ہر حکمران کی طبیعت کا نام ثقافت ہے ،معروف اداکار سہیل احمد کی روزنامہ ”نئی بات“ سے خصوصی گفتگو
28 جنوری 2020 (23:22) 2020-01-28

انٹرویو :اسد شہزاد

زندگی ایک طویل تلاش ہے اور اس تلاش کے سنگ میل تو ہیں مگر منزل نہیں۔ سہیل احمد کے اندر بحیثیت فنکار انسان، بحیثیت دوست، بحیثیت والد اور بحیثیت شوہر کئی پھیلاﺅ جو چلتے دریا کی طرح بہہ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ زندگی ایک فراق ووصال سے بہت بلند حاصل محرومی سے بے نیاز، اپنے اندر تبدیلیوں سے باخبر لیکن غیرموثر پُرانی ہے، بہت قدیم ہے، بہت بوڑھی ہے لیکن یہی زندگی بہت نئی بہت جدید اور بہت جواں، اسی طرح سہیل احمد کی زندگی کے بھی کئی موڑ، کئی راستے اور کئی پہلو ہیں۔ ایک مثل ہے کہ پانی جب پہاڑوں، وادیوں اور صحراﺅں کی طرف دوڑتا ہے تو اس کی رفتار میں بلا کی سی تیزی ہوتی ہے۔ وہ لہروں کی طرح بل کھاتا اُچھلتا، راستے میں ہر آنے والی چٹانوں سے ٹکراتا آگے بڑھتا رہتا ہے۔

سہیل احمد نے اپنی ڈرامائی زندگی کا آغاز دریا کی طرح کیا، وہ موج کی طرح بل کھا کر اُٹھا۔ سنگلاخ پہاڑوں کا مقابلہ کیا، راستہ بنایا، مایوسیوں، نااُمیدوں اور ناموافق پہاڑوں کو کاٹ کر ندی کی شکل اختیار کی اور پھر ڈرامے کی تاریخ کے کئی باب رقم کرڈالے۔ اپنے ہم عصروں سے کئی بار میدان مارا۔ پھر دریا بن کر سہیل احمد نے اپنی گہرائی کا اعلان کر ڈالا۔ کبھی نہ جھکنے والا سر اب اُٹھ چکا تھا۔ یہ سہیل احمد کی زندگی کی ابتدا تھی۔ زندگی کا ایک پہلو ایک رنگ جبکہ اس کے دوسرے رُخ میں اس کے اندر کا ایک فنکار تھا جس نے گوجرانوالہ کی دھرتی سے جنم لیا، گلیوں کی پک ٹھنڈیوں سے کھیلتا، جھومتا سکول کے دروازے کھولا مگر مقصد زندگی کچھ اور تھا جیسے کوئی بڑی تخلیق کوئی بڑا شاہکار، کوئی بڑا آرٹ کوئی نظم کوئی انداز جو گیت بن جائے، گو کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا تخلیق کررہا ہے لیکن کبھی یہی تخلیق بڑے یادگار موڑ چھوڑ دیتی ہے۔ تھیٹر سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے پی ٹی وی میں عظیم روایات قائم کرجاتا ہے۔ فن اداکاری کا ایک انمول شاہکار جس نے ڈرامے کو کئی جہتیں، کئی روایات دیں، ان کا ایک ایک لفظ اس کا گواہ اور امین ہے اور اس کے قائم فنی ارتقاءکی ایک داستان جسے اس نے خود رقم کیا اور دُنیا کو گواہ بنا ڈالا۔ اپنے ہی انداز، اپنے ہی لہجے اور اپنی ہی آواز کو لوگوں کو عرصہ دراز سے ایک سحر میں مبتلا کیے رکھا۔ اس کے بہت سے ہم عصروں نے اس کو کاپی تو کیا مگر وہ سہیل احمد کو نہ پاسکے۔

شہرت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کی میراث نہیں ہوتی، کبھی بہت جلدی تو کبھی بہت دیر سے ملنے والی شہرت مقدروں سے ملتی ہے مگر سہیل احمد کے ساتھ قدرت نے خاص مہربانی کی، اس کی محنت، لگن اور جذبوں کی جنگ نے اس کو ہمہ تن مصروف رکھا اور پھر ایک وقت آیا جب یہی ڈرامہ اس کی شناخت بن گیا جو اس کے ادا کیے کرداروں نے تخلیق کیا تھا۔ احترام آدمیت میں جب سہیل کو دیکھا تو وہ وکھری ٹیپ کا بندہ نظر آیا، وہ ڈرامے کی موجودہ تاریخ کا ایک فقیرنُما اداکار بھی ہے۔ بڑی عمر کے باوجود چہرے پر ابھی بھی معصومیت کے رنگ لیے وہ ہر پل دل کو اس لیے بھا جاتا ہے کہ اپنے اندر کے دُکھ اندر ہی رکھ کر رونے والوں کو ہنسانا اس کی فطرت میں شامل ہے۔

سہیل احمد تین اننگز کا کھلاڑی ہے اور وہ بیک وقت بڑی مہارت سے تینوں اننگز میں کھیلتا نظر آئے گا اور جب وہ کھیلتا ہے تو اس کا جارحانہ موڈ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کسی بھی وقت کوئی یادگار اننگز کھیل سکتا ہے۔ بطورِانسان شائستگی، آہستگی اور لہجے میں پیار ومحبت اور جب وہ ڈرامے کرتا ہے تو اپنی ذات کو نفی کر کے کردار کو زندگی دے جاتا ہے اور تیسرا یہ کہ وہ کبھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوا اور جب محسوس کیا کہ ایسا ہے تو وہ راستہ بدل جاتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں ڈرامے کے بے شمار کردار ادا کیے، محدود سے لامحدود ڈرامائی سفر میں وہ کبھی تھکا نہیں، اس نے کبھی خود کو بڑا اداکار تصور نہیں کیا اور نہ مقابلے کی صف میں کبھی کھڑا نظر آیا، وہ اپنی زندگی کا ایک ایسا انسان اور کردار جو اکثر اپنی ذات سے بھی تصادم کر بیٹھتا ہے۔

پنجاب دھرتی کا یہ سپوت اپنے اندر مکمل پاکستانیت کا درد بھی رکھتا ہے چاہے ڈرامہ، چاہے وہ کسی پروگرام کا حصہ ہو، جب پاک دھرتی کا ذکر آتا ہے تو اس کی آواز میں قومی جذبوں کے سارے رنگ بھر آتے ہیں۔ وہ ایسا اداکار جو خود کو آج بھی اداکار تسلیم نہیں کرتا، وہ دل کی اُٹھتی آواز کو اپنی اداکاری سے دیکھنے والے کو گہرائی میں اُترنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ سہیل کو آج بے پناہ شہرت کے باوجود کسی طرح کا زعم نہیں، اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی اداکاری سے پیاز کو اس فنکاری کے ساتھ چھیلتا ہے کہ پیاز ختم ہو جاتا ہے مگر کردار سہیل کی مٹھی سے باہر نہیں نکلتا۔

سہیل احمد دوسروں سے ممتاز اور ایمانداری اس کا طرہ امتیاز ہے اور ہر قسم کے کردار کو جذبوں کے اندر اُتارنا اس کا ملکہ ہے۔ اس کے بڑے پن کا کمال کہ وہ متکبر نہیں، جس طرح کی بڑے آدمی کے ہونے کی کوئی سند نہیں ہوتی۔ اسی طرح اس کے تعارف کے لیے لفظ کی اہمیت کم پڑ جاتی ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ ہیرا سو سال کوئلے کے تاریک گھر میں بسیرا کرنے کے بعد اپنی قیمت پاتا ہے اور سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے۔ یہ کہنے کو تو ایک جملہ مگر اس خواب کو حقیقت کے رنگ میں دیکھا جائے ایک عمر اور عمر کو عشرے درکار ہوتے ہیں اور سہیل احمد ان عشروں میں اُتر چکا اور وہ جس قافلے کا مسافر ہے وہ کہیں گھڑی بھر کے لیے تو رُکتا ہے پھر رواں دواں ہو جاتا ہے اور سہیل تو ہمیشہ سرگرداں قافلے کا مسافر رہا۔

سہیل احمد سے گزشتہ روز ”نئی بات“ کےلئے ایک طویل نشست کی جو ذیل کے کالموں میں پیشِ خدمت ہے۔

جاپان سے چلتا خاموش تھیٹر بنگال کے ستیاجیت رے سے ہوتا ہوا ہمارے ہاں آیا، ہمارے تھیٹر کی روایات ہیں کہ کمال احمد رضوی، خورشید تھانوی، آغاحشر نے ہمارے ڈرامے کی بنیاد رکھی وہ ایک بہترین دور تھا، آج آپ تھیٹر کے بڑا کردار ہونے کے ناطے بہت سے معاملات کے گواہ ہیں، نیز یہ بھی بتایئے کہ تھیٹر زندہ یا اس کو دفن کردیا گیا ہے؟

ڈرامے کے بارے میں نے جو تاریخ پڑھی اس میں برصغیر کے تھیٹر کا ذکر ہے۔ سب سے پہلے ہندو نے اپنی مذہبی عبادات اور روایات کو تھیٹر کے ذریعے اُجاگر کرنا شروع کیا اور آج بھی اگر ان کو فلم، ڈرامہ یا تھیٹر کو دیکھیں تو اس میں کہیں نہ کہیں ایک دو سین ان کے مذہبی عقیدے کی عکاسی کرتے نظر آئیں گے۔ وہ بڑے طریقوں کے ساتھ اپنے مذہب کو اُجاگر کرتے ہیں۔ اب میں اگر پاکستان کے تھیٹر کا ذکر کروں تو فیصل آباد میں کوہ نور ملز جو کہ گوروں کی تھی، وہ وہاں تھیٹر کراتے تھے۔ دوسرا مرکز اوپن ایئر تھیٹر باغ جناح تھا۔ اس کی تاریخ بھی بہت پُرانی ہے جسے گوروں نے ہی اس کو بنوایا۔ ان دنوں آغا حشر کا ڈرامہ ہوا کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس زمانے میں تھیٹر کے ڈراموں کے ذریعے لوگوں کو ایجوکیٹ کیا جاتا۔ اگر میں اپنے چالیس سالہ تجربے کی بات کروں تو آج یہ بات دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ جتنے بھی آج ذرائع ابلاغ ہیں، ان میں بہترین پیغام دینے کا ذریعہ صرف تھیٹر ہے۔ آپ قوم کو جس طرف بھی لانا چاہتے ہیں وہ تھیٹر کے پیغام کے ذریعے ہی لاسکتے ہیں۔

دوسری طرف پرفارمنگ آرٹ کی بات کروں تو فوری اور موثر طریقے سے اپنے پیغام کو لوگوں تک لے جانے میں تھیٹر ہی نمایاں رہا۔ آپ گوروں کے تھیٹر کو لے لیں یا بھارت، وہ لوگ آج بھی تھیٹر کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اگر آپ لاہور کے کمرشل تھیٹر کی بات کرتے ہیں تو اس کا کریڈٹ جی سی پی کو جاتا ہے، وہاں سے ہوتا یہ ہمارے پاس پہنچا، ان کا جو کلب تھا اس میں خالد عباس ڈار، شعیب ہاشمی، نعیم طاہر، ڈاکٹر انور سجاد اور فاروق ضمیر جیسے بڑے نامور لوگوں نے تھیٹر کا آغاز کیا۔ ان میں کمال احمد رضوی اور خاور رفیع عرف ننھا بھی اسی ڈرامے کا حصہ تھے۔ یہاں ایک اور بات کرتا چلوں کہ جب آپ کسی کام کو کمرشل نقطہ نگاہ سے دیکھیں پیسہ تو آتا ہے مگر اس کے اصل مقاصد فوت ہو جاتے ہیں، کوالٹی کے لیے آپ کو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا یہ کہ آپ کی چیز اگر شہرت حاصل کرے تو پھر آپ اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ڈرامے کی روایات جائیں بھاڑ میں، بس پیسہ آنا چاہیے۔ ہمارے تھیٹر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔

پاکستانی ریجن میں جو تھیٹر لکھنے والے تھے ان میں صوفی نثار، اطہر خان عرف جیدی، سجادحیدر، افتخار حیدر اور خواجہ معین الدین یہ بہت بڑے رائٹر تھے اور انہوں نے اپنے ڈرامے میں پاکستانی کلچر کو متعارف کرانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اگر آپ اس دور کے ان ڈراموں کو دیکھیں تو ان میں آپ کو باقاعدہ ایک درس نظر آئے گا۔ اصلاح ہو گی، اس میں بتایا جاتا کہ پاکستانی ثقافت کے علاوہ زندگی کو کس طرح بسر کرنا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ یہ ڈرامہ چلا گیا اور اس کی جگہ کمرشل ازم نے لے لی اور اس کی کوالٹی کا بیڑہ غرق کردیا گیا اور یہ آوازیں دلوانا شروع کردیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں یہی ڈرامہ چاہیے جبکہ میرا ایمان، نظریہ اور ذہن یہ ہے کہ وہ مت دکھاﺅ جو لوگ دیکھنا چاہتے یا جو آپ دکھانا چاہتے ہیں تو پھر اس کو اس قابل بنائیں جو لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں اور یہی آرٹسٹ کا کام ہے۔ آرٹسٹ کوئی کریانے کی دوکان نہیں جہاں کوئی آکر یہ کہے کہ آٹے کی بوری دے دو تو وہ آٹا دے دے، دال کہو تو دال دے دے جبکہ آرٹسٹ نے وہ سودا دینا ہے جو وہ چاہ رہا ہے۔ مجھے دُکھ اس وقت ہوتا ہے جب بڑے فنکار یہ بات کہہ رہے ہوتے ہیں جو معاشرہ چاہتا ہے ہم وہ کرتے ہیں تو ان سے گزارش ہے کہ معاشرے میں تو اور بھی بڑا کچھ ہورہا ہے۔ اسی معاشرے میں بیڈروم میں بھی لوگ جاتے ہیں۔ معاشرے میں بچے اور بچیاں، بیٹیاں اور بہنیں بھی اپنے کمروں میں موجود ہوتی ہیں، آپ تو ان کو بھی دکھا سکتے ہیں، یہ بہت بڑی بکواس ہے کہ جو آج کے معاشرے میں ہورہا ہے وہ دکھاتے ہیں، یہ بہت بڑی بے وقوفی کی دلیل ہے۔ جو وہ دے رہے ہیں ایک فنکار ہونے کے ناطے میں ان کی اس دلیل کو نہیں مانتا۔ میں نے بھی انہی کے درمیان ڈرامہ کیا۔ میں وہ کیوں نہ دکھا پایا جس کی ڈیمانڈ مجھ سے ڈرامے نے کی، میرا نقطہ نظر ہے کہ آپ کے پاس جو آرٹ ہے اس کو ایسا بناﺅ، اس کو ایسا شوگر کوٹڈ کرو اور اس میں اتنی دلچسپی ڈال دو کہ لوگ اس کا مزہ لیں اور ساتھ ساتھ اس سے سبق بھی حاصل کریں۔

تھیٹر ایک تفریح بھی تو ہے اور تفریح دینا آرٹسٹ کا بنیادی کام بنتا ہے۔ یہ چیزیں جب ہمارے ڈرامے سے دور ہوئیں تو اس کی جگہ بربادی نے ڈیرے ڈال لیے۔ ایک بڑی بات جو میں چالیس سال سے محسوس کررہا ہوں بلکہ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں ثقافت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اگر مجھ سے پاکستان کی ثقافت کی تشریح پوچھیں تو وہ یہ کہ ہمارے ہاں جو بھی حکمران آتا ہے وہ آئین بھی تو توڑتا اور بدلتا رہتا ہے، کبھی اس کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر ردی کی ٹوکری کے حوالے کر دیتا ہے اور وہ بااختیار حاکم تمام تر طاقت اپنی مٹھی میں رکھنے کا دعویدار ہے اور اس کی طبیعت کا نام پاکستانی ثقافت ہے۔ ہمارا کلچر فکس نہیں جبکہ پوری دُنیا کا کلچر فکس اور مضبوط نظر آتا ہے۔ میرے نزدیک ہمارے آباﺅاجداد کا نام ثقافت ہے۔ وہ تو بے چارے مر کھپ گئے تو ان کی روایات کہاں سے بدل گئیں۔ روایات کبھی نہیں بدلتیں، یہ تو آپ کی نسلوں کی شناخت ہوتی ہیں۔ ان قوموں کی شکل اس لیے مضبوط نظر آتی ہے کہ وہ اپنی روایات کے سہارے نسل درنسل حکومتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ آج سائنس، ٹیکنالوجی یا کسی بھی نظام کو لے لیں، ہمارے ہاں سب کی نقل ہوتی ہے مگر آج تک کوئی مائی کا لال ثقافت کو کاپی نہ کرسکا اور یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ ہم واحد قوم ہیں جو ثقافت کی نقل کرتی ہے۔ لوگوں کا ناچنا، گانا، لباس بدلنا ہمیں اچھا لگتا ہے۔ اب ہمارا گلوکار باہر جا کر پرفارمنس دے کر آتا ہے تو وہ ہمیں بہت اچھا لگتا ہے، پھر اسی باہر کے کلچر کو ہم پروموٹ کرتے ہوئے پذیرائی بھی دیتے ہیں اس کی ایک نہیں ہزاروں مثالیں میرے اور آپ کے اردگرد ہیں۔

پی ٹی وی کا ڈرامہ ایک نہیں کئی ادوار تک چھایا رہا کہ بھارت میں بھی اس کی مقبولیت کے چرچے سنے گئے اور آج وہی پی ٹی وی بُرا ڈرامہ دے رہا ہے، یہ کیوں برباد ہوا؟

صرف ایک لائن کہوں گا کہ پی ٹی وی کو شیخ رشید نے برباد کیا۔ انہوں نے شاید اس کی ترقی کا سوچا اور بجلی کے بِلوں میں ٹی وی فیس ڈال دی، یہ اسی طرح ہے کہ جب آپ کرائے کا پلازہ بنا لیتے ہیں تو پھر ساری زندگی کی روٹی لگ جاتی ہے کہ کرایہ آرہا ہے تو پھر وہاں کام نہیں ہوتے بلکہ ان کی نسلیں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں بھی یہی ہوا کہ انہوں نے پی ٹی وی کو کرائے پر دے دیا اور فکس رقم آنے لگی۔ اب جو لوگ اندر بیٹھے تھے انہوں نے سوچا کہ اب پیسے تو آرہے ہیں آرام کرو، سرکاری ادارہ ہے ڈرامہ کیا ہوتا ہے اچھا بُرا ہو، وہ تو ہونا ہی ہے۔ اب دیکھیں ناں ویلڈنگ کی دکان میں ٹی وی تو نہیں پڑا مگر بِل میں آرہا ہے۔ جب ادارے کو گھر بیٹھے اربوں روپے ماہانہ مل جائیں گے تو پھر اس سے اچھے کام کی توقع کرنا بے وقوفی ہی ہوسکتی ہے، آج کتنا جدید دور آگیا ہے جو سٹوڈیو، ٹیکنالوجی اور سہولیات پی ٹی وی کے پاس ہیں وہ کسی بھی بڑے سے بڑے چینل کے پاس نہیں مگر کیا ہے کہ وہاں سے اچھا کام نہیں آرہا اور یہ بدقسمتی ہے کہ وہاں سے اچھا ڈرامہ، اچھا گیت، اچھی تحریر اور اچھا ریفرنس آنا بند ہو گیا یہ میرا ایک بڑا دُکھ ہے کہ جس ادارے نے ہمیں شناخت دی وہ اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ لوگ اب پی ٹی وی کو بھول کر پرائیویٹ سیکٹر سے آنے والے ڈرامے کو دیکھ رہے ہیں۔ دیکھیں ڈرامہ ہی تو پی ٹی وی کا اصل حسن تھا اور ہے اور جیسے ہی شیخ رشید نے بجلی کے بِل میں پیسے ڈالے تو یہاں سے ایوب خاور، نصرت ٹھاکر، یاورحیات، ارشد تبسم، راشد ڈار، ایم این ایچ رفیق وڑائچ بننا بند ہو گئے جو ہمارے ڈرامے کی شناخت اور شاندار پروگرامز کی تاریخ تھے۔ اب یہ تو شیخ رشید ہی وضاحت کرسکتے ہیں کہ ان کو کیا عقل آئی یا انہوں نے ایسا کیوں کیا، میں نے تو پی ٹی وی کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب بِل میں ٹی وی کی فیس نہیں تھی، آج جب پی ٹی وی جاتا ہوں تو وہاں بندے منہ کھولے سو رہے ہوتے ہیں یا اجلاس ہورہے ہیں مگر کام نظر نہیں آرہا اور کام کرنے والے لوگ سوچ سوچ کر بیمار ہو گئے کہ ان کے پاس تنخواہ تو ہے اچھا کام دینے کو کچھ نہیں۔

یہ تو پی ٹی وی کی بات کی، آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ اس کے ساتھ ہمارا تھیٹر اور فلم ختم ہو گئی؟

میں نے پہلے بھی ایک بار یہ بات کہی تھی کہ ملک میں فوری طور پر ثقافتی ایمرجنسی لگائی جائے۔ میں نے مشرف کے دور میں احتجاج کیا تھا کہ تھیٹر کے اندر عُریاں رقص ختم کیا جائے۔ پھر اس زمانے میں تو یہ آواز بھی آئی کہ رقص تو اعضا کی شاعری ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اعضا کی شاعری ہے مگر اعضا ننگے کرنے کی شاعری نہیں اور بڑے بے وقوف لوگ ان پر مسلط ہیں۔ ہمارے بیوروکریٹس بڑے محترم ہیں مگر اس کو روکنا ان کا کام نہیں۔ ایک دور تھا جب صوفی تبسم، نعیم طاہر، فیض احمد فیض یہ لوگ الحمرا کے چیئرمین تھے، اس زمانے میں یہی بڑے نام جو ثقافت کی شناخت بھی تھے، جو ثقافت کے امور کو دیکھا کرتے۔ گو اب فیض صاحب کی بیٹی منیزہ ہاشمی چیئرمین تو ہیں مگر میں نہیں سمجھتا کہ ان کے اپنے اختیار میں ثقافت کو پروموٹ کرنے کے اختیارات ہیں۔ تھیٹر کی پرموشن کے لیے میں ذاتی طور پر وزرائے اعلیٰ سے خود ملا کہ خدا کے لیے اس ورثے کو بچالیں ورنہ آپ کی نسلیں ثقافت سے محروم ہو جائیں گی۔ میں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ بھارت آپ کی کامیڈی پر حملہ آور ہورہا ہے اور کامیڈی ہمارے پاس وہ واحد ویپن ہے جس کے ذریعے ہم بہت بڑی ثقافتی جنگ لڑسکتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے مقابلے میں بہت بڑی کامیڈی کی کھیتی بھی ہے مگر کسی جگہ میری شنوائی نہیں ہوئی اور ہم تو پرفارمنگ آرٹ میں کامیڈی کے بہت مضبوط پلر تھے۔ اظہار تو آپ نے اپنے خیال کا کرنا ہے۔ وہ کسی بھی انداز میں لے جائیں یا ایک ڈانسنگ تھیٹر بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ ہر کہانی کی وضاحت کر دیتے ہیں اور آپ کا آرٹ بھی وہیں سے جنم لیتا ہے۔ میں جب گورننگ باڈی کا رُکن تھا تو ایک ہی بات ان کے گوش گزار کرتا کہ آپ ایک الگ ڈانسنگ ہال بنا دیں۔ اس کو ”ناچ گھر“ کا نام دیں مگر خدا کے لیے ڈانس کے ذریعے تھیٹر کی اصل روایات کو ختم نہ کریں۔ اگر آپ کا تھیٹر ختم ہو گیا تو آپ کی ثقافت بے موت مر جائے گی۔ یہاں کی بعض اداکارائیں یہ کہتی تھکتی نہیں کہ اس کے بغیر لوگ آتے نہیں، مجھے بتایئے کہ گورے پاگل ہیں کہ ان کی فلم ڈانس کے بغیر کامیابی حاصل کررہی ہے تو کیا آپ اتنے مسکین اور جاہل ہیں کہ آپ جدید دور میں یہ کہہ رہے ہیں کہ رقص کے بغیر ڈرامہ چلتا نہیں۔ آپ ڈرامے کو اس کی اصل روح میں اُتاریں تو سہی کہ لوگوں کو اس کی عادت پڑے۔ پہلے تو ڈانس نہیں تھے، پہلے بھی یہ ڈرامہ بہت چلتا تھا۔ یہاں ایک مثال افضال احمد صاحب کی دوں گا کہ انہوں نے پاکستان کی تھیٹر کی تاریخ میں ایک طویل ڈرامہ ”جنم جنم کی میلی چادر“ پیش کیا۔ اس کی کہانی ایک طوائف کے گرد گھومتی تھی اور اس میں ایک طوائف کا مجرا بھی تھا۔ اب زمانے کے جو بیوقوف لوگ تھے جو یہ تصور کر لیتے کہ یہ ڈرامہ صرف رقص کی وجہ سے چلا ہے لہٰذا ہوا یہ کہ اس کے بعد تمام لوگوں نے اپنے ڈراموں میں رقص ڈالنا شروع کردیا جبکہ ڈرامے ”جنم جنم کی میلی چادر“ میں رقص ایک روایتی اور عام سی چیز تھی۔ اس میں تو اسلام شہابی کے زندہ سیٹ تھے جو خود بولتے۔ اس میں دس بڑے رائٹرز کے ڈائیلاگ تھے۔ اس میں افضال احمد اور عرفان کھوسٹ جیسے بڑے ناموں کی ہدایات تھیں۔ میں نے خود کئی ڈرامے ایسے کیے وہ ڈیڑھ ڈیڑھ سال تک چلے اور لوگ بار بار ان کو دیکھنے آتے۔ میں نے ان سے یہ بھی گزارش کی کہ آپ اپنی کامیڈی کو رقص کے پیروں تلے تو نہ کچلیں۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا فقدان ہے۔ اس کے باوجود ہم بڑی مشکل سے ان کو ڈرامہ دکھا رہے ہیں ورنہ یہ قوم تو آپے سے باہر ہو جاتی ہے، جس کا اندازہ بعد میں ہوا کہ لوگوں نے رقاصاﺅں پر پھول نچھاور کرنا شروع کر دیئے اور جو اصل ڈرامہ تھا وہ لوگوں کی پہنچ سے دور کردیا گیا۔

پھر پھولوں کی جگہ ہم نے دیکھا کہ تھیٹر پر نوٹ برسنا شروع ہو گئے اور تھیٹر کو ہم نے مجرا بنا دیا۔ ایک چیز کو پروموٹ کرنے کے لیے ایک شخص کا کردار نہیں بلکہ اس کے اردگرد اور بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ اسی دور میں آپ کی ہیرامنڈی، فلم انڈسٹری اور تھیٹر بند ہو گیا اور اسی میں ایک بہت بڑا جن اداکار، جس کی اداکاری کی مثال کم ہی ملتی ہے، جس نے پنجابی زبان کو زندہ کیا وہ بھی اسی رو میں مار دیا گیا اور اس دور میں سب نے ایک ہی گھوڑے پر داﺅ لگایا ہوا تھا اور آپ کی پوری فلم انڈسٹری ایک گھوڑے کے گرد گھومتی تھی اور جب گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور آپ کی تمام انڈسٹری بڑا لگایا جواءہار گئی۔ سلطان راہی کے قتل کے بعد انڈسٹری بھی قتل کردی گئی۔ سلطان راہی کے بارے میں ایک ہی بات کہوں گا کہ وہ پاورفُل انسان تھا۔ وہ اداکاری میں کوئی غیرانسانی اور غیرفطری چیز تھے۔ اب ہوا یہ کہ فلم انڈسٹری کے خاتمے کے بعد فلم کی بی گریڈ کی، اداکارائیں تھیٹر کی طرف آگئیں۔ بس پھر وہی ہوا جو آپ دیکھ رہے ہیں، حشر اور نشر دونوں ہیں۔

آپ نے بہت عروج پر تھیٹر کو خیرباد کیا، اس کو چھوڑنے کی وجہ رقص کے خلاف بڑا احتجاج تھا یا کوئی اور ردّعمل؟

میں نے شروع سے ہی ایک بات ذہن میں رکھی تھی کہ اللہ پاک کو میں نے جواب کیا دینا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں یہی خوف رکھا، کسی کے مخالف نہیں رہا، میں نے ہمیشہ فحاشی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران میں نے کسی اداکارہ یا اداکار یا ہدایت کار کا نام نہیں لیا کہ فلاں کی وجہ سے یہ گند تھیٹر میں آیا اور تھیٹر کے رُخ ہی بدل گئے۔ اس کی ہیئت ہی بدل گئی اور میرا یہ دعویٰ آج تک قائم ہے۔ میں تو ایک ہی بات کرتا تھا کہ خداراہ تھیٹر کو بچاﺅ، یہ ہمارا بہت بڑا ورثہ اور بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ہم اس کے ذریعے جہاں قوم کو ایجوکیٹ کرتے ہیں وہاں مزاح بھی دیا جارہا ہے اور کم ازکم بھارت ہمارے اس تھیٹر سے بہت خوفزدہ ہے۔ اس دور میں جب بھارتی لندن اور دبئی سے فلم ریلیز کرتے تھے تو پہلے یہ کنفرم کرتے کہ کوئی سا ڈرامہ ریلیز نہیں ہورہا کہ ان کی ویڈیوز ہمارے ڈرامے کی ویڈیوز کے ساتھ ریلیز ہوتی تھیں۔ یہ عالم تھا ہمارے تھیٹر کا۔ یہی تھیٹر کا اداکار جب بھارت جاتا تو شور مچ جاتا تھا۔ اسی تھیٹر کی وجہ سے سب امان اللہ خان کو امان اللہ خان جانتے ہیں۔ اسی تھیٹر کی وجہ سے معین اختر کے بارے میں دلیپ کمار کہا کرتے تھے میں تو آپ کی اداکاری کا بڑا فین ہوں۔ جس کی ساری دُنیا فین ہو، یہاں یہ اعتراف بھی کرتا چلوں کہ میں نے بھی دو تین ڈراموں جن کو میں نے پروڈیوس کیا اس میں رقص کرایا، وہ میری زندگی کی پہلی اور آخری غلطی تھی جو مجھ سے ہوئی، مجھے تو کہا گیا کہ ہم وہ رقص دیں گے جو جنم جنم کی میلی چادر میں دکھایا گیا۔ میرے اس ڈرامے میں سیٹ سمندر کے کنارے کا ہے اور اندر چارپائی کے اوپر رقص ہورہا تھا اور میں اب نام نہیں لوں گا۔ اس اداکارہ نے جو رقص کیا تو میں بہت شرمندہ ہوا کہ یہ میں کیا کر بیٹھا ہوں۔ یوں میں ریورس گیئر لگاتے لگاتے دو تین ڈرامے نکال گیا۔ آج میں پہلی بار آپ کو یہ بات بتانے لگا ہوں کہ اپنے ڈراموں میں وہ رقص دکھانے کے بعد اس قدر غمزدہ ہو گیا کہ مجھ سے بہت بڑی زیادتی ہو گئی، اب ان میں چند پروڈیوسر حضرات ایسے ہی تھے جس طرح جانور مُردار کی طرف دوڑتے ہیں، اس طرح انہوں نے پیسے کی ہوس میں رقاصاﺅں کے گھروں پر ڈیرے ڈال دیئے۔

آج کل آپ کیا ماحول دیکھ رہے ہیں؟

تھیٹر ختم، فلم ختم مگر ٹی وی کے بارے میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ اب بھی چند پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور چند اچھے لوگ بھی ڈرامہ کررہے ہیں۔

کیا لبرل ازم کی آڑ میں زیادہ تباہی نہیں پھیلی؟

اصل میں ہم نے لبرل ازم کو ننگ تنگ کا نام دے دیا۔ میں اس فحاشی کا گواہ ہوں اور اپنی ان گنہگار آنکھوں سے بہت کچھ دیکھ چکا ہوں۔ اب جب پیمرا بنا تو اس کی کمیٹی کا میں واحد اداکار تھا جو رُکن بنایا گیا۔ اس دوران میں نے پہلی بار بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا شروع کردیا۔ ان دنوں سٹارپلس بہت مقبول تھا، ایک دن رات کو جب ان کا ایک ڈرامہ دیکھا تو اس میں بڑے بُرے سین آگئے تو میں نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ بچے جاگ تو نہیں رہے۔ اگلے دن کمیٹی کے چیئرمین جسٹس (ر) آفتاب فرخ صاحب سے جا کر کہا کہ پلیز سٹارپلس بند کرائیں، یہ آپ کی بچیوں اور گھریلو خواتین کو بُری طرح متاثر کرے گا۔ اس میں ہندوازم کے پرچار کو نہ دکھایا جائے کہ ہمارے مذہب اور ثقافت میں جہاں ہمیں آنکھیں بند کرنے کا حکم ہے وہاں سٹارپلس کا ڈرامہ کھل جاتا ہے۔ انہوں نے میری بڑی سپورٹ کی کہ آپ درست کہہ رہے ہیں ہم تو اپنے مذہب میں بھابھی کو ماں کا درجہ دیتے ہیں وہاں تو ڈرامے میں بھابھی سے دیور عشق کرتے دکھایا جارہا ہے۔ ایسے بے غیرت ڈرامے ہمارے معاشرے میں رشتوں کا تقدس کھو دیں گے۔ مختصر یہ کہ ایک بار سٹارپلس بند کردیا گیا۔ اس کے بعد کیبل حضرات نے کس قدر شور مچایا یہ ایک طویل داستان ہے۔ یہاں مجھے بڑے دُکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستانی ڈرامہ نہیں دکھا پائے اور اپنے ڈرامے میں سٹارپلس کو لے لیا، یہ المیہ تھا یہی میرا بڑا دُکھ بھی ....

اس ملک کا ایک اور عذاب ہے کہ طاقتور جو چاہتا ہے وہ کررہا ہے اور کمزور کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی او ربڑی حیرت کی بات ہے کہ کسی نے بھی اپنی ثقافت کی طرف توجہ ہی نہیں دی اور ثقافت ہی تو آپ کو دوسری قوموں میں بلند رکھتی ہے۔ صرف ہم اپنی ثقافت کو چھوڑ کر سٹارپلس کی ثقافت کی طرف دوڑیں گے تو پھر آج کیا ہورہا ہے، یہ اچھا نہیں ہورہا اور یہ بات میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ جب تک آپ اپنی ثقافت کی ترقی کا نہیں سوچیں گے آپ چھ عمران خان، نوازشریف اور زرداری لے آئیں یہ ملک کبھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا اور میرا یہ ایمان بھی ہے کہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جس کے ثقافتی پنجے مضبوطی کے ساتھ دھرتی کے اندر ہوتے ہیں۔ میں یہاں ان لوگوں کی اس بات کو بڑی بکواس قرار دوں گا جو یہ کہتے ہیں کہ اس ملک کو جمہوریت نے تباہ کیا یا کسی بنا اس کو چلنے ہی نہیں دیا، آپ کہتے ہیں کہ فلاں کو پانچ سال دیئے، یار میرے پانچ سالوں میں کچھ نہیں ہوتا، یہ جو آپ کے دائیں بائیں جو قومیں بنی ہیں ان کو بننے میں عشروں کے اوپر عشرے لگے۔ آپ پانچ پانچ سال کا رونا رو رہے ہیں اور ان وجوہات کو نہیں دیکھتے کہ ترقی کس طرح کرنی ہے۔

آپ کے نزدیک آج کی تباہی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں کہ معاشرہ تباہ ہو کر رہ گیا؟

مذہب سے دُوری اور ربّ تعالیٰ کو بھول جانا یہ انسانی اور پاکستانی تباہی ہے۔ نہ ایمان، نہ قرآن، نہ نماز، بے صبرے، لاپروا لوگ سخت لالچی ہو گئے اور یاد رکھیں! ربّ سے دُوری لالچ جنم دیتی ہے۔ ربّ کی نزدیکی لالچ دُور اور صبر پیدا کرتی ہے۔ وہ اب سارا کچھ ختم ہو گیا ہے۔ آج ایک فقرہ سنا دوں کہ اس قوم کی حالت کیا ہے، میرا والد سوچا کرتا تھا کہ میں نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہے، لڑکوں کو پڑھانا ہے اور اگر پیسے بچ گئے تو حج کرنے جاﺅں گا۔ یہ میرے والد کی تین خواہشات تھیں۔ میرے والد سے مراد اس دور کے والد تھے۔ اب آج میری یہ خواہش ہے کہ دن گزر گیا میں ابھی تک امیر ہی نہیں ہوا۔ اب تو دنوں کی بجائے ہم گھنٹوں میں امیر سے امیرتر ہونا چاہتے ہیں۔ ہم آسان زندگی کی بجائے وحشیانہ انداز میں پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ آپ صرف بے ہنگم ٹریفک کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کو کیا ہو گیا ہے اور کوئی کس سمت جارہا ہے یہ بھی علم نہیں۔ یہاں تک کہ کوئی سگنل کو فالو نہیں کررہا۔ دیکھیں آپ کسی ٹریک پر دوڑ رہے ہوتے ہیں تو آپ کے پاﺅں گندے نہیں ہوتے اور جب گلیوں میں آپ بے ہنگم دوڑیں گے جس کی راہوں کا آپ کو علم ہی نہیں کہ راستے میں کن کن گندگیوں میں پاﺅں گندہ ہورہا ہے یہاں کی زندگی ٹریک پر نہیں ہے کہ کسی حکومت نے ٹریک بنائے ہی نہیں۔

آپ کا بڑا دُکھ کیا ہے؟

میرا دُکھ یہ ہے کہ ہر پچیس سال کے بعد کسی ایک برینڈ، کسی ایک ہیرو، کسی ایک ڈرامے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور ایک نامور بندہ سامنے آتا ہے۔ وہ اب جاکر ایک گنجائش بنی تھی کہ وہ ہم نے پچیس سال ضائع کر دیئے۔ اس حکومت سے ہر ایک کو بڑی اُمیدیں بڑی توقعات، بڑی خواہشات اور بڑا اچھا مستقبل دکھائی دے رہا تھا اور ملک کو ایسے ہی ایک بندے کی ضرورت بھی تھی۔ میں جانے والوں کی بالکل حمایت یا مخالفت نہیں کررہا اور ہمارے کائنات کے مالک نے ایک ایسا سسٹم رکھا ہے کہ پچیس سال کے بعد تبدیلی ضرور آتی ہے اور سیاست کے اندر ہم نے یہ پچیس سال کھو دیئے اور اس کو کھونے کی وجہ بے صبری، لالچ اور ہم سب نے اپنے ضمیر کو اپنے مفادات کی زنجیر سے جوڑ دیا۔ کوئی نیا پاکستان نہ بنے گا نہ بنانا چاہتا ہے، یہ بات مولانا مودودیؒ نے بہت پہلے کہہ دی تھی کہ پورا پاکستان چاہتا ہے کہ یہاں اسلامی نظام قائم ہو جائے مگر وہ اپنے اندر اس اسلام کو نافذ نہیں کرنا چاہتا۔

پی ٹی وی کے بعد بے شمار چینل آئے اور ایک دو نے جب اپنے پروگرامز میں مزاحیہ پارٹ رکھے تو پھر اس دوڑ کی طرف دوڑ پڑے، آپ کے نزدیک کیا اداکار ہونے کے ناطے یہ اچھی تبدیلی ہے، کچھ لوگ اس کو بُر ابھی تصور کرتے ہیں کہ ہم نے ٹی وی کو اداکاروں کے حوالے کردیا ہے؟

پہلی گزارش یہ ہے کہ میں نے اس کا آغاز نہیں کیا اور چند لوگ اس بات کا کریڈٹ لے رہے ہیں کہ اس نے یہ شروع کیا۔ کیا وہ بہت بڑے بیوقوف لوگ اورجھوٹے دعویدار ہیں، اس لیے کہ ان کے اندر شاہد اور علم کم ہے۔ میں نے آنکھیں کھول کر زندگی گزاری ہے اس فارمیٹ کا آغاز ریڈیو پاکستان کے شہرت یافتہ پروگرام جمہور کی آواز کے ”چاچا نظام دین“ نے کیا اور ”حسب حال“ کو جب شروع کیا تو اس میں وہی سیاسی اور سوشل رویے موجود تھے جوجمہور کی آواز کا حصہ تھے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جمہور کی آواز کو بعد میں نظام دین کی بیٹھک میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اسی فارمیٹ پر ہم نے سب سے پہلے شعیب ہاشمی صاحب کا پروگرام اکڑبکڑ اور سچ گپ دیکھا اور شعیب ہاشمی خود اس کے میزبان بھی تھے۔ ان کے ساتھ سلیمہ ہاشمی تھیں۔ اس میں نویدشہزاد، سلمان شاہد، عرفان کھوسٹ یہ بہت بڑے نام ان کے پروگرام کا حصہ تھے۔ ہمیں اس پروگرام کے ذریعے بہت خوبصورت مزاحیہ اداکاری دیکھنے کو ملی۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جس کا کریڈٹ ہے اس کو دیں، کسی کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کی حرکتیں چھوڑ دیں۔ سچ کو گپ کے ساتھ شامل نہ کریں کہ سچ گپ شعیب ہاشمی صاحب کا ہی ورثہ رہے گا۔ وہ کیا دور تھے، کیا اچھے رویوں میں زندگی بسر کرنے والے بڑے لوگ، یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ نظام دین کو میں نے ہمیشہ ذہن میں رکھا اور وہی میر اسکول آف تھاٹ تھے۔ وہ لائیٹ موڈ میں سوشل اور سیاسی معاملات کو لے کر پروگرام کرتے۔ وہ ہمیشہ ایک خوبصورت جملہ کہا کرتے تھے، خاص کر جنرل ضیاءکی حکومت آئی تو کہہ گئے کہ پیاز اس لیے مہنگے ہو گئے کہ آرائیوں کی حکومت آگئی ہے وہ ہندوپاک میں وہ اس فارمیٹ کے موجد تھے۔ دوسرا آپ کا سوال یہ کہ یہ اچھا یا بُرا ہے، میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ آرٹسٹ بھی ایک صحافی ہوتا ہے اور آپ کے بڑے صحافیوں نے اداکاری اور لکھاری بھی کی۔ ایک طویل فہرست میں چند بڑے نام آپ کا پریس کلب بھی ایک آرٹسٹ ناصر نقوی نے بنایا، منوبھائی، نذیرناجی جو فلم انڈسٹری کے رائٹر رہے، ریاض الرحمن فلموں کے گیت لکھا کرتے۔ میں خود جنگ اخبار کے جمعہ میگزین میں لکھا کرتا تھا۔ اس ناطے میں ایک صحافی ہوں۔ پھر میں نے اپنا ایک اخبار روزنامہ ”تہلکہ“ نکالا اور وہ اخبار ڈیڑھ سال تک چلا، بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ صحافت بھی بہت بڑا آرٹ ہے، ایک بار کسی نے کہا تھا....

حجرے شاہ مقیم دی اک جئی عرض کرے

میں بکرا دیاں گی پیر دا میرے سر دا سائیں مرے

کتی مرے فقیر دی جیڑی چوں چوں ضد کرے

اس میں انہوں نے لالچ کو کتی کہا تھا، یہ اس دور کی بات کررہا ہوں یعنی میرا نفس مر جائے میں بکرا دیاں گی پیرا دا پاویں سردا سائیں یعنی نفس مر جائے، لالچ ہے کہ گاڑی، گھر، کاروبار، دولت کی ریل پیل بھی تو لالچ ہے۔ اس ملک کو لالچ اوربے صبری نے تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے اور آپ کو سیاست میں بھی جو لالچ نظر آرہا ہے اس کے رویوں نے ملک کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔

آپ تفریح کس کو کہتے ہیں کہ آج جو کچھ دکھایا جارہا ہے کیا یہ تفریح ہے؟

چھوٹے ہوتے تھے تو ہم سب بچے گول چکریاں لیتے تھے اور جب گرنے لگتے تو بڑے کہتے کہ اب اُلٹے مڑو تو چکر آنا بند ہو جاتے۔ اس لیے چکروں کا نام تفریح ہے۔ آپ سارا دن ایک ہی سمت میں گھوم رہے ہیں۔ سارا دن مشکلات اور ٹینشن میں گزارنے کے بعد انہی راستوں سے واپس لوٹ آتے ہیں تو رات کو آپ کو مذاق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ آپ کامیڈی کی تلاش میں ہوتے ہیں، وہ بھی تو ایک دور تھا جب پارو میری ماں مر گئی، یہ بھی ایک مزاح تھا۔ اس دور میں ہمارے پاس ہنسنے کے لیے بے پناہ مواقع ہوا کرتے، دُکھ کے ساتھ سُکھ بھی ہوتے تھے۔ ایک طرف دلیپ کمار تو دوسری طرف منورظریف بھی ہٹ جارہے تھے۔ آج کون سنے پارو۔میری ماں مر گئی کہ آج تو سب کی ماں مر گئی ہے۔

”عزیزی“ کا کردار آپ کے سابقہ کرداروں سے زیادہ مقبول ہوا، کیا توقع تھی کہ یہ نام آپ کو بہت آگے لے جائے گا؟

ایک دلچسپ بات بتا دوں کہ میں نے جو کام بہت بُرے دل سے کیا وہ اچھا ہو گیا۔ اس کردار پر خدا نے کرم کردیا جب حسب حال شروع ہوا تو پہلے پانچ چھ پروگرامز میں دوسرے لوگوں کے تجربے ہو چکے تھے، پھر اچانک ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ مجھے اس پروگرام میں بٹھایا جائے۔ میں بھی اس پروگرام میں شامل ہو گیا۔ میرا نہیں خیال کہ اس میں میرا کوئی خاص ہنر تھا۔ اس کی کامیابی میں بہت سارے اور عوامل ہیں مثلاً ایک پروگرام میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی گھڑی کا ذکر ہوا، ایشو یہ تھا کہ ایک غریب ملک کا وزیراعظم 80لاکھ کی گھڑی پہنتا ہے، وہ گھڑی انہوں نے آصف ہاشمی کے ہاتھ مجھے بھجوا دی۔ ان کا بتانے کا مطلب یہ تھا کہ یہ 80نہیں 15سے 20ہزار کی گھڑی ہے۔ پھر ہوا یہ کہ اگلے روز بڑے کالم نگاروں نے اس کے اوپر کالم لکھ ڈالے۔ اس سے پروگرام کو بڑی شہرت ملی۔ دوسرا پروگرام یہ ہوا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے حامد علی خان کے ساتھ گانا گایا۔ وہ کلپ ہم نے پروگرام میں چلایا تو پھر شور اُٹھا کہ پرویز مشرف کس قدر کلاسیکل گیت گا رہا ہے، کہاں گارہا تھا جی وہ، وہ نیا پروگرام ”حسب حال“ شروع ہوا ہے، اس میں یہ گیت گایا گیا۔ اب آپ بتایئے کہ اس میں میرا کیا ہنر تھا یا اس میں آفتاب اقبال کا کیا ہنر تھا۔ میرے نزدیک ربّ ہی راہیں دیتا ہے۔ اس نے راہ دی اور پروگرام ہٹ ہو گیا، ربّ تو خود کہتا ہے کہ جہاں تم سوچ رہے ہو وہاں سے میں نے رزق نہیں دینا تجھے رزق وہاں سے دوں گا جس کے بارے میں تُو سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر آپ میری وجہ شہرت پوچھتے ہیں تو میں سارا کریڈٹ تھیٹر ہی کو دوں گا جس نے مجھے یہ مقام دلوانے میں بڑا کردار ادا کیا، گو تھیٹر کے سٹیٹس کو بڑھانے کے لیے میں نے بہت محنت کی۔

آپ نے شہرت، عزت، دولت، اچھی اولاد اور وہ کچھ پایا جو آپ نے چاہا، اس کے باوجود میرا سوال ہے کہ کوئی ایسی کسک جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو، بہت کچھ کھونے اور پانے کے باوجود .... وہ کسک کیا ہے؟

میں بہت کمزور دل کا بندہ ہوں۔ چند روز سے میں بہت دُکھی ہوں کہ ایک بندے نے اس وجہ سے خودکشی کرلی کہ وہ اپنے بچوں کو روٹی نہیں دے سکا تو میں اس وقت سے بہت افسردہ ہوں کہ کیا اب یہ دور بھی آگیا ہے کہ ایک باپ اپنے بچوں کو روٹی بھی نہیں دے سکتا۔ اے میرے ربّ! ہمیں معافی دے دے، غلطیاں تو سب انسانوں سے ہوتی ہیں، تیری مہربانی ہو گی تو غریبوں کے دُکھ بھی چھپ جائیں گے۔ اس حوالے سے میں سوشل ورک کرنا چاہتا ہوں، کوشش کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو غریبوں کا مداوا ہو سکے اور جتنی میری حیثیت ہے اس کے مطابق کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں۔ غریب کا دُکھ نہ دیکھنا ہی میرے دل میں چھپی سب سے بڑی کسک ہے۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ خداتعالیٰ کو بھی کوئی وقت دوں، کاش پاکستان میں کوئی ایک ایسا پروگرام بن جائے کہ کم ازکم غریب بھوکا نہ مرے، اس کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔

ہم اپنی تقریروں میں باتیں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ کی کرتے ہیں اور ہمارے کرتوت کیا ہیں؟، اس دوران حضرت عمرؓ کی وہ بات کیوں یاد نہیں رکھتے کہ جب وہ رات کو گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ آپ نے دروازہ کھٹکھٹا کے پوچھا، بچے کیوں رو رہے ہیں؟ گھر میں آٹا نہیں ہے، وہیں سے کائنات کی سب سے بڑی سلطنت کی حکمرانی کرنے والے حضرت عمرؓ مڑے اور بیت المال سے آٹے کی ایک بوری اپنی کمر پر لاد کر لائے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں ہوں خلیفہ، یہ میرا فرض ہے۔ آٹے کی بوری دینے کے بعد وہ گھر سے باہر کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ حضور اب آٹا گوندھا جارہا ہے، چلیں تو آپ نے پھر فرمایا، میں نے ان کو روتے دیکھا ہے میں اب ان کو ہنستے بھی دیکھ لوں۔ کیا تھے وہ حکمران جو غریبوں کے دلوں میں بستے تھے۔ اسدبھائی کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں یہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں سے بھاگ جاﺅں، یقین کریں میں ان بھوکے ترسے غربت کے مارے لوگوں کو دیکھ نہیں سکتا، کس قدر بدقسمتی کہ ہم روٹی دینے کے اہل حکمران بھی نہیں ہیں، کم ازکم بھوکے بچوں کے پیٹ میں روٹی تو جانی چاہیے، باقی تو اللہ وارث ہے اور یہ اس کی ”ونڈ“ ہے کہ کوئی گاڑی تو کوئی پیدل ہے۔

کیا آپ کے اندر بھی ”وَنڈ“ کا عمل ہے؟

اس ذات باری تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ڈیوٹی ادا کررہا ہوں جتنا بھی ہو، نمائش کا عادی نہیں۔ یہ جو وزیراعظم، صدر، ایم این اے، ایم پی اے،سرمایہ کار اور وڈیرے خدا کرے ان کے دلوں میں یہ بات آجائے کہ اس ملک میں بھوکے بچے بھی سوتے ہیں اور نہیں تو ان کے گھر میں آٹا ہی پہنچا دیں مگر بات توفیق کی بھی ہے جو وہ ذات باری تعالیٰ اپنے پیاروں کو عطا کرتا ہے۔ میری ان بڑوں سے گزارش ہے کہ خدا کے واسطے تقریریں نہ کریں، ایوانوں سے باہر نکلیں اور اپنے حلقوں میں جا کر پوچھیں کہ کس گھر میں ایک بچہ بھوکا سویا ہے، کوئی یہ نہ ہو کہ بھوک سے مر جائے۔ آپ نے جو سوال کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ میں زندگی سے بالکل مطمئن نہیں ہوں، ایک نہیں میرے دل میں بہت سی کسک اور انسانیت کے حوالے سے بہت سی خواہشات رہ گئی ہیں۔ ساری عمر آرٹ ہی کی طرف بھاگتا رہا ہوں، دُکھ تو یہ ہے کہ ہم اپنی آرٹ کی زندگی میں رہنے والے لوگوں کے لیے بھی کچھ نہیں کرسکے دوسری طرف تو پورا پاکستان ہے۔

٭٭٭


ای پیپر