PSL, PCB, scenes, state, Madinah, cricket, ceremony
28 فروری 2021 (12:09) 2021-02-28

ریاستِ مدینہ میں کرکٹ کی آڑ میں کیا مناظر پیش ہو رہے ہیں؟ یہ محض اتفاق تھا کہ اخبار میں پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں آتش بازی کی تصویر دیکھی۔ روشنیوں کے دائروں میں کورونا کا سرخ پھندنوں والا معروف دائرہ دیکھ کر متجسس ہوکر اصل خبر دیکھنے کو لیپ ٹاپ کھولا۔ سٹیڈیم میں یہ آتش بازی کا منظر تھا، مگر اس سے پہلے کے مناظر سارے آتشیں مخلوق (شیاطین) کی دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔ جس کورونا کی علامت کو دیکھنا چاہا تھا وہ پیچھے رہ گیا، اخلاقی کورونا میں لت پت لڑکے لڑکیاں رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں حیا کے چیتھڑے اڑانے پر مامور تھے۔ شہ سرخی تھی: ’فنکاروں نے ماحول گرما دیا۔‘ اسی گرمی نے تو سال پہلے اسی پی ایس ایل کے دوران کورونا بخار چڑھاکر انہیں قرنطینہ کی قید دی تھی۔ تب آخری مناظر میں اسی طرح حسینہ قتالہ کی رونمائی کی تصاویر وائرل ہوئیں۔ پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سال بھر کورونا کے تھپیڑے کھانے کے بعد حدیث میں مذکور اونٹ کی طرح نادان ہیں۔ جو یہ نہیں جانتا کہ مالک نے باندھا کیوں اور کھولا کیوں۔ افتتاحی پروگرام استنبول  میں ریکارڈ کیا گیا۔ ارطغرل ڈرامے کی فنکاراؤں جیسی (عام زندگی میں جو مغربی اداکاراؤں کو شرما دیں) لڑکیوں کی کھیپ رنگین روشنیوں میں لڑکوں کے ہمراہ تھرکتی کودتی خبر کے مطابق ماحول میں بجلیاں بھر رہی تھیں۔ یہ ایمان لیوا بجلیاں کسی مہذب آنکھ کے دیکھے جانے کے لائق تک نہ تھیں۔ چند لمحے ان مناظر کی جھلک میں بے یقینی اور صدمے سے بھری کیفیت میں جو دیکھا لب پہ آ سکتا نہیں۔ محو حیرت ہوں ’ریاست‘ کیا سے کیا ہوجائے گی۔ تا دیر رنج و الم میں ڈوبی کیفیت میں ملک بھر پر نظر دوڑاتی رہی۔ ا لیس منکم رجل رشید؟ کوئی ایک بھی لگام دینے والا نہیں؟ دینی جماعتوں کے اکٹھ اور ٹھٹھ، سینیٹ اور اسمبلیوں میں نمایندگی؟ یہ دیدہ دلیرانہ فحش کاری ’ولا تقربوا الفواحش‘ کے تناظر میں یوم مذمت کی متقاضی ہے، تاکہ آگے بریک لگے۔ ابھی تو مارچ میں مارچنیوں کو بھی آنا ہے۔

’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔‘‘ (النور۔ 19) کتاب اللہ کے اس حکم کا اطلاق اشاعتِ فاحش کے ان سبھی مناظر پر ہوتا ہے جو ملک بھر میں نشر ہوئے۔ قرآن اسے جرم قرار دے کر لائق تحسین نہیں لائق سزا ٹھہرا رہا ہے۔ کلمہ صرف پارلیمنٹ کی بلڈنگ کی پیشانی پر لکھ کر ریاست مدینہ نہیں بن جاتی۔ وزارت مذہبی امور کو اس پر صدر، وزیراعظم کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا کو آگ، عذاب النار سے بچانے پر مامور ہے۔ اے بندۂ مومن تو بشیری تو نذیری۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ، روشنی کے لیے جلائی، مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑکر کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔‘ (بخاری، مسلم)

ہمیں آج دنیا کو آگ سے بچانے کے مشن پر بحیثیت مسلمان مامور کیا گیا تھا مگر ہمارا نوجوان حرص وہوس کی جان و ایمان لیوا آگ بھڑکانے میں ناقابل برداشت، ناقابل یقین حیا سوز مناظر تخلیق کر رہا ہے۔ زبوں حال معیشت کا پیسہ اشاعت فحش کے مذموم مقاصد کے لیے پھونکا جا رہا ہے؟ ہر ایک لچر سی چیز کو کلچر کا نام دو، عریاں کثافتوں کو ثقافت کہا کرو۔ یہ کرکٹ کے نام پر جوئے، شراب، تھرکتا اختلاط، منشیات کا اکٹھ ہے۔ نوجوان نسل سے اخلاق وکردار اور اعلیٰ مقاصد کے لیے جینے کی امنگ چھین کر اسفل سافلین بنا دینے کی فیکٹریاں ہیں۔ پاکستان کو دین واخلاق سے عاری کرنے والے ہمارے سیکولر ماڈریٹ اپنے مغربی آقاؤں کا حال تو ذرا ملاحظہ فرما لیں۔ ان پر برستے عذابوں کے کوڑے اندھے کو بھی بینا کر دیں اگر شعور کی رمق بھی باقی ہو۔ المیہ تو یہ ہے کہ غلام پیشہ، احساس کمتری اور مغرب سے مرعوبیت کے مرض میں مبتلا طبقات ہی ازل سے ہمارے نام نہاد اشرافیہ ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں الحاد، دہریت اور کفریہ طرز حیات کو ترس ترس کر دیکھنا اور اس پر ریجھنا ذہناً مغلوب، شکست خوردہ بے شناخت ہونے کی بنا پر ہے۔ فکر وفہم کی صلاحیتیں زنگ آلود ہوکر نری نقالی باقی رہ گئی ہے۔ قوم کے اس حال کو پہنچنے کی ذمہ داری ایک طرف حکمرانوں پر اگر عائد ہوتی ہے تو دینی جماعتیں بھی اس ذمہ داری میں برابر کی شریک ہیں۔ ارطغرل کے ’’ڈرامائی جہاد‘‘ کو جواز بخشنے اور رمضان المبارک کی بیش قیمت راتیں اس میں جھونکنے پر خاموشی یا صرفِ نظر نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں۔ یاد رہے کہ اس حیا سوز تقریب کا اہتمام استنبول میں انہی حیا باختہ اداکاروں، اہتمام کاروں کا مرہون منت ہے۔ زمانے کی رو میں نسلیں تنکے بن کر بہی چلی جا رہی ہیں اور ہم صرف علماء کے جنازے پڑھ رہے ہیں۔ سزا ہی مسلط ہے ہم پر کہ اللہ بہترین لوگ واپس بلا رہا ہے۔ ہم محروم کیے جا رہے ہیں اور پیچھے یہ کچرا طوفانِ بے حیائی بپا کیے جا رہا ہے۔ قوم کا باشعور طبقہ ٹک ٹک دیدم کی تصویر بنا خاموش بیٹھا ہے۔ حق کے لیے کہنا اچھا … کوئی اور کہے تو اور اچھا۔ نہی عن المنکر، کرکے برا کیوں بنیں۔ معاشرہ اب اسے خلاف اخلاق سمجھتا ہے۔ برائی پر خاموش رہنا اعلیٰ اخلاق بنا دیا گیا ہے۔ روکنے ٹوکنے والا تہذیب سے عاری، بدو جانا جاتا ہے۔

جس دنیائے کفر سے احکام وصول کرتے ہم نے یہ دن دیکھے ہیں وہ کورونا کے تھپیڑوں سے ابھی سنبھلا بھی نہ تھا کہ موسمیاتی میزائلوں کی زد میں آگیا۔ خود کہہ رہے ہیں کہ ’ہم قدرت کے اس قہر وغضب کے لیے بالکل تیار نہ تھے۔‘ امریکا کی 34 ریاستیں برفاب بارشوں، برفانی طوفانوں کی لپیٹ میں ہیں۔ ٹیکساس، امریکا کی دوسری سب سے بڑی ریاست، (تین کروڑ کے لگ بھگ آبادی جو اصلاً گرم علاقہ ہے) غیرمعمولی طور پر برف کی لپیٹ میں ہے۔ لوگوں کے پاس گرم کپڑے یا اس موسم کے لیے ڈھلا نظام موجود نہیں۔ ریکارڈ کم درجۂ حرارت نے غیرمتوقع قیامت کھڑی کردی ہے۔ بجلی سے محروم، صاف پانی سے محروم، غذائی کمی کا سامنا، گرتے درخت، راستے سڑکیں مسدود، برف جمنے سے پھٹتی پائپ لائن، اور کہیں برف کے بوجھ تلے گرتی چھتیں ہیں۔ سڑکوں پر شدید پھسلن کے باعث درجنوں گاڑیاں جا بجا حادثات کا شکار۔ انسانیت کو زخم زخم کرکے جنگوں سے بھسم کرنے والا امریکا اپنی سفاک سردمہری پر برف پھانک کر ٹھٹھرا پڑا ہے۔15 کروڑ امریکی بنیادی شہری سہولیات سے محروم پتھر کے زمانے میں جا پڑے ہیں۔ بجلی نہ ہونے سے گھروں میں آگ جلانے سے آگ بھڑکنے کے لاتعداد واقعات، کاربن مونو آکسائڈ چڑھ جانے سے اموات۔ لوگ پوچھ رہے ہیں آپس میں: کیا یہ واقعی امریکا ہے؟ (نہیں یہ افغانستان ہے یا شام اور فلسطین ہے!) صدر بائیڈن روتے دھوتے ٹیکساس کے عوام کو تسلی دے رہے ہیں: ’ہم ٹیکساس اوکلا ہوما کے لیے دعائیں کررہے ہیں!‘ بعض علاقے وہ ہیں جو چھ ماہ پہلے آنے والے سمندری طوفانوں سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ ناگہانی برفوں نے آلیا۔ کورونا پس منظر میں چل رہا ہے۔ سردی یوں بھی اسے زیادہ سازگار ہے۔ اربوں ڈالر کا معاشی ٹیکا مزید لگا ہے ایک ایک بڑی ریاست میں۔ عذاب اور کسے کہتے ہیں؟

 کورونا کا دیا معاشی خسارہ بھی کم تو نہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں25 لاکھ اموات اور11 کروڑ متاثرین بنا ڈالنے والا کورونا کوک کے ایک کین میں فٹ آسکتا ہے۔ اربوں کی زندگی تلپٹ کر ڈالی۔ برطانیہ میں اس کا مزید نیا ماڈل ’کینٹ‘ (Kent) وائرس70 فیصد زیادہ متعدی اور30 فیصد زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ ہر آن یہ چولے بدل بدل کر (Mutate ہو کر) آ رہا ہے۔ اس پر کام کرنے والے ماہر پی کاک نے کہا: اس کے خلاف جنگ ایک لمبا پراجیکٹ ہو گا، ہمیں سالہا سال اس کا پیچھا کرنا ہوگا۔ نہتا کورونا اور نہتے افغان امریکا نیٹو کی جان کے لاگو چھکے چھڑا رہے ہیں ان کے۔ بائیڈن طالبان کے ساتھ معاہدے پر اب گومگو میں ہے۔ اپنی مجروح (امریکی) انا کے ہاتھوں امن معاہدے سے نکلنے کے چکر میں ہے۔ بیس سال افغانستان کے پہاڑوں کی خاک پھانک کر، تابوت، معذور اور پاگل یا خودکشیاں کرتے فوجی وصول کرکے بھی دوبارہ اسی سوراخ میں ہاتھ ڈالنے کی خواہش باقی ہے! جہاندیدہ عمر رسیدہ بائیڈن سے ٹرمپ زیادہ سیانا تھا جو امریکا کو ذلت سے بچاکر مذاکرات کی میز پر سے نکال لے جانے کا سودا کر گیا تھا۔ دوبارہ اوکھلی میں سر دینے کا ارادہ ہے تو امریکا جان لے کہ: دنیا نہیں مردانِ جفا کش کے لیے تنگ… اب تو یوں بھی افغانستان کے اصل حکمران طالبان ہی ہیں، کابل میں محصور امریکی سائے تلے اشرف غنی نہیں!


ای پیپر