سرخیاں ان کی…؟
28 جنوری 2020 2020-01-28

٭… تین حکومتی وزراء برطرف…؟

٭ سیدھی سی بات ہے نہ کوئی گتھی ہے نہ راکٹ سائنس کہ اگر ہم مخلص ہیں اور حقیقتاً ملکی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں تو پھر ہمیں اس کے لئے ایسے کئی انتہائی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ویسے بھی سامنے دیوار پر لکھا ہے کہ بھارت کی عسکری قیادت ہم پر چڑھ دوڑنے کی دن رات ننگی دھمکیاں دے رہی ہے۔ بلاشبہ ان گیدڑ بھبھکیوں کا جواب دینے کے لئے ہماری عظیم اور بہادر فوج چوکس ہے۔ ہماری ایٹمی صلاحیت بھی نہ صرف سپر ڈوپر ہے بلکہ اس کا کمانڈ اور کنٹرول بھی نہایت قابل اعتماد ہے مگر ہماری فوجی بے مثل کارکردگی کے ساتھ ساتھ ہماری سیاسی دانشمندی اور کارکردگی بھی بے مثل ہونی چاہئے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہماری حکومت بالخصوص حکومتی وزراء اپنی کارکردگی سے عوامی دلوں پر راج کرنے کا ہنر سیکھیں گے نہ کہ جمہوری نظام درہم برہم کریں گے اور ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صرف تقریریں کرتے رہ جائیںگے۔ بے حد ضروری ہے کہ خطے کے حالات کو سمجھا جائے، زمینی حقائق کا حقیقت افروز تجزیہ کیا جائے اور اپنی کارکردگی اور گڈگورننس کو فوقیت دی جائے ورنہ دن رات باتیں کرنے اورکھوٹے سکوں کے ساتھ نہ کوئی قوم سربلند ہوتی ہے نہ ریاست آبرو پا ٹھہرتی ہے۔ کسی نے کہا تھا

ابھی تم طفل مکتب ہو کہیں دل لیکے کھو دو گے

تمہارے ہی لئے رکھا ہے لے لینا جوان ہو کر

………………

٭…وزیراعظم کا ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب…؟

٭ رات ایک نجی محفل میں بھی اس خطاب کے متعلق بحث ہوئی کیونکہ میں نے اس خطاب کا ایک ایک لفظ سنا تھا، یہ خطاب جو تقریباً 15 منٹ پر محیط تھا اور پاکستانی وقت کے مطابق بروز بدھ 22 جنوری شام 7 بجکر پچاس منٹ سے 8 بجکر پانچ منٹ تک جاری رہا جس میں انہوں نے پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے متعلق مدلل گفتگو کی تھی۔ ویسے آپس کی بات ہے نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ ہماری رومان پسندی، حقیقت پسندی میں بدلنے کو ہے اور 2020ء

نئے نئے منصوبہ جات کی تکمیل کا سال ہو گا اور پاکستان معاشی استحکام کی طرف بڑھے گا۔ کرنٹ خسارہ کم اور غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ جناب عمران خان کے ڈیووس خطاب سے بھی مجھے محسوس ہوا ہے کہ جہاں ایک طرف کرپشن اور منی لانڈرنگ نے ہماری معیشت تباہ و برباد کی ہے تو دوسری طرف آئی ایم ایف کے قرضوں کی واپسی نے ہماری حالت نحیف تر کر دی ہے۔ اس بار ڈیووس کے خطاب سے نہ صرف پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے اجاگر ہوا ہے بلکہ ڈیووس جیسا عظیم اور عالمی فورم جو کسی سیاسی ایجنڈے یا جانب داری کے بغیر صرف اور صرف دنیا کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل ہے اور مثالی کارکردگی کا حامل ہے اور یہ عالمی اقتصادی فورم اپنی نوعیت کا واحد عالمی فورم ہے جو نہ صرف غیرجانبدار ہے بلکہ اپنے مفادات کے بغیر دنیا کے معاشی حالات کی بہتر کارکردگی کے لئے کام کرتا ہے بلکہ دنیا کے دیگر اور پیچیدہ اقتصادی، ماحولیاتی، سماجی اور ٹیکنالوجی جیسے معاملات میں بھی مدد فراہم کرتا اور انہیں حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر یہ آج کی دنیا میں اقتصادی اشرافیہ کے خلاف طرح طرح کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ تاہم امکان غالب ہے کہ آئندہ برس کوئی نیا ڈیووس منشور بھی سامنے لایا جائے گا بہرحال وزیراعظم پاکستان کا ڈیووس سے خطاب ایک نیک شگون ہے۔ جس کے اثرات جلد سامنے آئیں گے اور ہماری ملکی معیشت جو کم ہوتی ہوئی ایکسپورٹ کی بدولت شدید دبائو اور بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری سے بہتری کی راہ پر گامزن ہو گی اور پاکستان پے ڈالے گئے بیرونی ساہوکاروں کے جال بھی سکڑنے لگیں گے ویسے بھی کسی نے حسب حال ہی کہا تھا

قرض کی پیتے تھے مے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

……………

٭… وفاق سندھ میں مصالحت…؟

٭ کب تک ہم سیاسی انتشار میں مصروف رہیں گے۔ مگر اب انشاء اللہ! اس رات کی صبح ہونے کو ہے۔ ویسے بھی رات کتنی طویل ہو اپنی صبح سے آگے نہیں جاتی۔ اب نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی کشمکش بھی دم توڑنے کو ہے۔ بیسیوں بار دہرا چکا ہوں حوصلہ رکھیں، ہمت نہ ہاریں، خوف اور وحشت کو قریب نہ پھٹکنے دیں اور شیطانی علتوں کو مار بھگائیں۔ مایوسی کفر ہے اب وہ وقت قریب ہے۔ جب ہم اِدھر ڈوبیں گے اُدھر نکلیں گے۔ بے بال و پر ہیں تو کیا ہوا انشاء اللہ ! عقابی شان سے جھپٹیں گے۔ آفاقی شاعر نے کہا تھا

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ وَر پیدا

سر شکِ چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا

خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر کُہر پیدا

کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے

یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا


ای پیپر