Image Source : Neo tv Screenshot

صوبہ بہاولپور یا جنوبی پنجاب صوبہ ۔۔۔ بڑی خبر
28 جنوری 2019 (19:05) 2019-01-28

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن)نے قومی اسمبلی میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیمی بل جمع کرادیا، بل میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم سے بہاولپور ، جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تشکیل کے الفاظ شامل کئے جائیں، صوبوں کی تشکیل کے لئے آئینی ترمیم کا عنوان آئینی (ترمیمی ) ایکٹ مجریہ 2019ء ہے،آئینی ترمیم کے مطابق بہاولپور صوبہ بہالپور کے موجودہ انتظامی ڈویژن پر مشتمل ہوگا.

جنوبی پنجاب صوبہ موجودہ ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز پر مشتمل ہوگا،ترمیم کے بعد ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز صوبہ پنجاب کی حد سے نکل جائیں گے، ترمیم کے بعد بہاولپور صوبہ کی15 جنرل ، خواتین کی تین نشستیں ملا کر قومی اسمبلی میں کل اٹھارہ نشستیں ہوجائیں گی ،آئین کے آرٹیکل 154 میں ترمیم کے ذریعے نیشنل کمشن برائے نئے صوبہ جات تشکیل دیا جائے، آرٹیکل 175اے میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ان نئے صوبہ جات میں پرنسپل سیٹس قائم کی جائیں، 9مئی 2012کو پنجاب اسمبلی اپنی اپنی الگ قراردادوں متفقہ طورپر بہاولپور صوبہ اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی منظوری دے چکی ہے.

ان خطوں کے عوام اپنے صوبوں کے قیام کے لئے ایک عرصے سے اپنے مطالبے کے حق میں جدوجہدکررہے ہیں۔ پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن)نے قومی اسمبلی میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیمی بل جمع کرادیا،آئینی بل مسلم لیگ (ن)کے احسن اقبال، رانا تنویر، رانا ثنااللہ خان، عبدالرحمن کانجو نے اپنے دستخطوں سے سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرا یا جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم سے بہاولپور ، جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تشکیل کے الفاظ شامل کئے جائیں، صوبوں کی تشکیل کے لئے آئینی ترمیم کا عنوان آئینی (ترمیمی ) ایکٹ مجریہ 2019ء ہے۔آئینی ترمیم کے مطابق بہاولپور صوبہ بہالپور کے موجودہ انتظامی ڈویژن پر مشتمل ہوگا، جنوبی پنجاب صوبہ موجودہ ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز پر مشتمل ہوگا،ترمیم کے بعد ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز صوبہ پنجاب کی حد سے نکل جائیں گے،آئین کے آرٹیکل 51 میں ترمیم سے صوبائی نشستوں میں ردوبدل کیاجائے، ترمیم کے بعد بہاولپور صوبہ کی15 جنرل ، خواتین کی تین نشستیں ملا کر قومی اسمبلی میں کل اٹھارہ نشستیں ہوجائیں گی ،بلوچستان کی 20، جنوبی پنجاب صوبہ کی 38، خیبرپختونخوا کی 55، صوبہ پنجاب کی 117، صوبہ سندھ کی 75 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی قومی اسمبلی میں تین نشستیں ہوں گی ۔

ترمیم کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 326 ہوگی جس میں 266جنرل نشستیں اور 60 خواتین کی نشستیں ہوں گی ،جنرل الیکشن 2018میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے منتخب شدہ ارکان قومی اسمبلی اور پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب ہونے والی خواتین موجودہ اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی۔ موجودہ اسمبلی کی مدت کی تکمیل کے ساتھ یہ کلاز ختم ہوجائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 59 میں ترمیم کرکے مناسب ترامیم کی جائیں۔ آئینی ترمیم کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کی تشکیل سے قطع نظر پنجاب اسمبلی کے منتخب ارکان اپنی مقررہ مدت مکمل کریں گے جس کے بعد یہ کلاز ختم ہوجائے گا۔

ترمیم کے نتیجے میں بہاولپور صوبہ کی صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی کل تعداد 39 ہوگی جس میں سے 31جنرل، 7خواتین اور ایک غیرمسلم کی نشست ہوگی بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کی کل تعداد65، خیبرپختونخوا کی 145، پنجاب کی 252، سندھ کی 168 ہوں گی۔ جنوبی پنجاب صوبہ کی صوبائی اسمبلی کی کل نشستیں 80 ہوں گی جن میں سے 64 جنرل، 14 خواتین اور 2 غیرمسلموں کے لئے ہوں گی۔آئین کے آرٹیکل 154 میں ترمیم کی جائے جس کے ذریعے نیشنل کمشن برائے نئے صوبہ جات تشکیل دیا جائے تاکہ حدود اور دیگر امور کا تعین ہوسکےآئین کے آرٹیکل 175اے میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ان نئے صوبہ جات میں پرنسپل سیٹس قائم کی جائیں آئینی ترمیمی بل میں کہاگیا ہے کہ 9مئی 2012کو پنجاب اسمبلی اپنی اپنی الگ قراردادوں متفقہ طورپر بہاولپور صوبہ اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی منظوری دے چکی ہے ان خطوں کے عوام اپنے صوبوں کے قیام کے لئے ایک عرصے سے اپنے مطالبے کے حق میں جدوجہدکررہے ہیں۔


ای پیپر