صحافی میراثی بن جائیں؟
28 جولائی 2019 2019-07-28

اخبارات اپنے قارئین اور شہریوں کے مقدمے حکومتوں اور انتظامیہ کے ساتھ لڑتے ہیں مگر یوں بھی ہوتا ہے کہ خود انہی اخبارات کا مقدمہ انہی شہریوں کی عدالت میں آجاتا ہے۔ میں نے دیکھا،عوام کا مقدمہ لڑنے والے ایک انتہائی ذمہ دار، سنجیدہ اور متوازن اخبار کے مقدمے پر خود ہمارے دوستوں نے سوال اٹھائے، میں سوشل میڈیا کی بات کر رہا ہوں جہاں ہر کسی کو آزادی ہے ۔ سوالات دلچسپ اور معصومانہ کے ساتھ ساتھ شرپسندانہ بھی تھے مگر یہ ہمارا فرض ہے کہ ان سب کے جواب دیں۔ سب سے بڑی حیرت تو اس بات پر ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایک نجی اخبار سرکاری اشتہارات کے بند ہونے پر احتجاج کر رہا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت اسے اشتہار کیوں دے ،کیا پرائیویٹ بزنس کو پرائیویٹ ایڈورٹائزمنٹ سے نہیں چلنا چاہئے۔ یہ حیرت بھرا سوال اگر لاعلمی اور جہالت نہیں ہے تو پھر محض پروپیگنڈہ ہے کہ جب ایک اخبار مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومتوں سے ملنے والے اشتہارات کی بات کرتا ہے تو وہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ ریاست سے اپنا حق مانگ رہا ہوتا ہے۔ یہ اشتہارات میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانے ،کرپشن کو روکنے کی بہت بڑی ضمانت ہیں کہ اگر ایک حکومت آزاد اخبارات میں اشتہار دئیے بغیر کوئی ٹینڈر طلب کرے گی، کوئی ٹھیکہ دے گی تو وہ یقینی طور پر اس میں اپنوں کو نوازنے کی سازش کرے گی۔ سرکار کی طرف سے اخبارات کو اشتہار جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی کام کو کسی دفتر کی بند الماریوں میں چھپی ہوئی فائلوں کے ذریعے سرانجام نہیں دیا جا رہا بلکہ تمام سٹیک ہولڈروں کو خبر دی جارہی ہے لہٰذا جب ایک حکومت آزاد میڈیا کو اشتہار دیتی ہے تو وہ آئین اور قانون کے تقاضے اور اپنی ذمہ داری پوری کرتی ہے، کوئی احسان نہیں کرتی۔

اب اگلا سوال ہوتا ہے کہ یہ حکومت کا ستحقا ق ہے کہ وہ جس اخبار کو چاہے اشتہار دے جس کو چاہے نہ دے تو یہ سوال بھی بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ سرکاری پیسہ کسی کے باپ کا مال نہیں کہ وہ جس کو چاہے دے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ قومی خزانہ کسی اصول اور ضابطے کے تحت ہی خرچ ہو سکتا ہے اور یہاں اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ اخبار کی ساکھ اور سرکولیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اشتہارات جاری کئے جائیں اور یہی ’نئی بات ‘کا مقدمہ ہے۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کہتے ہیں کہ حکومت روزنامہ چارپائی اور روزنامہ ننگی تلوار جیسے ڈمی اخبارات کو اشتہارات جاری کر رہی ہے یعنی حکمران آزاد اور حقیقی میڈیا کا حق مار کر سرکاری پیسہ خوشامدیوں اور جعل سازوں کی جیب میں ڈال رہے ہیں ۔ المیہ ہے کہ جب آپ ’نئی بات‘ کی بجائے ننگی تلوار کو اشتہارات دیتے ہیں تو وہ ننگی تلوارحقیقی اخبارات میں کام کرنے والے عامل صحافیوں کی تنخواہ پر چل جاتی ہے۔یہاں ایک اور سوال پوچھا جاتا ہے کہ اشتہارات کی آمدن تو مالکوں کے پاس چلی جاتی ہے تو اس سے کارکن صحافی کیسے متاثر ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحافت ایک نظریہ بھی ہے اور کاروبار بھی۔ آپ اسے نہ سو فیصد کاروبار بنا کے چلا سکتے ہیں اور نہ ہی خالی نظرئیے سے مشینیں چلائی اور اخبار چھاپاجا سکتا ہے۔ نئی بات میڈیا گروپ کے ایڈیٹر جناب عطاءالرحمان کہتے ہیں کہ آج کے دور کے جدید میڈیا ہاو¿سز میں اربوں روپوں کی سرمایہ کاری درکار ہے ۔ جب ایک سرمایہ کار ، سرمایہ کاری کرتا ہے تو یہ کچھ عرصہ تو اپنے شوق کی وجہ سے کروڑوں روپے اس میں ڈال سکتا ہے مگر یہ کام ہمیشہ نہیں ہو سکتا۔ ہر ادارے کے ماہانہ کروڑوں روپوں کے اخراجات پورے کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اشتہارات ہی ہیں۔

یہاں ایک اور سوال داغ دیا جاتا ہے کہ صرف سرکاری اشتہارات ہی کیوں، اخبارات کو پرائیویٹ سیکٹر کے اشتہارات سے چلنا چاہئے تو اسکاجزوی جواب تو پہلے آگیا کہ جب سرکار پر لازم ہے کہ اس نے اشتہارات کے ذریعے آئینی تقاضے پورے کرنے ہیں تو وہ ان کی تقسیم منصفانہ کرے مگر اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کے وجود میںآنے کے بعد وطن عزیز کی جی ڈی پی سکڑ رہی ہے، گروتھ ریٹ آدھا رہ چکا ہے، شرح سود دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جس نے کاروباری طبقے کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ نجی شعبہ اشتہارات اس وقت دیتا ہے جب کاروبار ترقی کر رہا ہو اوراس کی مثال یوں لے لیجئے کہ اگر ہونڈا اور ٹویوٹا اپنے پلانٹ اس وجہ سے شٹ ڈاون کر رہے ہیں تو وہ بحران اور گھاٹے کا شکار ہے، وہ ایسے میں اشتہارات پر پیسہ خرچ نہیں کر سکتے جب ان کے کارکنوںکی تنخواہوں اور بجلی کے بلوں جیسے بنیادی اخراجات کسی اژدھے کی طرح منہ کھولے کھڑے ہوں اور کاروبار کو ہڑپ کرنے کے درپے ہوں تو ایسے مشکل وقت میں اخباری ادارے سرکاری اشتہارات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اب سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ’ نئی بات‘ کے اشتہارات کیوں بند کئے حالانکہ نئی بات کے قارئین جانتے ہیں کہ یہ اخبار کبھی غیر سنجیدہ بات نہیں کرتا ۔اس کا وعدہ ہے کہ عوام کے حقوق کی پاسبانی کرے گا مگر کیا ستم ظریفی ہو گی اگر وہ خود اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ نہ کرسکے۔ ’ نئی بات‘ سے وابستہ صحافی آئین اور جمہوریت سے کمٹ منٹ رکھتے ہیں،جی ہاں،وہ خوشامد ی اور کاسہ لیس نہیں ہیں اور یہی خُو حکمرانوں کی ناراضی کی وجہ بن جاتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ شہباز شریف کے دور میں بھی ’نئی بات‘ کے اشتہارات پر بندش لگتی رہی، مجبور کیا جاتا رہا کہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹوںکے درباروں میں حاضری دی جائے اور یہی کام جناب عثمان بُزدار کی وزارت اعلیٰ کے ایک برس میں چوتھی مرتبہ ہو گیا ہے۔’ نئی بات‘ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کی خبریں شائع ہوتی ہیں بلکہ حکومت کا حق سمجھتے ہوئے اسے نمایاں کوریج دی جاتی ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپوزیشن کا بلیک آو¿ٹ کر دیا جائے۔ یہاں جو کالم شائع ہوتے ہیں ان میں حکومت پر تنقید بھی ہوتی ہے اور حکومت کی پالیسیوں کی انتہائی تعریف بھی کہ ہر کالم نگار کا اپنا نکتہ نظر ہے اور ’ نئی بات‘ میں نئی بات ہی یہی تھی کہ اس کے مالک اور چیئرمین جناب چوہدری عبدالرحمن نے ادارتی پالیسی پر کبھی آمریت مسلط نہیں کی، وہ کہتے ہیں کہ ہیرو کو ہیرو کہاجائے اور ولن کو ولن ۔سپرئیر یونیورسٹی میں نوجوان نسل کو پڑھایا جاتا ہے مگر نئی بات میڈیا گروپ کا اخبار ہو،’ نیو نیوز‘ ہو،’ لاہور رنگ‘ ہو یا ایف ایم ریڈیو، یہ سب پورے معاشرے کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

میں حکمرانوں سے یہی کہہ سکتا ہوں کہ اس میڈیا گروپ کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، یہ ریاستی اداروں کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہے اوراس کی کمٹ منٹ کسی سیاسی جماعت کے بجائے آئین اور جمہوریت کے ساتھ ہے لہٰذا یہ تو عین ممکن ہے کہ ملک و قوم کے مفاد میں ہاتھ ملایا جائے، دوست بنایا جائے، ساتھ چلا جائے اور حکومت کی مدد کی جائے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ صحافی آپ کے میراثی بن جائیں۔ انصاف کے نام پر قائم حکومت کو انصاف سے ہی کام لینا چاہئے اور جناب عمران خان کے میڈیا بارے دئیے ہوئے درجنوں بیانات کی لاج ہی رکھ لینی چاہئے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کربتائیے، ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر دوسری وزارت عظمیٰ والے نواز شریف اور پرویز مشرف تک آج تک کوئی میڈیا کا گلا گھونٹ کر کبھی کوئی خود بھی پھلا پھولا ہو، بتائے دیتے ہیں کہ ہم تاریخ ، سیاست اور صحافت کے طالب علموںنے ایسا ہوتاکبھی نہیں دیکھا۔


ای پیپر