shafiq awan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
28 جنوری 2021 (12:00) 2021-01-28

محترم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا شکریہ کہ انہوں نے میرے گزشتہ کالم ڈیرہ غازی خان کے ایک سول جج کے گینگ ریپ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر اسے او ایس ڈی بنا کر لاہور ٹرانسفر کر دیا۔ آپ سے التماس ہے کہ اس واقعے کی مکمل انکوائری کرائیں اور جو بھی ذمہ دار ہو اسے نشان عبرت بنا دیں۔

اب آتے ہیں آج کے کالم کی طرف، بہت سال پہلے ایک شہنشاہ تھا اس کو نئے کپڑے کا بے حد شوق تھا کہ اس نے ساری دولت اور سارا وقت اچھا لباس پہننے پر صرف کر دیا۔ اسے اپنی رعایا کی پروا تھی نہ خزانے سے، اسرار حکومت ، ملکی دفاع یا فوج سے۔ اس کے پاس دن کے ہر ایک گھنٹے کے لئے ایک لباس ہوتا تھا۔ کسی دوسرے حکمران کی مصروفیات کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا، ’’بادشاہ دربار میں امور مملکت نمٹا رہا ہے‘‘ جبکہ اپنے بادشاہ کے بارے وہ ہمیشہ کہتے رہے ’’شہنشاہ اپنے ڈریسنگ روم میں ہے۔‘‘

یہ بادشاہ کابینہ اور مصا حبین کے اجلاس اس تواتر سے کرتا تھا کہ مصاحبین اور وزرا ء خود کو محل کا حصہ سمجھتے تھے۔ پارچہ بان ، درزیوں اور جولاہوں سے علیحدہ اجلاس ہوتے تھے۔ 

بادشاہ نے منادی کرا دی کہ جس کا تیار کردہ لباس اسے پسند آگیا منہ مانگا انعام دیگا۔ اس مقصد کے لیے شہر کے دروزے کھول دیے گئے۔ منادی سن کر دو نو سر باز جنہوں نے بادشاہ کی کپڑوں کی لت کا سن رکھا تھا وہ بھی آ گئے اور بادشاہ کو بے وقوف بنا کر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنا تعارف پارچہ بان کی حیثیت سے کرایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسا طلسمی کپڑا بن سکتے ہیں جس کے نا صرف رنگ اور ڈیزائن غیر معمولی ہوں گے بلکہ اس کپڑے میں یہ خاصیت ہو گی کہ اسے صرف عقلمند اور بادشاہ سے وفادار اور اہل لوگ ہی دیکھ سکیں گے۔ تخت کے دشمن یا غیر معمولی طور پر بیوقوف لوگ اس کپڑے کو دیکھنا تو دور محسوس بھی نہ کر سکیں گے۔

جب ان نوسرباز جولاہوں کی بات بادشاہ کے کانوں میں پڑی تو بادشاہ نے فیصلہ کر لیا کہ ’’یہ کپڑے صرف میرے لیے بنائیں گے‘‘، بادشاہ نے سوچا کہ یہ لباس پہن کر سلطنت سے وفادار اور اپنے عہدے کے لیے اہل لوگوں کا پتہ چل جائے گا۔ اور اس کے علاوہ اپنے مصاحبین میں سے احمقوں ، نااہل اور غداروں کو الگ کر سکوں گا۔ اس نے دونوں نوسربازوں کو بلا کر کابینہ میں پیش کیا جہاں انہوں نے کئی سلطنتوں کے بادشاہوں کو کامیابیوں کو کمال لفاظی سے اپنے طلسمی لباس سے موسوم کیا۔ انہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے بادشاہ اور دربار کوقائل کر لیا۔ بادشاہ ان پر ایمان لے آیا اور ہاں کر دی۔لیکن کسی وزیر با تدبیر نے ان کے باقی سلطنتوں بارے دعووں کی تصدیق کی بات نہ کی۔ جب بادشاہ راضی تھا تو مصاحبین کو خواہ مخواہ تصدیق تردید کے چکروں میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ 

خیر بادشاہ نے ان دونوں کو ایک ساتھ کام شروع کرنے کی ہدایت کی اور ایک بڑی رقم ادا کردی اور کابینہ کو انہیں ہر ممکن سہولتیں دینے کی تاکید کر دی۔

نوسربازوں نے ایک شرط رکھی کہ لباس طلسمی ہے اس لیے وہ اس کی تیاری رات کو ستاروں کی چال اور چاند کی پوزیشن کے حساب سے کریں گے اور اس دوران انہیں مکمل تنہائی میسر ہونی چاہیے۔ یہ بات بھی مان لی گئی۔

نوسربازوں نے کھڈیاں لگا دیں اور بادشاہ کے لیے کپڑے کی بنائی شروع کر دی۔ بہترین ریشمی کپڑے، خالص ترین ریشم، پرانے دھاگے سونے کے تارہیرے جواہرات جس کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا انہیں مہیا کر دیا گیا۔یہ سب کچھ وہ اپنی زنبیلوں میں ڈالتے رہے جبکہ 

ساری رات خالی کھڈیاں چلنے کی ٹھک ٹھک کی آواز آتی رہتی تاکہ بادشاہ مطمئن رہے کہ کپڑے کی بنائی جاری ہے۔۔

شہنشاہ کے دل میں تجسس جاگا وہ جاننا چاہتا تھا کہ کپڑے کس طرح سے تیار ہورہے ہیں۔ شہنشاہ نے اپنے سب سے جہاندیدہ اور ایماندار وزیر کو یہ کام سونپا۔ چنانچہ جب وزیر کپڑا بنائی کی جگہ گیا جہاں اس نے دیکھا کہ دونوں نوسرباز خالی کھڈیوں کو چلا رہے تھے کپڑا تو ایک طرف دھاگے کی ایک تان بھی نظر نہ آئی۔اس نے سخت لہجے میں ان سے باز پرس کی کہ یہ کیا فراڈ ہے۔

نوسربازوں نے اسے یاد دلایا کہ اس کپڑے کو صرف بادشاہ اور تخت سے وفادار، عقلمند اور اپنے عہدے کے لیے اہل افراد ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس نے سوچا۔ ’’کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میں احمق ہوں؟ بادشاہ سے وفادار نہیں ہوں اپنے عہدے کا اہل نہیں؟ اگر میں کپڑے کے وجود سے انکاری ہوتا ہوں تو نا صرف وزارت جائے گی بلکہ سر بھی قلم ہو گا۔ یہ سوچ کہ وہ کانپ گیا۔ تب ہی نوسربازوں کی آواز آئی اے وزیر با تدبیر ’’آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ہمیں بتانے میں ہچکچاہٹ نہ کریں‘‘۔

جہاندیدہ وزیر بولا ’’اوہ، یہ خوبصورت ہے دلکش ہے۔ ایسا نمونہ، کیا رنگ! میں شہنشاہ کو یقینی بتاؤں گا کہ میں اس سے کتنا خوش ہوں۔‘‘

’’ہمیں یہ سن کر خوشی ہوئی،‘‘ نوسربازوں نے کہا۔ انہوں نے تمام رنگوں کے نام اور پیچیدہ بنائی کی وضاحت کی۔ وزیر نے ان کی باتوں پر توجہ دی اور دربار میں جا کر سب کچھ شہنشاہ کو بتا دیا۔

نوسر بازوں نے بنائی کے لئے مزید رقم، زیادہ ریشم اور سونے کے دھاگے طلب کیے جو مہیا کر دیے گئے۔

دن ہفتوں میں بدل گئے شہنشاہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔ اس نے ایک اور قابل اعتماد مصاحب کو بھیجا کہ دیکھ کر آؤ لباس کب تک تیار ہوگا۔ اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو وزیر کے ساتھ ہوا تھا۔ اس نے بھی عافیت اسی میں سمجھی اور دربار میں جا کر لباس کے بارے میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ بادشاہ بہت متاثر ہوا۔

سارا دارالخلافہ اس عمدہ لباس کا منتظر تھا اور شہنشاہ کو جلد از جلد اسے پہنے دیکھنا چاہتا تھا۔ جبکہ نوسرباز بادشاہ کے لیے ابھی نہیں ابھی نہیں کا راگ الاپ کر اس کے تجسس کو مزید ابھار رہے تھے۔

بادشاہ سے انتظار برداشت نہیں ہو رہا تھا کابینہ سے کچھ نان الیکٹڈ مصاحب خاص لے کر خود معائنے کے لیے پہنچ گیا۔ پروٹوکول کے مطابق مصاحبین پہلے داخل ہوئے اور خالی کھڈیاں دیکھ کر غصے میں آ گئے۔ نوسربازوں نے انہیں اپنی شرط یاد دلائی کہ کپڑا صرف عقلمند، ریاست اور بادشاہ سے وفادار اور اپنے عہدے کے اہل افراد کو نظر آئے گا۔ سب کو یہ شرط یاد آ گئی اور اپنا انجام بھی۔ بادشاہ اندر داخل ہوا اور اس سے پہلے کہ بادشاہ کچھ بولتا مصاحبین کا جواب تھا ’’ظل الٰہی حیرت انگیز، ذرا دیکھیں، آپ کے شایان شان، کیا رنگ! کیسا ڈیزائن!‘‘۔

لیکن بادشاہ کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ’’یہ کیا ہے؟‘‘ شہنشاہ نے سوچا، میں کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ یہ خوفناک ہے! کیا میں احمق ہوں؟ کیا میں شہنشاہ بننے کا اہل نہیں ہوں؟ میں ریاست سے وفادار نہیں ہوں۔ نوسربازوں نے بادشاہ کو سوچوں میں گم دیکھ کر اس سے کپڑے کے بارے پوچھا تو وہ ہڑبڑا کر بولا ’’یہ بہت خوبصورت ہے۔ لاجواب بہت عمدہ‘‘ اور سلائی کی منظوری دے دی ہے۔ مصاحبین نے بادشاہ کو اس حیرت انگیز کپڑے سے بنے ہوئے کپڑے پہن کر سلطنت کے عظیم الشان سالانہ جلوس کی قیادت کی تجویز دی جو بادشاہ نے قبول کر لی۔

نوسرباز ساری رات درجنوں موم بتیوں میں بیٹھے رہتے تھے یہ بتانے کے لئے کہ وہ شہنشاہ کے نئے کپڑے کی سلائی میں کتنے مصروف ہیں۔ انہوں نے بڑی قینچیوں سے ہوا میں کٹوتی کی سونے کی سوئیوں سے سلائی کا ڈھونگ رچایا اور آخر کار انہوں نے اعلان کیا کہ " شہنشاہ کا نیا لباس تیار ہے۔"

تب شہنشاہ خود اپنی کابینہ کے ساتھ حاضر ہوا۔ نو سر بازوں نے خیالی لباس اٹھایا جیسے ان کے پاس کوئی چیز ہے۔ وہ لباس کے ہر حصے کا نام لے رہے تھے۔ ان کا بیانیہ تھا کہ یہ سب مکڑی کے جال کی طرح ہلکے ہیں۔ کسی کو بھی لگے گا کہ اس کے ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں ہے، لیکن یہی وجہ ہے کہ وہ ان کو اتنا نفیس اور مہین ہے۔

’’بالکل،‘‘ تمام درباریوں نے اتفاق کیا، اگرچہ وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے، کیونکہ دیکھنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔

نوسربازوں نے بادشاہ سے کہا کہ وہ خود بادشاہ کو یہ لباس زیب تن کرائیں گے۔ شہنشاہ نے پہنے ہوئے کپڑے اتار دیے۔ اور نوسربازوں نے اپنے نئے کپڑے اسے پہنانے کا ڈرامہ کیا۔ آخر شاہی درزی کو لباس کی نوک پلک سنوارنے کے لیے بلایا گیا وہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا کہ بادشاہ الف ننگا کھڑا ہے۔ لیکن حقیقت بتانے کی جرأت نہ کر سکا کیونکہ تمام مصاحبین لباس کی واہ واہ کر رہے تھے۔

تب عوامی جلوسوں کے وزیر نے اعلان کیا کہ رعایا باہر آپ اور آپ کے شاندار لباس کے دیدار کا انتظار کر رہی ہے۔

شہنشاہ نے کہا، ’’ٹھیک ہے، مجھے تیار ہونا چاہئے۔ یہ ایک نایاب لباس ہے‘‘۔

اشرافیہ جو اس کے لباس کو لے کر چل رہے تھے وہ نیچے کی طرف آ کر فرش پر پہنچے جیسے وہ اس کا mantale اٹھا رہے ہوں۔ پھر انہوں نے اسے اونچا اٹھا کر پکڑنے کا بہانہ کیا۔ وہ یہ اعتراف کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

شہنشاہ اپنی شان و شوکت سے جلوس میں نکلا۔ سرکاری قصیدہ گو نے لباس کی شان و شوکت بارے لمبے لمبے قصیدے پڑھے۔ سڑکوں اور کھڑکیوں میں موجود ہر شخص نے کہا، ’’اوہ، شہنشاہ کے نئے کپڑے کتنے اچھے ہیں! کیا وہ اسے کمال کے قابل نہیں رکھتے؟ اور دیکھو اس کی لمبی mantale!‘‘ کوئی بھی سچ بولنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ وہ ریاست کا غدار اور وقوف ثابت ہو گا۔

لیکن بچے تو بچے ہوتے ہیں اور غیر سیاسی بھی ایک چھوٹے بچے نے چیخ کر کہا، ’’بادشاہ نے کچھ نہیں پہنا ہوا۔‘‘

بچے کی جرأت سے متاثر ہو کر سارا شہر چیخ اٹھا۔ بادشاہ ننگا ہے ننگا ہے۔

مصاحبین اور بیوروکریسی نے رعایا کو برا بھلا اور بے وقوف کہنا شروع کر دیا۔ شہنشاہ بھانپ گیا کہ رعایا ٹھیک کہہ رہی ہے لیکن ان کی ہاں میں ہاں ملانے سے وہ بھی بے وقوف ٹھہرتا۔ چنانچہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ فخر سے چلتا رہا۔

سبق:

وطن عزیز کی 72 سالہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر حکمران اور سیاسدان بے لباس ہے۔ جب کوئی لیڈر ’’ہاں میں ہاں‘‘ ملانے والے مصاحبین میں گھرا رہتا ہے اور صرف ان کی سنتا ہے تو یہ اکثر مضحکہ خیز اور شرمناک نتائج کا باعث بنتا ہے۔ آپ کے اردگرد دم ہلانے والے وفادار مصاحبین کے جمگھٹے سے کہیں بہتر ہے ان کو اہمیت دیں جو سوال پوچھنے سے نہ ڈریں یا کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے سے نہ جھجکیں۔۔ ورنہ ڈھائی سال بعد بھی آپ وہیں کھڑے ہوں گے جہاں سے سفر شروع کیا۔۔۔۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر