دہلی سے دور اور اسلام آباد کے قریب ہورہا ہے تین برس کے بعد ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن مکمل فعال ہو گیا ہے وزیرِ خارجہ سے سفیر کی ملاقاتیں بھی ہونے لگی ہیں یہ سفارتی تعلقات میں بہتری نئے اتحاد کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟ ایسا سوچتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بنگلہ دیش کو پاکستان سے کوئی خطرہ نہیں لیکن بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بات یقینی طور پر نہیں کہی جا سکتی بنگلہ دیش کی طرفسے کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ سمجھنے پر آجکل مودی حکومت خوش ہے لیکن یہ خوشی کب تک برقرارہے گی اورکیا انتہا پسند مودی حکومت تنقید کے نشتر چلانے سے گریز کرے گی کوئی بھی وثوق سے کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ مودی حکومت بیانیہ بدلنے کی ماہر ہے مگر کیا کیا جائے خطے کی ہر تبدیلی میں اُسے چین اور پاکستان کا ہاتھ نظر آتا ہے بھارت شمال مشرقی حساس حصے کے قریب چین کی موجودگی سے بھی ناخوش ہے کیونکہ شمال مشرقی ریاستوں میں امن کی صورتحال پہلے ہی دگرگوں ہے اُسے خدشہ ہے کہ سلہٹ میں ٹرمینل کی تعمیر کی آڑ میں چین مقامی قیادت سے روابط بنا کر پریشانی بڑھا سکتا ہے مگر تبت رہنما دلائی لامہ کو اپنی سرزمین مہیا کرنا معیوب نہیں لگتا۔

بنگلہ دیشی قیادت کچھ عرصے سے انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے اور فراخ دلی سے تعاون کرنے پرچین کی طرف جھکائو کررہی ہے مگر کرونا پر بھارتی امداد کے جواب میں تحسین کرنا بھی اُسے یاد نہیں رہتا ایسے میں پاکستانی وزیرِ اعظم کی طویل بات چیت بھارت کو کھٹک رہی ہے مزید یہ کہ بھارت سے تجارتی تعلقات میں پیداہونے والے تعطل کی بنا پر عمران خان حکومت صفر ڈیوٹی پر بنگلہ دیشن سے پٹ سن درآمد کر رہی ہے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھارت کو نئے اتحاد کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے حالانکہ یہ خدشہ ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ بہتر ہوتے تعلقات میں کوئی بھی واقعہ دراڑ پیدا کر سکتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ چین جیسے طاقتور کھلاڑی کے متحرک ہونے سے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کی رفتار بڑھ گئی ہے اور اِس رفتار کے نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنے کے لیے انتظار کرنا ہی دانشمندی ہے۔


ای پیپر