Source : Yahoo

آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ ن کو سرخ جھنڈی دکھا دی
28 جولائی 2018 (19:09) 2018-07-28

لاہور : عام انتخابات 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف نے برتری حاصل کی جس کے تحت پاکستان تحریک انصاف بآسانی وفاق میں اپنی حکومت بنا سکتی ہے۔ پنجاب میں کسی سیاسی جماعت سے اتحاد کرنے یا آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے پر پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت سازی کر سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو 129، پاکستان تحریک انصاف کو 123 اور آزاد امیدوار کو 28 نشستیں حاصل ہوئیں۔

مسلم لیگ ن کو پنجاب اسمبلی میں برتری تو حاصل ہے لیکن آزاد امیدواروں کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے سے یہ برتری بھی پاکستان تحریک انصاف کے حصے میں ہی آجائے گی جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں بھی بآسانی اپنی حکومت بنا سکے گی۔پنجاب میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن بھی آزاد امیدواروں سے رابطوں میں ہے لیکن آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ ن کو سرخ جھنڈی دکھاکر اپنا جھکاو پاکستان تحریک انصاف کی جانب کر لیا ہے۔

کامیاب آزاد امیدواروں میں سے کئی امیدواروں کا تعلق ان خاندانوں سے ہے جو مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ ن پر ترجیح دینا شروع کر دی اور اپنا جھکاو پاکستان تحریک انصاف کی جانب کر لیا۔

پنجاب میں کس کے نام کا سکہ چلے گا،کون تخت لاہور پر بیٹھے گا، حکمرانی کی بساط پر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف آمنے سامنے آگئے، نمبر گیم کی چالوں سے مد مقابل کو زچ کرنے کی بازی شروع ہو چکی ہے۔دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت بنانے کے لیے دعوے اور جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گئے ہیں ، آزاد اراکین سے رابطے شروع کردیے گئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے چار آزاد اراکین تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں جس کے بعد صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 127 ہو گئی ہے۔ آزاد حیثیت میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن جیتنے والے 4 اراکین نے بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں میں کبیر والہ کے حسین جہانیاں گردیزی، ڈیرہ غازی خان کے حنیف خان پتافی اور لیہ سے سید رفاقت حسین اور بشارت حسین رندھاوا شامل ہیں۔تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی جانب سے پیسوں اور وزارت کی پیش کش کی گئی لیکن ہمارا خیال ہے کہ جو عوام کے لیے بہتر ہے ہمیں وہ کرنا چاہیے۔

پنجاب میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن خواہمشند ہے اور حمزہ شہباز پنجاب میں حکومت سازی کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔لیکن کامیاب آزاد امیدواروں میں ق لیگ سے تعلق رکھنے والے کئی وزرا بھی شامل ہیں۔جیسے سعید اکبرنوانی،سعید الحسن شاہ اور حسین جہانیاں گردیزی پرویز الٰہی کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ جس وجہ سے ان کاجھکاو مسلم لیگ ن کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کی طرف ہے۔ احمد علی اولکھ مسلم لیگ ن کے دور میں وزیر رہے ہیں لیکن اس مرتبہ مسلم لیگ ن نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا جس وجہ سے انہوں نے آزاد حیثیت میں ہی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب ہوئے۔

سلیم بی بی غلام بی بی بھروانہ کی والدہ ہیں۔ غلام بی بی بھروانہ پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں، اس لئے ان کی بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت مشکل ہے ، اسی طرح دیگر آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والوں میں ساجد احمد خاں،غلام رسول سانگھا ،امیر محمد خاں،محمد اجمل،عمرفاروق،محمد تیمور خاں،فیصل حیات جبوانہ ،محمد معاویہ ، محمد اسلم، حمیداکبر،سید خاورعلی شاہ، جگنومحسن، محمدسلمان، فدا حسین ،شوکت علی لالیکا، باسط احمد سلطان،خرم سہیل لغاری، محمد طاہر رندھاوا، رفاقت علی گیلانی ،محسن عطا لغاری ، محمد حنیف سے بھی مسلم لیگ ن نے رابطے کئے ، لیکن ان میں سے اکثریت نے مسلم لیگ ن کے ساتھ چلنے کے لئے رضا مندی کا اظہار نہیں کیا جس وجہ سے مسلم لیگ ن کی پنجاب میں حکومت سازی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔


ای پیپر