تنا ئو سے ا ٹی ملکی سیا ست
28 جولائی 2019 2019-07-28

اپنے دورہِ امر یکہ سے دو روز پہلے وزیرِ اعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور جہالت کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان میں نئے انڈسٹریل زونز بنائے جائیں گے۔ جس علاقے کی ا ٓبادی دس لاکھ ہوگی وہاں انڈسٹریل زون بنائیں گے تاکہ لوگوں کو گھروں کے نزدیک روزگار ملے۔ تاجر فکس ٹیکس اور دیگر معاملات کے لیے چیئرمین ایف بی ا ٓر سید شبر زیدی سے ملاقات کرکے مسائل کا حل نکالیں۔ وزیراعظم نے ملکی و عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں قانون کی بالادستی اور قانون کی روشنی میں پیش قدمی کا یقین دلایا ہے جو صائب انداز نظر ہے اور اسی طرز سیاست کی بنیادیں اگر مضبوط ہوئیں تو قومی اداروں کو بھی استحکام ملے گا اور جمہوری قوتوں کو بھی۔ منتخب اراکین ایوان کو عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بنانے اور اہم قانون سازی کرکے منتخب ایوانوں کی اہمیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواب کی تعبیر بھی ڈھونڈنا ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ملکی سیاست میں قانون کی بالادستی اور قانون کی روشنی میں پیش رفت کی کوئی شفاف تصویر دیکھنے کو نہیں ملتی۔ میڈیا پر ا ٓئے دن مسائل کی رلا دینے والی کہانیاں ملتی ہیں۔ المیہ ڈرامے زندگی کی حقیقتوں سے دور لے جاتے ہیں، حکومت اور دیگر ادارے معاشی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمہ کی نویدیں دیتے ہیں لیکن ابھی تک حکومت اپنے طے شدہ ایک سالہ میعاد میں کوئی بنیادی اور چونکا دینے والی کارکردگی پیش کرنے کے قابل نہیں ہوسکی ہے۔ ایک طرف تعمیر و ترقی کے دعوے، دوسری طرف گرفتاریاں، چھاپوں کی مسلسل خبریں، چند روز قبل ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ مفتاح اسماعیل کے گھر اور فیکٹری پر چھاپہ پڑا، ن لیگ نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا، اسے جمہوریت کے لیے سیاہ دن اور وزیر اعظم کے لیے مہنگا سودا قرار دیا۔ پی پی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ سیاست غلط راستے پر چل پڑی ہے۔ معاشی صورتحال بدستور گمبھیر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ ملک سے باہر جارہا ہے، سٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی ہے، سرمایہ کاروں کے ایک کھرب 26 ارب ڈوب گئے۔ میڈیا کے مطابق شاہد خاقان عباسی کی خبر بھی مندی کا سبب بنی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مزید انکشافات سامنے لائیں گے۔ وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے مطابق گرفتاریوں کا پروانہ حکومت جاری نہیں کررہی ، جس نے جو کچھ کیا ہے وہ اب بھگتے گا۔ اپوزیشن رہنمائوں کا کہنا ہے کہ خوفزدہ کپتان مخالفین کو راستے سے ہٹا رہا ہے۔ ادھر جج ارشد ملک کی ویڈیو سکینڈل کی گردش میں ہے۔ نواز شریف کہتے ہیں بیگناہی ثابت، جلد سرخ رو ہوں گا جے یو ا ٓئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اداروں میں تصادم کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ مریم نواز کی نیب عدالت میں طلبی بھی ہوئی۔ جسٹس فائز عیسیٰ کو 2 شوکاز نوٹس مل چکے ہیں۔ یہ ہائی پروفائل کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے۔ قاضی فائز سے پوچھاگیا ہے کہ انہوں نے صدر مملکت کو خط کیوں لکھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عدالت میں بے گناہی ثابت کریں، انگلیاں ہلا ہلا کر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن کا اجلاس ہوا، جس میں 54 ارکان نے شرکت کی۔ حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ لانے والے تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر تیار نہیں۔ بعض مضطرب ہیں کہ ادارے دبائو ڈال رہے ہیں۔ شیری رحمن کے مطابق تحریک کامیاب ہوگی۔گو یااس مجموعی ملکی سیاسی صورتحال کا لب لباب یہی ہے کہ حکمرانی کے طرز عمل، ایشوز کی ترجیحات، اہداف کی تکمیل اور تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے بارے میں عوامی شکوک و شبہات کا کسی طور بھی تدارک ہی نہیں رہا۔ کوئی تو احساس کرے کہ بے چینی، بے یقینی اور انتشار بڑھنے لگا ہے۔ ادھر کلبھوشن کیش میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کے فوراً ہی بعد پاکستان نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کردیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، عالمی عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے ویانا کنونشن کے ا ٓرٹیکل 36 کے پیراگراف (ب) 1 کے تحت بھارتی جاسوس کو یہ حق دیا جارہا ہے۔ دریں اثنا مالیاتی اور اقتصادی معاملات میں نتیجہ خیز اصلاحات کی سمت غیر معمولی بریک تھرو کا بھی فقدان نظر ا ٓتا ہے۔ ایک دن کچھ خبر ا ٓتی ہے اور دوسرے دن اس کی تردید۔ پھر ایک اطلاع میں ایف بی ا ٓر چیئرمین شبرزیدی کے عہدہ کی ممکنہ تبدیلی اور وزیراعظم کے ان کے ٹیکس ریکوری پر عدم اطمینان کا تاثر ابھرتا ہے۔ اس وقت نازک معاشی معاملات اور مالیاتی معاملات میڈیا کی زینت بنتے ہیں۔ احتساب اور کرپشن کے خلاف کریک ڈائون کی کالی ا ٓندھی چلنے کا کوئی تاثر نہ ہو کہ شاید ملک میں کوئی ا ٓئینی بحران یا خانہ جنگی جیسی کوئی صورتحال پیدا ہونے جارہی ہے۔ لازم ہے کہ سیاست میں احتساب اور انتقام گڈ مڈ نہ ہوں، نیب اور عدالتیں کرپشن، منی لانڈرنگ و جعلی اکائونٹس کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ مگر اس عمل کے سیاسی و سماجی مضمرات اور ا ٓئینی اقدار و روایات کا پاس بھی رکھا جائے۔ عدالتی معاملات کو میڈیا ٹرائل کی دھند میں غائب کرنا کہاں کی جمہویت ہے۔ کیسز تو ساری دنیا میں زیر سماعت ا ٓتے ہیں مگر اتنا شور و غوغا اور افراط و تفریط کہ کاروبار زندگی معطل ہونے کو ا ٓجائے کسی طور ریاست و حکومتی شیرازہ بندی کے لیے نیک شگون نہیں۔ سیاست میں تنائو کی زبردست کیفیت ہے، تلاطم کا سماں ہے۔ عوام کس بات کو برداشت کریں، کس بیان اور احتجاج سے صرف نظر کریں۔ حادثات اور واقعات نے معاشرہ کو ذہنی طور پر اپاہج اور معاشی طور پر مفلوج کردیا ہے، ہم واقعی زندہ قوم ہیں۔ یہی ا ٓج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ زندہ قوموں کا شیوہ یہ تو نہیں ہوتا کہ ہر روز ایک سیاسی، اقتصادی، سماجی اور انسانی مسئلہ عوام کی روح کو گھائل کردے۔ میڈیا پر صرف بدعنوانی کے پینڈورا باکس دکھائے جائیں۔ افراتفری، کشیدگی اور چپقلش معا ملا ت کے بگا ڑ کی اصل وجہ نہ بن جائے۔ یہ منظرنامہ اب تبدیل ہونا چاہیے۔ ملکی سیاست میں ایک مقداری اور فکری و جمہوری ٹھہرائو ا ٓنا چاہیے جو حکمرانوں اور اپوزیشن رہنمائوں کی ذمہ داری ہے، جو سب کے مفاد میں ہے۔ وقت ا ٓگیا ہے کہ حکمران سیاست میں شوریدہ سری اور جوش نہیں ہوش سے کام لیں۔ قانون کو اپنا راستہ بنانے کا عمل ضرور ملنا چاہیے مگر اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی روش جمہوری خود کشی قرار پائے گی۔


ای پیپر