آزاد میڈیا اور اشتہارات کی بندش
28 جولائی 2019 2019-07-28

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان میں میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے اور اس پر کسی قسم کی کوئی قد غن یا بندش نہیں ہے۔ امریکن انسٹیٹیوٹ برائے امن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہاں تک فرما دیا کہ پاکستان کا میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد ہے بلکہ آئوٹ آف کنٹرول ( قابو سے باہر ہے)۔ جیسے ہی وزیر اعظم نے یہ بات کی تو کئی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں نے برطانیہ اور پاکستان کے میڈیا کی صورت حال کا تقابلی جائزہ پیش کرنا شروع کر دیا ۔ حالانکہ وزیر اعظم صاحب نے یہ کب کہا کہ آج کا برطانوی میڈیا پاکستانی میڈیا سے کم آزاد ہے،ہو سکتا ہے ان کی مراد 19 ویں اور 20 صدی کے ابتداء کے میڈیا سے ہو۔ انہوں نے برطانیہ کے اس وقت کے میڈیا کا پاکستان کے آج کے میڈیا سے موازنہ کیا ہو۔ اب وزیر اعظم غلط تو نہیں ہو سکتے۔ ہمارے ہاں یہ روایت اور سوچ پروان ہی نہیں چڑھ سکی کہ حکمران بھی غلط ہو سکتے ہیں۔ وہ غلط کر سکتے ہیں۔ بلکہ کرتے ہیں۔ ان کی غلط پالیسیوں کے بھیانک نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

ہمارے سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوں تو انہیں حکومت پر تنقید کرتا اور برستا میڈیا بہت پسند ہوتا ہے اور جیسے ہی وہ حکمران بنتے ہیں تو وہی میڈیا انہیں برا لگنے لگتا ہے ۔ ہر حکمران میڈیا سے وہی دیکھنا ، سننا اور پڑھنا چاہتا ہے جو ان کا سچ ہوتا ہے۔ وہ صرف اسی بنانیے کو قومی مفاد سمجھتا ہے جو ان کا بیانیہ ہو۔ اس لیے تنقید کرنے والا ہر صحافی ، کالم نگار اور تجزیہ نگار لفافہ لگتا ہے ۔ وہ بکائو ہوتا ہے ۔ اسے آداب شاہی اور قومی مفادات کا کوئی علم نہیں ہوتا ۔ اس لیے وہ قومی مفادات اور قومی سلامتی کے منافی کام کرتا ہے۔ حکومت کو وہ سب صحافی ، کالم نگار سرکاری دانشور اور تجزیہ نگار محب وطن لگتے ہیں جو ہر حکومتی پالیسی اور اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور اسے عوام کی نجات کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے میڈیا کی آزادی کے متعلق الفاظ کی گونج ابھی باقی تھی کہ پنجاب حکومت نے روزنامہ نئی بات کے اشتہارات بند کر کے آزادی صحافت کا عملی ثبوت بھی فراہم کر دیا ۔ پنجاب حکومت نے چوتھی بار نئی بات کے اشتہارات بند کیے ہیں۔ روزنامہ نئی بات کا جرم کیا ہے ؟ کہ یہ اخبار عوامی مسائل کو اجاگر کرتا ہے ۔ یہ اخبار حکومتی ناقص کارکردگی کو سامنے لاتا ہے۔سچ کو سامنے لانا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں میڈیا کو معاشی طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان کے حکمران فوجی آمرہوں یا سیاستدان یہ سب اپنی مرضی کا سچ سننا چاہتے ہیں۔ یہ صرف ایسی خبریں پڑھنا چاہتے ہیں جن میں سب اچھا ہو ۔ ان کی جھوٹی تعریفیں اور خوشامد ہو۔ آپ حکمرانوں کی ہر ادا پر صدقے واری جائیے۔ ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائیے اور ان میں وہ خوبیاں بھی تلاش کر لیں جن کا ان کو خود بھی پتا نہیں ہوتا تو پھر دیکھئے کیسے آپ پر اشتہارات اور دیگر عنایتوں اور مراعات کی بارش ہوتی ہے۔ مثبت صحافت کیجئے اور زندگی کی تمام رعنائیوں اور نعمتوں سے لطف اٹھائیے۔ اگر آپ کو غیر جانبدارانہ اور آزاد رپورٹنگ کی بری عادت ہے تو پھر معاشی بد حالی اور غربت ہی آپ کا مقدر ہے۔ پھر آپ کے حصے میں بے روزگاری اور فاقے ہی آئیں گے۔ تحریک انصاف جب تک حزب مخالف میں تھی تو اسے آزادی صحافت اور اظہار رائے بہت عزیز تھی اور یہ اس کے لیے فکر مندر رہتی تھی۔ تحریک انصاف اس وقت کی حکومت پر تنقید کرتی تھی کہ وہ اشتہارات کی منصفانہ تقسیم نہیں کر رہی اس لیے جب ہم حکومت میں آئیں گے تو اشتہارات کی یکساں اور منصفانہ پالیسی لاگو کریں گے۔مگر حکومت میں آنے کے بعد میڈیا اور اظہار رائے کی یہی آزادی اب تحریک انصاف کی حکومت کو کھٹک رہی ہے ۔ وہ اب اسی آزادی کے درپے ہے۔ ماضی کی آمرانہ اور سیاسی دونوں طرز کی حکومتوں کی طرح وہ اشتہارات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔

تحریک انصاف کی حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستانی پرنٹ میڈیا کا آمدن کے حصول کے لیے زیادہ تر دارومدار سرکاری اشتہارات پر ہوتا ہے ۔ اب اگر حکومت کو یہ کاروباری ماڈل پسند نہیں ہے تو اسے میڈیا کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ بتدریج اپنے کاروباری ماڈل کو تبدیل کریں اور سرکاری اشتہارات پر اپنے انحصار کو کم سے کم کریں۔ مگر حکومت اس وقت جو کچھ کر رہی ہے اس کا مقصد واضح طور پر یہ نظر آتا ہے کہ میڈیا کو بحرانی کیفیت میں مبتلا رکھا جائے تاکہ اسے باآسانی تابعدار اور فرمانبردار بنایا جا سکے۔ اشتہارات کی تقسیم اس اصول کے تحت ہو رہی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت جو کچھ اس وقت میڈیا کے ساتھ کر رہی ہے اس کا احساس اسے اس وقت ہو گا جب وہ حکومت میں نہیں ہو گی ۔ اب ذرا مسلم لیگ (ن) سے پوچھیے کہ میڈیا کی آزادی سلب کرنے اور اسے محدود کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔اب حکومت میڈیا کورٹس بنانے کا سوچ رہی ہے ۔ چین اور دیگر چند ممالک کی طرز پر سوشل میڈیا کو بھی پابند کرنے کا منصوبہ بن رہا ہے۔PTA کے چیئر مین جو کہ ریٹائرڈ جنرل ہیں وہ میڈیا ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کو بلاک کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سنسر شپ اور دبائو کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے با وجود پاکستان کا میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد ہے ۔ جی ہاں اگر آپ سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لینا چاہیں تو آپ کو لا محدود آزادی حاصل ہے اور خاص طور پر حزب مخالف کے سیاستدانوں کو آپ جو کچھ کہنا چاہیں کہہ سکتے ہیں مگر برطانیہ میں آپ یہ نہیں کر سکتے۔ وہاں پر نیوز چینلز کے اینکرز حزب مخالف کے سیاستدانوں پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات نہیں لگا سکتے مگر وطن عزیز میں آپ پر کوئی قد غن نہیں۔مگر آپ سابق صدر آصف زرداری کا انٹرویو نہیں دکھا سکتے۔ مریم نواز کی تقریر اور پریس کانفرنس دکھانے پر چینل بند ہو سکتا ہے۔ اس پاداش میں 3 چینلز بند ہوئے۔ اس ملک کے کیبل آپریٹر بھی مکمل آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے چینلز کے نمبرز آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں ۔ ہم شاید ریاستی حکومتی سنسر شپ کے عہد سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں اب ہم سیلف سنسر شپ کے عہد میں زندہ ہیں۔ اب اچھا صحافی اور کالم نگار وہی ہے جسے خود اپنی حدود و قیود کا پتا ہے۔ اسے پتا ہے کہ کس کے خلاف بولنا اور لکھنا قومی مفاد کی تکمیل اور رکھوالی ہے جبکہ کس کے خلاف خاموشی اختیار کرنا عین قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ جس صحافی کو یہ سمجھ آ جاتی ہے اسے زیادہ تکالیف نہیں اٹھانی پڑتیں ورنہ اس ملک میں ہڈیاں توڑنے اور جوڑنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

سیاستدانوں اور مقتدر قوتوں کو آزاد میڈیا اسی وقت اچھا لگتا ہے جب وہ ان کے مفادات کی تکمیل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ میڈیا اس وقت بہت اچھا تھا جب یہ 126 دنوں تک مسلسل عمران خان کے دھرنے کی تقریروں کو براہ راست دکھاتا رہا۔ عمران خان کے لیے آزاد میڈیا اس وقت بہت ضروری تھا جب وہ اقتدار میں آنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے تھے۔ اب انہیں یہ میڈیا بے قابو نظر آتا ہے ۔ مگر جب عدالتی فیصلے سے پہلے ہی وزیر اعظم کو چور، ڈاکو اور بہت کچھ کہا جا رہا تھا تو اس وقت جمہوریت کی خدمت ہو رہی تھی۔ عمران خان کے احتجاج قومی مفاد میں تھے جبکہ موجودہ حزب مخالف کے قومی مفاد کے منافی ہیں۔ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے حکومت کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے۔ حکومتی قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔


ای پیپر