وزیراعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں
28 جولائی 2019 2019-07-28

تیسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے سناروں کو ٹیکس ایمنسٹی میں شامل کیا ہے۔ ملک پاکستان میں سونا شاید ہی قانونی طریقے سے درآمد ہوتا ہو۔کالا دھن رکھنے والے لوگوں کی زیادہ تر سرمایہ کاری اس وقت سونے کی تجارت میں ہے۔ اکثریت سونا خرید کر سٹاک کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ چین اپنے سونے کے ذخائر بڑھا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ وقت آنے پر سونا بیرون ملک اچھے داموں میں ٖفروخت ہو جائے گا۔ٹیکس ایمنسٹی کے مدنظر کچھ سناروں نے حکومت سے رابطہ کیا ہے کہ ان کے پاس منوں کے حساب سے سونا سٹاک ہے اور وہ اس پر ایمنسٹی کلیم کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ مطالبات پچھلی حکومت سے بھی کیے جاتے رہے لیکن انھوں نے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس کا بہترین حل تجویز کیا ہے۔ شبر زیدی نے سناروں کو یہ سہولت دی کہ وہ جتنے سونے پر ایمنسٹی کلیم کرنا چاہتے ہیں اسے سٹاک ان ٹریڈ میں ظاہر کرکے ٹیکس جمع کروا دیں۔ ایمنسٹی کلیم ہو جائے گی۔ چاہے آپ فرد واحد ہیں ، کمپنی ہیں یاپارٹنرشپ ہیں ، ایمنسٹی کلیم ہو جائے گی۔چوتھی وجہ پراپرٹی بیچنے پر کیپیٹل گین ٹیکس کا نفاذ ہے۔ جن لوگوں نے ماضی میں پراپرٹی کم قیمت پر ظاہر کی تھیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پراپرٹی بیچنے پر کیپیٹل گین ٹیکس بہت زیادہ جمع کروانا پڑے گا تو وہ اپنی پچھلی ریٹرن کو دہرا کر پراپرٹی کی موجودہ قیمت پر ظاہر کردیں اور جو اضافہ ظاہر کریں اس پر ایمنسٹی کلیم کر لیں تاکہ کیپیٹل گین ٹیکس کم سے کم ادا کرنا پڑے۔ پانچویں وجہ وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی، تقاریر، ٹی وی پروگرامز اور اشتہارات کی بھرمار ہے جس نے عام آدمی میں احساس ذمہ داری پیدا کیا اور اس نے محسوس کیا کہ ٹیکس چوری کرنا واقعی میں جرم ہے جس کی سزا بھی مل سکتی ہے۔ مشیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ریونیو کے وزیر اور متعلقہ ٹیم کو ایک ساتھ ٹی وی پروگراموں میں بٹھا کر عوام کو آگاہی دینے کے فیصلے نے اس کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

آئیے اب ایک نظر پچھلے سال کی نسبت ٹیکس کم اکٹھا ہونے کی وجوہات پر بھی ڈال لیتے ہیں ۔پہلی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی کلیم کرنے والوں کو ٹیکس کی رقم قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی تھی جس سے ہزاروں لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ لوگوں نے اثاثے ظاہر کر دیے ہیں لیکن ٹیکس کی رقم جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے مطابق اگر کوئی شخص کیش پر ٹیکس ایمنسٹی حاصل کرنا چاہتا تھا تو اسے کیش کی رقم بینک میں جمع کروانا لازمی تھا جبکہ پچھلی ایمنسٹی میں ایسی کوئی بندش نہیں تھی۔ عام آدمی کا خیال تھا کہ اگر رقم بینک میں جمع کروائیں گے تو ایف بی آر ڈپارٹمنٹ ان کے اکاونٹ سے رقم نکلوا لے گا کیونکہ ایف بی آر کو بینک اکاونٹس تک رسائی حاصل ہے۔ عام آدمی اور تاجروں نے حکومت سے بینک میں کیش رکھنے کی شرط واپس لینے کے لیے مذاکرات کیے لیکن حکومت نہیں مانی جس کے باعث ٹیکس آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ حکومت نے بینک میں کیش رکھنے کی شرط تیس جون کو اس شرط کے ساتھ ختم کی کہ جو شخص کیش پر چھ فیصد ٹیکس دے گا اسے بینک میں کیش جمع کروانے کے ضرورت نہیں ہے لیکن عوام نے اس آفر سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ایک تو یہ ریٹ بہت زیادہ تھا اور دوسری طرف وقت بھی ختم ہونے کو تھا۔تیسری وجہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی تاریخ میں واضع توسیع نہ کرنا ہے۔لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر ٹیکس تنظیموں نے بھی حکومت سے اس کا وقت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ ان تنظیموں کا ماننا ہے کہ ایک ماہ وقت بڑھانے سے حکومت پچیس سے تیس ارب روپے مزید اکٹھا کر سکتی ہے لیکن حکومتی حلقے اس تجویز کو اہمیت نہیں دے رہے۔چوتھی وجہ ٹیکس ریٹ میں خاطر خواہ کمی ہے۔ کیش کے علاوہ اثاثے ظاہر کرنے کا ریٹ ایک اشاریہ پانچ فیصد رکھا گیا جبکہ پچھلے سال یہ ریٹ تقریباً اڑھائی سے تین فیصد تھا۔ پانچویں وجہ ملک پاکستان میں معاشی عدم استحکام اور معاشی پالیسیوں میں مستقل مزاجی کا نہ ہونا ہے۔ بڑے کاروباری حضرات ایمنسٹی لینے کی بجائے اپنا منافع باہر کے ملکوں میں منتقل کررہے ہیں ۔کیونکہ روپے کو آزاد رکھنے کی وجہ سے بین الاقوامی ادائیگیوں اور خریداری میں توازن قائم رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اثاثے ظاہر کر کے پھنسنے کی بجائے کاروبار بنگلہ دیش، چائنا یا دبئی منتقل کر دیا جائے جہاں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا مسئلہ نہیں ہے۔

آئیے اب ایک نظر ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے کامیاب ہونے سے متوقع فوائد پر ڈالتے ہیں ۔ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے کامیاب ہونے کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو کوئی قرض لیے بغیر فوری طور پر ستر ارب روپے مل گئے ہیں ۔ جس سے معیشت کا پہیہ چلانے میں آسانی ہو گی۔ تین کھرب کے اثاثے ظاہر ہونے سے پاکستان کی جی ڈی پی بہتر ہو گی۔ آئی ایم ایف کے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ جو اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں ان کی خریدوفروخت کے حوالے سے مستقبل میں ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا۔ اکانومی کو ڈاکومنٹ کرنے میں مدد ملے گی۔ بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کی تعداد میں واضع کمی ہو گی۔ کالے دھن کا استعمال مشکل ہو جائے گا اور سفید دھن سے کاروبار کرنے میں آسانی ہو گی۔ سفید دھن سے کمائے گئے پیسوں کی منی لانڈرنگ کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔ تین کھرب کے ظاہر کیے گئے اثاثوں کی مالیت وقت کے ساتھ بڑھے گی جس سے مستقبل میں جی ڈی پی مزید بہتر ہو گی۔ حکومت پرپاکستانی عوام کے اعتماد کا اظہار بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال کرنے مدد دے گا۔

میری وزیراعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی کامیابی کے بعد ڈالر ایمنسٹی سکیم اور صنعت ایمنسٹی سکیم بھی متعارف کروائی جائے۔ بحیثیت ٹیکس کنسلنٹنٹ میں نے اس حوالے سے ایک تفصیلی منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔ جس کی تفصیلات میں اپنے اگلے کالم میں پیش کروں گا۔ فی الحال ٹیکس ایمنسٹی سکیم 2019ء کو کامیاب کروانے پر وزیراعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں ۔


ای پیپر