شجاع نواز کی کتابThe Battle for Pakistan ایک نظر پر
28 جنوری 2020 2020-01-28

شجاع نواز کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی لیاقت کا لوہا پاکستان کی فوج کے بارے میں اپنی پہلی کتاب

Crossed Swords , Pakistan , Its Army , and the Wars Within

لکھ کراپنا لوہا منوا لیا تھا۔زیر نظر ان کی نئی کتاب ان کے بقول پہلی کتاب کا ہی تسلسل ہے-

شجاع نواز پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے چھوٹے بھائی ہیں- اس لئے ان کی رسائی انتظامیہ اور فوج کے ان کونوں کھدروں تک ہے جہاں دوسرے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے جاتے ہوئے پر جلتے ہیں-دوسری طرف امریکہ میں ایک نہایت اہم ادارے میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی رسائی واشنگٹن میں حساس اداروں اور فیصلہ سازون تک بھی ہے-اس لئَے ان کے پاس معلومات کا ذخیرہ دوسرے لوگوں سے بہت زیادہ ہے –ان کے ہر لکھے ہوئے لفظ کو ساری دنیا میں پالیسی ساز بہت اہمیت دیتے ہیں اور ان کی تحریروں کی قدر کرتے ہیں-ان کی بیٹی آمنہ نے بھی اپنی محنت سے امریکی میڈیا میں اپنا مقام بنا لیا ہے-

مجھے اس بات پر فخر ہے کہ وہ میرے فیس بک فرینڈ ہیں اور میں ان کی تحریروں کو بہت شوق اور اشتیاق سے پڑھتا ہوں کیونکہ ان تحریروں کو پڑھنے سے مجھے دنیا ، پاکستان اور امریکہ کی پالیسیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے-

ان کی حال ہی میں چھپنے والی کتاب

The Battle For Pakistan The Bitter US Friendship and a Tough Neighbourhood

ہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا ہے-اس سے پہلے کہ میں اس کتاب پر بات کروں میں اپنے استاد جناب پروفیسر انوار ایچ سید کے ایک مضمون اور ان کے اپنے ساتھ اننڑویو کا حوالہ دینا چاہوں گا-

Who Pays the Piper Calls the Tune,

میں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے عرض کیا کہ پاکستان نے کئء موقعوں پر امریکہ کی بات ماننے سے انکار کردیا جن میں ایک ایٹم بم بنانا بھی ہے- پروفیسر انوار ایچ سید کہ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائِنس کے میرے استاد بھی تھے نے کورا جواب دیا اور کہا کہ زمان صاحب اگر آپ کا باورچی یا ڈرایئور چاہے تو آپ کی زندگی اجیرن بنا سکتا ہے-

شجاع نواز کی کتاب

The Battle For Pakistan: The Bitter US Friendship and Tough Neighbourhood

کے تیرا باب ہیں-

1.The Revenge of Democracy 2.Friends or Frenenemies 3.2011 A Most Horrible Year! 4. From Tora Bora to Pathan Gali. 5. Internal Battles 6. Salala Anatomy of a failed alliance. 7. The Mismanagement the Civil-Military Relationship. 8. US Aid Leverage or Trap. 9. Mil to Mil Relations: Do More. 10. Standing in

the Right Corner. 11. Transforming the Pakistan Army. 12. Pakistan’s Military Dilemma 13. Choices.

کتاب کے شروع میں Important Milestones 2007-19

جنہیں آپ اہم واقعات بھی کہہ سکتے ہیں کی تاریخیں دی ہیں- کتاب کے ابتدا یہ

Preface-Salvaging a Misalliance

میں وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کوایک بیڈ شادی بھی کہا جاتا ہے-اس کے علاوہ چین اور جاپانی محاورے میں ایک ایسی جوڑی بھی کہا جا سکتا ہے جو سوتی تو ایک بستر پر ہے مگر خواب الگ الگ دیکھتی ہے-یہ شادی ٹوٹنے جارہی ہے مگر اسے دونوں پارٹیوں اور خطے کے مفادات کے لئیے بچانا ضروری ہے-کیونکہ پاکستان ایک ایسے علاقہ میں ہے جہاں یہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے-

پچھلے ستر سالوں میں پاک-امریکہ تعلقات میں بہت اونچ نیچ دیکھنے میں آئی ہے-محبت کی پینگیں بھی چڑحھائی گئی اور تو تکار کی نوبت بھی آئی-پاکستان میں ابھی جمہوریت پوری طرح نہیں آئی اور سویلین اور فوج کی کشمکش جاری ہے گو کہ ایک پیج کا نعرہ بھی لگایا جاتاہے- شجاع نواز کا کہنا ہے کہ اسے اس بات پر فخر ہے کہ اس کی کئی نسلوں نے فوج میں خدمات انجام دیں - وہ وردی کی عزت کرتے ہیں –ان کا تعلق جنگجو قبیلہ راجپوت جنجوعہ سے ہے-مگر وہ سویلین حکومت کے متبادل کے طور پر فوج کی حمائیت نہیں کرتے- اس کتاب میں انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے اچھے اور خراب پہلوں کا تفصیلی جائئزہ لیا ہے-ایک وقت آیا کہ امریکنوں نے افغانستان نے سرحد میں داخل ہوکر پاکستانی فوجیوں کو مار دیا جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے بھی کارروائی کی -امریکہ نے جواباً پاکستان کی مالی امداد روک دی-جو کہ اس نے افغانستان میں فوجی کاروائء میں مدد کرنے پر جنرل مشرف کے زمانے میں وعدہ کی تھی-ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ دوستی کے بارے میں پاکستان کے جزبات اور تحفظات کو خاطر خوا اہمیت نہیں دیتا-

شجاع نے سوات میں مذہبی انتہا پسندی کے فروغ اور ملٹری ایکشن کا جائزہ بھی لیا ہے-انہوں نے میمو گیٹ، امریکی فوجیوں کے اسامہ بن لادن کے لئئے ایبٹ آباد مشن پر بھی روشنی ڈالی ہے-ان کا کہنا ہے کہ راحیل شریف کے آئی ایس آئی کے سربراہ نے بھی حکومت کا تختہ الٹنے کے کوشش کی تھی- ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے ایک افسر بلی نے جو آجکل امریکہ میں رہتا ہے امریکہ کو اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات دیں-پاکستان کے وزیر اعظم نے واشنگٹن میں اعلان کیا کہ پاکستان نے اسامہ کے معاملہ میں امریکہ کی مدد کی تھی- ڈرون حملوں کا بھی عجیب پس منظر تھا ایک طرف پاکستان حکومت کی اجازت سے یہ ہوتے تھے دوسری طرف حکومت پاکستان اس کی مذمت کرتی تھی-ان حملوں سے پاکستان میں امریکہ غیر مقبول ہو گیا- بمبئی دہشت گردی کے واقعہ کے بارے میں شجاع نے پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ آئی آیس آئی کے چیف نے حقانی کو بتایا کہ یہ ہمارے آدمی تھے مگر مشن ہمارا نہیں تھا-

گو وہ ذاتی طور پر چاہتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید پھلے پھولیں مگر وہ امریک کردار کے زبردست ناقد بھی ہیں –انہوں نے اس سلسلہ میں ایک بہت ہی اہم امریکی دانشور اینڈریو ولڈر کے جائزہ کو تفصیل سے پیش کیا ہے- ان کا خیال ہے کہ پاکستان صرف عکسریت کے بل بوتے پر خوش حال ملک نہیں بن سکتا-اس کے لئے اسے اپنے شہریوں کی تعلیم و تربیت اور ہنر مندی اور سماجی بھلائی پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے- ان کی یہ حقیقت پر مبنی رائے ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجہ میں دونوں ملک تباہ ہو جائیں گے- یہ کام پاکستان کے سارے ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات اور تجارت بڑھانے سے ہے ممکن ہے- شجاع نے تین سابق آئی ایس آئی کے سربراہان کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیا ہے جن کے خیال میں دہشت گرد ویزہ لے کر نہیں آتے-اس لئے ویزہ میں آسانی ہونی چاہئے-

میرے خیال میں شجاع کی کتاب سیاست اور عالمی معاملات پر ایک بہت ہی اہم اضافہ ہے-خاص کر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں اس کتاب میں جتنی معلومات ملتی ہیں وہ اور کہیں نہیں ہیں-سو یہ سیاست، تاریخ اور انڑنیشل افیرز کے ہر طالب علم کو یہ پڑھنی چاہئے۔ شجاع کی کتاب دنیا اور پاکستان میں چھپ گئی اور اس پر تبصرے بھی ہھی ہو گئے مگر یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب شجاع اپنی کتاب کی لانچ کے لئے پاکستان آئے تو حکام نے انہیں کہا کہ وہ کتاب لانچ نہ کریں مگر جب شجاع نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تو انہوں نے منتظمین کے ذریعہ یہ فنکشن منسوخ کروا دیئے۔


ای پیپر