منظر … ناظر… اور نظر!!
28 جنوری 2020 2020-01-28

یہ جہان ایک حیرت کدہ ہے… یہ ایک نہ ختم ہونے والا منظر نامہ ہے۔ کوئی نامہ بر نہ ہو‘ تو منظر میں رہتے ہوئے بھی منظر کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ حسنِ بیاں ہے جو مناظر کے اِس جہان کو قابلِ دید بناتا ہے۔ جب تک نشاندہی نہ کی جائے کسی نشان کی طرف نظر متوجہ نہیں ہوتی۔ ہم اپنی سرجری کی کتابوں میں ایک محاورہ پڑھا کرتے تھے :Eyes cannot see what mind does not know ، یعنی جس منظر کو ذہن نہیں جانتا ، اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکیں گی۔ عجب بات ہے‘ نامعلوم نامحسوس ہی رہتا ہے۔ معلوم ہی ہمارے پردۂ حسیات کو مرتعش کرتا ہے۔ اگر کسی گانے کے بول پر کسی کا تبصرہ پڑھ لیا جائے تو وہی گانا زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ کسی شہر کے بارے میں گائیڈ کا تبصرہ اُس شہر کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ آج شہر کا درجۂ حرارت اتنے ڈگری مائینس میں ہے تو یقین مانئے جسم کو زیادہ سردی محسوس ہونے لگتی ہے۔ حیرت در حیرت یہ کہ اگر کسی منظر کی بابت پہلے سے معلوم نہ ہو ‘ تو انسان عین اُس منظر میں رہتے ہوئے بھی اُسے دیکھ نہیں پاتا۔

ناظر ، منظر اور نظر کی تکون عجب خیال افروز ہے۔ نظر کو مجرد کہہ دیا جائے تو منظر اور ناظر حالتِ تجسیم میں ہیں۔ مجرد حقیقت کو زمان و مکاں میں کہیں متعین نہیں کیا جا سکتا۔ مجسم خود کو پابندِ حدود و قیود رکھتا ہے۔ بندہ عروج نہیں کر سکتا، البتہ رب تنزیل کر سکتا ہے… وہ تو قادر ہے، بلکہ قادرِ مطلق ہے!! ہو نہ ہو‘یہ نظر ہی ہو ‘ جو عروج کرے تو منظر کا روپ بنے …اور صعود کرے تو ناظر کا بہروپ!! یہ سب کرشماتِ وجود اس کرشمہ ساز نظر ہی کے مرہونِ منت معلوم ہوتے ہیں۔

ایسے لگتا ہے جیسے صوت ‘صورت گر ہے۔ حرفِ کُن بھی ایک صوت ہے‘ جس کے زیر و بم سے دم بدم نت نئی صورتیں ظہور میں آ رہی ہیں۔ تخلیق‘ قصہ ٔماضی نہیں، یہ حال کا منظر نامہ ہے۔ جس لمحے ہمیں کسی واقعے کی خبر ملتی ہے‘ ہمارے لیے وہ واقعہ اُسی لمحے ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ خبر مخبر سے ملتی ہے، اور سچی خبر مخبرِ صادقؐ سے ملے گی۔ تخلیق کا یہ منظر نامہ اُس انسان کیلئے عین حقیقت ہے ‘جو صادقؐ کے بیان پر یقین رکھتا ہے۔ وگرنہ ٹام اینڈ ہیری کیلئے یہ سب کچھ ایک واہمہ ہے ، گمان ہے… اور حادثہ ہے۔ حقیقت کی خبر نشر کرنے والے نے علی الاعلان فرما دیا کہ ہم نے یہ سب کچھ عبث تخلیق نہیں کیا۔ اولوالباب ، صاحبان غور و فکر یہ کہہ اٹھے’’اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ باطل پیدا نہیں کیا‘‘

اگر انسان کو اِس کائناتی منظر کا ناظر ہونا ہے‘ تو

اُسے اپنے منظر نامے کی تلاوت کرنا ہو گی۔ اُسے بیان سے گزرنا ہو گا‘ تب ہی وہ اِنسان کی صورت میں پردۂ تخلیق پر بطور ناظر اپنا منصب سنبھال سکے گا۔ اِنسان ،کائنات اور خدا ‘ اِس بیان کا حصہ ہیں۔ انسان محض تخلیق نہیں کہ جمود کے کسی فریم میں تصویر بنا بیٹھا رہے، بلکہ انسان نے تخلیق کو سراہنا ہے ،اسے تخلیق کے ہر ہر منظر کا شاہد ہونا ہے۔ انسان ہی نے مقصد ِ تخلیق کو پانا ہے…اُسے خود اپنے مقصدِ تخلیق کو بھی پانا ہے اور تاحد ِ خیال پھیلی ہوئی اس عمیق و عتیق کاینات کی تخلیق کا مقصد بھی!! اس لیے‘ اے صاحبانِ غور وفکر! انسان کو اِس کاینات کا ایک جزوِ بے معنی تصور نہ کیا جائے، اگر یہ جزو بھی ہے ‘تو جزوِ لاینفک ہے… حقیقت ِ تخلیق کاایک ناقابلِ تردید جزو!! انسان کی حقیقت ایک برزخ کی سی ہے، برزخ دو حقیقتوں کے درمیان حد ِ منفصل بھی ہے اور حدِ متصل بھی!!

ناظر کے بغیر منظر بے معنی ہے۔ کوئی منظر ناظرکے بغیر مکمل نہیںہوتا، کوئی مقدمہ گواہ کے بغیر کھڑا نہیں ہوتا۔ خالی اسٹیڈیم میں کون کھیلنا پسند کرتا ہے۔ گوشِ مشتاق میسر نہ ہو‘ تو رباب نواز تاروں سے نہیں کھیلتا۔ پردۂ غیب سے جلوۂ مطلوب کو شہود میں آنے کیلئے طالب کی نَے نوازی درکار ہے۔ حسن دیکھنے والی آنکھ کیلئے بے حجاب ہوتا ہے… خواہ کوئی غش کھا کر وادیٔ عفو میں کیوں نہ جا گرے۔ جلوۂ طور موسٰیؑ کے حسنِ طلب کے جواب میں ہے۔ ’’سلونی سلونی‘‘ کی سْنّت ِ علوی ہمیں بتاتی ہے کہ سوال کے مناسب ِ حال جواب میسر آئے گا۔ ظاہر ہے‘ چھپا ہوا خزانہ سب کیلئے ظاہر نہیں۔حیرت ہے ‘ وحدت الوجود اہلِ عقل کیلئے قابلِ تفہیم کیوں نہیں…یہ توحید کی تردید نہیں‘ تفہیم ہے!!

منظر بھی دو اقسام سے تعلق رکھتے ہیں، ایک منظر فنا کا ہے ، اور ایک بقا کا۔ فنا کا منظر اپنے ناظرین سمیت غرقِ دریا ہوگا… اِس کا نام دریائے نیل رکھ دیا جائے۔ فرعون، قارون، ھامان جن مناظر کے اَسیر تھے ‘ اُن مناظر پر فریفتہ بھی اُن کے قافلے میں شامل ہیں، وہ اپنی خواہشات کی رُتھوں پر سوار کمزوروں کو روندنے کیلئے تکبر کا کوڑا لہراتے ہوئے دوڑتے پھرتے ہیں، یہاں تک کے فنا کے نیل میں غرق ہو جاتے ہیں، اور اس سرائے دہر میں نشان عبرت بن کر حنوط ہو جاتے ہیں۔ دوسرا منظر بقا کا منظر ہے۔ اس منظر کے حاملین منظر نامہ اور ہے۔ بقا کا ایک کلمہ بھی پوری کتاب کوہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیتا ہے۔ بقا کا کلمہ پیشِ نظر ہو تو انسان حادثاتِ دہر میں زیر و زبر نہیں ہوتا۔ جس کاغذ پر کلمہ کلام موجود ہوتا ہے‘ وہ ردّی کی نذر نہیں کیا جاتا ، کلمے کی نسبت سے وہ کتاب اپنے پیلے کاغذ ،مدھم روشنائی ، کھردری جلد اور مکدرگتے سمیت ترہ تازہ رہتی ہے… محفوظ بھی رہتی ہے اور قابلِ تعظیم و امتیاز بھی!! بقا کا منظر اپنے ناظر کو بھی وادی فنا سے نکال لیتا ہے۔ کیا صرف سَر کی آنکھوں سے دیکھنے والا ناظر کے زمرے میں شامل ہے؟ ظاہر ہے‘ ایسا نہیںہے ۔ رازِ بقا ایک سِرّ ہے ، اِسے سَر کی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ معیار کو مقدار کے میزان پر نہیں تولا جا تا ، محبت کو میزانِ عقل پر نہیں پرکھاجاتا۔ باطن کے بغیر ظاہر محض ایک مقدار ہے، اور مقدار کی دنیا میں قدر کا تعین نہیں ہوتا۔ کسی منظر کو کماحقہ دیکھنے کیلئے ہمیں ظاہر اور باطن دونوں زاویوں سے دیکھنا ہوتا ہے، جب باطن ظاہر سے متصل ہوتا ہے تو ہمہ جہت تصویر بنتی ہے، view panoramicمیسر آتا ہے۔ نکتۂ نظر کے بغیر کوئی نظر کامل نہیں۔ جس کا نکتۂ نگاہ جتنا مکمل ہوگا ‘اُس کی نگاہ اتنی ہی دُور رس ہوگی ، وہ اتنا ہی صاحب ِبصیرت ہوگا۔ بصارت اور بصیرت مل کر منظر نامہ تشکیل دیتے ہیں۔

انسان کا مادہ’’انس‘‘ ہے ، اُنس محبت کو بھی کہتے ہیں اور آنکھ کی پتلی کو بھی۔ یہاں سے یہ نکتہ منکشف کیا جا سکتا ہے کہ محبت بھری آنکھ ہی ایک بھرپور منظر دیکھنے کی اہل ہوتی ہے۔ یہ’’اُنسیت‘‘ جتنی گہری ہوتی چلی جائے گی ‘ ہمارا منظر اتنا ہی کامل ہوتا جائے گا۔ احادیث ِ رسولؐ میں اُمت کو جہاں یہ دعا تعلیم دی گئی ہے’’رب الزدنی علما‘‘ ، وہاں یہ بھی تعلیم کیا گیا ’’اللھم ارنا الاشیا کما ھیی‘‘ ( اے اللہ! مجھے اشیا کو دکھا جیسا کہ وہ حقیقت میں ہیں)۔ گویا اشیا کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنے کیلئے لازم ہے کہ اُسے بنانے والے کے نکتۂ نظر سے دیکھا جائے … اور بنانے والے نے اپنا نقطہ نگاہ اپنے نبیوں کو بتلایا ہے…انبیا کا طرزِ فکر ہی ہمیں بقا کے مناظر سے آشنا کرتا ہے۔ انبیا کو جھٹلانے والوں کو نکتہ نگاہ فنا کے دیس کا مکین بناتا ہے۔ ’’ فضلنا بعضھم علی بعض‘‘ کے کلیے کے تحت امام الانبیاءؐ پر یہ سلسلۂ نبوت ختم ہو جاتا ہے، جب امام آ جائے تو صفیں مکمل ہو جاتی ہیں۔ ’’وما ینطق عن الھوٰی ، ان ھْو الا وحیی یوحٰی‘‘ کے مطابق مشیت الٰہیہ کا کامل علم رسولِ کامل و اکمل و ختمی مرتبتؐ ہی عطا کر سکتے ہیں۔ بس انسانِ کاملؐ کی متابعت و محبت ہی سے انسان کو وہ نکتۂ نگاہ میسر آ سکتا ہے جو تخلیق کے اس منظر کو معنی کا لباس عطا کر سکے۔ یہ ہے وہ راستہ جس پر چلتے ہوئے انسان فنا کی گھاٹی سے بحفاظت گزر جاتا ہے اور عازم منظر ِ بقا ہو جاتا ہے…خوف اور حزن کے جملہ اوہام سے نکلتا ہوا ،’’کونو مع الصادقین‘‘ میں شامل ِ حال ہو کر’’فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ کی نوید ِمسرت سن لیتا ہے۔

توؐ نظر پھیرے تو طوفاں زندگی

توؐ نظر کردے تو بیڑا پار ہے ( واصفؔ)


ای پیپر