نیواور نئی بات کے صحافیوں کے بند چولھے
28 جولائی 2019 2019-07-28

میں نے آج اچانک خبریں سننے کے لیے ”نیو“ چینل لگایا، تو یہ سن کر حیران رہ گیا، کہ نیوچینل اور نئی بات کے اشتہارات ایک سال سے بھی کم عرصے میں چاربار بند کردیئے گئے ہیں۔

قارئین آپ یقین کریں کہ اگر کوئی متنازعہ خبر ہو، یا کسی بھی خبر کی تصدیق کر نی ہو، تو میں نیو چینل ضرور لگاتا ہوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس چینل کے سربراہ نصراللہ ملک صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے بلکہ میں ان کی دیانت داری، اور ان کے ماضی سے آگاہ ہوں، اور ان کے اس انداز سے بھی متاثر ہوں، کہ وہ سچی بات ، بغیر لگی لپٹی منہ پہ کہنے کے قائل ہیں، اور اس حوالے سے وہ نوکری چھوڑ دینا تو پسند کرتے ہیں، مگر کسی کا دباﺅ قبول نہیں کرتے۔ یہ بات ان کی سرشت میں شامل ہے، اور میں سمجھتا ہوں، جب سے انہوں نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، حالانکہ اس منصب کے لیے بہت سے نام اور لوگ چینل کے مالک چوہدری عبدالرحمن کے سامنے لائے گئے، مگر وہ ان سے مطمئن نہیں ہوئے یہ پہلے شخص ہیں جن سے مل کر وہ سوچ میں پڑ گئے تھے، اور پھر اس کے بعد انہوں نے مکمل طورپر یہ چینل ان کے سپرد کردیا، میں ذاتی طورپر چوہدری عبدالرحمن صاحب کو جانتا ہوں وہ خواہ کوئی بھی فیصلہ کرنا ہو، مشورہ متعدد افراد ، جس کو مشورہ نہیں کہا جاسکتا ہے، ذکر ضرور کرتے ہیں، مگر ہمیشہ آخری فیصلہ ان کا ہوتا ہے، حتیٰ کہ گھریلو زندگی میں پہلا فیصلہ ان کا اور پھر باقی ساری ذمہ داریاں اہل خانہ کی ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ کسی بھی حوالے سے کسی کے کام میں نہ تو دخل اندازی کرتے ہیں اور نہ ہی پسند کرتے ہیں، اور نہ ہی زیادہ باتیں کرتے ہیں ۔

قارئین کرام، اشتہارات کی پابندی کا سن کر میرا جینا حرام اس لیے ہوگیا ہے کہ یہ سارے الفاظ اگر میں کسی کی خوشامد اور چاپلوسی کے لیے کررہا ہوں، تو جھوٹے پہ خدا کی لعنت، یہی وجہ ہے کہ اپنی صحافتی زندگی کی ابتداءروزنامہ نوائے وقت سے کرنے کی وجہ سے میں جناب مجید نظامی کی بلندی درجات اور نوائے وقت کے ان احباب جن کے ساتھ میں اتنے سال کام کرتا رہا ان کے لیے ہمیشہ دعا گو رہتا ہوں، کیونکہ ایک انسان کو دوسرے انسان کی ہمیشہ خوبیاں ہی دیکھنی چاہئیں ،جب روزنامہ جنگ نے”جیو“ چینل بنایا تھا، تو ایک دن مجید نظامی صاحب نے مجھے گھر فون کرکے ملنے کوکہا، دوسرے دن ان سے ملاقات ہوئی، اور مجھے کہا کہ آپ پاکستان ٹی وی سے خبریں پڑھنے، اور بعض پروگرام کے میزبان بھی ہوتے ہیں، کیا نوائے وقت بھی اپنا چینل متعارف کرائے، آپ کا کیا خیال ہے، اور آپ اس حوالے سے کیا مدد کرسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ ماشاءاللہ اس کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں ،آپ ضرور یہ بزنس بھی کرلیں ، کیونکہ جگہ تو آپ کے پاس موجود ہے میں نے سمجھا شاید یہ نوائے وقت کی پرانی بلڈنگ کے آخری فلور جس میں انہوں نے مسجد بنائی ہوئی تھی، اور وہاں نماز جمعہ بھی ہوتی تھی، مگر انہوں نے فرمایا کہ یا تو میں عارف نظامی صاحب والی عمارت میں بنانا چاہتا ہوں یا میرے پاس ایک اور جگہ بھی موجود ہے، جیسے چوہدری عبدالرحمن کے پاس بھی یہ جگہ موجود تھی، اور انہوں نے لوگوں کے مشورے کے باوجود جگہ تبدیل نہیں کی تھی۔

بہرکیف میں نظامی صاحب کی بات کررہا تھا، میں نے کہا کہ آپ کا چینل وقت اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک آپ اس کے اہل سربراہ کے لیے معقول معاوضہ نہیں دیں گے، انہوں نے کہا کہ میں اس کا سربراہ تو عارف نظامی صاحب کو بنانا چاہتا ہوں، میں نے کہا کہ اس ”فنی ماہر“ کے عہدے کو جو مرضی نام دے دیں مگر آپ کے چینل وقت کی حکمرانی کوئی نااہل شخص نہ کرے جس کو اس کا تجربہ بھی نہ ہو، اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سنٹر کے جنرل منیجررفیق وڑائچ مرحوم میرے قریبی دوست تھے، دوسرے دن میں نے ان کی ملاقات ان سے کرائی مگر اس وقت انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ عارف نظامی صاحب کریں گے۔ اور انہوں نے فون کرکے ہمیں ان کے پاس بھیج دیا .... مگر انہوں نے بالکل دلچسپی ظاہر نہیں کی، تو رفیق صاحب نے کہا کہ یار نواز تم مجھے کہاں لے آئے ہو، یہ مجھ سے ملنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ، اور آج میں چل کے آیا ہوں تو اجنبی بن گئے ہیں، اس کہانی کا ذکر محض اس لیے کررہا ہوں کہ اگر پاکستان کی مردہ سٹیل ملز کو جنرل عبدالقیوم خان چلاسکتے ہیں، تو کسی بھی ادارے کو (اہل)شخص ضرور چلا سکتا ہے، جیسے نیو چینل کو نصراللہ ملک ، اور نئی بات کو جناب عطاالرحمن کامیابی سے چلارہے ہیں، اس کی وجہ میرے خیال کے مطابق یہ ہے کہ وہ دوسرے اخبارات کے ڈپٹی ایڈیٹر سے زیادہ تجربہ کار، زیادہ محنتی اور زیادہ باخبر اور روس سے لے کر امریکہ ،یورپ اور چین و ڈنمارک میں گھومنے اور مطالعاتی دورے کرنے والا کوئی اور صحافی اس وقت نہیں، دوچار نام اس ضمن میں آرہے ہیں مگر وہ بھی قابل ذکر اس لیے نہیں کہ وہ مکمل وقت کے لیے صحافی نہیں ہیں ان دونوں شخصیات کی کامیابی کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ نہیں، بلکہ نئی بات کے مالک چوہدری عبدالرحمن صاحب کا دست شفقت ہے جو آخری حدتک کوشش کرتے ہیں، کہ ان دونوں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں، میں پاکستان کے تقریباً بڑے اخبارات میں کام کرچکا ہوں۔

مگر میرا خدا گواہ ہے کہ آزاد پاکستان میں جو آزادی نئی بات کے صحافیوں کو حاصل ہے، وہ کسی دوسرے اخبارات میں نہیں، بے شک کوئی میرے ساتھ مناظرہ کرلے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ صرف ریاست مدینہ میں نہیں بلکہ امت مسلمہ کے تمام مسلمانوں کو یہ حکم نبوی ہے کہ صحیح سچی بات کرو اور سچی گواہی دو، خواہ وہ تمہارے باپ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اگر نئی بات کے مالک نے اس پر عمل کیا ہے تو کیا وہ قابل گرفت ہے؟ کہ ان کے اخبار کے اشتہار بند کردیئے جائیں، ریاست مدینہ میں تو مدینے والے اور اس کے خالق کی چلے گی، اور ایک اور خاص بات نئی بات کے صحافیوں کے چولہے اب نہیں، گیارہ ماہ سے بند ہیں تو کیا اخبار بند ہوگیا، یا چینل بند ہوگیا؟ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے کہ انسان دولت ، عزت، شہرت ملنے سے بدلتا نہیں بلکہ ”بے نقاب“ ہوجاتا ہے، اسی لیے حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں

ہزار خوف ہوں دل میں زباں ہودل کی رفیق

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق!


ای پیپر