صوبہ جنوبی پنجاب کے خواب کی تعبیر  کیلئے کونسی جادوکی چھڑی کام کرے گی 
28 جنوری 2020 (23:16) 2020-01-28

منصور مہدی

جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کی مانگ ایک عرصے سے جاری ہے۔گذشتہ الیکشن میں تو باقاعدہ جنوبی صوبہ محاذ کے نام سے ایک گروپ نے انتخابی مہم چلائی اور پی ٹی آئی کے وعدے پر کہ وہ اس صوبے کے قیام کو ممکن بنائے گی۔ اس محاذ نے اپنے آپ کو پی ٹی آئی میں ضم کر لیا۔ لگتا تھا کہ حکومتوں کی تشکیل کے بعد پی ٹی آئی اپنا وعدہ بھول گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ پی ٹی آئی کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی۔ جس کے ذریعے آئین میں ترمیم کی جا سکے۔

پاکستان ایک وفاق ہے جس میں چار بڑے بڑے صوبے شامل ہیں۔ اس کا ایک صوبہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا۔ تاہم پاکستان کسی نہ کسی صورت قائم چلا آ رہا ہے مگر انتظامی طور پر دیکھا جائے تو چار بڑے صوبوں کو مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا وقت کی عین ضرورت تھی۔ ہمارے پڑوس میں مشرقی پنجاب کے اندر سے نئے صوبے بنے۔ پورے بھارت میں کئی نئے صوبے بنے۔ صوبوں کی تشکیل سے ملک کمزور نہیں، مضبوط ہوتا ہے کیونکہ اس کاانتظام و انصرام آسان ہو جاتا ہے اور لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو جاتے ہیں۔

مطالبہ تو کراچی کو بھی الگ صوبہ بنانے کا تھا۔ ہزارہ صوبہ بنانے کے حق میں بھی تحریک چلی اور پوٹھوہار کو بھی الگ صوبے کی شکل دینے کی تجویز سامنے آتی رہی مگر وسطی پنجاب کی بااثر قوتیں ان تمام تجاویز کی مخالفت کرتی رہیں کیونکہ ان کی حکومت کا دائرہ سکڑنے کاخدشہ تھا۔ مگر کسی نے یہ نہ سوچا کہ دنیا میں کتنے ایسے ممالک ہیں جو ہمارے کسی ضلعے کے رقبے اور آبادی سے بھی چھوٹے ہیں مگر وہ کہیں زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ ہیں۔ ان کی فی کس آمدنی پر نظر ڈالیں تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ سنگا پور تو محض ایک بندرگاہ پر مشتمل ملک ہے۔ ہمارے سامنے سوویت روس کی بھی مثال ہے جس کے بطن سے درجنوںنئے ممالک نے جنم لیا، مشرقی یورپ میں بھی شکست و ریخت ہوئی اور چھوٹے چھوٹے ممالک معرض وجود میں آئے مگر ادھر ہم ہیں کہ نئے صوبے کی تجویز پر لرز لرز جاتے ہیں۔

کراچی ہی کو لیجئے، اس پر سندھ والے اپنا حق جتاتے ہیں حالانکہ قیام پاکستان کے بعد سے کئی برسوں تک یہ شہروفاقی دارالحکومت تھاا ور سندھ کی صوبائی حکومت کا اس سے کوئی تعلق واسطہ نہ تھا۔ قیام پاکستان سے قبل سندھ کبھی ممبئی کا حصہ بنا اور بنگال کبھی اکٹھا ہوا اور کبھی دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ امریکہ کو دیکھئے جو باون کے قریب ریاستوں پر مشتمل ہے اور ہر ریاست کی الگ اسمبلی اور سینیٹ ہے اور ہر طرح کا انتظامی ڈھانچہ بھی الگ ہے۔ بہاولپور والوں کا کہنا ہے کہ ان کا علاقہ ایک آزاد ریاست کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ حیدر آباد، جونا گڑھ وغیرہ بھی آزاد ریاستیں تھیں جن کے اپنے حکمران تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ انگریز سرکار کے بھی ماتحت تھے، انگریز سرکار کے ماتحت تو آج بھی کینیڈا اور نیوزی لینڈ وغیرہ ہیں اور جبرالٹر تو براہ راست ملکہ برطانیہ کے ماتحت الگ ملک ہے۔ یہاں کے کرنسی نوٹ پونڈ پر طارق بن زیاد کی تصویر شائع کی جاتی ہے۔ اس سے نہ جبرالٹر کی حاکمیت اعلی پر فرق پڑتا ہے اور نہ مذہبی تفرقے بازی کا جن پھنکارتا ہے۔

لیکن اگر ہم پنجاب کی بات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ بہتر برسوں میں اس صوبے کی ابتری میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ زیادہ سے زیادہ کسی حکمران نے نظر کرم کی تو لاہور کو پیرس بنانے کا وعدہ کیا،اس طرح پورے پنجاب کا بجٹ ایک شہر لاہور نے کھا لیا اور باقی شہروں میں احساس محرومی بڑھتا چلا گیا۔ جنوبی پنجاب کے حکمران وفاق میں بھی گئے اور صوبے میں بھی مگر ان لوگوں نے اپنا مال پانی بنانے کی فکر تو کی۔ اپنے علاقوں کی ترقی کے لئے نہ سوچا۔ جنوبی پنجاب کا رونا بہت رویا جاتا ہے مگر جہاں اس علاقے میں پس ماندگی ہے۔ وہاں ایسے لینڈ لارڈ ہیں جو نسل در نسل منتخب ہوتے چلے آئے ہیں۔ ان کی زمینوں کو گنا نہیں جا سکتا، جنوبی پنجاب میں متعدد ایسے لوگ ہیں جن کے پاس نجی ہوائی جہاز ہیں۔ اس علاقے سے صدر بنے، گورنر بنے، وزرائے اعلیٰ بنے مگر انہوں نے عوام کے لئے کوئی کام نہیںکیا اس لئے براہ کرم یہ علاقہ وسطی پنجاب کی لیڈر شپ کو تو کم از کم دوش نہ دے۔ اپنے ہی لیڈروں سے اپنی محرومیوں کا حساب مانگے۔

بحرحال بات ہو رہی تھی کہ کیا موجودہ حکومت جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی ؟ دیکھا جائے تو اب 2019 بھی گزر گیا، الگ صوبہ تو دور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بھی قائم نہ ہو سکا۔ملتان، بہاولپوراور ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے شہری مسائل کے حل کیلئے آج بھی سول سیکرٹریٹ لاہورکے چکر لگانے پر مجبور ہیں اور تمام تر دعووں کے باوجود ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل جب عمران خان برسراقتدار آئے تھے تو ان کی ہدایت پرجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے خصوصی ایگزیکٹو کونسل تشکیل دے کر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا خاکہ تیار کرنے کا ٹاسک سونپا تھا۔

فروری 2019 میں حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان میں بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے ، 16 صوبائی محکموں کے سپیشل سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پنجاب جنوبی پنجاب پولیس کے سربراہ ہونگے ،ان کے ماتحت چار پوسٹیں ڈی آئی جی کی ہونگی،آئی جی پنجاب کا کیمپ آفس بھی وہیں بنایا جائے گا، آئی جی پنجاب ایک ماہ میں کم از کم ایک ہفتہ جنوبی پنجاب کے پولیس دفتر میں رہیں گے۔

یہ تجویز کیا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس ملتان میں جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ ابتدائی طور پر قائم کیا جائے گا جبکہ بعد ازاں نئی بلڈنگ، افسران و ملازمین کی رہائشگاہیں اور دیگر سہولیات وہاں دی جائیں گی۔سیکرٹریٹ میں آن لائن سسٹم کے تحت منظوریاں لی جائیں گی اور لوگوں کو اپنے کام کے سلسلے میں لاہور نہیں آ پڑے گا۔

چوبیس مئی کوصوبائی حکومت نے صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت کابینہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے دسویں اجلاس میں سول سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کے قیام کی باضابطہ منظوری دی۔اجلاس میں مختلف محکموں کی سفارشات پر مبنی 36رکنی ایجنڈاپیش کیا گیا،کمیٹی نے متفقہ طور پرتمام سفارشات کی منظوری دی اورمتعلقہ سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ خزانہ کو جنوبی پنجاب میں سول سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے ضرورت کی بنیاد پر بھرتیوں کے اخراجات کی تفصیلات سے آگاہ کریں، جنوبی پنجاب میں جونشستیں متعارف کرائی جائیں لاہور میں ان کی متوازی نشستوں میں کمی لائی جائے۔ٹرانسفر کی صورت میں فیملی کی رہائش کی سہولت مہیا کی جائے گی تاکہ افسران اور عملہ پوری دلجمعی کے ساتھ نئے سیکرٹریٹ کے قیام کو کامیاب بنانے پر توجہ مرکوز رکھیں، صوبائی حکومت نے دعوی کیا کہ یکم جولائی سے سول سیکرٹریٹ فنکشنل ہو جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سول سیکرٹریٹ کے لیے 50کروڑ 8لاکھ 62 ہزار 424روپے کی خطیر رقم کی منظوری بھی دے دی۔ 27جون2019 کو پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں ملتان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے خوشخبری سنائی کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے فنڈز مختص کر دیے اور جگہ کا تعین اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ تین وجوہات کی بنا پرجنوبی پنجاب کا صوبہ بنایا جا نا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ اتنے بڑے صوبے کی گورننس چلانا ممکن نہیں، دوسرا پنجاب کے ایکسٹرالارج سائز کے باعث فیڈریشن کے باقی تینوں یونٹس کو مسائل اور تحفظات درپیش رہتے ہیں،جن میں اضافہ ہی ہوا ہے، کمی نہیں آئی۔ تیسرا اس لئے کہ جنوبی پنجاب کے عوام اپنے لئے الگ صوبہ چاہتے ہیں اور وہ اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ نیا صوبہ بنانے کے لئے وہ کچھ لے نہیں رہے ،بلکہ بہت کچھ چھوڑ رہے ہیں۔ وہ لاہور جیسے بڑے ، ترقی یافتہ شہر سے محروم ہو رہے ہیں، اپنے حقوق سے دستبردار ہو رہے ہیں، جہاں صوبے کے بہترین میڈیکل کالج، واحد انجینئرنگ یونیورسٹی، آرٹ کے ادارے اور بے شمار ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں۔ نیا صوبہ بنانے کی صورت میں جنوبی پنجاب کے طلبہ لاہور کے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے پائیں گے، سرکاری ملازمتوں کے لئے اپلائی نہیں کر سکیں گے اور بھی بہت سے نقصانات انہیں اٹھانے پڑیں گے۔ وہ لاہور، پنڈی ، فیصل آباد جیسے شہروں کو چھوڑ کر اپنے ٹوٹے پھوٹے شہروں، قصبات کے ساتھ ہی اپنی نئی دنیا بسانا چاہتے ہیں۔اس کے لئے انہیں کچھ اضافی درکار نہیں، صرف اتنا کہ این ایف سی سے پنجاب کو ملنے والے حصے میں جنوبی پنجاب کے حصے کے پیسے انہیں دئیے جائیں ، اسی میں وہ جو کر پائیں، کریں گے۔ ان سب اقدامات سے ایسا لگ رہا تھا پی ٹی آئی کی حکومت جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا اپنا وعہدہ نبھائے گی مگر اب وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو اسمبلیوں میں واضح اکثریت حاصل نہیں، یہی وجہ ہے کہ سرائیکی صوبے کا قیام ممکن نہیں۔انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ اس پرفیاض الحسن چوہان نے کہا کہ واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے سرائیکی صوبے کا قیام ممکن نہیں۔

اسی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کچھ عرصہ قبل اس کے لئے باقاعدہ بل لانے کی بات کی تھی، انہوں نے بتایا تھا کہ ان کی حکومت یہی کر سکتی تھی کہ اس مقصد کے لئے ایک بل ڈرافٹ کرے۔ اب خود حکومت تو اسے منظور کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے مگر دیگر پارلیمانی جماعتیں جو اس نظریئے اور ضرورت کی حامی رہی ہیں ان سے تعاون مانگا جائے گا اور اگر مطلوبہ اکثریت مل گئی تو اس مطالبے کی عملی تعبیر سامنے آ جائے گی۔ بصورت دیگر کوئی پی ٹی آئی کو دوش نہیں دے سکے گا کہ اس نے اپنے وعدے کا پاس لحاظ نہیں کیا۔

تا ہم سینئر رہنماءپاکستان تحریک انصاف جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے حقوق کے حوالے سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔ صوبہ جنوبی پنجاب پی ٹی آئی کے دور حکومت ہی میں بنے گا، اس پر کام جاری ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب کے بننے میں اگرچہ بہت سے مسائل ہیں۔ پانی کی تقسیم ،این ایف سی ایوارڈ اور سینٹ میں منظوری لی جائے گی۔ جنوبی پنجاب کے حقوق کے حوالے سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔

نئے صوبے کیلئے تحریک

جنوبی پنجاب کے علاقوں سے منتخب ہونے والے سیاستدانوں نے اس اہم ترین ایشو کو پس پشت ڈالے رکھا کیونکہ ان کے صوبائی اور وفاقی دارالحکومت میں پرتعیش بنگلے تھے اور وہ ہر آنے والی حکومت کا حصہ رہے۔ 2008ءکے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے الگ صوبے کے نام پر ووٹ لئے اور برسر اقتدار آئی۔ اس خطے سے وزیراعظم کا انتخاب کیا گیا لیکن بیوروکریسی چونکہ جنوبی پنجاب پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی تھی سو صوبہ نہیں بننے دیا گیا۔پی ٹی آئی نے بھی یہی کیا۔ صوبے کے نام پر ووٹ لئے۔ برسرِ اقتدار آ بھی گئی لیکن لگتا ہے کہ الگ صوبے کا قیام شاید شرمندہ تعبیر نہ ہو۔بالآخر سیاستدانوں کا خلاء پ±ر کرنے اور اس خطے کے عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچانے کے لئے وکلاءبرادری کو میدان میں آنا پڑا۔ جنہوں نے علیحدہ صوبہ اور خود مختار ہائی کورٹ کے حصول کے لئے پرامن تحریک شروع کر دی ہے۔

عو ام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ابتدائی طور پر ہفتہ میں ایک دن (جمعہ کو) ہڑتال کی جاتی ہے اور اس روز عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ قمر زمان بٹ، ممبر پنجاب بار کونسل اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی اس سلسلے میں ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر، ممبر پنجاب بار کونسل اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی قمر زمان بٹ نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو حکومتی اور قانونی معاملات کے سلسلے میں لاہور کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں جس کے باعث مالی بوجھ اور سفری صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ صوبے کے قیام کے بعد جنوبی پنجاب کو آبادی کے مطابق بجٹ میں حصہ ملے گا۔ جنوبی پنجاب میں آمدنی کا بڑا ذریعہ زراعت ہے۔ یہاں کا ریونیو اس خطے کے باسیوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہو گا اور اپر پنجاب کی اجارہ داری بھی ختم ہو جائے گی۔ان کے مطابق یہاں کے نمائندے بددیانتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہیں غریب عوام کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سول سیکرٹریٹ کا قیام صوبے کا متبادل ہرگز نہیں۔ چند محکموں کے سیکرٹریز یہاں بٹھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بااختیار نہیں ہوں گے۔ ریموٹ کنٹرول تو تخت لاہور کے پاس ہی رہے گا۔ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر وسیم ممتاز نے کہا کہ ملتان کو جغرافیائی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ کبھی سندھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں بسنے والوں کی غالب اکثریت کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ دیگر چاروں صوبوں کی طرح اسے بھی سرائیکی صوبہ ہی بنایا جائے۔ اس وقت ضلع کچہری اور لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں سینکڑوں مقدمے التوا کا شکار ہیں۔ صوبہ بننے اور خود مختار ہائی کورٹ کے قیام سے مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام نے کبھی بھی سب سیکرٹریٹ بنانے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ سب سیکرٹریٹ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اصل ایشو سے توجہ ہٹانے کیلئے سب سیکرٹریٹ کا لولی پاپ دیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق سرائیکی صوبے کا دارالحکومت ملتان ہی ہونا چاہیے۔ پی پی دور میں ملتان کو بگ سٹی الاو¿نس دینے کا اعلان کیا گیا لیکن بیوروکریسی نے آج تک اس کا نوٹیفکیشن نہیں ہونے دیا۔نوجوان وکلاء امیر احمد اعوان، چودھری وقاص اور چودھری عرفان نے کہا کہ صوبے کا مطالبہ پورا ہونے پر یہاں کے عوام کی ایوان اقتدار تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ تجارتی منڈیاں قائم ہوں گی۔ یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں ملیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ضلع کچہری اور لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں سینکڑوں مقدمے التوا کا شکار ہیں۔ صوبہ بننے اور خود مختار ہائی کورٹ کے قیام سے مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ ججز کی قلت کے باعث چند مقدمات لاہور ہائی کورٹ ریفر کر دیتی ہے۔ صوبہ کے قیام سے یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے گا۔ نئے صوبے کا تخت لاہور کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ انہیں انتظامی کنٹرول میں سہولت ہو گی اور جنوبی پنجاب کے تمام مقدمات کا فیصلہ ملتان میں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل صوبہ بن جاتا تو یہاں کے مالی، انتظامی اور دیگر مسائل باآسانی حل ہو جاتے۔ بیورو کریسی اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لئے صوبہ کے قیام میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

جنوبی پنجاب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی پچھلے دنوں پارلیمان نے فاٹا کو صوبہ خیبر پی کے میں انضمام کے حق میں متفقہ بل منظور کیا۔ اس مسئلے پر بھی ہر سیاسی پارٹی کی اپنی رائے ہو سکتی تھی اور اکیلے فاٹا کو ایک الگ صوبہ بنانے کی تجویز بھی قومی حلقوں میں زیر بحث رہی مگر آخرکار پارلیمان نے جو بہتر سمجھا وہ کر دکھایا۔ اس مسئلے پر پارلیمنٹ کی مختلف الخیال اور باہم متحارب جماعتیں کسی جادو کی چھڑی سے اکٹھی ہو سکتی ہیں تو یہی جادو کی چھڑی جنوبی پنجاب کے خواب کی تعبیر بھی دکھا سکتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر