پی آئی اے سے نئے پاکستان تک!!
28 جنوری 2020 2020-01-28

میں جب سے بیرون ملک مقیم ہوں دنیا کے 78ممالک کے سفر میں اب تک دنیا کی ستر فیصد ایئرلائنوں کے سفروں کو انجوائے کر چکا تھا لیکن کبھی بھی مجھے پی آئی اے سے سفر کرنے کا اتفاق نہ ہوا اس مرتبہ وطن واپسی پر قومی ایئرلائن میری ترجیح تھی حالانکہ پی آئی اے کی فلائٹوں کا احوال میں نے ماضی میں دوستوں سے سنا ہوا تھا لیکن نئے پاکستان میں پی آئی اے حکومت کے اداروں میں بہتری کے دعوئوں سے میں تھوڑا پُرامید بھی تھا۔ لہٰذا اس مرتبہ میں جرمنی سے فرانس محض پی آئی اے کی پیرس سے اسلام آباد جانے والی فلائٹ پی کے750 لینے کیلئے پیرس ایئرپورٹ پہنچا تو آگے پیچھے کھڑے پاکستانیوں کے چہروں میں منڈی بہائوالدین‘ گجرات‘ گجرخان کے لہجوں سے اندازہ ہوا کہ پیرس جیسے اہم ترین شہر اور دنیا کے بڑے ایئرپورٹ سے پی آئی اے پر صرف پاکستانی ہی سفر کر رہے ہیں۔ فلائٹ میں انٹری سے لے کر سیٹوں پر بیٹھنے تک کانوں سنے اور آنکھوں دیکھے حال میں منظر کچھ ایسا ہی بنا ہوا تھا جیسے لاہور سے راولپنڈی جانے والی بس براستہ منڈی بہائوالدین گزر رہی ہو۔

مجھے اپنی غلطی کا احساس اور اداروں میں بہتری کے حکومتی دعوئوں کا اندازہ تو سیٹوں پر بیٹھنے سے پہلے ہی ہو گیا تھا مسافروں کے سیٹ بیلٹ باندھنے اور جہاز کے فلائی کرنے کے بعد ماحول جب سازگار ہوا تو بطور مسافر میری آنکھوں اور دماغ نے انوائرمنٹ کو پرکھنا شروع کیا تو نہ تو مجھے کسی سیٹ پر کوئی غیرملکی مسافر دکھائی دیا اور نہ ہی پی آئی اے کے جہاز کی انوائرمنٹ کسی بھی ایئرلائن جیسی دکھائی دی ماسوائے پی آئی اے کی ایئرہوسٹس کے جاذب نظر ڈریسز اور ان کے چہروں پر واضح دکھائی دینے والی ریڈلپ اسٹک کے۔

لوکل بس جیسی تنگ سیٹوں پر ان دُھلے سیٹ کور سیٹوں کی بیک پر فکسڈ پرانی ایل سی ڈی سکرینوں پر ماسوائے جہاز کی رفتار اور فلائی زون کے دھندلے فگرز دیکھنے کے علاوہ مسافر کوشش کے باوجود کچھ بھی نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ سیٹوں کی پاکٹ میں نہ کوئی اخبار یا میگزین تھا اور نہ ہی کوئی ہیڈفون۔ میری زندگی بھر کی ٹریول ہسٹری میں یہ پہلی فلائٹ تھی کہ ایئرہوسٹس نے مسافروں کو سیٹ بیلٹ باندھنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اپنی معمول کی

پریکٹس میں مسافروں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے جیسے فرائض ادا کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔ میرے چہرے پر پھیلی مایوسی کے تاثرات کو دوسری لائن میں بیٹھے مسافر نے بھانپ لیا تھا اور بس وہ اسی انتظار میں تھا کہ میں اس سے کچھ بولوں‘ تعارف پوچھا تو گجرخان سے تعلق رکھنے والے باتونی چاچا اپنی باتوں اور باڈی لینگوئج سے اپنی عمر کے اس حصہ میں بھی بڑے منچلے اور مجمع باز دکھائی دیئے۔

میرے ساتھ مسافروں کو بھی علم ہو گیا کہ ٹی وی سکرین کی بجائے پی آئی اے میں تمام سفر یہ باتونی چاچا مسافروں کیلئے انٹرٹینر کا کردار ادا کریں گے۔ پہلی فرصت میں ہی انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے ایسا فقرہ کسا کہ ’’پُتر لگدائے تینوں بھکھ لگی اے پریشان نہ ہو کھانا بس آ رہیا اے کھانے کے بعد موڈ ویسے ہی ٹھیک ہو جاتا ہے‘‘ بوڑھے مسافر کی اٹھکیلیوں نے مجھے بھی ہنسنے پر مجبور کر دیا اور پھر میری ہنسی تھی اور ان کی زبان پر پی آئی اے پر مستقل سفر کرنے کی چالیس سالہ ہسٹری اور پھر میں نے سات گھنٹہ کی فلائٹ میں پی آئی اے کی پوری ہسٹری بھی سنی اور انہیں اس سیٹ پر برداشت بھی کیا۔

نئے پاکستان میں اداروں کے اندر جاری کفایت شعاری مہم کے مطابق پی آئی اے کا مسافروں کیلئے کھانا ایک چھوٹے سے پیکٹ میں تھا جو کسی دربار پر تقسیم ہونے والے لنگر بریانی سے کسی صورت بہتر نہیں تھا شاید اس سے بہتر کھانا وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کیے شیلٹر ہومز میں بے گھروں میں تقسیم ہوتا ہو۔ کھانا تقسیم ہوتے ہی باتونی چاچا غصے سے لال پیلا تھا اس کے چہرے کے تیور اور لقمے پی آئی اے کا عملہ خاموشی سے انجوائے کر رہا تھا۔مجبوری ہے بیٹا! اس عمر میں دبئی اور ابوظہبی کے ٹرانزٹ ہالوں میں دس دس گھنٹے ذلیل ہونے سے بہتر نہیں ہے کہ سات گھنٹے بندہ بھوکا رہ کر ان ٹوٹی پھوٹی سیٹوں پر بیٹھ کر پیرس سے اسلام آباد پہنچ جائے۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ پیرس سے پاکستان کا سفر کرنے والے پاکستانیوں کے پی آئی اے میں سفر کرنے کی وجہ پی آئی اے کی پیرس سے اسلام آباد اور لاہور کی ڈائریکٹ فلائٹ کا ہونا ہے اسی ایک وجہ سے مسافر پی آئی اے کا ٹکٹ خریدتا ہے اور مسافروں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے پی آئی اے اس فلائٹ سے منافع کما رہی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجبور مسافروں کے علاوہ دنیا کا کوئی دوسرا مسافر دوبارہ پی آئی اے میں سفر کرے گا؟۔

مجھے نہیں لگتا کہ ابھی تک چیئرمین پی آئی اے کا اس فلائٹ میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہو یا انہوں نے اس فلائٹ کو وزٹ کرنے کی زحمت گوارہ کی ہو؟۔ چیئرمین صاحب! آپ پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے کا اعتراف تو کر ہی چکے ہیں تو میری آپ سے التجا ہے کہ اس منافع کی چھوٹی سی رقم سے پیرس سے پاکستان روٹ کی انٹرنیشنل فلائٹوں کا گیٹ اپ تبدیل کریں اور وزیراعظم کے وہ وزراء جو اکثر پیرس آتے جاتے رہتے ہیں وہ بھی وزیراعظم کے نوٹس میں لائیں کہ نئے پاکستان میں ایسی فلائٹس ہماری حکومت کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ آئندہ سالوں میں پاکستان کو ٹورسٹ کنٹری ڈکلیئر کروانے کیلئے حکومت کوششوں میں مصروف تو دکھائی دیتی ہے مگر حکام بالا کو یہ معلوم نہیں کہ کسی بھی ٹورازم ملک کی ایئرلائن ہی اس ملک کا وزٹنگ کارڈ ہوتی ہے اگر آپ اپنی ایئرلائن پر ہی توجہ نہیں دیں گے تو دنیا کا کونسا ٹورسٹ ہو گا جو اپنی چھٹیاں اور سفر بے سکون کرنے کیلئے پی آئی اے اور پاکستان کا انتخاب کرے گا۔

اس دفعہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترتے پرانا کچھ بھی دکھائی نہیں دیا تھا ایئرپورٹ کی نئی عمارت اور اس کا امیگریشن سسٹم بین الاقوامی معیار کے مطابق دکھائی دیا جو اسلام آباد جیسے دارالحکومت کی بہت عرصہ سے پہلے کی ضرورت تھی۔ بہرحال دیرآید درست آید۔ لیکن جونہی میں نے ایئرپورٹ سے باہر نکل کر براستہ روڈ سفر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ نیا پاکستان تو پرانے پاکستان سے بھی بدتر دکھائی دے رہا ہے روڈوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے اور سخت سردی میں ننگے پائوں گرم انڈے بیچتے غریب بچے‘ روڈوں پر ریڑھی بانوں کے ڈیرے‘ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر‘ بے ہنگم ٹریفک‘ مرجھائے چہرے‘ الجھی نفسیات میں مہنگائی کا طوفان اور آٹے کا بحران‘ ملک کی گلیاں بدتر تصویر پیش کر رہی ہیں اور عوام بے حال دکھائی دے رہے ہیں جبکہ سیاستدان ٹی وی پر فوجی بوٹ پر مداری کر رہے ہیں اور ملک کا سنجیدہ طبقہ بھی میرے پاس تم ہو ڈرامہ کا چرچا کرتے دکھائی دے رہا ہے۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ ہمارے میڈیا کے پاس ویورز کو دکھانے کیلئے اخلاقی‘ فلاحی‘ تخلیقی اور تعلیمی مواد نہیں ہے اور عوام کا یہ حال ہے کہ بے حال ہو کر بھی اپنے حقوق حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ دنیا کی کسی بھی ریاست میں تب تک تبدیلی اور نظام میں درستگی نہیں آ سکتی جب تک عوام کو اپنے حقوق کی جنگیں لڑنا نہ آتی ہوں اور میڈیا معاشرے میں پازیٹو رول ادا نہ کرے۔


ای پیپر