زرتاج گل صاحبہ ، ہماری ہمسائی ، ہماری محلے دار
28 جنوری 2020 2020-01-29

قارئین ، آپ کو تو اس بات کا بخوبی علم ہے، کہ میری تحریر اسلامی ضابطہ حیات کی مقرر کردہ حدود و قیود میں رہی تا کہ کسی کو بھی انگشت نمائی کا موقع نہ مل سکے ، اور بات بھی بخوبی با احسن طریق انسان خلیق تک پہنچ جائے۔

لہٰذا میں متعدد بار یہ سوچ سوچ کر، کہ میں نے آج تک تحریک انصاف کے اکابرین کے حق میں ایک لفظ تک تو کہا ، نہ لکھا ، گو اس میں بھی میرا منفی نقطہ نظر نہیں ، بلکہ ظاہری و پوشیدہ ، شعور و لاشعور میں وہ کلمہ حق ہے، کہ جسے دانستہ تو دانستہ ، نادانستہ طور پر بھی ، کسی معمولی سی حق براری کے لئے استعمال نہ کیا جا سکے۔

اسلامی نقطہ نظر سے ہم سایہ اپنے گھر کے چاروں طرف والے سات گھر جمع کر کے دیکھیں، تو آپ کو پتہ چلتا ہے، کہ یہ ہمارے محلے دار ہیں ، اور یہ ہمارے ہمسائے ہیں ، چونکہ ہمسایوں کے بارے میں ہمارے نبی اکرم نے متعدد احادیث بیان فرمائی ہیں۔

سو انہی احکامات کو مدنظر رکھ کر میں نے اپنی ہمسائی ، اور اپنی محلے دار زرتاج گل خان، کے اس مثبت پہلو پہ لکھنے کی ٹھانی، کہ جس موضوع پہ میں یکے بعد دیگرے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کے دور آہ وبکا میں تقریباً پانچ بار لکھ چکا ہوں، ان کو از خود نوٹس لینے کی بھی درخواست کر چکا ہوں، اور میں بات کر رہا ہوں، پلاسٹک کی اشیاءکی ، اور خصوصاً پلاسٹک بیگ، پلاسٹک کے برتن بھی اس میں شامل ہیں، میں نے جو متعدد بار گزارش کی شکل میں مفاد عامہ کے مفاد میں ان سے عرض گزارشت کیں، لیکن بے سود ،مجھے تو یوں دکھائی دیتا ہے، باہر سے درآمد شدہ دودھ پہ انہوں نے اس لئے ایکشن لیا ہو گا ، کہ اب وہ اس عمر میں پہنچ گئے تھے ، کہ ان کے پوتے اور پوتیاں اور نواسے و نواسیاں ماشاءاللہ ، دودھ استعمال کرنے کے قابل ہو گئے تھے ، اور موبائل فون پہ اس وقت کی حکومت کی طرف سے ناجائز طور پر لگایا ہوا ٹیکس ، مثلاً 100 روپے کے موبائل کے کریڈٹ لینے پر 20 روپے کٹ جاتے تھے، اور صارف محض 80 روپے کے فون کر سکتا تھا ، میرا تو خیال ہے ، کہ موبائل فون کا استعمال بھی ان کے اپنے بچے اور قریبی عزیزوں کی شکایت پر بالآخر عوامی مفاد میں فائدہ مہم پہنچانے کا سبب بن گیا، گو متذکرہ بالا باتوں کا اطلاق اب پھر ان دو حقیقتوں پر نظر نہیں آتا، جو چیف جسٹس آف پاکستان کے براہ راست نوٹس میںآئی تھیں۔

مگر پلاسٹک کے تھیلوں پہ میرے حقائق طشت ازبام کر دینے پہ انہیں کسی قسم کی جنبش نہیں ہوئی تھی، اور آخرکار بقول سید مظفر علی شاہ

کھو دیئے سب راز وار و چارہ راز

دشمنوں کو معتبر کرتے گئے !

قارئین ، میں دوبارہ تو پلاسٹک کے تھیلوں پہ لکھنے سے رہا ، محض ایک ہی بات میرے خیال میں آپ کو بتا دینا چاہئے ، کہ پلاسٹک کے تھیلے، تیل یعنی پٹرول کی تلچھٹ سے بنتے ہیں، اگر آپ اس سے کیمیکل کے استعمال کو بھی مدنظر نہ رکھیں ، تو خواہ پلاسٹک کا تھیلا ، نارمل آب و ہوا میں ہو، یا سرد ہوا میں ذرا سی گرمی میں پلاسٹک کے برتن کا سارا منفی مفاد ہماری خوراک میں شامل ہو جاتا ہے ، متاثر انسان بالآخر کیسزز اور دوسری موذی بیماریوں میں مبتلا ہو کر آہستہ آہستہ موت کے منہ چلا جاتا ہے۔

یہاں ایک بھونڈا اور لایعنی سوال تو ضرور پیدا ہوتا ہے، کہ پلاسٹک کے کاروبار سے وابستہ افراد تو بھوکوں مر جائیں گے، اور اگر پلاسٹک کے کاروبار کو بند کر دیا جائے ، مگر اس کا جواب تو یہ بنتا ہے، کہ ہزاروں افراد کی خاطر کیا کروڑوں لوگوں کو مارنا شریعت اسلامی کے مطابق ہے؟

سو میرا گلہ تو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار سے یہ ضرور بنتا ہے۔ فکر روز گار نے ان کے اصل انسانی منصب سے دور کر دیا تھا، جب شراب کی بوتلیں شہدکی بوتلوں میں تبدیل ہو رہی تھیں، کیا صوبہ سندھ اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے بھی آپ چیف جسٹس نہیں تھے؟ بقول سید مظفر علی شاہ

فکر امروز میں رہے غلطاں

کار فردا پہ کیا نظر کرتے !

ان کی کارکردگی پہ کیا آہ وبکا، کس طرح سے کریں ، کیونکہ ان کے دور دیانت دور سے آپ آگاہ ہیں۔

گنہگاروں کو دیں خلعت

مسیحاﺅں پر تعزیریں !

بہرکیف میں ان لاینحل وطن عزیز کے مصائب کو مورخین وقت پہ چھوڑ دینا چاہتا ہوں ، مگر شاید وہ بھی حب الوطنی کی تپش اور آنچ پہ کسکتے و تڑپتے الاﺅ کی سنہری رنگت میں کمی نہ لا سکیں ، اگست 2019ءمیں ایک شہری فیصل ملک کی درخواست پہ پابندی کے ممکنہ قانون پر حکم امتناعی کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں شاپنگ بیگز اور پلاسٹک کے تھیلوں پہ پابندی عائد کر دی گئی ، اور سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلوں کو مراسلہ بھیجا گیا ، کہ وہ یہ چیزیں درسگاہوں میں نہ لائیں ، کیفے ٹیربار اور کینٹین پہ بھی یہ اشیا نہیں لے جا سکتے، اور انہیں ماحولیات کی وزیر تاج گل نے ماحول دوستی پر لیکچرز دینے کا پابند بنایا۔

مگر قارئین آپ سن کر حیران ہوں گے ، کہ اس نیکی کے کام میں بھی وزیر ماحولیات کے ہاتھ باندھ دیئے گئے اور انہیں پنجاب اور پاکستان کے بجائے محض اسلام آباد تک پابند کر دیا گیا ، چونکہ زرتاج تحریک انصاف کے زیر بار احسان ہیں لہٰذا وہ تحریک انصاف کی وکالت کرتی نظر آتی ہیں، مگر چونکہ میرا ایک اور رشتہ بھی ان سے ہے، ان کے سسرال کے اخوند حمید صاحب ، نے اپنے پورے شہر کے مجھ سمیت بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدانوں میں ہر بچے کو لاکھڑا کیا، وہ میرے ماموں کرنل زمان خان، جو کرنل ایم ، زیڈ صوفی کے نام سے مشہور تھے۔ مگر وہ اپنی پوری زندگی میں یونیفارم کیساتھ کبھی شہر نہیں آئے تھے۔ ان کے یار غار تھے، زرتاج کے سسرال کے اخوند عبدالکریم خان مشہور ترین وکیل تھے، اور ہمارے بڑوں کے ان سے خاندانی تعلقات مثالی تھے۔

لہٰذا بڑے بھائی کی حیثیت سے میری گل صاحبہ سے گزارش ہے، چونکہ ان کی سیاسی زندگی کی ابھی شروعات ہیں، لہٰذا ان کو ہر حالت میں مصلحت کو مقدم رکھنا چاہئے ، اور ”پاکی د ام¿اں“ کو اتنا سنبھال کر رکھیں، کہ وہ اپنے آپ سے بھی انصاف کر سکیں۔

گل صاحبہ ، نیشنل کالج آف آرٹس کی پڑھی ہوئی ، اور میرے والد محترم بھی یہیں سے پڑھے ہوئے تھے، اور میرے بڑے بھائی کیو بی خان بھی اسی کالج میں پروفیسر تھے، جو اب ڈرنی ورلڈ امریکہ سے وابستہ ہیں ، یہ باتیں لکھنے کا مقصد محض اتنا ہے، کہ وہ محتاط سیاست کریں جس طرح آپ اپنے علاقے کی ہر سیاسی شخصیت کو ہرا کر پورے قد کے ساتھ قومی اسمبلی اور پھر کابینہ میں آئی ہیں، اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو وزیر ماحولیات بننے کے بقول سید مظفر علی شاہ یہ شعر سنا دیتا

تمہارے حسن و فن کی داد دیتے بھی تو کیا دیتے

ہمیں تو فکر دنیا سے نہیں فرصت ملی اب تک !


ای پیپر