آٹا بحران: آیا یا لایا گیا؟
28 جنوری 2020 (23:00) 2020-01-28

ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے

غریب انسان روکھی سوکھی کھا کر اور ٹھنڈا پانی پی کر گزرا کر لیتا ہے لیکن جب روکھی سوکھی کے لئے بھی اسے آٹا میسر نہ ہو تو بیچارہ کیا کرے اور کہاں جائے؟ روٹی انسان کی انتہائی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے، لیکن جب اس کے پاس وسائل ہونے کے باوجود یہ میسر نہ ہو تو اس سے آپ ملکی مفاد میں سوچنے یا کچھ کرنے کی امید کیسے کر سکتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود یہاں آٹے، چینی، ٹماٹر اور پیاز وغیرہ کا بحران رہتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب اور دل ہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مطلوبہ مقدار میں گندم کی موجودگی، فلور ملوں کو باقاعدگی کے ساتھ ان کی ضرورت کے مطابق فراہمی اور معمول کے مطابق وہاں گندم کی پسائی کے باوجود دکانوں سے آٹا کیوں غائب ہے؟

اس سوال کا جواب متعلقہ ذمہ داروں پر لازم ہے لیکن وہ اوّل تو یہ بات ماننے کو ہی تیار نہیں کہ ملک میں آٹے کا کسی قسم کا بحران ہے اور اگر مانتے ہیں تو پھر وہی پرانا، دوسروں پر الزام دھرنے کا گھٹیا اور نااہلی پر مبنی رویہ۔ یہاں قابل سوچ امر یہ ہے کہ جب حکومت نے آٹے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا تو پھر فلور ملوں کے پاس اس کی قیمتیں بڑھانے کا کیا جواز ہے؟ تادم تحریر ملک کے طول و عرض میں آٹے کا جو بحران دکھائی دے رہا ہے اس سے عوام بے چین اور غیض و غضب سے بھرے پڑے ہیں۔

ان حالات میں گُڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ اگر فلور ملیں یک طرفہ طور پر آٹا پانچ روپے فی کلو مہنگا کر رہی ہیں تو دکاندار اس سے بھی زیادہ اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ذمہ داران کہاں مصروف ہیں، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور گندم کی سمگلنگ جیسے گھناو¿نے فعل میں مصروف سماج دشمن عناصر کو نکلیل ڈالنے میں کون سا امر مانع ہے۔ ملک کے ایک مو¿قر قومی اردو روزنامے میں اکیس جنوری کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ”کراچی سے یومیہ 100 تا 150آٹے کے ٹرک بلوچستان کے راستے افغانستان اسمگل ہو رہے ہیں جس پر آٹے کے تیارکنندگان کو فی بوری200 روپے زائد منافع ہوتا ہے لیکن اس اسمگلنگ کی وجہ سے سندھ میں آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے“۔ رپورٹ کے مطابق ”ذخیرہ اندوزوں نے کراچی اور اندرون سندھ کے خفیہ گوداموں میں گندم کے وسیع ذخائر چھپائے ہوئے ہیں جس کی نشاندہی کے لیے حکومت کی جانب سے انعام کے ساتھ اسکیم کا اعلان کیا جائے تو یہ خفیہ ذخائر منظر عام پر آسکتے ہیں“۔ معمولی سمجھ رکھنے والا شہری بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ نہ تو آٹا تیار کرنے والے عام شہری ہیں اور نہ اسے اپنے عوام کے منہ سے چھین کر بیرون ملک اسمگل کرنے والے۔ ظاہر ہے ان لوگوں کا تعلق واسطہ اس طبقے سے ہے جو ملک کے سیاہ و سپید کا مالک اور ملک کی تقدیر بدلنے کا دعویدار ہے۔ جب تک اس طاقتور مافیا کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے غریب کو جھوٹی طفل تسلیان دینے کا سلسلہ جاری رہے گا، ملک میں بحران پہ بحران آتے رہیں گے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو گندم کے معاملے میں نہ صرف اپنے عوام کی طلب آسانی سے پوری کر سکتا ہے بلکہ اسے برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی کماتا ہے مگر انتظامی بدنظمی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث ایسے بحران نے جنم لیا جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ پاکستان کا شمار گندم پیدا کرنے والے آٹھ بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ ماہرین زراعت کے مطابق پاکستان میں تقریباً سالانہ 25 ملین ٹن گندم پیدا ہوتی ہے جس میں سے 19ملین ٹن پنجاب میں پیدا ہوتی ہے جو ملک کی مجموعی پیداوار کا 75 فیصد ہے۔ نومبر 2019ءمیں وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق صاحبزادہ محبوب سلطان نے آٹے کے بحران کے خدشات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی سالانہ گندم کی ضرورت 25 ملین ٹن ہے جب کہ ہمارے پاس 27 ملین ٹن گندم موجود ہے۔ انہوں نے کے پی کے اور بلوچستان کو فوری طور پر گندم فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی سماجی حلقوں کی طرف سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر حکومت گندم اور آٹے کی افغانستان سمگلنگ کا سدباب نہیں کرتی تو آئندہ چند مہینوں میں ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس وقت تحقیقاتی رپورٹس میں بھی یہی امر سامنے آیا تھا کہ آٹے کے بحران کی وجہ گندم کی قلت نہیں بلکہ فلور ملزمالکان کی طرف سے ملنے والے کوٹے کو مارکیٹ میں فروخت کرنا ہے۔ حکومتی رپورٹ میں 19کے لگ بھگ گھوسٹ فلور ملز کا بھی انکشاف ہوا تھا جو گندم کا کوٹہ لے کر مارکیٹ میں فروخت کر رہی تھیں۔ ان تحقیقات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت نہ صرف افغان بارڈر پر سمگلنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات کرتی اور گھوسٹ فلور ملز کو گندم مہیا کرنے والے سرکاری اہلکاروں کا محاسبہ کر کے متوقع بحران سے بچنے کی کوشش کی جاتی مگر بدقسمتی سے حکومتی اقدامات صرف طفل تسلیوں تک ہی محدود رہے۔ اور حکومت کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب پانی سر سے گز چکا تھا۔ ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ تو ہماری سیاست کی ایک ایسی ”خوبی“ بن چکی ہے جس کا مظاہرہ ہر حکومت کرتی آئی ہے، ہم آثار دیکھ کر معاملہ درست کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں، اور جب کوئی بحران سر تک آجائے تو تب واویلا کرنے میں طاق۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق غلط تخمینوں کی وجہ سے حکومت نے تین لاکھ ٹن گندم برآمد کر دی۔ اب اس کمی کو دور کرنے کے لئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اتنی ہی گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔ گویا پہلے سستے داموں گندم برآمد کر کے کسانوں کو نقصان پہنچایا گیا، اب مہنگی گندم باہر سے منگوا کر عوام کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ گندم کی کمی کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں ایک تو یہ کہ پچھلے سال پیداواری ہدف پورا نہیں ہو سکا تھا۔ دوسرے، ذخیرہ اندوزوں نے بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لئے بڑی مقدار میں گندم اسٹاک کر لی، تیسرے، کافی مقدار میں گندم برآمد بھی کی گئی اس کے علاوہ اسمگل بھی ہو گئی اس کے باوجود اطلاعات کے مطابق 42 لاکھ ٹن گندم اب بھی سسٹم میں موجود ہے جسے جاری کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے مگر ضروری اقدامات بروقت نہ ہونے کی جہ سے آٹے کا بحران پیدا ہوا۔ گورنر پنجاب نے اس حوالے سے درست کہا کہ ”آٹے کے معاملے میں حکومت سے کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ یہ انہی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے کہ لوگ پیسے ہاتھ میں لے کر مارے مارے پھر رہے ہیں اور انہیں آٹا نہیں ملتا“۔

ایک اور بات جس پر دل کڑھتا ہے وہ یہ کہ بدقسمتی سے اس طرح کے قومی بحرانوں میں ہمارے سیاست دان سر جوڑ کر نہیں بیٹھتے، الٹا ایک دوسرے کو طعنے دینے اور نیچا دکھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ آٹے کے حالیہ بحران کو دیکھ لیں جس میں اپوزیشن اسے حکومتی کی نااہلی قرار دے رہی ہے جب کہ بعض حکومتی حلقوں کی یہ رائے ہے کہ آٹے کا بحران اپوزیشن کے حمایتی مل مالکان کی وجہ سے آیا ہے۔ ”بیچارے“ سیاست دان یوں کیوں نہیں سوچتے کہ بحران کیسے بھی آیا، اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو، پِس تو بیچارہ غریب ہی رہا ہے، جس کا تعلق نہ تو مل مافیا سے ہے اور نہ ہی اقتدار میں بیٹھے شاہانِ وقت سے۔ انہیں تو بس اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کیلئے دو روٹیوں کی ضرورت ہے جو اسے میسر نہیں۔

موجودہ حالات میں رہی سہی کسر سوشل میڈیا پوری کر رہا ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے میڈیا سیلز یوں ایکٹو ہیں جیسے دنیا پھر کے فیصلے ان ہی کی ”عالمانہ و فاضلانہ“ آراءکے مرہونِ منت ہوں۔ ایک طبقہ اس بات کا پرچار کرنے میں مصروف ہے کہ پاکستان میں آٹے نام کی کوئی شے ہے ہی نہیں اور دوسرا یہ شوشہ چھوڑنے میں مگن کہ آٹا جنتا ارزاں اور بہتات میں اب میسر ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ اس نازک صورت حال میں آٹے کی کمیابی کو اس طرح مذاق بنایا جا رہا ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتی، صرف غالب کا یہ شعر یہ بار بار ذہن میں آتا ہے:

حیراں ہوں دل کو روو¿ں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

موجودہ بحران میں بعض حلقوں کی طرف سے سیاسی اشرافیہ کی پشت پناہی میں پنپنے والے مافیاز کے ملوث ہونے کاخدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا جو بیوروکریسی کی ملی بھگت سے بحرانی کیفیت پیدا کر کے حکومت سے اپنی مرضی کے فیصلے کرواتا رہا ہے۔ ماضی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ مافیاز پہلے ملکی پیداوار کو برآمد کرنے کی پالیسی بنواتے ہیں جب ملک میں قلت پیدا ہوتی ہے تو وہی چیز درآمد کر کے ایک بار پھر منافع کھرا کر لیتے ہیں۔ جہاں تک سمگلنگ کے سدباب کا معاملہ ہے تو یہ بلا شبہ حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے گندم اور آٹے کی افغانستان کو سمگلنگ کوئی نئی بات نہیں اور ماضی میں افغانستان کی ضروریات پوری کرنے کے باوجود بھی ملک میں گندم کی قلت کا سامنا نہیں تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں آٹے کے بحران کا سبب گندم کی قلت کے بجائے انتظامی کمزوری محسوس ہوتا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح فلور ملز مالکان کو فراہم کی جانے والی گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی بھی صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ صوبائی حکومتیں بہتر انتظامات کر کے بحرانی کیفیت پر کافی حد تک قابو پا سکتی ہیں۔ جہاں تک گندم کی پیداوار کا تعلق ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ چند برس سے حکومت گندم کے کاشتکاروں کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے جس کی وجہ سے کسان متبادل فصلوں کی طرف جانے پر مجبور ہیں۔ بہتر ہو گا حکومت کسان سے مناسب داموں گندم کی خریداری کو یقینی بنانے کے ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، کھادیں اور بیج ارزاں نرخوں پر فراہم کرے۔ ایسا کرنے سے ہی کسان خوشحال اور ملک غذائی خود کفالت کی منزل پا سکتا ہے۔ صوبائی اور ضلعی سطح پر تاحال پرائس کنٹرول میکنزم کا فعال نہ ہونا ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کوشہ دے رہا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو کم از کم پنجاب کی حد تک پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو با اختیار اور فعال بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور ساتھ ہی اب یہ بیانیہ بھی بہت ہو چکا کہ سب کچھ سابق حکمرانوں کا کیا دھرا ہے، آپ کو بھی اقتدار میں آئے دو سال ہونے کو آئے ہیں، کچھ تو اپنے ذمہ بھی لیجئے! مانا کہ بحران پہلے بھی آتے رہے ہیں، مہنگائی پہلے بھی ہوتی تھی، غریب پہلے بھی فاقوں مرتا تھا، ”پیارے“ پہلے بھی خوب کھاتے تھے لیکن بقول فیص احمد فیض:

ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے

سزا خطائے نظر سے پہلے عتاب جرمِ سخن سے پہلے

٭٭٭


ای پیپر