Chaudhry Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
28 جنوری 2021 (12:14) 2021-01-28

چند سال پہلے کی بات ہے پولیس کے ایک نوجوان افسرکے ساتھ میری جان پہچان ہوئی جو شمالی علاقہ جات کے کسی چھوٹے سے ضلع کا ڈی پی او تھا۔ باہمی اعتماد، ذہنی ہم آہنگی اور دوستانہ رازداری میں اس نے مجھ سے ایک سوال کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں پنجاب کے ایک پس ماندہ ترین ضلع سے تعلق رکھتا ہوں اور میری پرورش گاؤں کے کچے مکان میں ہوئی ہے۔ پولیس میں بھرتی کے بعد میں جہاں بھی تعینات ہو کر جاتا ہوں وہاں کے ایم پی اے اور ایم این اے اور شہر کے بڑے بڑے تاجر اور بزنس مین میرے دفتر میں آتے ہیں اپنا تعارف کراتے ہیں اور ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ میں انہیں کوئی کام کہوں۔ ’’ڈی پی او صاحب کا کہنا تھا کہ اس آنکھیں چندھیا دینے والے سماجی مرتبے اور دولتمندی کے ماحول میں میرے جیسے کسی افسر کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ How to resist these temptations ۔ اس کا کہنا تھا کہ میری پولیس ٹریننگ میں مجھے اس طرح کے حالات کو ڈیل کرنے یا اخلاقی پختگی یا کیریکٹر بلڈنگ کا اہتمام نہیں کیا گیا لہٰذا ایسے حالات میں یہ ہر افسر کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ ان معاملات کو کیسے ہینڈل کرے گا۔ 

اس پس منظر میں ایک عرصے سے میری خواہش تھی کہ پولیس کی ٹریننگ کا مطالعہ کیاجائے مگر اس پر مواد کی دستیابی خاصا مشکل کام ہے یہ موضوع ویسے بھی عام آدمی کے لیے دلچسپی نہیں رکھتا مگر میں نے اپنی زندگی کا سنہری دور تقریباً ربع صدی تک بحرین پولیس کی وردی میں گزارا ہے لہٰذا میرے لیے اس میں خاصی دلچسپی رہی ہے۔ پولیس کے ایک سابق انسپکٹر محترم محمد آصف رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب سہالہ یاترا پولیس تربیت کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے کہ سہالہ میں زیر تربیت عرصہ میں انہیں کن کن مراحل سے گزرنا پڑا۔ آصف رفیق آج کل ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس ہیں اور فیصل آباد میں تعینات ہیں۔ مصنف نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فزکس میں ایم ایس سی کیا یہ 1997ء کی بات ہے جب اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پولیس نظام میں انقلاب لانے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ڈائریکٹ انسپکٹر بھرتی کرنے کا تجربہ کیا تا کہ ان کے ذریعے پولیس کا امیج بہتر بنایا جا سکے۔

سہالہ یاترا محترم آصف رفیق کی یادداشتوں کا سفرنامہ ہے جسے ان کی بائیو گرافی کا سہالہ چیپٹر کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ پولیس کی نوکری اور ادبی مضمون نگاری دو الگ بلکہ متضاد باتیں ہیں لیکن ان دونوں کو یکجا کریں تو اس میں آصف رفیق کا نام ابھر کر سامنے آتا ہے جنہوں نے سہالہ میں اپنے قیام کے واقعات کو ادبی رنگ دے کر وہاں کے سخت اور پتھریلے ماحول کو گلستان بنا دیا کتاب کا مطالعہ شروع سے لے کر آخر تک آپ کو بور نہیں ہونے دیتا بلکہ قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتا ہے۔ 

1997ء میں جب بھرتی کے لیے اخبار میں اشتہار دیا گیا تو وہاں سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے ۔ درخواست فارم کی قیمت 600 روپے تھی مگر مصنف نے کمال ہوشیاری سے وہ فارم کسی دوست سے سودا بازی کر کے 400 روپے میں حاصل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں VCR پر دیکھی جانے والی انڈین فلموں میں انسپکٹر پولیس کے رول کو آئیڈیلائز کیاکرتے تھے جو انصاف اور قانون کی علامت تھا مگر مصنف نے اعتراف کیا ہے کہ وردی کا نشہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کو عوام سے ممتاز کرتی ہے ’’میں نے پولیس میں آنے کے بعد بہت سے مشکل اور عجیب و غریب رویوں کا 

سامنا کیا۔ اپنوں کی مشکوک نگاہیں اور طنزیہ فقرات اور بے وجہ کی بدنامی آپ کے ساتھ منسوب ہو جاتی ہے‘‘۔ آصف رفیق صاحب اندر سے یہ سمجھتے تھے کہ جو وردی وہ پہننے جا رہے ہیں عوام کے اندر اس سے خوف اور نفرت کاملا جلا رجحان ہے وہ اکثر سوچتے کہ کہیں کالی وردی کی تیرگی ہی تو عوامی رویے کی وجہ نہیں۔ 

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں ہے

آصف رفیق پولیس میں پائی جانے والی بدعنوانی کو معاشرے کا عکس سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتی بدعنوانی جب ہر جگہ ہے تو پولیس بھی اس معاشرے کا حصہ ہے۔ رشوت کو سمجھنے کے لیے باہمی مباحثے اور تحقیق لازمی قرار دی گئی۔ مباحثوں میں رشوت کی جانچ اور سدباب کے طریقے سامنے لائے جاتے مگر بقول مصنف یہ سب سطحی تھا وہ تو خود طفل مکتب تھے البتہ انہوں نے کوشش ضرور کی۔ رشوت کے خاتمے کی کوشش مقالے اور مباحثے کی حد تک دلفریب تھی۔ آصف رفیق صاحب نے رشوت لینے والے افسروں کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گھاس خود اور گوشت خور۔ ان کی تحقیق یہ کہتی ہے رشوت لینے والے ملازمین میں 85 فیصد لوگ گھاس خور ہیں یعنی مجبوری کی حالت میں یہ کام کرتے ہیں جن میں سے 50 فیصد وہ ہیں جو آگے چل کر اس کے عادی ہو جاتے ہیں (جیسے نشہ کے عادی )رشوت ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ 85 فیصد رشوت خور مجموعی رشوت کا 15 فیصد حاصل کر پائے ہیں۔ باقی 85 فیصد رقم گوشت خوروں کو دی جاتی ہے جو اصل رشوت خور ہیں ان کا کہنا تھا کہ گھاس خوروں کی نوکری میں مراعات دی جائیں تو وہ رشوت چھوڑ دیں گے البتہ گوشت خور طبقے کو نکال دینا چاہیے۔ 

مصنف نے مجرموں کی نشاندہی کے لیے ایک جگہ پر اٹلی کے ماہر کرائم ڈاکٹر لمباسو کا نظریہ پیش کیا جس کے مطابق جرائم پیشہ افراد اپنی مخصوص جسمانی ساخت سے پہچانے جا سکتے ہیں۔ 

ایک جگہ لکھتے ہیں کہ پہاڑ کو اگر SHO کی طاقت دی جائے تووہ زمین کو ہلا ڈالے اس سے مہتمم تھا نہ کی ریاستی طاقت اور اختیار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جو اسے نو آبادتی دور سے حاصل ہے۔ پولیس کی رپورٹوں میں جو زبان اور الفاظ لکھے جاتے ہیں وہ عام استعمال میں نہیں آتے مثلاً من انسپکٹر باہم ملازمین اس وقت تحریر ہذا لکھتا رہا ہوں اور بعد از فراغت روانہ علاقہ کا ہوتا ہوں I/SHO خود۔ 

ٹریننگ کے مراحل میں جو Stereo Type نظام ہے اس پر آصف رفیق صاحب نے کئی جگہ طنزیہ انادازہ میں لکھا ہے مثلاً تربیت میں Misbehave کی گنجائش نہیں اس لیے ٹریننگ انسٹرکٹر اکثر ڈانٹ کر کہتے تھے کہ آپ کا Misbehave درست کرنا ہے یا آپ کا Misbehave ٹھیک نہیں ہے۔ رشوت کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ چونکہ پولیس جس معاملے میں دخل انداز ہوتی ہے وہاں 2 فریق ہوتے ہیں تحقیقات کسی ایک کو فائدہ دیتی ہے لہٰذا دوسرا فریق واویلا کرتا ہے کہ اس کے مخالف نے رشوت دے کر فیصلہ اپنے حق  میں کرا لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں نو آبادیاتی دور سے پولیس اور عوام کا ایک دوسرے پر اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہو سکا ورنہ عوام پولیس کی آنکھیں اور کان بن سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں سب کے سب پتھر  بن گئے ۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ 

مصنف نے پوری کتاب میں ڈسپلن اور تربیت کی جسمانی سختیوں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے اور چیف ڈرل انسٹرکٹر کے خوفناک کیریکٹر کو بطور خاص ہدف بنایا مگر درحقیقت ان کی بدولت ہی زیر تربیت افسروں کو پولیس میں ڈسپلن کی اہمیت سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ 

کتاب کے دو حصے ہیں ایک سہالہ کو Cover کرتا ہے اور دوسرا ایلیٹ ٹریننگ لاہور میں تربیت کے بارے میں ان دونوں کے درمیان آصف رفیق نے سہالہ سے لکھے ہوئے اپنے چند محبت بھرے خطوط تحریر کیے یں جو ٹریننگ کے ماحول میں ایک صحراء میں Landscape کی حیثیت رکھتے ہیں مگر ان میں بھی ان کے ذہن پر ٹریننگ ہی سوار ہے جس کا ذکر ان خطوط میں بھی نمایاں ہے ان کی کتاب کا ایک کیریکٹر ’شرفو‘ ہے جو نادیدہ دشمن کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور کسی کے کیریئر کو داغدار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے یہ ایک ایسا آسیب ہے جسے سویلین لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ میں نے پولیس ٹریننگ بحرین کے سافرہ ٹریننگ سنٹر سے حاصل کی ہے وہاں بھی شرفو کا شکار ہونے والے پولیس جوانوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ شرفو کی بٹالین کو چاہیے کہ وہ زیر تربیت بے چارے پولیس افسروں پر دھاوا بولنے کی بجائے پولیس تھانوں پر حملہ کرے تا کہ Policing the police سے عوام کا کچھ فائدہ ہو جائے۔ آصف رفیق صاحب کی پولیس ٹریننگ پر لکھی گئی یہ کتاب بارش کا پہلا قطرہ ہے جس سے آنے والے افسروں میں لکھنے کا جذبہ پیدا ہو گا۔ یہ سہالہ جانے کے امیدواروں کے لیے ایک گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے جہاں کی زمین ہموار نہیں دوست وفادار نہیں اور موسم کا اعتبار نہیں۔


ای پیپر