Purpose, task, world, people, Pakistan, world
28 فروری 2021 (12:15) 2021-02-28

ہوش سنبھالنے سے لے کر قبر کی پاتال میں اترنے تک انسان مال، اولاد، شہرت اور عزت کیلئے مارا مارا پھرتا ہے۔ جب تک جان بے جان اور روح پرواز نہ کر جائے اس وقت تک انسان اس حرص سے نہیں نکلتا۔ ہم میں سے اکثر انسانوں کی مثال اور کہانی اس بچے جیسی تو ہے جسے ماں یا باپ نے سودا سلف یا کوئی اور ضروری چیز لانے کے لئے گھر سے دکان یا بازار کی طرف بھیجا مگر وہ گھر سے نکلنے کے بعد راستے میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں اس قدر مشغول اور مصروف ہو گیا کہ وہ گھر سے آنے یا نکلنے کا مقصد ہی بھول گیا۔ ہم بھی اس دنیا میں یونہی تو نہیں آئے۔ ہمیں بھی آخر کسی نے کوئی کام، کوئی مقصد اور مشن دے کر بھیجا۔ آج مال، اولاد، شہرت اور عزت سمیت دنیا کے یہ دیگر کام تو ہم سب کو یاد ہیں لیکن افسوس، جس مقصد اور کام کے لئے ہم اس دنیا میں آئے وہ کام اور مقصدآج ہم میں سے اکثر کو یاد نہیں۔ ہم بھی اس بچے کی طرح اپنے مقصد اور کام کو بھول کر آج دنیا کے اس راستے اور بازار میں مال، اولاد، شہرت اور عزت پانے کے لئے آنکھ مچولیاں کھیلنے میں مصروف ہیں۔ اصل مقصد اور راہ سے بھٹکنا یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے آج ہم سب مارے مارے پھر رہے ہیں۔ آج ہماری زندگیوں میں چین ہے اور نہ سکون۔ چین اور سکون بھلا ہو بھی کیسے۔۔؟ راہ سے بھٹکنے والوں کیلئے بھی کبھی کوئی چین اور سکون ہوتا ہے۔؟ آج ہم دنیا کے بازار میں مال، اولاد، شہرت اور عزت کے سودے کر کے چین اور سکون تو تلاش کر رہے ہیں مگر جہاں حقیقی معنوں میں چین، سکون، قرار اور آرام ہے وہاں جانا ہی ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور اس ملک میں قائم یہ مساجد اور مدارس اسلام کے قلعے ہیں مگر افسوس ہم نے اسلام کے ان قلعوں کو یکسر بھلا دیا ہے۔ آج بازار، ناچ گانوں کی محفلوں اور میوزیکل نائٹ میں جانے کے لئے تو ہمارے پاس ٹائم بھی ہوتا ہے اور پیسے بھی لیکن اللہ کے گھر اور در میں حاضری لگانے کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ اللہ کے در اور گھر میں کتنا چین اور سکون ہے۔؟ یہ کوئی مسجد اور مدرسے میں جا کر دیکھیں۔ ہم تو رمضان، عید اور جمعہ والے لوگ ہیں۔ ہمیں ان مساجد اور مدارس سے کیا۔؟ ان دینی مدارس کی اہمیت اور قدر و قیمت تو کوئی مانسہرہ کے مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی جیسے علماء،  صلحاء اور اولیاء سے پوچھیں جو ہوش سنبھالنے سے لیکر اب تک اللہ کے ان گھروں اور دروں پر چوکیداری دیئے بیٹھے 

ہیں۔ مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بچپن سے جوانی اور پھر جوانی سے اب بڑھاپے تک انہوں نے اپنی ساری زندگی قال اللہ اور قال رسول اللہﷺ کی صدا بلندکرتے ہوئے گزاری۔ سو سے زائد کتابیں لکھنے کے ساتھ دین اسلام کی سربلندی کے لئے وہ کونسا کام اور اقدام ہے جو حضرت نے نہیں اٹھایا۔ تحریک ختم نبوتؐ ہو، عشق صحابہؓ ہو، مسئلہ قادیانیت ہو، آپ دین کی سربلندی کے لئے اسلام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنانے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آپ نے بین المذاہب ہم آہنگی اور ہزارہ سمیت ملک بھر میں امن کے قیام کے لئے بھی ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ گلگت سے کراچی اور چترال سے کشمیر تک ملک بھر کے علمائے کرام، سیاستدان، دانشور اور علمی حلقے آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں مولانا قاضی محمد اسرائیل گڑنگی کے درجنوں اور سیکڑوں نہیں ہزاروں شاگرد اور مرید ہیں۔ مانسہرہ میں آپ کا ایک بہت بڑا لڑکیوں کا مدرسہ ہے جس میں قوم کی درجنوں بیٹیاں خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہی ہیں۔ طالبات کی سند فراغت اور تعلیمی کورس مکمل کرنے کی وجہ سے دیگر دینی مدارس کی طرح اس مدرسے میں بھی ہر سال ختم بخاری شریف کے سلسلے میں ایک بابرکت اور پُر نور محفل و پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی جب قاضی صاحب نے اپنے مدرسے میں ختم بخاری شریف کے لئے پروگرام کا انعقاد کیا تو پروگرام سے ایک دن پہلے کال کر کے پروگرام کی یاد دہانی اور شرکت کی تاکیدکی۔ پروگرام چونکہ اتوار کو تھا اور اتوار کا دن ویسے بھی ہمارا نیند کے سائے تلے بستر پر گزرتا ہے اس لئے ہم نے اس موقع اور دن کو غنیمت سمجھ کر نا صرف قاضی صاحب سے وعدہ کیا بلکہ ہر حال میں جانے کا پکا ارادہ بھی کر لیا۔ ویسے اتوار والے دن کے پروگراموں، محفلوں، شادی بیاہ اور دیگر ناچ گانوں کی تقریبات پر نا صرف ہم ناک چڑھاتے ہیں بلکہ نہ جانے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ بھی ایڈوانس میں تراش لیتے ہیں لیکن پروگرام، تقریب یا محفل اگر دنیا نہیں دین کا ہو تو پھر ہم ’’یس سر‘‘ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ ختم بخاری شریف، ختم نبوت اور عظمت قرآن جیسی بابرکت پروگراموں، محفلوں اور تقریبات میں شرکت کو ہم کل بھی اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے اور ہم آج بھی اسے اپنے لئے آخرت میں نجات کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہماری تو دعا ہے کہ اس ابدی دنیا میں بھی ہمارا اٹھنا بیٹھنا قاضی اسرائیل گڑنگی جیسے اللہ والوں کے ساتھ ہو۔ خیر۔ اتوار والے دن جب ہم قاضی صاحب کے مدرسے جامعہ البنات صدیقہ کائنات اپرچنئی پہنچے تو برادرم مولانا طارق نعمان گڑنگی نے ہمارا استقبال کیا۔ مدرسے میں قرآن مجید فرقان حمید کے ننھے منے حافظوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ قرآن شریف کی یہ کتنی بڑی کرامت ہے کہ گیارہ اور بارہ سال کے بچوں نے اسے اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا ہے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے منکرین قرآن کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ میں خدا ہی اس قرآن کی حفاظت کرونگا۔ اللہ اکبر۔ انسان دنیا کی کوئی کتاب تو دور اس کے چند صفحے بھی ازبر یاد نہیں کر سکتا لیکن قرآن مجید کی جب بات آتی ہے تو وہ خدا بچوں کے سینوں میں بھی محفوظ کر لیتا ہے۔ قاضی صاحب کے مدرسے میں اس سال چار بچوں نے قرآن شریف کو حفظ کیا اور مزے کی بات یہ کہ چاروں بچوں کی عمریں پندرہ سال سے کم ہونگی۔ اس کے ساتھ جامعۃ البنات صدیقہ کائنات سے قوم کی پانچ بیٹیوں نے اس سال سند فراغت حاصل کی۔ اس روحانی محفل میں حفظ مکمل کرنے والے بچوں کی دستار بندی کے ساتھ بالائی منزل پر پردے میں قوم کی ان پانچ بیٹیوں کی چادر پوشی بھی کی گئی۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ ماں باپ جن کے بچوں اور بچیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے لئے قبول فرمایا۔ اس محفل میں جہاں قاضی صاحب جیسے کئی بلند پایہ خطباء کی وعظ و نصیحتوں کو سننے کا شرف حاصل ہوا وہیں مولاناقا ضی ارشد الحسینی اور مولانا قاضی خلیل احمد صاحب جیسے اللہ کے ولیوں اور بزرگوں کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔ اللہ کے گھر اور در پر سر جھکانے کا اپنا مزہ اور اللہ کے دوستوں اور مہمانوں کو دیکھنے میں اپنا ایک لطف ہے۔ ختم قرآن اور ختم بخاری شریف سمیت ایسے بابرکت دینی پروگراموں، محفلوں اور تقریبات کا واقعی اس دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں۔ ایسی محفلیں، ایسے پروگرام اور ایسی تقریبات یہ بلا کسی شک و شبہ کے دکھی دلوں کے لئے دوا بھی ہے اور دعا بھی۔ رب کریم سے دعا ہے کہ وہ حضرت قاضی اسرائیل گڑنگی صاحب سمیت دین کی سربلندی، اشاعت و ترویج کے لئے کام اور محنت کرنے والے تمام مسلمانوں کی قربانیوں اور کوششوں کو اپنے دربار میں قبول و منظور فرما کر ان دینی اداروں کو اس ملک میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی، کامیابی اور کامرانی نصیب فرمائے تاکہ ہمارے جیسے گنہگار بھی دین اسلام کے ان قلعوں سے فیض و روشنی حاصل کرتے رہیں۔ آمین ثم آمین


ای پیپر