یوم سیاہ، یوم تشکر، یوم تفکر
28 جولائی 2019 2019-07-28

25 جولائی الیکشن کا دن، جس کے نتیجے میں تبدیلی سرکار اقتدار میں آئی، ایک سال پلک جھپکنے میں نہیں گزرا، 365 دن گوناگوں پریشانیوں اور الجھنوں میں گزرے، کتنے زخم لگے کتنے سینے چاک ہوئے۔ مہنگائی سے کچلے عوام کے لیے پھر بھی عام دن، جنہیں اقتدار ملا انہوں نے خوشی منائی مٹھائیاں تقسیم کیں، جو محروم اقتدار ہوئے اور جیلوں کی رونق بنے انہوں نے بقدر ہمت و حوصلہ یوم سیاہ منایا، بڑے شہروں میں جلسے، ریلیاں، چھوٹے شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ترجمانوں کو ایک آنکھ نہ بھائے کہا جلسے نہیں جلسیاں تھیں، عوام نے اپوزیشن کو مسترد کردیا ہے۔ کسی دل جلے نے کہا جلسوں میں شریک لوگ کون سے سیارے کی مخلوق تھے؟ سارے وزیر مشیر یک زبان ہوگئے کہ اپوزیشن لوگوں کو اکٹھا کرنے میں ناکام ہوگئی، عوام ان کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیتے قوم نے چوروں، لٹیروں کو مسترد کردیا، 25 جولائی کو موروثی اور خاندانی سیاست کا خاتمہ ہوگیا‘‘۔ہز ماسٹرز وائس جو سنا دہرا دیا۔ یوم سیاہ کے جلسوں اور ریلیوں میں شریک لوگ انگشت بدنداں کہ انہیں گنا ہی نہیں گیا حالانکہ جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔‘‘کیسی جمہوریت ہے کہ آنے والے ہر بندے کو تولا جاتا ہے۔ آنے والا ہر شخص بھاری بھرم کم جانے والا بندگی سے خارج، وہ حیران کہ ’’بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا،سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت، بلاول بھٹو زرداری رات 9 بجے تک مزار قائد سے متصل گرائونڈ میں گرجتے برستے رہے ،کوئی ڈر نہ خوف دل کی بھڑاس نکالی، پنجاب میں مال روڈ پر جمع ہونے والے لیڈروں شہباز شریف،احسن اقبال اور 1800 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمات درج، نامعلوم افراد کے ناموں کا اندراج ہوتا رہے گا۔ یار زندہ صحبت باقی، جمہوریت میں یہی کچھ ہوتا ہے؟ مولانا فضل الرحمان کی آرزو پوری ہوگئی۔ یوم سیاہ گزر گیا، کیا فرق پڑا کوئی تنکا اپنی جگہ سے نہیں ہلا وہی روز و شب،وہی بیانیے وہی ٹوئٹ سوشل میڈیا پر اوٹ پٹانگ پیغامات، دل کی بھڑاس نکالنے کا آسان ذریعہ، سوشل نہ میڈیا لیکن عرف عام میں سوشل میڈیا، حکومت اور اپوزیشن نے حسب توفیق یوم تشکر اور یوم سیاہ منا لیا یوم سیاہ کی دھوم مچی، یوم تشکرپر دو چار کلو سے زیادہ مٹھائی تقسیم نہ ہوسکی۔ ملک معاشی بحران کا شکار ہے۔ فضول خرچی سے اجتناب کیا گیا۔ اچھی بات ہے اس گرما گرمی اور گہما گہمی میں عوام الناس نے یوم تفکر منایا۔ لوگوں میں مہنگائی کیخلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ یوم تفکر کے موقع پر ایک سال کے دوران پیشرفت پر فکر مندی کا اظہار کیا گیا۔ فکر مندی کی بات بھی ہے ایک سال کے دوران ریاست مدینہ کے وعدوں سے لے کر گھبرانا نہیں تک کا سفر انتہائی تکلیف دہ، روپیہ کی قدر میں 30 فیصد کمی، افراط زر 9 فیصد، شرح نمو مزید کم ہو کر 2.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ ڈالر 160 روپے پر پرواز کرنے لگا۔ روپے کی قدر میں ایڑیا ں رگڑنے کی حد تک کمی کے باعث پیٹرول، بجلی، گیس، پانی، اشیائے صرف اور اشیائے خورد و نوش کے علاوہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، ہوش اڑانے کے لیے کافی سامان، ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک غریب ہو رہا ہے، روزی روٹی کی فکر میں غلطاں غریب آدمی یوم تفکر بلکہ ایام تفکر ہی منائے گا اور فریاد کرے گا کہ

میں تجربوں کی طرح جی رہا ہوں برسوں سے

جسے بھی دیکھو مجھے آزمانے لگتا ہے

کسی کو غریب آدمی کی فکر نہیں، اندھیروں کی پرستش کرنے والے امیدوں کے چراغ بھی بجھاتے چلے جا رہے ہیں، ترجمانون کی پریس کانفرنسوں، بیانات اور ٹوئٹس سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ کسی سمت سے خوشحالی کا پیغام آئے تو بات بنے بات کیسے بنے گی؟ خوشحالی کے لیے اربوں کھربوں کا سرمایہ درکار لیکن معدودے چند عربوں کے سوا سرمایہ کار ندارد، ٹھوس منصوبوں کی ضرورت لیکن منصوبہ سازوں کا قحط الرجال جو موجود ہیں منہ چھپائے پھرتے ہیں آئی ایم ایف کے منصوبہ ساز مخصوص سوچ اور پلاننگ کے تحت معیشت کی زلفیں سنوارنے میں مصروف، اپوزیشن کے جلسے ریلیاں حکومت کے لیے خطرناک نہیں، سنا ہے اپوزیشن تقسیم ہے۔ متحد ہوتی تو خطرہ بن چکی ہوتی، متحد ہو کر یوم سیاہ منانے والی پارٹیوں میں آئندہ چند دنوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ حکومت کی ناک کا بال بن گئے۔ ن لیگ کے دو سینیٹروں نے حکومتی عشائیہ میں شرکت کرلی۔ مرغن کھانا کھانے کے شوقین تھے جہانگیر ترین نے لنچ دیا تو دو چار اور بھاگ جائیں گے۔ 10 سینیٹر ٹوٹ گئے تو ترین مشن پورا ہو جائے گا۔ متحد اپوزیشن وقت کی ضرورت لیکن اسی کی کمی، علمائے کرام کے بارے میں کسی نے دکھ سے کہا تھا۔

وعظ بھی فاصلے سے کرتے ہیں

دونوں اک دوسرے سے ڈرتے ہیں

کہنے لگے کچھ ہونے والا ہے، اشارے مل رہے یہں، کیا اشارے مل رہے ہیں؟ کہنے والے نے کہا ایک بڑی پارٹی کو ریلیف ملنے والا ہے۔ وہ اگست کے شروع سے ہی اونگھنے لگے گی اور عین موقع پر خفیہ رائے شماری کے وقت یہ کہتے ہوئے سوجائے گی کہ ہم نے چیئرمین سینیٹ بنایا تھا نہ ہٹائیں گے۔ بنایا تو انہوں نے ہی تھا ہٹانے کا عمل مشکوک ہونے لگا ہے۔ بیرونی اشارے بھی حکومتی استحکام کی نشاندہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں، حالانکہ اشارے بازی کرنے نہیں گئے تھے۔ دورہ کرنا تھا، پیغام ملا تھا تشریف لائیے چشم براہ ہیں آنکھیں بچھائیں گے، دل کھول کر باتیں کریں گے آنکھیں بچھائی گئیں، ’’صاحب کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں تھیں‘‘ وہائٹ ہائوس اتنا بڑا، کبھی نہیں کہا یونیورسٹی بنائیں گے، ٹرمپ کا ایک کونے میں بسیرا کنج تنہائی سے نکلے ہمارے وزیر اعظم بعد میں پہنچے گرمجوشی مصافحہ سے عیاں، مذاکرات ہوئے کیا مذاکرات ہوئے جو بھی ہوئے’’ کراما کاتبین راہم خبر نیست‘‘ ون آن ون ملاقات کی کسے خبر جو بتا دیا اسے کافی سمجھا جائے، دورہ کامیاب لیکن استقبال میں درجہ بندی کیوں، اپنا اپنا اخلاق اپنی اپنی تربیت، ہمارا وزیر اعظم ہر بیرونی مہمان کے استقبال کے لیے خود چل کر ایئر پورٹ پر چلا گیا۔ ٹرمپ ایئر پورٹ پر آکر استقبال کرلیتے تو کیا بگڑ جاتا، پاکستانیوں کے دلوں میں عزت بڑھ جاتی، مگر بے مروت لوگوں سے امید وفا ناں بابا ناں، عجیب لوگ ہیں ہمیشہ اپنا مفاد عزیز رکھتے ہیں چاہے پراکسی وار میں دوسرے ملک کے 70 ہزار افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جائیں، 150ارب ڈالر کا نقصان ہوجائے۔ 1999ء میں افغانستان میں داخلے کے لیے پاکستان کی ضرورت تھی ٹیلیفون سے کام چلا لیا۔ اب وہاں سے نکلنے کے لیے پھر پاکستان کی ضرورت پڑی تو وزیر اعظم کو وہیں بلا لیا، پاکستان اول آخر خطہ میں امن و استحکام کے لیے ضروری، ہم مخلص اور سنجیدہ، ازلی دشمن بھارت سے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھا دیں، ٹرمپ نے ترپ کا پتا پھینک دیا کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش، ہم نہال ہوگئے بھارت ناراض، آس پر دنیا قائم شاید ہماری زندگی میں کشمیر آزاد ہوجائے مگر نقش برآب بنتے مٹتے نقوش میں کوئی اعلامیہ بھی جاری نہ کیا گیا۔ زبانی یقین دہانیاں، ہم اسی پر خوش، کامیاب سفارتکاری کے ڈنکے، ہم کیا کریں گے امریکا کیا کرے گا، وقت بتائے گا امریکا اپنا کام کر رہا ہے، ہم کرپشن کرپشن کھیل رہے ہیں، وقت نکال کر افغانوں اور طالبان سے بات کریں گے، ان کا حوصلہ آزمائیں گے تب بات آگے بڑھے گی،بہت کچھ ہونا باقی ہے چومکھی لڑائی، اندرونی بیرونی محاذ اور آئندہ چار سال، ہرسال یوم سیاہ یوم تشکر پتا نہیں عوام آئندہ سال یوم تفکر منائیں گے یا تفکرات سے آزاد ہوجائیں گے، نومبر کی تاریخیں کیوں دی جا رہی ہیں، شنید ہے کہ کوٹ لکھپت جیل کے قیدی نے اپنے قریبی ملاقاتی سے کہا ہے کہ

کچھ سیاسی بت بہت برہم ہیں مجھ سے ان دنوں

چاہتے ہیں مجھ سے کہ ان کو خدا کہنے لگوں

لیکن ایسا کیسے ہو گا؟


ای پیپر