ata ur rehman columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
28 جنوری 2021 (12:20) 2021-01-28

عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے اندر ہر ایک کو نظر آنے والی چمک دمک والی کامیابی کے ساتھ حکومت کی آئینی مدت پوری کرنا کے عزم اور جوش و جذبے کی کمی نہیںوہ دن رات اس کام پر لگے ہوئے ہیں… اعلان کردہ مشن کو ملک کے خواص و عام کے اندر اسے مقبول بنانے… اپنے انتخابی دستور کو زبان عمل میں ڈھال کر پیش کرنا عوام کی سب سے بڑی ضرورت کے باور کرانے میں لگے ہوئے ہیں… ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر جو حریفوں کو پچھاڑتا ہوا پورے طنطنے کے ساتھ برسراقتدار آیا ہو یہ ان کا بنیادی سیاسی حق اور فریضہ ہے… جسے بروئے کار لانے میں وہ بظاہر کوئی کمی روا نہیں رکھ رہے ہیں… آپ روزانہ کے ٹی وی پروگرام دیکھ لیجیے… ہر دن علی الصبح شائع ہونے والے اخبارات میں چیختی چلاتی سرخیاں ملاحظہ کر لیجیے… عمران خان حکومت کے ہاتھوں جو کارنامے آنے والے عرصے میں پردہ غیب سے ظہور میں آنے والے ہیںاور وہ مخالفین کو عوام و خواص کی نظروں میں چاروں شانے چت کر کے رکھ دے گا ان کا تذکرہ تسلسل کے ساتھ سننے اور پڑھنے کو ملے گا… یعنی کوئی وقت جاتا ہے انقلاب عظیم ہمارا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور تبدیلی جس کے بہت خواب دکھائے گئے تھے نامعلوم مقام سے لمبا سفر طے کرتے ہوئے قوم و ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دے گی… بعض جلد باز کہتے ہیں اڑھائی برس سے اس تبدیلی کی نوید سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں مگر وہ آنے کا نام نہیں لیتی جبکہ ملک اور عوام کے حالات پہلے کی نسبت کہیں زیادہ لگاڑ کی جانب لڑھکتے جا رہے ہیں… جس کا علاج وزیراعظم عمران خان بتاتے ہیں نہ انہیں مشورے دینے والے ’’حکیموں‘‘ کے پاس ایسا کوئی نسخہ نظر آتا ہے جو اس روگ کا تیر بہدف علاج تجویز کر پائے جس کا سامنا ان کی محبوبہ حکومت کو درپیش ہے… اس مشکل کا فوری اور آسان حل انہوں نے البتہ یہ سوچ رکھا ہے کہ ہر ناکامی کا ذمہ دار پچھلی حکومتوں خاص طور پر نوازشریف کو قرار دیں اور اٹھتے بیٹھتے اہل وطن و ناقدین کو باور کراتے رہیں جانے والے حکمران اتنے لاینحل مسائل چھوڑ کر گئے ہیں کہ ان کا گند دور کرنے کے علاوہ ہمیں کسی کام کی فرصت نہیں ملتی نئے منصوبوں کا کیسے اور کیونکر آغاز کریں… لیکن قوم کو جو مسئلے یا جس پریشانی کا سامنا ہے جو خان بہادر وزیراعظم اور ان کے وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کا مخمصہ بنتی چلی جا رہی ہے… یہ ہے کیا اس حکومت کے اندر اوپر سے نیچے تک کسی فیصلہ ساز اور ذمہ دار شخصیت میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے… آخر اڑھائی برس یعنی آئینی مدت کا نصف عرصہ گزر چکا ہے بہتر حکومت یا اچھی حکمرانی کا ایک بھی پہلو سامنے نہیں آیاجسے قوم کے ساتھ فخرکے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہو… ایماندار اور شفاف (صادق اور امین) ہونے کا سب سے زیادہ کریڈٹ انہوں نے لیا… اسی کا ڈھنڈورا پیٹتے 

پیٹتے عمرانی سیاست کے اقتدار کے اندر اور باہر بیس برس گزر چکے ہیں… اپنے سب سے بڑے اور سیاسی حریف نوازشریف کو کرپٹ کہتے کہتے ان کا سانس پھول چکا ہے… نواز کیمپ کا کہنا ہے ہمارے خلاف ایک دھیلے کی بدعنوانی کا الزام ثابت نہیں کیا جا سکا… لیکن خان بہادر وزیراعظم کی حالت ہے … ’رانجھا رانجھا کر دی میں آپے رانجھا ہوئی‘… ان کے اپنے خلاف کرپشن کے الزامات آن چمٹے ہیں صرف فارن فنڈنگ کیس جس کی سماعت کی تکمیل وہ اپنے حکومتی رسوخ اور اسٹیبلشمنٹ نامی طاقتور ریاستی ادارے کی سرپرستی کی وجہ سے ہونے نہیں دے پا رہے ، اگر اس سکینڈل کا نتیجہ سامنے آ گیا تو ان کی پاک بازی کی تمام داستانوں پر پانی پھیر کر رکھ دے گا… چینی اور آٹا سکینڈل اس پر مستزاد ہیں جنہیں وہ مافیا کی کارستانی قرار دیتے ہیں… اگر اسے مان بھی لیا جائے تو ان مافیاز کے نمائندے کابینہ کے اندر اور باہر بلکہ موصوف کے دائیں اور بائیں براجمان ہیں… ان تمام امور کی وجہ سے عمران خان داغدار ہوتے جا رہے ہیں… بڑا مخمصہ یہ ہے اس گرداب سے باہر نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی…

مگر ان نامساعد حالات میں بھی ہمارے کھلاڑی جمع سیاستدان اور وزارت عظمیٰ کے مزے لوٹنے والے قوم کے اس سپوت کو جس حفاظتی چھتری کی پناہ حاصل ہے وہ ریاست پاکستان کا سب سے زیادہ طاقتور اور انتہائی بارسوخ ادارہ ہے جسے احتیاط کے تقاضوں کے پیش نظر (کچھ خوف کی وجہ سے) اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے… اس بارے میں ملک کے اندر دو رائے نہیں پائی جاتیں کہ کھلاڑی کو وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر لا بٹھانے کا کار عظیم اسی اسٹیبلشمنٹ کے دست غیبی یا ناخن تدبیر کا شاہکار یا شاخسانہ ہے… ’صاحب بہادروں‘ کو بوجوہ نوازشریف سے نفرت ہے ان کے متبادل کے طور پر عمران خان کو لانے کی سعی کی گئی جو آ گیا… ملکی رائے عامہ کے ایک بڑے حصے کو شیشے میں اتار کر 2018 کے انتخابی معرکے میں کامیابی سے دوچار کرنے کی ہرممکن کوشش ہوئی اکثریت اس کے باوجود نہ ملی روایتی جوڑ توڑ سے کام لیا گیا… کھلاڑی کو وزارت عظمیٰ کے لباس فاخرہ میں سجا بنا کر اس منصب جلیلہ پر بٹھایا گیا… اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے اسٹیبلشمنٹ کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا… نااہلی کے کمبل سے جان کیسے چھڑائیں… حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والی اس سرکار بالا کا مخمصہ یہ ہے لاڈلے کو ہٹائیں تو نوازشریف جگہ لے گا مگر اسی کی نفرت سے مغلوب ہو کر کھلاڑی کو چوغہ کھلایا گیا جس کا تجربہ ناکام ہوا چاہتا ہے… سامنے کوئی حل نظر نہیں آ رہا… متبادل کے طور پر پی ڈی ایم کے اتحاد نے اس میں شک نہیں لنگوٹ کس رکھا ہے… پی ڈی ایم اگرچہ اپنی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جگہ لینے پر بے تاب نظر آتی ہے مگر اس کے داخلی مسائل ایسے ہیں کہ اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہوئے ہم جیسی مشکلات سے دوچار ہے… یہ مسائل زیادہ تر داخلی ہیں… پیپلز پارٹی اس اتحاد کی اہم تر جماعت کا درجہ رکھتی ہے… عمران خان سے نجات حاصل کرنے کی شدید تمنا تو رکھتی ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھلے عام ٹکر لینے کی ہرگز قائل نہیں نہ اسے صوبہ سندھ میں اپنی صوبائی حکومت کی قربانی گورارا ہے… میٹھا میٹھاہپ اور کڑوا کڑوا تھو کا سا معاملہ ہے… اس کا مخمصہ یہ ہے عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹا کر سیاسی تبدیلی کے ثمر بھی لپیٹ لے اور ہاتھ سے کچھ گنوانا بھی نہ پڑے… اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بگاڑ پیدا نہ ہو…

پی ڈی ایم کے مخالف اتحاد میں سیاسی لحاظ سے سب سے طاقتور جماعت نوازشریف کی مسلم لیگ ہے… جس کا ووٹ بینک پنجاب جیسے عسکری قوت کے گڑھ اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں محفوظ ہے… یعنی دو مؤثر ترین مگر ایک دوسری سے متحارب طاقتوں کی آماجگاہ ایک ہی صوبہ ہے… محاذ آرائی کی فضا موجود ہے تصادم یا ٹکرائو کی مگر یہ بھی متحمل نہیں ہو سکتی… کیونکہ سامنے بھارت موقعے کی تاک میں بیٹھا ہے… ایسے اسے کسی کمزوری پر محمول کریں مقتدر طبقوں کی طاقت سمجھ لیجیے… چنانچہ جمہوریت کا نام تو بہت پیٹا جاتا ہے … گونج بھی آسمانوں تک سنائی دے رہی ہے… مگر روح جمہوریت کی مضروب ہو چکی ہے اور آئین یا سویلین بالادستی کا پرندہ پھڑپھڑا رہا ہے… ملک کی حالت دگرگوں ہوتی جا رہی ہے… راستہ نکل نہیں رہا…


ای پیپر