رواں سال کے آخر تک افغان باڑ مکمل کرلینگے :پاک فوج
28 جنوری 2019 (23:32) 2019-01-28

میرانشاہ: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ رواں سال کے آخر تک افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ کی تنصیب کاکام مکمل ہو جائے گا ، ہم نے اب شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثرہ علاقوں میں مکمل امن قائم کردیا ہے، وہاں اب ترقی کا منصوبہ ہے، ہم ہرگز نہیں چاہیں گے کہ امریکی فورسز کے جانے کے بعد افغانستان میں دوبارہ حالات خراب ہوں تاہم خرابی کی صورت میں باڑ کا ہمیں فائدہ ہوگا.

باڑ سے سرحد پار دہشتگردی کا بھی خاتمہ ہوگا ،مہاجرین کے پاکستان سے باعزت واپس چلے جا نے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن کی صورتحال میں مزید بہتری ہوگی ، شمالی وزیرستان میں آپریشن متاثرین کو جلد ازجلدمعاوضہ دیا جائے گا، دکانوں کی تعدا د سے زیادہ ملکیت کی دعویداری کے معاملے پر ریکارڈ کو درست کرنا ہوگا، سب حقداروں کو ان کا حق ملے گا، افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں سے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کردیا ہے ۔ پیر کو ایک نجی ٹی و ی چینل کے پروگرام میں دورہ شمالی وزیرستان کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے آپریشن ضرب عضب کے دوران تباہ ہونے والے دکانوں کے مالکان کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کو جلد ازجلدمعاوضہ دیا جائے گا۔ یہاں کے مسائل کا حل یہیں ہونا ہے، پہلے جتنی دکانیں تھیں اب اس سے زیادہ لوگ اس کے دعویدار آ گئے ہیں،اس لئے پہلے اپنا ریکارڈ درست کریں ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں اگر آپریشن سے پہلے 1000دکانیں تھیںتو اب نئی دکانوں کی ملکیت کیلئے 3ہزار لوگ آگئے ہیں۔ مقامی متاثرین سے گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہم نے پہلے ہی کہا کہ آپ لوگ مقامی منتظمین سے رابطہ کریں تاکہ وہ اس کا ریکارڈ چیک کرسکیں ، سب سے پہلے دکانوں پر حق ان کا ہے جن کی دکانیں خراب ہوئی ہیں اس کے بعد ہم اورسول انتظامیہ مل کر دکانیں بنائیں تاکہ مزید لوگوں کو روزگار مل سکے۔

میجرجنرل آصف غفور نے کہاکہ مجھے خبر ہے کہ آپ نے نئی لسٹ بنا لی ہے اس کے تحت دکانیں دی جانی ہیں،یہ درست مالکان ہیں یا نہیں یہ تاجر برادری نے واضح کرنا ہے ۔ تصدیق شدہ لسٹ جب ہمارے پاس آجائے گی تو اگلے دورے سے پہلے دکانیں آپ کے پاس ہونگی۔ انہوں نے کہاکہ نئی سکروٹنی لسٹ کیلئے ہم نے سب کو شامل کیا تاکہ کوئی کسی کا حق نہ مار سکے۔ آپریشن کے بعد ہم نے اپنے قبائلی علاقے کلیئر کرلیے تھے اس لیے سرحد پار دہشت گردی سے بچنے کیلئے باڑ لگائی ۔ اس باڑ کا فائدہ دونوںا طراف کو ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اگرکوئی الزام لگاتا ہے کہ لوگ ہماری طرف سے جاکر افغانستان میں حملے کرتے ہیں تو یہ باڑ ان لوگوں کو بھی روکے گی البتہ ہم نے یہاں دہشتگردوں کی تمام محفوظ پنا گاہیں ختم کردی ہیں۔ اس باڑ سے سرحد پار دہشتگردی کا بھی خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کی کل لمبائی 2612کلومیٹر ہے ، جو کچھ خیبر پختونخوا کے اندر ہے اور کچھ بلوچستان کے اندر ہے ،ہم نے پہلی ترجیح میں 1200کلومیٹر کے علاقہ جہاں سے زیادہ دراندازی ہوتی تھی ، پہلے اس کو کلیئر کرانا تھا اس میں اب تک 800کلو میٹر سے زیادہ علاقہ کلیئر کرالیا ہے اور باڑ کا کام مکمل کرلیاہے جبکہ ہماری خواہش ہے کہ باقی 1200کلومیٹر کاعلاقہ بھی جتنی جلدی ہوسکے مکمل کریں ۔باڑ پر ہونے والے حملوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ حملے زیادہ تر دہشت گرد کرتے ہیں ۔انہوں نے پہلے باڑ لگانے کے کام کو روکنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ کچھ تحفظات افغانستان کی طرف سے ڈیورینڈ لائن اور انٹرنیشنل بارڈر کے حوالے سے تھے تاہم باڑ کا انہیںبھی فائدہ ہے، افغان فورسز کی طرف سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ۔ڈیورنڈ لائن پہلے بھی ایک مردہ ایشو ہے اور اب بھی ہے۔ افغان فورسز زیادہ تر باڑ لگانے میں ہم سے تعاون کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے جہاں جہاں بھی باڑ لگائی ہے ان کے ساتھ رابطہ کرکے ہی لگائی ہے۔ اور اس وجہ سے ابھی تک کوئی ایشو پیدا نہیں ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان سے امریکہ کے انخلاءسے متعلق ایسے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم ہرگز نہیں چاہیں گے کہ امریکی فورسز کے جانے کے بعد افغانستان میں دوبارہ حالات خراب ہوں۔ اگر وہاں حالات خراب ہوتے بھی ہیں تو اس صورت میں اس باڑ کا ہمیں فائدہ ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہاں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر ہم پر ویسے نہیں ہوسکے گا جیسا کہ پہلے ہوتا تھا۔ اگر اثر ہوا بھی تو ہم اپنی فورسز کے ذریعے سے اس کو کنٹرول کریں گے جو بے قابو دراندازی تھی وہ اب نہیں ہوسکے گی۔

میجر جنرل آصف غفور نے شمالی وزیرستان کے حالات سے متعلق سوال کے جواب پر کہا کہ اب شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردبڑی تعداد میں نہیں آسکتے ، یہاں پر مقیم بعض افغان سہولت کار بھی موجود ہیں جبکہ وزیرستان کی مقامی آبادی بھی دوبارہ واپس آگئی ہے ، وہ امن پسند ہیں لیکن یہاں جو اکا دکا واقعات ہوتے ہیںاس کی وجہ مقیم افغان مہاجرین سہولت کاروں کی صور ت میں ملنے والی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ، آج ملین مہاجرین کی شکایتیں ہیں ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مہاجرین پاکستان سے باعزت واپس چلے جائیں گے اس صورت میں علاقے میں امن کی صورتحال میں مزید بہتری ہوگی ۔

انہوں نے کہاکہ رواں سال کے آخر تک افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ کی تنصیب کاکام مکمل ہو جائے گا ، ہم نے اب متاثرہ علاقوں میں مکمل امن قائم کردیا ہے ، فاٹا انضمام کے بعد اور بھی پلان ہے کہ کس طرح یہاں معاملات بہتر ہوتے ہیں اور کس طرح ترقی آتی ہے ، اس کے لئے حکومت نے بھی پیکج لانچ کئے ہیں ، یہاں بنیادی ڈھانچہ بھی موجود ہے ،سکول ، صحت ، تعلیم ، پولیس و غیرہ کا نظام لانا ہے انہوں نے کہاکہ یہاں مقامی انتخابات بھی ہونے والے ہیں جن کیلئے یہاں پرامن صورت حال موجود ہے۔ حسرو واقعہ سے متعلق پوچھے گئے سوال سے پر انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر منظم منصوبے کے تحت شور چل رہا ہے اس واقعے سے متعلق گزشتہ روز جرگہ ہوا ہے اس میں بھی یہ واقعہ جھوٹا ثابت ہوا۔ ہماری بہن جنہوں نے یہ بیان دیا ہے کہ میں پانچ سال سے صبر کررہی تھی، اگر پہلے کوئی واقعہ ہوا تو اسے آج کا بنا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے ہے۔ فوج میں ایک سسٹم ہے کہ اگر کسی سے غلطی ہوتی ہے تو پھر اسے چھوڑا نہیں جاتا ۔ لیکن یہاں جو الزام لگایا گیا ہے وہ یہاں کے کلچر کے بھی خلاف ہے اور اس سے غیر ضروری فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس واقعے کو مقامی سطح پر بھی مستر د کردیا گیا ہے۔ یہ سب لوگوں نے دیکھا بھی ہے۔ جرگے نے یہی کہا کہ یہ ہمارے کلچر کے خلاف ہے ۔


ای پیپر