یوم جمہوریہ نہیں ریفرنڈم…
28 جنوری 2020 2020-01-28

بھارتی عوام اور مجبور و مقہور کشمیریوں نے یوم جمہوریہ نہیں یوم سیاہ منایا۔ بھارتی سیکولرازم کی مرگ ناگہانی کا یوم سوگ۔جمہوریت کی پسپائی ، شکست اور ہندو توا کی جیت کا دن۔ بھارت میں فسطائیت کی پیش قدمی جاری ہے۔ اعتدال ، توازن اور عدم برداشت ایسی رواداری پر مبنی روایات پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ بھارتی یوم سیاہ سات براعظموں میں جہاں کوئی بھارتی ، کشمیری پاکستانی رہائش پذیر ہے۔ ہر ملک میں یوم سیاہ منایا گیا۔مقبوضہ وادی خون رنگ مکمل طور پر محاصرے میں تھی۔ بھارت کے قریبی دوست ہی نہیں مربّی و محسن ، بلکہ سرپرست اعلی امریکہ کے تیس بڑے شہروں میں مظاہرے ہوے۔ بھارت کی باجگزار مملکت بنگلہ دیش ڈھاکہ سے لیکر سندر بن تک حریت فکر کے متوالوں نے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔ بھارت کی مودی سرکار کی جانب سے کروڑوں لوگوں کو حق شہریت سے محروم کر دینے کے عمل کی مذمت کی۔ ریاست آسام بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ الفا نامی آزادی کے متوالوں نے علی الاعلان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔ لیکن بھارت سرکار کی ڈھٹائی ملاحظہ فرمایئے کہ اس درندہ صفت پولیس افسر کو میڈل پہنایاجس کے نامہ سیاہ میں ان گنت کشمیریوں کا قتل لکھا ہوا ہے۔بھارت کے اس رویہ اور ظالمانہ اقدامات نے سات عشروں بعد اس کے چہرے پر پڑی نقاب کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔اس کا سیاہ چہرہ دنیا کہ سامنے ایکسپوز

کر دیا ہے۔یورپی پارلیمنٹ کے ایک سو چون ارکان نے بھارت کے خلاف قرار داد پر دستخط کردیئے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بھارت کی کسی ریاست نے اپنی ہی مرکزی حکومت کے خلاف قرار داد پاس کر د ی ہے۔ راجھستان کی ریاستی اسمبلی نے شہر یت کے متنازع بل کے خلاف قرار داد منظور کر لی۔ برطانوی جریدے اکانومسٹ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنونی مودی کی پالیسیوں کی وجہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست بھارت میں جمہوریت کا وجود شدید خطرے میں ہے۔ جریدے نے لکھا ہے کہ عدم برداشت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ خونریزی کا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ دو سو ملین مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ بھارت اب ان کا وطن نہیں بلکہ ہندو ریاست بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔کیونکہ پردھان منتری ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے۔ کسی اور کے اس دھرتی پر رہنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے۔جریدہ لکھتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت اور 2002 کے مسلم کش فسادات نے مودی کو جنونی ہندوؤں کی آنکھ کا تارہ بنا دیا ہے۔بھارتی سرکار کی ان ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں دنیا بھارت کو وارننگ جاری کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ بھارت کی قریبی دوست ایلس ویلز جو اپنی مودی نواز پالیسیوں کے لیے بدنام ہیں۔ وہ بھی آواز اٹھانے ہر مجبور ہو چکی ہیں۔ایلس ویلز نے بھارت سرکار کو تنبیہ کی ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں پابند سلاسل قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ان کا یہ بھی مطالبہ ہے بھارت امریکی سفارتکاروں کو مقبوضہ کشمیر کے دورہ کی اجازت دے۔

بھارتی آئین اور بی جے پی ، دو متضاد رویوں کا نام ہے۔ مودی اور سیکولرازم کے مابین بعد الطرفین ہے۔ یہ دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ لیکن مودی بھارتیوں کو ایک آنکھ سے دیکھنے کی بجائے اس کو برہمن اشرافیہ کے نکتہ نظر سے دیکھ رہا ہے۔ وہ بیس کروڑ مسلمانوں ، تیس کروڑ دلتوں ، اڑھائی کروڑ سکھوں ، عیسیائیوں کو یہ سندیسہ دے رہا ہے کہ بھارت ان کیلئے اجنبی دھرتی ہے۔ ایسی پالیسیاں بھارتی ریاست کی چولیں ہلا کر رکھ دیں گی۔ یوم جمہوریہ پر یوم سیاہ منا کر بھارتی عوام نے ریفرنڈم کہ ذریعے بی جے پی کے خلاف عدم اعتماد کردیا ہے۔


ای پیپر