پولیس، ماں، ساس اور بہو!
28 جولائی 2020 2020-07-28

گزشتہ کالم میں نے اُس بدبخت پر لکھا تھا جس نے اپنی بیگم کے اُکسانے پر ماں پر اِس انداز میں تشدد کیا روح کانپ کر رہ گئی، تصویر کا دوسرا رُخ پیش کرنے کے لیے اُس کی بیوی کا مو¿قف بھی سامنے آیا، جو اِس قدر ہلکا تھا کم لوگوں کو متاثر کرسکا، فرض کرلیں اُس کی ساس واقعی اُس کے ساتھ زیادتی یا ظلم کرتی تھی ، تب بھی یہ کوئی جواز نہیں وہ اپنے ”رن مرید“شوہر کو ماں پر تشدد کرنے پر اُکساتی، افسوس کا مقام یہ ہے اس سانحے میں عورت ہی دوسری عورت کی دشمن ظاہر ہوئی ہے، مرد اِن دونوں کے درمیان انتہائی گھٹیا انداز میں صرف استعمال ہوا، اِس کی نشاندہی ایک نفیس پولیس افسر طارق عباس قریشی نے اپنی فیس بک وال پر کی، جسے محترم رﺅف کلاسرا نے بھی سراہا،.... اللہ نہ کرے ایسا ہو، پر یہ مکافات عمل ہے، خاوند کو ماں پر تشدد پر اُکسانے والی عورت کا اپنا بیٹا کوئی ہے وہ بھی اُس کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو اُس نے ایک بیٹے سے اپنی ماں پر کروایا، .... راولپنڈی پولیس نے اِس واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا، پولیس کے زیرحراست اُس کا ایک بیان سوشل میڈیاپر میں نے دیکھا، وہ اپنی ماں پر تشدد پر شرمندگی کا اظہار کچھ اس نامناسب انداز میں کررہا ہے جیسے یہ سب وہ اپنے ضمیر کی آواز پر نہیں پولیس کے ڈنڈے کے خوف سے کررہا ہو، عجیب لعنتی سا چہرہ ہے اُس کا، پھٹکار پڑے ایسے تمام چہروں پر خونی رشتوں خصوصاً والدین کی جن کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے، .... خبر پڑھی کہ وزیراعلیٰ نے ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی، ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو، مگر ہمارے اکثر حکمرانوں کو ایسی خبروں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا، اُن بے چاروں نے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کیا کرنی ہے؟،اگر واقعی وزیراعلیٰ بزدار نے اِس خبر کا کوئی نوٹس لیا ہے تو یہ شاید معاشرے پر اُن کی پہلی مہربانی ہے، پر اِس سے بڑی مہربانی جوکہ انتہائی حیرت ناک بھی ہے یہ ہے کم ازکم راولپنڈی میں اُنہوں نے درددل رکھنے والے پولیس افسران کو بطور آرپی او اور بطور سی پی او تعینات کرنے کی آئی جی پنجاب کو اجازت دی، یہ وہ پولیس افسران ہیں جو کسی کارخیر کے لیے کسی حکمران کی ”ہدایت“ کا منتظر رہنے کے بجائے ہمیشہ اِس احساس کے تحت ازخود سرگرم ہوجاتے ہیں روزحشر اللہ کووہ کیا جواب دیں گے؟ آرپی او راولپنڈی سہیل حبیب تاجک اور سی پی او احسن یونس ہیں،دونوں ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز ہیں، راولپنڈی کی یہ خوش قسمتی ہے، .... ہماری پولیس ابتری کے جس مقام بلکہ بدترین مقام پر کھڑی ہے، خصوصاً کچھ پولیس افسران اپنے محکمے کی گریس کا جس انداز میں ”بلنت کار“ کررہے ہیں اُس کے پیش نظر عزت آبروکو ہرحال میں مقدم رکھنے والے یہ دونوں پولیس افسران فیلڈ میں تعینات ہونے سے ہمیشہ گریز ہی کرتے ہیں حالانکہ میں یہ سمجھتا ہوں ایسے درد مندپولیس افسران کو باقاعدہ کوشش حتیٰ کہ باقاعدہ کسی سفارش پر بھی تعینات ہونا پڑے، ہونا چاہیے، فیلڈ میں رہ کر وہ جتنے لوگوں کا بھلا کرسکتے ہیں فیلڈ سے باہر رہ کر نہیں کرسکتے، .... راولپنڈی کے شاید ایس پی راول ٹاﺅن رائے مظہر اقبال جن کا نام سوشل میڈیا پر میں نے پڑھا، اُن کی ایک ویڈیو دیکھی، جو بہت وائرل ہوئی، اُس میں وہ اُس ماں کے قدموں میں بیٹھے ہیں جس پر اُس کے لعنتی بیٹے نے تشدد کیا، ہمارے اکثر پولیس افسران اپنے کئی طرح کے احساس کمتری ، گناہوں یا جرائم کے ازالے کے لیے اِس نوعیت کے ڈراموں کو ناگزیر سمجھتے ہیں، پر میں نے محسوس کیا اُس ایس پی کے چہرے پر ایک ماں کے لیے عقیدت کے جو تاثرات تھے وہ ہرگز مصنوعی نہیں تھے، اِس عمل کو کم ازکم میں پولیس کاروایتی ڈرامے قرار دینے کے لیے تیار نہیں، یہ کوئی پولیس کا عوام میں بگڑا ہوا امیج بہتر کرنے کی خاص پلاننگ یا کوشش نہیں تھی، یوں محسوس ہورہا تھا حقیقت میں ایسا پولیس افسر ماں کے قدموں میں بیٹھا ہے جسے خونی رشتوں کا اندازہ ہے۔ ماں سب کی سانجھی ہوتی ہے، والدین سب کے باعث عزت ہوتے ہیں، مجھ سے ایک بار ایک غلطی ہوگئی جس کا اب تک میں ازالہ نہیں کرسکا، ایک پولیس افسر سہیل اختر سکھیرا (ڈی آئی جی) کے بارے میں کالم لکھتے ہوئے اُن کے مرحوم والد محترم پر ایسا ایک جملہ لکھ دیا، بعد میں، میں اِس احساس میں مبتلا ہوگیا یہ مجھ سے شدید زیادتی ہوئی ہے، اِس سے یقیناً اُن کا دل دُکھا ہوگا، میں اکثرسوچتا تھا تحریری طورپر اُن سے اِس کی معذرت کروں، پتہ نہیں کیوں ہربار ”جھوٹی انا“ آڑے آجاتی تھی ،آج یہ بوجھ اپنے دل ودماغ سے میں ہٹارہا ہوں، میں اِس پر شرمندہ ہوں، اور معذرت خواہ ہوں۔ ایک شخص جو دنیا سے رخصت ہوچکا تھا اُ س کے بیٹے کی دشمنی میں یا اُس کے بارے میں حقائق لکھتے ہوئے مرحوم کے لیے نازیبا جملہ لکھنا یقیناً میرا گھٹیا پن تھا، ....اب ذرا تصویر کا ایک اور رُخ ملاحظہ فرمائیں، میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ماں پر تشدد تو دور کی بات ہے ماں کو گھور کر دیکھنا بھی عذاب کو دعوت دینا ہے، پر میں تشدد زدہ ماں کا ایک انٹرویو دیکھ رہا تھا وہ جس جارحانہ انداز میں بات کررہی تھیں، مجھے معاف کریں میں عرض کروں یوں محسوس ہورہا تھا کوئی ساس اپنی بہو کے بارے میں نہیں کوئی سوتن اپنی سوتن کے بارے میں یہ سب کہہ رہی ہے، اور اُس پر ایسے گندے الزامات لگارہی ہے جس کے کوئی شواہد اُس کے پاس نہیں، ....مجھے اپنی ماں یاد آگئی، ایک بار میں نے اپنی بیگم سے ذرا اُونچے لہجے میں بات کی، ماں ساتھ والے کمرے میں کریلے چھیل رہی تھیں۔ وہ چُھری لے کر مجھے مارنے کو دوڑیں کہ میں نے اس ناگوار لہجے میں اپنی بیگم سے بات کیوں کی؟، پھر اُنہوں نے جھولی اُٹھائی اور یہ بددعا دی ”جوتم اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرتے ہو اللہ کرے تمہارے بہنوئی بھی تمہاری بہنوں سے کریں، تمہیں پتہ چلے کسی کی بیٹی کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ ، یہ میری زندگی کا ایک انوکھا اور پہلا واقعہ تھا کوئی ساس اپنی بہو کی حمایت میں اپنی بیٹیوں کے لیے بُرا سوچ رہی ہو، میں امی کی طرف دیکھے جارہا تھا، وہ اتنے غصے میں تھیں میں اُن سے اُس وقت یہ پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کرسکا ”امی میں نے آج تک اس (بیوی) کے ساتھ کوئی بدتمیزی یا بدسلوکی نہیں کی، آج پہلی بار ذرا سی اُونچی آواز میں بات کرنے پر آپ اتنا سیخ پا کیوں ہوگئیں؟،....پر مجھے خوشی ہوئی وہ اپنی بہو سے اس قدر محبت کرتی ہیں، اس میں ظاہر ہے کچھ کردار بہو کا بھی ہوگا۔ ایک بار فیملی میگزین کے ایک انٹرویو میں مجھ سے پوچھا گیا ” آپ کو زندگی میں عورت نے بہت زیادہ متاثر کیا “، میں نے عرض کیا ”ہاں میری بیگم نے بہت متاثر کیا“۔امی اُس وقت میرے پاس بیٹھی تھیں، میں حلفاً کہتا ہوں یہ بات میں نے بیگم کو خوش کرنے کے لیے نہیں امی کو خوش کرنے کے لیے کہی تھی، بعد میں امی سے مجھے اِس کی شاباش بھی ملی، البتہ ایک ضمنی سوال کے جواب میں، میں نے عرض کیا تھا ”بیگم مجھے اس لیے اچھی لگتی ہے کہ وہ میری ماں کو اچھی لگتی ہے“ ....جی چاہتا ہے کسی روز راولپنڈی کی ماں کے پاس جاکر،کچھ قصے اُنہیں اپنی ماں کی عظمت کے سناﺅں!!


ای پیپر