مہنگائی؛ کہاں، کیوں، کس کے لئے؟
28 جنوری 2020 2020-01-29

وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں تقاریب سے خطاب اوروفود سے گفتگوکرتے ہوئے کہا، ’ کابینہ اجلاس میں کئی وزیروںکو گھبرائے ہوئے دیکھتاہوں،ا‘ن کی شکلیںاُتری ہوئی ہوتی ہیں کہ لوگ مہنگائی پر رورہے ہیں تومیںکہتا ہوںکہ گھبرانا نہیں، ذمہ دار مافیاز کا خاتمہ کریں گے۔ میں دو روز لاہور کے دل اچھرہ میں پی ٹی آئی داتاگنج بخش ٹاون کے ورکرز کنونشن میںتھا جہاں جذباتی کارکن ’کون بچائے گا پاکستان ،عمران خان عمران خان‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور اسی طرح میں نے جناب عمران خان کے بہت قریبی تجزیہ کار کو ایک ٹی وی پروگرام میں سُنا، ان سے سوال تھا کہ کیا وزیراعظم اپنی حکومت کی طرف سے گڈ گورننس اور عوام کو ریلیف نہ ملنے والی صورتحال سے آگاہ ہیں تو کافی ساری اگر،مگر کے ساتھ جواب اثبات میں تھا۔ میں نے بھی اس پوری صورتحال سے تین نتائج اخذ کئے ہیں،پہلایہ کہ وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی سے پوری طرح آگاہ ہیں مگر یہ بات کامن سینس کی ہے کہ کوئی بھی سیاستدان اپنی ناکامی تسلیم نہیں کرتا، دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان کے پاس ابھی ایسے کارکنوںاور حامیوںکی بڑی تعداد موجود ہے جو ان کی قیادت اور وعدوں پرابھی تک اعتبار اور اعتماد رکھتی ہے اور تیسرا بیان سے اخذ ہواکہ وہ مہنگائی کے ذمہ دار مافیاز کاخاتمہ کرنا چاہتے ہیں اورمیرا آج کا کالم اس تیسرے مفروضے پر ہے۔میں حالات کا تجزیہ کرنے سے پہلے ،بہت سارے یوٹرنز اور ناقص کارکردگی کے باوجود، فرض کر لیتا ہوں کہ وہ واقعی ایسا چاہتے ہیں۔

میری ان سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ وہ اس واہمے سے باہر نکل آئیںکہ مہنگائی سابق ادوار کی حکومتی پالیسیوں کا کوئی نتیجہ ہے۔میں اس کو حقیقت مان لیتا اگر انہیں جی ڈی پی اور گروتھ ریٹ میں تیزی سے آگے بڑھتا ہوا پاکستان نہ ملتا۔یہ امر ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر انہی کی حکومت کی پالیسیوں کانتیجہ ہے جس کی ذمہ داری انہیں قبول کرنا ہو گی ورنہ سب پروپیگنڈہ ہی رہ جائے گا ۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے حتیٰ کہ اس کی صنعت اور برآمدات کا دارومدار بھی کپاس اورچاول سمیت دیگر اجناس پر ہے۔ کچھ ذمہ دار لوگوںکے شئیر کئے گئے اعداد وشمارکے مطابق ان کی حکومت آنے کے بعد زرعی شعبے میں گروتھ ریٹ منفی آٹھ فیصد رہا ہے اور مختلف فصلوںکی پیداوارمیں بیس فیصد تک کمی واقع ہوئی جو انتہائی خطرناک ہے۔ موجودہ دور میں بجلی، ڈیزل او ر کھاد سمیت زراعت کے تمام ان پُٹس کی قیمتوںمیں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور یوں پہلی مرتبہ ایسا ہواکہ ہے ہماری موسمی سبزیاں بھی ساٹھ ، اسی اورسو روپے کلوپر فروخت ہو رہی ہیں۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے گندم اور آٹے کے بحران کا غلغلہ بلند ہوا اوراس کے بعد تین لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یہ فیصلہ کچھ ہی ماہ بعد آنے والی ہماری گندم کی فصل پر اس طرح اثرانداز ہو گاکہ کسان کی کمرایک بارپھر ٹوٹ جائے گی۔

میری تیسری گزارش یہ ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک کنزیومر کنٹری ہے اور عوام کی بیشتر ضروریات درآمدات سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب آپ اسحق ڈار کی اس پالیسی کو غلط اور مصنوعی قرار دیں گے جس میں وہ ڈالر کو اپنی وزارت کے دوران ایک سو چار روپے پر مستحکم رکھیں گے اور آپ خود اسے ایک سو ساٹھ روپے پر لے جائیں گے تو یقینی طور پر ہر شے مہنگی ہو جائے گی۔میں امپورٹڈ گاڑیوںکی ہی بات نہیں کر رہا بلکہ ان تمام دالوںکی بھی بات کر رہا ہوں جو ہمارے ہاںپیدانہیں ہوتیں اور ہمیں درآمد کرنا پڑتی ہیں لیکن اگر امپورٹڈ گاڑیوںکی بات بھی کر لی جائے تو اس سے ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کا کاروبار وابستہ تھا۔ گاڑیوں کی پورٹ پر آمد سے گاہک کو ڈیلیوری تک ہر بندرگاہ کے مزدور ، ٹرانسپورٹر، ڈیلر، مکینک، ڈینٹر پنیٹر سمیت بے شما ر لوگوںکو روزگار ہی نہیں دیتی تھی بلکہ قومی خزانے کو ایک برس میں ایک سو ارب روپے بھی جمع کرواتی تھی جو تجارتی خسارہ کم کرنے کی جنونی خواہش میں محض دو ارب روپے تک آ گیا ہے۔

میری چوتھی گزارش اسی سے جڑی ہوئی ہے کہ مہنگائی اپنی ذات میں کچھ نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کے پاس ضروری یا تعیش کی اشیا خریدنے کے لئے رقم نہ ہونے کا نام ہے۔ جب ایک برس میں اسی لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے تو یقینی طور پر انہیں ہر وہ شے مہنگی ہی لگے گی جو وہ اس سے پہلے خرید سکتے تھے۔ کسی بھی ماہر معیشت کی نظر میں لنگر خانے اس مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ اس مسئلے کا حل روزگار کی فراہمی ہے جس کا ایشئین ڈویلپمنٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق آپ کی حکومت کے اگلے دو، تین برسوںمیں کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ میری پانچویں گزارش یہ ہے کہ اگر آپ واقعی مہنگائی کو کم یا ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس میں سب سے پہلے آپ کو اپنی پالیسیوں پر غور کرناہوگا یعنی اگر آپ کی حکومت بجلی، گیس اور پٹرول جیسے ان پُٹس کی قیمتیں اسی طرح بڑھاتی چلی جاتی ہے تو مہنگائی کرنے والا سب سے بڑا مافیا خود حکومت ہے۔ اس کی ذمہ داری صنعتکار وں، تاجروں اور عوام پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ جب ایک شے کی پروڈکشن کاسٹ دو روپے سے تین روپے ہوجائے گی تو اسے دو یا تین روپے میںنہیں بیچا جا سکے گا۔

میری پانچویں گزارش یہ ہے کہ اگر صنعتکاروں اورتاجروں پر بھی ذمہ داری عائد کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو پہلے ایف بی آر کے نظام میںاصلاحات کرنا ہو ںگی اور عام آدمی کویہ یقین بھی دلانا ہو گاکہ اس کا دیا ہوا ٹیکس اور روپیہ کرپشن کی نذر نہیں ہو رہا۔ سیاسی تعصب سے بالاتر ہو کراعداد وشمار دیکھیں گے تو آپ کو علم ہو گا کہ اسحق ڈا ر کے دورمیں ٹیکس کلیکشن کو دو ہزار ارب سے چار ہزار ارب پر لایا گیا یعنی دوگنا کر دیا گیا، کیا آپ اس گروتھ ریٹ کو برقرار رکھ پا رہے ہیں، ہرگز نہیں بلکہ ریورس گئیر لگ چکا ہے۔ عوامی سوال ہے کہ نہ کوئی میگا پراجیکٹ ہے اور نہ ہی ریلیف تو پھر خزانہ کہاںخرچ ہو رہا ہے۔ میری چھٹی گزارش یہ ہے کہ مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے پنجابی محاورے کے مطابق آپ کو اپنی منجی تھلے بھی ڈانگ پھیرنی پڑے گی۔ آپ چیک کروا سکتے ہیںکہ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ( پندرہ دسمبر کو) کو چینی کا ایکس مل ریٹ ساڑھے چھ ہزار روپے فی سو کلو بوری تھا مگر گذشتہ ہفتے تک اس میں پورا ایک ہزار روپے فی بوری اضافہ ہو چکا تھا ۔ اب یہ ممکن نہیں کہ آپ ڈی سی اوز کے ذریعے پرچون فروشوں کو چینی ستر روپے کلو فروخت کرنے پرمجبور کرسکیں جب انہیں خود پہنچ اور پیکنگ ڈال کراسی روپے کلو پڑ رہی ہو، یہی بات آٹے اور دیگر ضروریات بارے کہی جا سکتی ہے۔

میری چھٹی گزارش یہ ہے کہ ڈنڈا لے کر باہر نکلنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں صنعتکار ،سرمایہ کار اور تاجر اپنا ہاتھ مزید کھینچ لے گا اور روپے کی گردش میں مزید کمی واقع ہوجائے گی۔ آپ دوسرے ملکوں سے ادھار لے کر یا نوٹ چھاپ کر اپنی معیشت نہیں چلا سکتے بلکہ اس کے لئے بیرونی اور اس سے کہیں زیادہ اندرونی سرمایہ کاری از حد ضروری ہے۔ آپ جن میگا پراجیکٹس کے مخالف تھے انہوںنے کم و بیش ساٹھ صنعتوں اور کاروباروں کا پہیہ چلا رکھا تھا اور اس سے وابستہ کروڑوں لوگوں کو پیسہ مل رہا تھا ، ان میںوہ مزدور ،مستری، بڑھئی، رنگ ساز، لوڈر، ڈرائیور وغیرہ وغیرہ سب شامل تھے جن کو کسی گنتی میں نہیں لایا جاتا۔ اب آپ اس بات کو سمجھیںکہ جب وہ دیہاڑی لگا کر ہزار، دو ہزار کما کے لے جاتے تھے تو ان کے لئے پچیس روپے کا روغنی نان بھی مہنگا نہیں تھا لیکن اس وقت جب وہ خالی ہاتھ جاتے ہیں تو ان کے لئے سات روپے کی روٹی بھی مہنگی ہے کیونکہ کمائی ہزار کی جگہ دس روپے بھی نہیں ہوئی ہوتی۔

نجانے مجھے کیوںلگتا ہے کہ آپ نے اسی طر ح کی ایک بڑھک ماری ہے جیسی آپ نے ریاست مدینہ بنانے کی ماری،جیسی دو نہیں ایک پاکستان بنانے کی ماری، جیسی آپ نے کرپشن کے خاتمے کی ماری، جیسی آپ نے میرٹ کے نفاذ کی ماری، جیسی آپ نے سڑکوں اور پلوںکے بجائے تعلیم اور صحت کو اہمیت دینے کی ماری۔


ای پیپر