مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی ؟
28 جنوری 2020 2020-01-28

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی مسئلہ کشمیرپرثالثی بارآورثابت ہوگی یانہیں البتہ پاکستان کو سعودی عرب اورایران کے درمیان مصالحتی کوششوں سے بڑا بریک تھروملاہے ، سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میںایک انٹرویو میں کہاہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ایران کو مذاکرات کے لیے یہ شرط قبول کرنا ہوگی کہ وہ اپنے علاقائی ایجنڈے کو تشدد کے ذریعے آگے نہیں بڑھائے گا۔اس کے فورابعد ایران کی جانب سے بھی مشرق وسطی کو درپیش مسائل اور خطرات کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کیساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر کے چیف آف سٹاف محمود واعظمی نے کہاہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایسے نہیں ہونے چاہئیں جیسے ہمارے امریکا کی طرح ہیں۔ ایران اور سعودی عرب سے زیادہ مشرق وسطی کے حالات کو کوئی دوسرا ملک نہیں سمجھ سکتا اس لیے مشرق وسطی کو درپیش مسائل اور خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے جس کے لیے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات اچھے ہونا ضروری ہیں۔

یہی وہ پیغام ہے جوپاکستان دونوں ملکوں کو پہنچا رہا ہے یہ ان کوششوں کا نتیجہ ہے جوپاکستان ایک عرصے سے کر رہا ہے دونوں اطراف سے برف پگھل رہی ہے، وزیرخارجہ شاہ محمو د قریشی نے جوایران اورسعود ی عرب کا جو حالیہ دورہ کیا اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، قاسم سلیمانی کے واقعہ کے بعد پوری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے مگر پاکستان واحد ملک تھا جس نے برملا اعلان کیا کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں بلکہ پاکستان نے عملی طورپرثابت بھی کیاکہ ہم جنگ کے خلاف ہیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران ،سعودی عرب اورامریکہ کادورہ کیا اس دورے کے دوران انہوں نے ایران کے صدرحسن روحانی سے ملاقات کی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ خطے میں قیام امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے قریشی نے مزید کہاکہ ہم علاقائی سلامتی کے حصول کے لیے ہر سفارتی کوشش کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس حوالے سے بھی کہ پاکستان کی سرزمین جنگ کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

پاکستان کے اس اضح اعلان کے بعد امریکی عزائم کودھچکالگا مصالحتی کوششوں کے سلسلے میں شاہ محمود قریشی نے سعود ی عرب کابھی دورہ کیا جہاں انہوں نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن آل سعودودیگرحکام سے ملاقاتیں کیں ، پاکستان نے ہمیشہ ایران اورسعودی عرب کے درمیان مصالحانہ کوششیں کی ہیں اس سے قبل سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے یہ کوشش کرچکے ہیں اگرچہ اس وقت ایران نے ان کا سردمہر استقبال کیا تھا۔ ریاست پاکستان سعودی عرب اورایران کے درمیان کشیدگی کی حامی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ جب عراق اورایران کے درمیان جنگ ہوئی توپاکستان غیرجانب داررہا مگرجب عربوں اوراسرئیل کے درمیان جنگ ہوئی توپاکستان نے عربوں کی مددکے لیے اپنی فوج بھیجی ،جنرل راحیل شریف اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی اس شرط پرقبول کی تھی کہ وہ کسی مسلمان ملک کے خلاف جارحیت نہیں کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان خطے میں امن کاخواہاں ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے یہ بھی واضح کیاہے کہ ان حالات میں کسی بھی قسم کی جنگ پاکستان ،سعودی عرب اورایران کے مفادمیں نہیں ، پاکستان کے لیے اب مزیدکسی جنگ میں شمولیت سے اجتناب اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان افغانستان کی طویل جنگ میں شامل ہوکرخمیازہ بھگت چکاہے ، دوسری طرف انڈیاجیسادشمن تیارکھڑاہے ،جوموقع کی تلاش میں ہے کہ جوں ہی پاکستان عدم استحکام کاشکارہواوروہ اس سے فائدہ اٹھائے ۔جبکہ سعودی عرب نے ہمیشہ جارحیت سے گریزکیاہے اورسعودی عرب کے کبھی بھی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رہے اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی مشکل حالات میں پاکستان اپنے دوست اوربھائی سعود ی عرب کوتنہانہیں چھوڑسکتا یہی ہی وہ پیغام ہے جوپاکستان عالمی استعماروں کواپنی سفارتکاری سے دے رہاہے ۔

سعودی عرب بھی اپنے پڑوس میں متعددجنگوں کی تپش محسوس کرچکاہے جس کے شعلوں سے بامشکل مملکت سعودی عرب بچ پایاہے ،شام ،عراق کی جنگوں کے بعد استعماری طاقتوں کااگلاہدف سعودی عرب ہے یمن میں جنگ کے شعلے بھی اسی کاحصہ ہیں ،استعماری طاقتوں کی طرف سے مشرق وسطی اورمستحکم مسلمان ممالک عراق ،لیبیا،شام ،تنزانیہ کوعدم استحکام شکارکرنے کے بعد مشرق وسطی میں جو تنا بڑھتائو جارہا ہے وہ آہستہ آہستہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتاہے اس لیے پاکستان سمجھتاہے کہ ایران اورسعودی عرب کی لڑائی کسی کے بھی مفادمیں نہیں ۔

ایران امریکہ یاکسی دوسرے ملک کے ساتھ کسی

بڑی جنگ کامتحمل نہیں کیوں کہ ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ملک کے اندر بغاوت کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے خاص طور پر ، بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے معاملات پر عراق ، لبنان اور ایران میں حالیہ مظاہرے بھی اسی کی غمازی کررہے ہیں،ایران پہلے ہی اپنے آپ کوبہت سی جنگوں میں جھونک چکاہے ،شام ،عراق ،لبنا ن اوریمن میں ایرانی مداخلت تسلیم شدہ ہے ،ایسی صورتحال میں ایران کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا کہ اگر اس نے مزیدکوئی جنگ یادیگر بہت سے ممالک سے دشمنی مول لے لی تو اس کی معیشت مزید برباد ہو جائے گی۔

مشرق وسطی میں کسی بھی طرح کی جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا اثر پوری دنیا کو غیر مستحکم کرسکتا ہے۔ کیونکہ خطے میں تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ مشرق وسطی میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ممالک ہیں، اور اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی اور اس کا عالمی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔پھر یہ محدود جنگ نہیں ہوگی۔ جنگ پورے خطے میں پھیلے گی اور بڑے پیمانے پر تباہی کا اندیشہ ہوگا۔

امریکہ نے ایران کے ساتھ متعدد بار کام کرنے کیاہے۔ ایران نے بھی امریکہ کا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔ نائن الیون کے بعدافغانستان پر حملے کے وقت ایران نے امریکہ کو انٹیلی جنس فراہم کی تھی، یہاں تک کہ جب امریکہ عراق پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا تب بھی ایران امریکہ کے مابین بات چیت جاری تھی کیونکہ صدام حسین دونوں کو کھٹک رہے تھے۔اسی طرح شام میں بھی ایران اپنے اور امریکہ کی مشترکہ دشمن تنظیم داعش کے خاتمے میں کرداراداکیا ہے ، ایران نے اپنی طرف سے ان تعلقات کو بہتر رکھنے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

امریکہ اوراسرائیل کی یہ سازش ہے کہ کسی ناکسی طرح ایران سعودی عرب آپس میں الجھ پڑیں اور اس فساد کی لپیٹ میں پوری امت مسلمہ آجائے۔ سعودی عرب اور ایران کی جنگ کی صورت میں پوری مسلم امہ 2 بلاکس میں تقسیم ہو جائے گی، شیعہ سنی تصادم نہ صرف سعودیہ اور ایران کے درمیان ہو گا، بلکہ یہ جنگ ہر مسلمان ملک کے گلی کوچوں تک پھیل سکتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جوشاہ محمود قریشی نے دونوں ممالک تک پہنچایاہے وزیرخارجہ نے بہترین سفارتکاری کرتے ہوئے مشرق وسطی کوجنگ سے بچانے میں اہم کردار اداکیاہے اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ پاکستان ایک ایساملک ہے کہ وہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان یا ایران اور سعودی عرب کے درمیان کردار ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی کواس کامیابی کے بعد مشرق وسطی کے حالات پرمزیدتوجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں سے بڑی خوشخبری مل سکے ۔


ای پیپر