فلسفہ مابعد جدیدیت کے اسلامی معاشرے پر اثرات
28 جنوری 2020 2020-01-28

مابعد جدیدیت مغربی فلسفے سے وابستہ ایک علمی اور فکری بحث ہے جو مغربی معاشرے کے اندرونی حالات، ثقافتی، سیاسی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی تضادات کا کھلم کھلا اظہار کرتی ہے۔ مابعد جدیدیت سائنس سمیت دنیا کے تمام علوم اور کسی بھی شے کی اہمیت اور آفاقیت کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ یہ فلسفہ مرکزیت کے ہر تصور کی نفی کرتا ہے (جبکہ اس کائنات کا مرکزی نقطہ اور آفاقی سچائی اللہ تعالیٰ کی ذاتی ہے) یہ فلسفہ دنیا میں موجود کسی بھی سچائی اور سائنس کی معروضیت کے خلاف ایک ردعمل ہے، ظاہر کرتی ہے۔ یہ فلسفہ انسانی رویے کا ایسا عمل ہے جس میں ضروری نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک بات پر متفق ہو جائیں۔ دوسری بات ایک عمل یا کردار آپ کی ذات کے لحاظ سے تو بہتر ہو سکتا ہے مگر پورا معاشرہ یا دنیا آپ کے نقطہ نظر میں فٹ نہیں آ سکتی۔ مابعد جدیدیت کے مفکرین کی خطرناک رائے کچھ اس طرح سے ہے کہ کائنات میں کوئی معروضی سچائی نہیں ہے اور دنیا کی ہر سچائی، اتحاد اور ترقی مشکوک ہے۔ منطق اور استدلال صرف ایک انسان یا گروہ کی ذہنی تشکیلات ہیں۔ ان کی کوئی دنیاوی حیثیت نہیں ہے (یعنی اس فلسفے کا دوسرا بڑا حملہ انبیاء کی تعلیم اور احادیث و سنت پر ہے) یہ فلسفہ انسانی اقدار و اخلاقیات، سائنس و ٹیکنالوجی اور معاشرے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ انسانی معاشرے میں معروضی،اخلاقی، سماجی، معاشی اور مذہبی قدروں کا کوئی وجود نہیں ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کبھی بھی انسانی معاشرے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ مابعد جدیدیت پر مبنی مواد طاقت کے بنیادی کرداروں کو ردتشکیل پر اکساتا ہے۔

قارئین! مابعد جدیدیت فلسفے کی ایک ایسی مشکوک اورمبہم شاخ ہے جن کے اندر وہ مثبت روشن خیالی نہیں ہے جو سائنس یا مذہبی لحاظ سے ہر شخص کے ہر تصور اور سوچ کی وضاحت کردے اور یہ فلسفہ ہر قسم کی سیاسی، سماجی ، ثقافتی اور مذہبی قدروں کوشک سے دیکھنے کی وجہ سے یہ فلسفہ بذات خود ایک مشکوک نظریہ بن گیا ہے۔ یہ نظریہ قاری کو اس کے مثبت اور مضبوط پہلو سے ہٹانے میں بہت پیش رہا ہے۔ اس کی بڑی خامی کلی اور حتمی دعووں کو رد کرنے اور مرکزیت کی موجودگی اور اس کے ماخذ کو ختم کر کے مسلمانوں کو اپنے دین اور مذہب سے روگردانی پر اکسانا تھا۔ یہ فلسفہ ہر قسم کے بیانیے کو ردکرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے حتیٰ کہ یہ فلسفہ سیاسیات ، سماجیات ، لسانیات ، ثقافت، تاریخ، فکر اور مذہب کو عدم مرکزیت کے نظریے سے دیکھتا ہے۔ 1979ء میں ایک فرانسیسی فلسطی ’’لیوٹارڈ‘‘ نے امریکی معاشرے کی حالت پر ایک رپورٹ لکھی اور اس رپورٹ میں کم و بیش دو سو سے زائد مختلف مفکرین، دانشوروں، سیاست دان اور علماء کے حوالے دیئے گئے مگر دوسری طرف ستم ظریفی دیکھیے کہ اس رپورٹ کی بابت مشرق کے تمام مفکرین، دانشوروں اور علماء کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں مغربی زوال پذیر معاشرے کے زوال کی وجوہات اور ان کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی۔

مغرب کیا کوئی بھی غیر اسلامی ملک نہیں چاہیے گا کہ مسلمان بام عروج تک پہنچیں اور مسلمان معاشی، سماجی،اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے مضبوط ہوں۔ مسلمان اپنی زندگیوں کو اپنے مذہب کے مطابق گزاریں اور اپنی مذہبی تعلیمات کو اپنے زندگیوں کو اپنے مذہب کے مطابق گزاریں اور اپنی مذہبی تعلیمات کو اپنے زندگیوں میں لاگو کر سکیں۔ اغیار کبھی نہیں چاہیں گے کہ مسلمان معاشی طور پر مستحکم ہوں اور معاش ان کے لیے کوئی مسئلہ نہ ہو۔ آئی ایم ایف کی تمام پالیسیاں اور فلسفہ مابعد جدیدت کی ایک اختراع ہے۔ یہ پالیسیاں اور پابندیاں مسلم ممالک اور اسلامی معاشرے کے لیے ایسے زنجیریں ہیں جو ’’فصل گل‘‘ کا انتظار کیے بغیر دیوانی حکومتوں کو پہنا دی جاتی ہیں اور اس کے عوض مسلمانوں میں اخلاقی اور سماجی بیماریوں کا داخول کر دیا جاتا ہے۔ اس جراثیم کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی مرکزیت سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھوک بذات خود ایک فلسفہ ہے جو تمام علوم اور اس سے جڑے ہوئے فلسفوں پر حاوی ہے۔ مسلمانوں کا اپنے مرکز سے ہٹ کر سوچنا، کائنات اور اس کی حقیقت سے انکاری ہونا، اخلاقی اور دینی پہلوؤں کو ردکرنا دراصل فلسفہ مابعد جدیدت ہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ وہ ’’سلو پوائزننگ‘‘ ہے جو نسل نو کے اندر بہت جلد سرایت ہو رہی ہے۔ جو آنے والے وقت اور حالات کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ہماری بنیاد، ہمارے نظریات، ہماری سوچ اور ہماری فکر کا اصل منبع اور اصل روح ہمارا دین اسلام ہے۔ اس سے روگردانی یا اس کے متعلق شکوک و شبہات ہماری زندگیوں کی اساس کو ختم کر دیتی ہے اور ہمارے وجود کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ عالمی قوتیں اور طاقتیں جنگ اور ہتھیار کے ذریعے بربادی و تباہی پر یقین نہیں رکھتی ہیں۔ ان کا یقین محکم ہے کہ مخالف قوتوں اور قوتوں کو نظریات کو مار دی جائے۔ ان کی اخلاقی و سماجی قدروں کو تباہ کر دیا جائے۔ ان کے تعلیمی نصاب کو فرسودگی فراہم کی جائے اور یہ قوم خود بخود ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی اور آج ایسا ہو رہا ہے اور اغیار اپنے مقاصد میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ مہنگائی، افراتفری، لاقانونیت، بے راہ روی ،عدم مساوات، سرمایہ دارانہ نظام،ڈپریشن، دباؤ، بے جا بیماریاں دراصل ایسی ہی تحریکوں کا کیا دھرا ہے۔ صحت مند قوم اور خوشحال ملک کے لیے ضروری ہے کہ آئین و قوانین کی پابندی، مسابقت، مساوات، دیانتداری، ذمہ داری، احساس تحفظ، تعمیری و فکری سوچ، مذہبی، دینی، معاشرتی اور سماجی پابندیوں جیسی عادات اور خوبیوں کو پختہ کیا جائے اور منفی پروپیگنڈے اور فکر کا خاتمہ کیا جائے؟ قومیں اور نسلیں ہمیشہ اپنے لٹریچر اور اپنی تعلیمات کا اثر قبول کرتی ہیں۔ اگر حکومت ایسی تعلیمات سے روح گردانی برتے تو دیگر اقوام کا علوم اور لٹریچر آپ کے معاشرے کی بنیادیں اکھاڑنے میں بہت جلد اہم کردار ادا کرتا ہے اور کامیابی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ وما علینا الا البلاغ


ای پیپر