میرے سامنے ایک روشن پاکستان
28 جولائی 2019 2019-07-28

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورے سے یہ تاثر عام ہے کہ اب وہ بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح کے ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے امریکا جو دنیا کی بڑی طاقت ہے سے الجھنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کی آشیر باد کو ضروری جانا لہٰذا وہ اس کی جانب سے دی گئی دور ے کی دعوت پر بے قرار ہو کر چل پڑے۔اس دورے کو کچھ ذہین لوگ ناکام کہہ رہے ہیں تو کچھ کامیاب ۔خیر ہر کسی کا اپنا اپنا ظرف ہے اور اپنی اپنی سوچ ہے اپنے اپنے مفادات و احساسات ہیں جن کے تناظر میں ہی وہ کوئی نتیجہ اخذ کر رہے ہیں۔ اس میں ان کی سیاسی وابستگیاں بھی کارفرماہیں لہٰذا انہیں درست تجزیہ و فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے لہٰذا بولے جا رہے ہیں۔

بہر حال امریکہ کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ اسے اپنے مفادات کے حصول و تحفظ کے لیے پاکستان کی اشد ضرورت ہے اسے نظرانداز کرنا گویا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے لہٰذا وہ اسے اہم جانتے ہوئے نئے سرے سے روابط قائم کرے سو اس نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ملک کی مقتدر قوتوں سے براہ راست بات چیت کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں یہ دورہ ممکن ہوا اب دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ کیا وہ اپنا اہم ترین مسئلہ حل کرنے کے لیے ( افغانستان چھوڑنے کے لیے ) پہلے والی حکمت عملی اختیار کرے گا یعنی جوں ہی اسے بخیر و خوبی افغانستان سے واپسی کا راستہ دکھائی دے گا وہ اپنی ڈگر پر دوبارہ چل پڑے گا کہ تو کون میں کون ۔ لگتا ہے وہ اس بار ایسا نہیں کرے گا نہیں کیونکہ پاکستان سے یکسر صرف نظر کرنا اس کے لیے نا ممکن نہ سہی مشکل ضرور ہے وجہ اس کی عقل مند یہ بتاتے ہیں کہ اب پاکستان چین اور روس بلکہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کر رہا ہے چین سے تو اس نے پہلے ہی تعلق خاطر قائم کر لیا ہے روس کے لیے وہ پر جوش ہے لہٰذا امریکہ کے لیے یہ پریشانی کا باعث ہے کہ اس خطے میں اس کے لیے گنجائش کم پڑتی جا رہی ہے اور اگر وہ جارحانہ طرز عمل اختیار کرتا ہے تو دنیا بھر میں اس کی رسوائی بے انتہا ہو گی خود اس کے ملک کے اندر سے بھی ایک رد عمل آ سکتا ہے کیونکہ امریکی عوام موجودہ حکومت سے سخت نالاں ہیں اور اس کی پالیسیوں سے اتفاق مکمل نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ ترقی پزیر ممالک کے عوام کو آزادیاں حاصل ہوں اور وہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں لہٰذا تبدیلی کے اس دور میں حکمران طبقوں کی سوچ تبدیل ہو رہی ہے اور وہ ماضی کو دہرانا نہیں چاہتے جس میں انہوں نے کمزور ملکوں کے ساتھ زیادتیاں کیں ریاستوں کو مفلوج کرنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ نتیجتاً ان کے خلاف نفرت پھیلتی چلی گئی ور پھر مجبوراً پسماندہ و ترقی پزیر ممالک کے حکمرانوں کو اپنے نعروں میں ترامیم کرنا پڑیں کیونکہ عوام اس سیاستدان کو ہی محب الوطن سمجھتے جو امریکہ کو اپنا دشمن قرار دیتا اس کے خلاف عملی اقدامات اٹھاتا اور یہ یقین دہانی کراتا کہ وہ اس سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لے گا ۔ اگرچہ امریکہ نے اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل در آمد کرانے کی حکمت عمیل اپنائی مگر وہ اس میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ کمزور ملکوں کے تھنک ٹینکوں نے بھی متبادل راستے ڈھونڈ لیے لہٰذا آج امریکا ایک بدلا ہوا امریکہ ہے لہٰذا وہ ہٹ دھرمی کی پالیسی کو خیر باد کہنے کا خواہشمند نظر آتا ہے اگر ایسا نہیں ہے تو اسے افغانستان میں مستقلاً ڈیرے ڈالے رکھنے چاہئیں تھے مگر اس نے بدلتے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہاں سے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ اور یہ قدم اس کے لیے مفید ثابت ہو گا لہٰذا پاکستان سے وہ اس حوالے سے تعاون کا متمنی ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہماری معاونت لازمی نہیں سمجھتا اس نے براہ راست فریق ثانی سے بات کر کے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے مگر ایسا بالکل نہیں اگر یہی صورت حال تھی تو عمران خان اور مقتدر حلقوں کا تاریخی استقبال نہ ہوتا۔ اور ٹرمپ عمران خان کے واری واری نہ جاتا اور نہ اس کے سامنے کسی فرمانبردار کی طرح بیٹھتا۔

یہ تو تھا ایک پہلو اب پاکستان کو اس دورے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے اس کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ جو فوجی امداد بند کی گئی تھی بحال ہو جائے گی تجارت کا حجم بڑھ جائے گا عین ممکن ہے آئی ایم ایف ایسے دیگر ادارے شرائط کی سختی کم کر دیں اور ممالک مل کی خوشحالی امن اور روا داری کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو جائیں جس کی اس وقت سخت ضرورت ہے کیونکہ اگر مسائل خواہ وہ سیاسی ہوں، سماجی ہوں یا معاشی گمبھیر صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں جن سے چشم پوشی کی جاتی ہے تو پھر ایک خوفناک افراتفری پھیل سکتی ہے جس کا متحمل کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ چین اور روس کا کردار اس میں کیا ہو گا۔ میری ناقص رائے یہی ہے کہ وہ خود اس خطے میںامن و خوشحالی کے خواہاں ہیں اور پوری دنیا کے ساتھ تعلقات چاہتے ہیں اور انہیں مضبوط سے مضبوط تر دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں لہٰذا اگر امریکہ کوئی گہری چال چلنے نہیں جا رہا جس کا امکان دور دور تک نہیں تو وہ معترض نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی پاکستان کو اپنے مفادات عزیز ہیں لہٰذا وہ ان ہی کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ مغرب سے قطع تعلق کر کے کسی بھی طرح سے ترقی و خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا پھر وہ آزادانہ طور سے اپنی بقا و سلامتی سے متعلق فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔اگر آج آئی ایم ایف اسے قرضہ نہ لیتا تو اس کی معیشت بکھر جاتی ۔ چین اور روس اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ کسی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں۔ بہر کیف دوبارہ حالات کو بہتر بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے مزید فضا خوشگوار ہو جائے گی اور ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعادہ نہ کرنے کا عہدو پیمان ہو گا اور اگر بھارت کشمیر مسئلے پر امریکی انتظامیہ کی ثالثی کو قبول کر لیتا ہے تو پھر واقعتا خوشحال کا در وا ہو جائے گا کہ جس کی بنا پر دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی بڑھتی چلی جا رہی ہے ایسے میں کیسے عوام کی حالت زار کے ٹھیک ہونے کا کہا جا سکتا ہے۔ لہٰذا عمران خان بڑی حد تک پاکستان کے ساتھ ہونے والے ’’سلوک‘‘ کو امریکہ پر واضح کر چکے ہیں اور اس نے اسے تسلیم بھی کیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ برف پگھل چکی ہے اور اس کا کریڈٹ تمام محب الوطنوں قوتوں کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں تھوڑی سی تبدیلی لا کر نئے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ مگر یہاں یہ بھی عرض کیا جانا ضروری ہو گا اب جب معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں تو عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے بصورت دیگر عمران خان نے جس طرح ملکی وقار کو بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اس پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ انہیں حزب اختلاف سے بھی جمہوری و قانونی انداز سے پیش آنا چاہیے یہ جو وہ کسی فلمی ہیرو کی صورت میں مخاطب ہوتے ہیں قطعی جائز نہیں کل انہیں بھی کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے کیونکہ ہماری سیاست محدود ہے اور ابھی اس نے آزاد ہونا ہے؟

حرف آخر یہ کہ مجموعی طور سے پاکستان دنیا میں ایک نمایاں ریاست کے طور سے ابھرا ہے اور اس کی قیادت کو ہر ملک عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے شاید پہلی بار امریکہ میں کوئی حکمران اس سے سر زد ہونے والی غلطیوں سے متعلق بتانے کی جرأت کر سکا ہے وگرنہ تو صرف یہی علم ہوتا کہ وہ گئے تھے اب آگئے ہیں … مگر اب سب کچھ بدل گیا ہے میرے سامنے ایک روشن پاکستان ہے۔


ای پیپر