Powerful people, politicians, union, differences, Pakistan, world
28 فروری 2021 (12:03) 2021-02-28

ازل سے یہی اصول ہے کہ جب تک نظام نہیں بدلے گا ہم عوام کولہو کے بیل کی طرح ’’پڑ‘‘ میں آنکھوں پر پٹی باندھے اس میں جتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ زندگی کا کچھ سفر تو کٹا لیکن پٹی کھلتی ہے تو وہیں کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا لیکن کچھ سیکھنے یا مزاحمت کے بجائے اگلے دن پھر اسی کولہو کے گرد سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں، حکمران بدلتے ہیں ظالم ظالم رہتا، مظلوم مظلوم رہتا، طاقتور طاقتور ترین بن جاتا، کمزور کمزور ترین بن جاتا۔ طاقتوروں کے جرائم مشغلہ اور کمزور کی مجبوری جرم بن جاتی ہے۔ طاقتور طبقہ لکیر کے جس طرف بھی ہو لیکن ان کا مفاد ایک ہوتا ہے اور مظلوم جس بھی طبقے سے ہو لکیر کی دوسری طرف ہی ہوتا ہے۔ طاقتور تمام اختلافات کے باوجود مفاد پر اکٹھے ہو جاتے ہیں یہی ان کی کامیابی کا راز اور مظلوم نام نہاد نظریات کی خاطر ٹکڑوں میں بٹے ہونے کی بنا پر ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔

طاقتور سیاسی طبقہ دشمنی کی حد تک نام نہاد نظریاتی اختلافات کے باوجود سینیٹ میں کامیابی کی مٹھائی کے لے پنجاب میں اکھٹا ہو جاتا ہے اور ان کی خاطر تن من دھن کی بازی لگانیوالے ہکا بکا رہ گئے۔ ظالم طبقے نے جب اس بندر بانٹ کو جمہوریت کی فتح قرار دیا تو ایک لمحہ کے لئے ان کے نام نہاد نظریات کی خاطر آپس میں دست و گریبان ورکرز کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان سے ہٹ گئے۔ لیکن جب ان کی اس ڈیل کو جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا تو وہ پھر آپس میں پھر سے گتھم گتھا ہو گئے۔

یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بظاہر ایک دوسرے کے جانی دشمنوں نے سینیٹ کی چند سیٹوں کی بندر بانٹ کی خاطر ان کے خون پر سمجھوتا کیسے کر لیا۔ جہاں اس اشرافیہ کا اپنا مفاد ہو گا وہاں غلط کو بھی صحیح ثابت کرنا یہ بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھتے ہیں۔ یہ جمہوریت کا حسن نہیں منافقت کے معجزے ہیں جو اپنے مفاد کیلیے برپا کیے جاتے ہیں۔

ایسے معجزے صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے کیوں کیے جاتے ہیں۔ عوام کی جب باری آتی ہے تو اپنے مفاد کے لیے انہیں تقسیم در تقسیم کیوں کیا جاتا ہے۔ آخر جمہوریت کا جو حسن پنجاب میں دکھایا گیا ہے وہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختوخوا میں کیوں گہنا گیا۔ اس لیے کہ وہاں ظالم طبقے (حکومت اور اپوزیشن سمیت) کا مفاد تھا۔

میری اطلاعات کے مطابق سینیٹ انتخابات سے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے بھی کروڑوں میں کھیلے ہیں اور بلوچستان سے ایک امیدوار کو7 کروڑ ملے ہیں۔ باقی کم سے کم سودا کاری بھی ایک کروڑ رہی ہے۔ اصل میں سب دھندا ہے پر گندا ہے۔

ہم میں سے کچھ لوگ ان کی صفوں میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ٹاٹ میں مخمل کا پیوند نہیں سجتا۔ اسی لیے فیصل واوڈا، سیف اللہ ابڑو اور عبدل قادر کے کاغذات منظور اور پرویز رشید کے مسترد ہو جاتے ہیں۔ پرویز رشید ہے تو کامریڈ لیکن وہ بھی ریچھ بننے پر مجبور ہو گیا اور کچھ ’’اشاروں‘‘ کے بعد اپنی نااہلی اگلی عدالت میں چیلنج نہیں کی۔

ہم تو اس نام نہاد اشرافیہ کے ہاتھوں اپنے خون کے دھبے بھی خود صاف کر دیتے ہیں کہ مبادا کھرا قاتل کے گھر نہ پہنچ جائے۔ اور ہم مجبوری میں سستے داموں اپنا خون بیچنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

کشمالہ طارق کے بیٹے کی تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے چار لوگ بے گناہ مر جائیں تو پی ڈی ایم سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں تک سب کو سانپ سونگھ جاتا، جماعت اسلامی بھی چپ سادھ لیتی ہے۔ مریم اورنگ زیب، ڈاکٹر شہباز گل، شبلی فراز، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب اور ان کی قبیل کے لوگ ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے پر گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختے ہیں لیکن ان چار افراد کے قتل پر خاموش ہیں کیونکہ کشمالہ چاہے فی الوقت کوفے میں ہے لیکن اس کا قبیلہ تو انہی اشرافیہ کا ہی ہے۔ کشمالہ کے پاس ان چاروں مقتولین کا خون خریدنے کی سکت تھی سو خرید لیا۔ ذرا ان والدین کی مجبوری کا اندازہ لگائیں جنہوں نے اپنی بھوک کی خاطر اپنے جگر گوشوں کا خون بہا لے لیا اور یہ بھی جاننے کی کوشش نہ کی کہ جس نے ان کے چار پیاروں کی جان لی اس کے پاس لائسنس بھی تھا کہ نہیں؟

لاہور سے یسریٰ چودھری لکھتی ہیں

ایک خبر نظر سے گزری کہ کشمالہ طارق صاحبہ اور مقتولین میں صلح نامے پر دستخط ہو گئے ہیں، اس خبر کے بعد سب سے پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ مقتولین کو کچھ دے دلا کر معاملہ رفع دفع کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سر بر برہنہ ہے کہ کمزور کیخلاف آپکی ریاست طاقتور کیساتھ کھڑی ہے اور ایسے کئی واقعات بزور طاقت بھلے وہ طاقت دولت کی ہو یا پھر اسلحہ یا اثر و رسوخ کی دبا دیا جاتا ہے، ہینڈل کر لیا جاتا ہے۔

کمزور کی اس ملک میں کوئی نہیں سنتا، اس کے کیس کی تو پیروی تک نہیں کی جاتی، معاملہ جان کا، مال کا ہو، چھوٹے موٹے پلاٹ کا ہو، آپ کو ذلیل و خوار ہوتے ہوتے بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے اور ہمارے یہ سیاست دان ایسا کوئی قانون بننے ہی نہیں دیتے جس سے عام آدمی کے حقوق کا تحفط ہو۔

ظاہر ہے کہ حکومت وقت اگر شہری کے جان و مال کا تحفظ کرے اور کیس کی پیروی کرے تو کل جب وہ اپوزیشن میں ہوں گے تو ان کی اولادیں بھی اسی قانون کی زد میں آنے کا اندیشہ ہو گا، یہی وجہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر ایک دوسرے کے خلاف بڑھ بڑھ کر بڑھکیں مارنے کے بعد ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے ہوئے ایک دوسرے کی پارٹیوں کے اندر کے حالات ڈسکس کرتے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کس پارٹی میں رہنا زیادہ مفید ہے۔

پولنگ سٹیشن پر لڑنے اور ایک دوسرے کا سر پھاڑ دینے والے سادہ لوح عوام نہیں جانتے کہ جو پارٹی بھی جیتی کوئی نہ کوئی بھائی تو حکومت ہی میں ہو گا۔ اگر ایک ہی خاندان کے دو بھائی مختلف پارٹیوں میں ہو کر بھائی ہی رہتے ہیں تو عوام گتھم گتھا کیوں ہے؟

مگر یہ بات ایک ایک جتھا پرانی پارٹیوں سے توڑ کر پی ٹی آئی بنا دینے کو تبدیلی سمجھنے والی عوام کی سمجھ میں کیسے آئے گی، پھر نتیجتاً عمر بھر سیاست میں جھک مارنے والا چین سموکر، ریلوے کا بیڑا غرق کرنے کے بعد وزیر داخلہ کے عہدے پر بیٹھ کر عوام کو دھمکیاں بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی سیاست دان یا پھر انکی اولادیں عوام کو کچل کر مارنے کے معاملے کو فائل بُرد کر سکتے ہیں۔ خدا نے اس قوم کو بڑا حوصلہ اور ناقابلِ پیمائش برداشت عطا کی ہے۔ یہ سب کچھ بھول بھال کر مولانا طارق جمیل کو موضوع بحث بنائے بیٹھی ہے کہ خدانخواستہ ابھی اس سے بڑا حادثہ نہیں گزرا۔ یسریٰ جی! چاہے تلخ ہے لیکن حقیقت یہی ہے برداشت کر کے جیو کیونکہ اور کوئی چارہ بھی نہیں بے چارے عوام کے پاس۔


ای پیپر