خطرہ ٹل گیا:خیبر پختون کابینہ سے تین وزیر فارغ
28 جنوری 2020 2020-01-28

جولائی 2018 ء میں قومی انتخابات میں کامیابی کے بعد سابق وزیر اعلی خیبر پختون خوا پرویز خٹک اور سابق سپیکر خیبر پختون خوا اسمبلی اسد قیصر کو مرکز میں لانے کے بعد زیادہ تر امکانات یہی تھے کہ مردان سے تعلق رکھنے والا عاطف خان اور صوابی کے سپوت شہرام خان تراکئی کے درمیان وزیر اعلی کے منصب کے لئے مقابلہ ہے۔اس دوڑ میں ایک ،دو اور نام بھی شامل تھے ،وہ صرف ریس میں شامل تھے جیت ان کی ناممکن تھی۔عاطف خان اور شہرام خان تراکئی اس لئے وزیر اعلی کے مضبوط امیدوار تھے کہ ان کی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ ذاتی دوستیاں تھیں۔دونوں کو عمران خان کا خاص قرب حا صل تھا۔پارٹی کے تما م اعلی منصوبہ سازوں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔اس لئے جب پرویز خٹک اور اسد قیصر صوبے سے مرکز چلے گئے تو دونوں نے وزیر اعلی بننے کے لئے کو ششیں شروع کردی تھیں۔لیکن پرویز خٹک اور اسد قیصر ان دونوں کے خلاف تھے ۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی صوبے کا وزیر اعلی بنے۔آخر کار قرعہ فال سوات سے تعلق رکھنے والے محمود خان کے نام نکل آیا۔محمود خان کے وزیر اعلی منتخب ہو نے کے بعد عاطف خان اور شہرام خان تراکئی کو اہم وزارتیں دی گئی،لیکن دونوں نے کبھی بھی دل سے محمود خان کو وزیر اعلی تسلیم نہیں کیا۔ڈیڑھ بر س وزیر اعلی محمود خان اور ان دونوں وزیر وں کے درمیان سرد جنگ جاری رہی۔گزشتہ مہینے جب اتحادی جماعتوں نے وفاقی حکومت کے خلاف محاذ بنا لیا ۔ایم کیو ایم پاکستان نے وزارت چھوڑ دی۔اختر مینگل نے حزب اختلاف کی کر سیوں پر بیٹھنے کی دھمکی دی۔مسلم لیگ (ق) نے مطالبات پورے نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا۔جی ڈی اے نے بھی پر پرزے نکالنا شروع کئے۔خود پنجاب میں تحریک انصاف میں بغاوت کی خبریں آنے لگی تو عاطف خان اور شہرام تراکئی نے بھی پشاور میں ناراض ارکان کی بیٹھک بلا کر وزیر اعلی محمود خان کے خلاف عملی طور پر میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کیا۔لیکن وزیر اعلی محمود خان کے گارنٹر پرویز خٹک اور مراد سعید نے وزیر اعظم عمران خان کو جلد ہی راضی کر لیا کہ یہی دو لوگ صوبے میں حکومت کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں ان کو وزارتوں سے الگ کیا جائے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی رضامندی سے گورنر شاہ فرمان نے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دونوں وزیر وں کو فارغ کر دیا ہے، ان کے ساتھ تیسرے وزیر برائے مال و ریونیو شکیل خان کو بھی فارغ کر دیا ہے ۔ ان کا تعلق ضلع ملاکنڈ سے ہے۔ شکیل خان ایک بے ضرر انسان ہے۔ ان کو وزیر اعلی بننے کا فی الحال کوئی شوق

نہیں،لیکن وہ عاطف خان اور شہران خان تراکئی کی دوستی کا شکار ہوئے۔ان وزیر وں کو ہٹانے کے بعد یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ان کو اس لئے ہٹایا گیا کہ وہ صوبائی حکومت کی بدعنوانی کے خلاف تھے ۔ایسا ہر گز نہیں۔عاطف خان اور شہرام خان دونوں وزیر اعلی کے امیدوار تھے ۔وہ وزیر اعلی محمود خان کو ہٹانے کی تاک میں بیٹھے تھے ۔جب انھوں نے دیکھا کہ اتحادی جماعتوں کی ناراضی اور پنجاب میں پارٹی میں گروپ بندی نے وزیر اعظم عمران خان کو پریشان کر دیا ہے تو انھوں نے بھی ضرب لگانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ خیبر پختون خوا میں کابینہ سے باغی وزیر وں کو نکال کر سب کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ وزیر اعلی محمود خان کے ساتھ تعائون کر یں۔ تین وزیروں کی فراغت کے بعد اب غالب امکان یہی ہے کہ محمود خان باقی ماندہ چار سال سکون کے ساتھ گزار سکیں گے۔

پنجاب میں بھی حکمران جماعت تحریک انصاف میں گروپ بندی کی خبریں تھیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی سے ملاقات کرکے ان کے گلے شکوے دور کئے ہیں۔دکھائی یہی دے رہا ہے کہ محمود خان کے ساتھ ساتھ عثمان بزدار بھی تخت لاہور پر سکون کے ساتھ حکومت کرتے رہیں گے۔دوسری طرف خیبر پختون خوا کابینہ میں سے دو طاقتور وزیر وں کی بے دخلی بھی پنجاب کے ناراض ارکان کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔

بلو چستان میں سیاسی شورش کو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے ختم کر دیا ہے۔ وزیر اعلی بلو چستان جام کمال اور سپیکر عبدالقدو س بزنجو کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔اب صرف کراچی کا محاذ باقی ہے جہاں حکومت کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان ابھی تک کابینہ میں دوبارہ شامل ہونے سے انکاری ہے۔لیکن یہ کوئی بڑا مسئلہ اس لئے نہیں کہ وہ اب بھی حکومت کے اتحادی ہیں۔چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کا تقرر ہوچکا ہے۔سروسز چیفس کے تقرر کا معاملہ حل کیا گیا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل نے بد عنوانی کے حوالے جو رپورٹ جاری کی تھی اس کے بارے میں انھوں نے وضا حتی بیان جاری کر دیا ہے۔اس رپورٹ کی وجہ سے حکومت کا جو نقصان ہوا تھا ،وضاحتی بیان کے بعد بہت حد تک اس پر قابو پالیا جائے گا۔مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ متنازعہ شہریت بل کے بعد پس منظر میں چلا گیا ہے۔امریکا، سعودی عرب اور ایران کے درمیان فوری جنگ کے خطرات بھی بڑی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔امکان یہی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ بھی توقعات کے مطابق حل ہو جائے گا۔

رہی یہ افواہیں کہ مارچ کے بعد دمادم مست قلندر ہو گا ، تو ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہے،اس لئے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اختلافات کا شکار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں۔ اب تو مولانا فضل الرحمان نے بھی ان دونوں جماعتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیاہے۔اگر چہ انھوں نے مارچ سے ملک میں مظاہروں اور احتجاجی جلسوں کا اعلان کیا ہے لیکن یہ سب کچھ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے وفاقی یا صوبائی حکومتوں کو گرانے کا اس سے کوئی تعلق نہیں اگر کوئی ان کے احتجاج کو حکومتوں کے گرانے سے جوڑنے کی کوشش کریگا تو یہ ان کی اپنی غلط فہمی ہو گی مولانا فضل الرحمان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔تمام بڑے لکھاریوںاور دانشوروں نے خبر دی ہے کہ مارچ کے بعد بہت کچھ ہونے وا لا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں اس لئے کہ ابھی تک متبادل کا بندوبست نہیں کیا گیا ہے ،حزب اختلاف بھی انتشار کا شکار ہے اور عوام بھی سب کچھ بخوشی سہنے کے لئے تیار ہیں ،تو پھر نیا پنگا لینے کی کیا ضرورت ہے، اس لئے کہ ان کو سیاسی جوڑ توڑ کے علاوہ اور بھی بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں،جبکہ موجودہ سیاسی صورت حال میں دو طاقتور وزیر وں کا ہٹانا بھی اعتماد کی نشانی ہے۔


ای پیپر