جسٹس آصف سعید کھوسہ,,,انصاف کی ایک اورکرن!
28 جنوری 2019 (23:55) 2019-01-28

ہمایوں سلیم :

انسانی معاشرے کی سب سے بنیادی ضرورت عدل و انصاف اور مساوات ہے۔ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، وہاں ظلم کا دور دورہ ہو جاتا ہے اور وہ معاشرہ انتشار، افتراق اور ابدامنی کا شکار ہوکر اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے۔ انصاف کی فراہمی لوگوں میں اطاعت کا جذبہ اجاگر کرتی ہے، جب کہ ظلم و ناانصافی اور عدم مساوات بغاوت کو جنم دیتی ہے۔ اس لئے دنیا میں وہی معاشرے اور اقوام باعزت مقام پر متمکن ہیں جہاں ظلم کے بجائے انصاف کا دور دورہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف اور اس کے تقاضے ہمیشہ سے ہی داؤ پر لگتے آ رہے ہیں جس کے نتائج آج ہم بے چینی اور افراتفری کی صورت میں بھُگت رہے ہیں۔ لیکن گزشتہ دو اڑھائی سال سے اس حوالے سے حالات کچھ سدھرتے نظر آر ہے ہیں جس کا کریڈٹ اعلیٰ عدلیہ، خصوصاً سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو جاتا ہے۔

سابقہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا سنہری دور ختم ہوا، انہوں نے مخالفانہ تند و تیز ہوائوں کے باوجود عدالتی تاریخ کا شاندار اور یادگار باب لکھا ہے ، انہوں نے ریاست کا اندرونی چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کیا، آئین اور قانون شکنی کرنے والے بڑے بڑے ’’پہلوان‘‘ ان کی عدالت میں لرزاں نظر آئے جو ان کی نیک نیتی اور جرأت مندی کی بدولت ہی ممکن ہو سکا۔ اگر وہ بک جاتے یا جھک جاتے تو ان کے لیے عدالتی تاریخ کی گراں قدر اور بے مثال خدمات انجام دینا کبھی ممکن نہ ہوتا۔ جسٹس ثاقب نثار نے حکمرانوں، طاقتور اور بااثر لوگوں کے دلوں میں آئین و قانون کا جو ڈر اور خوف پیدا کر دیا ہے وہ ایک عظیم کارنامہ ہے ان کے جانشین چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ اگر اس خوف کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے…امید واثق ہے کہ وہ اس میں کامیاب رہیں گے… تو پاکستان چند سالوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور منجمد اور مفلوج ریاست بڑی تیزی کے ساتھ ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن نظر آئے گی۔

یہ بات تو پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے کہ جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بے باک فیصلے کیے جن کو عوامی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے عوامی مسائل کا بھی نوٹس لیا، موبائل کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس کی کٹوتی ہو یا پھر نجی سکولوں، کالجز یا ہسپتالوں کی فیس، پینے کا پانی، کرپشن، سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی سمیت دیگر اہم کیسز کا فیصلہ بھی سنایا۔ ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جسٹس ثاقب نثار نے بڑا فیصلہ کیا جس کے بعد ایک مہم شروع ہوئی جو اب ایک تحریک بن چکی ہے۔ پاکستان میں مسلسل پانی کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات کریں اور ڈیموں کی تعمیر سے متعلق حکمت عملی پر مبنی رپورٹ تین ہفتے میں پیش کی جائے ، عدالتی حکم پر عملدر آمد کے لئے چیئرمین واپڈا کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ڈیم فنڈ کے لئے خصوصی اکانٹ کھولا گیا جس میں اب تک 9 ارب سے زائد روپے جمع ہو چکے ہیں۔ میاں ثاقب نثار کے بطور چیف جسٹس آف پاکستان بعض معمولات پر تنقید بھی کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایسے کام کئے جو ان کے کرنے کے نہیں۔ اور اس وجہ سے سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ بڑھتا گیا۔ لیکن اگر غیر جانبدار ہو کر تمام ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو بطور چیف جسٹس میاںثاقب نثار نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ کیسز نمٹائے۔ صرف 2018ء میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے بینچ نے 7 ہزار کے قریب کیسز نمٹائے۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں کسی بھی چیف جسٹس نے آج تک اتنے کیسز کے فیصلے نہیں کیے جتنے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کئے۔ انہوں نے کیسز نمٹانے کے علاوہ بہت سے از خود نوٹسز بھی لیے جن سے قوم کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے اور مظلوموں کی داد رسی ہوئی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے بطور چیف جسٹس 69 اقدامات ایسے ہیں جن سے براہ راست پوری قوم اور مظلوم لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔

الغرض چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار ملک نے ملک کے لیے وہ کام کیا جو ماضی میں کوئی نہ کر سکا۔ اُن کے اِن تاریخی کارناموں کو یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے نہ صرف مافیاز کو بے نقاب کیا بلکہ ان کے خلاف نظامِ عدل کو متحرک بھی کیا۔ انہوں نے بنجر ہوتے ہوئے ملک کے لئے ڈیموں کی تحریک شروع کی ، انہوں نے لوگوں کی صحت سے کھیلنے والوں، ملک کو لوٹنے والوں اور اداروں کو برباد کرنے والوں کو کس کے رکھ دیا ہے، کل کے طاقتور قبضہ گروپ آج کمزور دکھائی دیے ۔ اگر پاکستان میں زیادہ کرپشن کرنے والے اداروں کو دیکھا جائے تو ان میں ایف بی آر، ایف آئی اے، تعمیرات، آب پاشی اور پولیس کے علاوہ درجنوں ادارے شامل رہے۔ مگر جسٹس ثاقب نثار کے آگے کوئی نہ ٹک سکا۔

اب جسٹس ثاقب نثار کے بعد ایک اور مرد قلندر جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ ان کے والد گرامی سردار فیض محمد کھوسہ قائداعظم ؒکے سچے عاشق تھے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’فصل امید‘‘میں تحریر کیا: ’’میں جو کچھ ہوں اپنے ملک کی وجہ سے ہوں انشاء اللہ قائد اعظم ؒکا خواب رائیگاں نہیں جائے گا، ہماری نسل آزادی کی شاہد ہے، ہم آزادی کی قدروقیمت جانتے ہیں۔ پاکستان ایک باوقار مضبوط اور متحرک جمہوری ملک بن کر ابھرے گا اور قائد کا وژن پورا ہوگا، میرے پانچ بیٹے، بیٹیاں اور 15 پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں امید کی فصل ہیں جو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے‘‘۔ سردار فیض محمد کھوسہ کی روح خوش ہو گی کہ ان کی آرزو اور تمنا پوری ہوئی ان کے بیٹے طارق کھوسہ آئی جی پولیس ناصر کھوسہ چیف سیکرٹری پنجاب اور آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس پاکستان کے مناصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے امید کی جو فصل کاشت کی تھی وہ پاکستانی قوم کے لیے ثمر آوراور سود مند ثابت ہوئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک شہرہ آفاق نظم مرتب کی تھی جس میں تحریر کیا تھا۔

’’قابل رحم ہے وہ قوم جو انصاف طلب کرتی ہے مگر انصاف کو سیاسی وفاداری کی میزان پر تولتی ہے‘‘ نئے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کو حالات سازگار ملے ہیں وہ حساس عدالتی سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آئین اور قانون کی حکمرانی کی روایت کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لئے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر جناب ارشاد حسن خان پاکستان کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج ان کی دعائوں اور مشاورت میں شریک رہتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنے پیشرو میاں ثاقب نثار کی چھوڑی ہوئی شاندار روایات کو نہ صرف آگے بڑھائیں گے بلکہ زیرالتواء مقدمات کو نمٹانے اور فوری اور سستے انصاف کے لئے قابل رشک خدمات انجام دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنے عدالتی کریئر کے دوران 55 ہزار مقدمات کا فیصلہ کر چکے ہیں جو ایک منفرد تاریخی عدالتی ریکارڈ ہے۔ جناب ارشاد حسن خان کے مطابق پاکستان کا سیاسی سماجی اور معاشی قبلہ درست کرنے اور گڈگورننس کو یقینی بنانے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی لازمی ہے جس پر قومی اتفاق اور اتحاد ہو چکا ہے اور آزاد اہل اور مضبوط عدلیہ کی وجہ سے ہم قدم بقدم اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی متوازن اور ولولہ انگیز قیادت میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی اور پائیدار بنانے کے لئے عدلیہ کے جج تاریخ ساز کردار ادا کریں گے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی موجودگی میں بھی بیشتر بینچوں میں نہ صرف شامل رہے بلکہ مشہور زمانہ پانامہ کیس جس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ساری زندگی کیلئے نا اہل ہوئے، تو اُن سے منسوب اس جملے نے بڑی شہرت پائی جس میں انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو Sicilian Mafia سے تعبیر کیا تھا۔ ہر قسم کے مافیا کے بارے میں میری معلومات بڑی غریب ہیں۔ گوگل سے رجوع کیا تو اس مافیا کی پوری تاریخ سامنے آگئی کہ جو انیسویں صدی سے اٹلی، جرمنی ،کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں سرگرم ہے۔ ابھی دہائی قبل جب اٹلی میں اس مافیا کے چیف کی گرفتاری عمل میں آئی تھی تو ساری دنیا میں اس مافیا کے جرائم شہ سرخیوں میں شائع ہوئے تھے۔

بہرکیف پاکستان کی سیاسی و عدلیہ کی تاریخ میں ہنگامہ خیز ترین دور کہلائے گا خاص طور پر دسمبر2013ء میں محترم جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رخصتی کے بعد کہ ہمارے محترم جنرل (ر) پرویز مشرف کی اقتدار کی رخصتی کا باعث بنے اور جن کی عدالتی ہیبت اور دہشت ہمارے محترم چیف جسٹس ثاقب نثار سے چار قدم آگے ہی تھی۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ حالیہ برسوں میں اس وقت جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری، عدلیہ کی تاریخ کے متنازعہ ترین جج کہلاتے ہیں۔ جواد ایس خواجہ کی مدت ملازمت نے تو ایک ریکارڈ قائم کر دیا یعنی صرف 21 دن۔ اُن کے بعد آنے والے جسٹس انور ظہیر جمالی کوئی 16ماہ چیف جسٹس رہے۔ پھر چیف جسٹس ثاقب نثار آئے اور ان کے بعد 18جنوری 2019ء کو جسٹس آصف سعید کھوسہ عدالت عظمیٰ کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ یقینا محترم آصف سعید کھوسہ کے سامنے بہت سے چیلنجز بھی ہیں اور بہت سے کیسز بھی جن کا براہ راست عوام سے تعلق ہے۔ اُمید یہی رکھی جاتی ہے کہ جس طرح قوم پارلیمنٹیرین اور آمروں سے عاجز آچکی ہے اور عدالتوں پر یقین رکھتی ہے کہ شاید وہی اُن کے غموں کا مداوا کرے تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے کاموں کو ہی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے جس کا آغاز انہوں نے پنجاب اور سندھ کے بڑے لینڈ مافیا کے خلاف کام کر کے کیا۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی بات کی اور غریب ورکر ز کے حق میں بولے ۔ وہ عام آدمی کی آواز بنے اور پہلی بار اس ملک میں حقیقی طور پر ’’بڑوں‘‘ کا احتساب بھی ہوا۔ لہٰذا جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھی اسی طرز پر کام کرنا ہو گا کیوں کہ قوم جانتی ہے کہ وہ انتہائی ذہین اور لائق شخص ہیں لہٰذاوہ میرٹ پر بھی کبھی کمپرومائز نہیں کریں گے! اور محترم جسٹس ثاقب نثار کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے پاک دھرتی پر انصاف کی ایسی فصل بوئیں گے، جس سے ہماری آنے والی نسلیں بھی مستفید ہو ں گی۔


ای پیپر