بھارت کا متنازع شہریت کا بل
28 جنوری 2020 2020-01-28

اِس سے ساری دنیا خوب واقف ہے کہ امریکا کی بھارت سے عفوودرگزراور نوازشوں اور پاکستان سے متعلق امریکی ہٹ دھرمیوں کا نہ رکنے والاسلسلہ برسوں سے جاری ہے، البتہ، پاکستان کے بارے میں امریکی رویوں میں کبھی نرمی توکبھی گرمی اوراکثرو بیشترسختی کے ساتھ ساتھ زیادہ تر کمی بیشی کا ہونا حیران کُن ہوتا ہے۔

جبکہ اِس حقیقت سے اِنکار نہیں ہے کہ ایسا کرنا امریکا کی ہٹ دھرمی اور ہم بے کس و مجبوروں کی برداشت کا انتہائی درجے کا امتحان ہوتاہے؛ مگر کیا کریں؟ ہم اگر یہ سب نہ کریں۔ تو یہی امریکا آج ہمارا جیسے تیسے جینا بھی محال کرچکاہوتا۔اِسے ہماری مجبوریوں اور کمزوریوں کابھی ادراک ہے؛ اور ہمیں اِس کی ساری بلیک میل کرنے والی عادتوں اور سازشوں کا بھی پتہ ہے مگرہم کچھ کرنہیں سکتے کیوں کہ؟

مگر جب بات اپنے سابق سِول اور آمر حکمرانوں کی نااہلی کی سامنے آجاتی ہے۔ توپھر اپنی مجبوریوں ، کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ امریکاکے سامنے اپنی گردن جھکا کر ہاتھ و دامن پھیلا کر پیش ہونا ؛ جیسے ہماری پکی عادت بن گئی ہے۔اَب جس کے بغیر ہم بھی رہ نہیں سکتے ہیں۔ویسے یہ تو امریکا کو بھی پتہ ہے کہ خودمختاری ، سلامتی اور استحکام کے لئے پاکستانیوں کے ہاتھ میں خواہ کشکول لکڑی کا ہو یا سونے کا اِس میں بھیک امریکی اور دیگر دوست ممالک کی ہی پڑے گی؛ تو پاکستان کی گاڑی چلے گی۔ ورنہ کھڑی رہے گی۔ لہذا پاکستان کے ہر کشکول میں کسی بھی شکل میں اِتنی ہی بھیک ڈالی جائے۔ جس سے اِس کا گزارہ ہوسکے۔ بس اگرکبھی زیادہ بھیک ڈال دی ؛تو اِسے(پاکستان کو) بھی بدہضمی ہوجاتی ہے؛ پھرامریکا سمیت امریکی دوست ممالک کے پیٹ میں بھی مڑور اٹھنے لگتے ہیں؛ایسا کئی مرتبہ ہواہے جس کا ماضی بھی گواہ ہے۔

شاید اِس لئے پچھلے دِنوں ایک طرف امریکا نے 2سال بعد خطے میں اپنے اور اپنے بھارت جیسے دوست ممالک کے سامنے جھکنے کے لئے پاکستان کے لئے فوجی تربیتی اور تعلیمی پروگرام بحال کردیا ہے؛ تو وہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اِسی امریکا نے ایک بار پھر پاکستان کو دیگر ممالک برما ، چین،اریٹریا، ایران، شمالی کوریا،سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کے ساتھ خصوصی تشویش کے حامل ملکوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔جہاں میسر مذہبی آزادی پر سوالیہ نشان اُٹھائے جاتے ہیں۔

اگرچہ، امریکا نے اِن ممالک کے لئے یہ اقدام بین

الاقوامی مذہبی آزادی کے ایکٹ کے تحت کیاہے۔ جس پرپچھلے جمعے کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیاہے۔پتہ یہ چلا ہے کہ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے حسبِ روایت اپنے مخصوص انداز سے گردن تان کے سینہ پھیلا کے کہا ہے کہ ’’ مذہبی آزادی کے تحفظ کو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح دی جارہی ہے‘‘۔ جبکہ اِس موقع پر اُنہوں نے اِس کابھی اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ آج جیسا دنیا کے ہر خطے میں مذہب اور عقائد کی بنیاد پر ظلم وستم اور امتیاز برتاجارہاہے؛ امریکا اِس کے سخت خلاف ہے ‘‘۔اِسی کے ساتھ ہی اِنہوں نے اِس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ امریکی محکمہ خارجہ نے18دسمبر2019ء کو برما، چین، اریٹریا،ایران،شمالی کوریا،پاکستان، سعودی عرب،تاجکستان اور ترکمانستان کو اِن ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ جوآج بین الاقوامی مذہبی آزادی کے ایکٹ کی روسے اِن ممالک میں شامل ہیں ۔جنھیں خصوصی تشویش کے حامل مُلک قراردیاگیاہے‘‘ ۔

اَب اِس سارے پس منظر میں اِن ممالک کے لئے جنھیں امریکا نے بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ میں شامل تشویش کیا ہوا ہے۔ کیا اِن ممالک کے لئے یہ بات یقینی طور پر سخت حیران کُن اور پریشا ن کردینے والی نہیں ہوگی؟ کہ دنیا کہ سب سے بڑے دہشت گردِ اعظم امریکا نے اپنے چہیتے بھارت اور اپنے بغل بچہ اسرائیل کو اپنے اِس بین الاقوامی مذہبی آزادی کے ایکٹ سے دانستہ الگ کیوں رکھا ہوا ہے؟ کیا اِن ممالک میں برسوں سے یہاں بسنے والے دوسرے مذاہب کے شہریوں (مسلمانوں)کی مذہبی آزادی پر قدغن نہیں لگا ئی جارہی ہے؟مذہبی آزادی کی یک طرفہ قدغن صرف میسر ہے۔ آج بھارت اور اسرائیل میں مسلمانوں پر مذہبی آزادی ختم کرنے کا جو سلسلہ جس شدت سے جاری ہے۔ کیا یہ امریکا کو نظر نہیں آ رہا ہے؟

اِس طرح امریکا نے دیدہ دانستہ بھارت اور اسرائیل کو اِس ایکٹ سے نکال کر یہ ثابت کردیاہے کہ امریکا بھارت اور اسرائیل اپنے یہاں بسنے والے دوسرے مذاہب بالخصوص مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو ختم کرنے اور اِنہیں طاقت کے زور پر اقلیت میں بدلنے کے لئے ہر قسم کی مد د فراہم کرنا اپنی خارجہ پالیسی کااولین حصہ سمجھتاہے۔ اِس حوالے سے اِن ممالک کی مدد کے لئے امریکا اپنے سالانہ بجٹ میں ایک بڑی رقم مختص بھی کرتاہے۔ جس کی بنیا د پر یہ ممالک اپنے یہاں مسلمانوں کی مذہبی آزادی بتدریج ختم کرنے کے لئے تیزی سے سرگرم ِعمل ہیں ۔اور دن بدن بھارت اور اسرائیل کی اپنی زمین پر بسنے والے مسلمانوں کے خلاف اور اِن کی مذہبی آزادی سرے سے ختم کرنے کے لئے اِس جانب سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہیں۔جس پر ابھی تک مسلم اُمہ منہ میں انگھوٹھاڈالے اِسے چوسنے اور سونے پر مجبور ہے بس۔

جبکہ اَب اِس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ آج بھارت میں مسلم مخالف متنازع شہریت قانون امریکا اور اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد منظور کیا گیا ہے۔ جس کے لئے مودی حکومت نے بھارت کو خالصتاً ہندوریاست میں تبدیل کرنے کا اپنا پکاپروگرام بنالیا ہے۔اِس بل کی منظور ی کے بعد بھارت کی کئی بڑی چھوٹی ریاستوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں ، مسلم مخالف متنازع شہریت قانون کے خلاف لاکھوں بھارتی شہری سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ اُترپردیش ،بنگلور، حیدرآباد، پٹنہ ، لکھنوء ، چندی گڑہ، ممبئی اور دہلی سمیت دیگر میں کرفیو، دفعہ 144اور پابندیوں کے باوجود نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعد کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں ہنگاموں اور مظاہروں کی وجہ سے مودی سرکار نے حکمتِ عملی کے تحت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی ہے اورمشتعل مظاہریں پر ، فورسز کی فائرنگ،لاٹھی چارج ، آنسوگیس کی شیلنگ سے اُترپردیش سمیت کئی ریاستوں اور شہروں میں کئی مظاہرین ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں ۔ہنوز مودی حکومت کی کھلی ہٹ دھرمی اور مظاہرین پر طاقت کے بیجا اورالمناک بیدریغ استعمال کی وجہ سے بھارت کی کئی ریاستوں اور شہروں میں متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بے لگام ہوکر بڑھتاہی جارہاہے۔

اَب تک ہونے والے اِن ہنگاموں اور مظاہروں کی وجہ سے بھارت کا انتظامی اور معاشی ڈھانچہ پوری طرح سے غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ اگر ہٹ دھرمی پر قائم مودی حکومت نے اِس متنازع بل کو فی الفور واپس نہ لیا؛ توایک طرف بھارت سیاسی اور مذہبی لحاظ سے بٹ جائے گا؛ وہیں معاشی طور پر بہت جلد زمین بوس ہوجائے گا۔ تو دوسری جانب اِن بڑھتے ہوئے ہنگاموں اور مظاہروں کے نہ رکنے والے سلسلے سے پورا بھارت تباہ وبرباد ہو گا ہی۔ آج جس طرح روس کئی ریاستوں میں بٹ کر کمزور ہوکر اپنا پہلے والاوجود ختم کرچکاہے ۔اِسی طرح بہت جلد بھارت بھی متنازع شہریت کے بل کی وجہ سے کئی سقُوط سے دوچار ہو جائے گا ۔


ای پیپر