ختم ہو رہی زبانیں!
28 فروری 2020 2020-02-28

میلے اور مجمعے بھلے لاہور اور کراچی میں ہوتے ہوں لیکن اسلام آباد کے میلے خواہ ادبی ہوں یا سیاسی، ان کو ہمیشہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اب تو یہ رسم چلی ہے کہ سیاسی احتجاج بھی تب پراثر ہوتا ہے جب اسلام آباد میں ہو۔دسمبر سے مارچ تک سندھ کا دارالحکومت کراچی اور صوبے کے دوسرے شہر وں میں ادبی اور ثقافتی میلوں کا موسم ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ آٹھ دس سال سے چل رہا ہے۔ جس طرح سے صوبے کے کسی شہر میں احتجاج کو اہم نہیں مانا جاتا اسی طرح باقی شہروں کے ان ادبی اور فکری مجمع کو بھی لفٹ نہیں کرائی جاتی۔ گزشتہ ہفتے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے نے بھی رنگ دکھایا۔ میلے کی اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر شفقت محمود بھی آئے، انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مادری زبانوں کی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے ایک اہم وزیر کے اس اعلان سے لگا کہ میلے کے منتظمین کی محنت کا کچھ تو صلہ ملا، کہ مادری زبانوں کی ایک حد تک وجود کو تسلیم کیا گیا۔

بعض لوگوں کی علمیت پر شک ہوتا ہے جنہیں نہیں معلوم کہ پاکستان میں ابھی تک زبانوں اور ثقافتوں کی کتنی رنگا رنگی ہے۔ ہمارے ملک کے گلدستے میں 72 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن کا اپنا ادب، محاورے اور دانش ہے۔ ان میں سے کم از کم 12 زبانوں کے لوگ اور ان پر بات کرنے والے موجود تھے۔ میلے کے چیف آرگنائزر نیاز ندیم نے اپنی لکھنے پڑھنے کا آغاز حیدرآباد میں صحافت سے کیا، اس کے بعد ریڈیو پاکستان سے ہوتے ہوئے آگاہی پیدا کرنے والے اداروں تک پہنچے۔ اس پورے سفر میں انہوں نے یہ سیکھا کہ جب تک سرگرمی نہیں ہوتی، مکالمہ نہیں ہوتا، معاشرے کو مثبت رخ میں نہیں لے جایا جاسکتا۔ ان کی ٹیم میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی موجودہ ڈائریکٹر جنرل فوزیہ سعید اور اسلام آباد کے کئی اہل دانش و فکر لوگ شامل ہیں۔ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے مادری زبانوں کا میلہ منعقد کر رہے ہیں۔

اس مرتبہ میلے میں ملک کی بعض بڑی زبانوں اردو، سندھی، بلوچی، پشتو، پنجابی، سرائیکی کے مختلف پہلوئوں اور ان کے مسائل پر بات ہوئی۔ تین روز تک جاری اس میلے کی کئی نشستیں تھیں۔ اس کے علاوہ ہندکو، ہزارگی، شینا، ڈھاٹکی ، براہوی سے متعلق بھی سیشن ہوئے۔ سندھی ،سرائیکی اوربلوچ مختلف نشستوں میں باہر کے ماحول میں زیادہ سرگرم نظر آئے۔ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے۔ انہیں یہ احساس تھا کہ اسلام آبا میں بھی ان کی اہمیت ہے، ان کی بات، ان کی زبان کو سنا جارہا ہے۔ شمولیت اور شرکت کا ایک احساس تھا، جو باقاعدہ محسوس کیا جارہا تھا۔ یہ لوگ اپنی زبان کے تحفظ اور ترقی کے لئے موجود تھے۔

دنیا میں کل 206ممالک میں چھ ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یعنی ہر ملک میں کئی زبانیں موجود ہیں۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ درجن سے زائد زبانیں ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔

جب انسان ایک زبان کھو دیتا ہے تو وہ ادب، فن، موسیقی اور روایات کی کثیر رنگی کو کھوتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کیا سروانٹیز ایسی کہانیاں لکھ پاتا اگر اسے مجبور کیا جاتا کہ وہ اسپینی کے علاوہ کسی زبان میں لکھے؟ ہر دو ہفتے بعد ایک زبان مر رہی ہے۔ دنیا میں ایک تہائی زبانوں کے صرف ایک ہزار بولنے والے بچ گئے ہیں۔ ایک زبان کے ختم ہونے سے ہم اظہار، بات کرنے کے طریقے، علامات اور شناخت سے محروم ہورہے ہیں ہر زبان میں پیار، محبت، دکھ، غصے یا کسی اور جذبے یا کیفیت کا اظہار الگ الگ ہوتا ہے، اور اسکی اپنی گہرائی ہوتی ہے۔ کسی ایک زبان کے جذبے یا کیفیت کو کلی طور پر دوسری زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

پاکستان میں زبان کا سوال روز اول سے رہا ہے۔ کیونکہ یہاں کثیر رنگی اور اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ بنگالیوں کی اکثریت کے باوجود ان کی زبان کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یوں زبان کا معاملہ سیاسی بن گیا۔ بنگالیوں نے وقت کے حکمرانوں کی اس پالیسی کی مخالفت کی۔ اور زبان کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اکیس فروری 1952 میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے دنیا کے پہلے زبان کے شہید کہلائے۔ جس کو اقوام عالم نے بھی تسلیم کیا اور اکیس فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ اقوام عالم نے تو یہ بات تسلیم کرلی لیکن ہم اپنے ملک میں اس تجربے سے کوئی سبق لینے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ چند ہفتے پہلے خبر تھی کہ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں یکساں نصاب ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسی یکسانیت جس میں دوسرے کسی کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ایسی یکسانیت ون یونٹ بنا کے مساوات کے ذریعے ہم بھگت چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کوئی اگر سندھی، بلوچی یا کوئی اور زبان بول کر کہتا ہے کہ وہ پاکستانی ہے، تو ہم کون ہوتے ہیں کہ محض زبان کی وجہ سے اس کو غیرپاکستانی کہیں یا بنائیں؟ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم مکمل طور پر صوبائی اختیار ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ وفاقی حکومت ہر ایک کو اپنی اپنی زبان، ثقافت کے ساتھ پاکستانی تسلیم کرے بلکہ انہیں اس کی یہ شناخت برقرار رکھنے میں مدد دے۔ جو زبانیں کمزور ہیں یا جن کی اپنی رسم الخط ابھی تک نہیں ہے، ان کو رسم الخط دینے اور ترقی دلانے میں مدد کرے۔ اس سے نہ اردو کو خطرہ ہے نہ ملک کو۔

زبانوں کے اس میلے میں مختلف ماہرین اور مفکرین نے کئی نئی باتیں بیان کیں۔ پتہ چلا کہ ہندکو علاقے میں رسم الخط کے معاملے پر کچھ لوگ ایک دوسرے کے خلاف عدالت میں چلے گئے ہیں۔زبان جو خود مکالمے یا افہام تفہیم کا ذریعہ ہے اس کو نہ لڑائی جھگڑے سے اور نہ کورٹ کچہری کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کے ایک بزرگ دانشور نے بتایا کہ عربی دنیا کی کم عمر زبان ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک وسیع خطے میں بولی جاتی ہے اور اس کو کوئی خطرہ نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ افسانہ نویس بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دور حکومت میں بلوچستان میں بولی جانے والی اہم زبانوں بلوچی، براہوی، پشتو، سرائیکی اور سندھی میں نصابی کتب شائع کی گئیں، اوران تمام زبانوں کی ترقی و ترویج کے لئے قائم ادارے کی گرانٹ میں دس گنا سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا۔ لیکن اب حکومت نے وہ نصابی کتب واپس منگوا لی ہیں اور ان کے مزید ایڈیشن شائع کرنا بند کردیئے ہیں۔

اس معاملے پر یقینا مختلف لوگوں کے ذہنوں میں سوالات تھے کہ مادری زبان کے معاملے پر پنجاب اتنا پرجوش کیوں نہیں ہے؟

میلے میں ایک سیشن زبانوں کی آئینی حیثیت کے حوالے سے بھی تھا۔ اس نشست میں باقی تینوں صوبوں کے سیاسی نمائندگان موجود تھے لیکن پنجاب سے کوئی نہیں آیا۔ پروگرام کے مطابق نواز لیگ کے سنیٹرپرویز رشید اور پی ٹی آئی کے سنیٹر شبلی فراز نے دعوت قبول کی تھی۔ بات چیت کے دوران پیپلزپارٹی کی سسئی پلیجو، افراسیاب خٹک، اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سینیٹ میں قومی زبانوں کے حوالے سے پیش کردہ بل کی کہانی سنائی کہ کس طرح سے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بعض سیاسی جماعتوں اور حلقوں نے خوامخواہ خدشات اور تحفظات دکھائے، بڑی کوششوں کے بعد کمیٹی سے بل منظور ہو گیا۔ اب حکومت پر ہے کہ سنیٹ اور قومی اسمبلی سے یہ بل منظور کراتی ہے۔ بلکہ اس میلے کے شرکاء اور اکابرین کا بھی یہ موقف تھا کہ پارلیمان کو فی الحال ان زبانوں کا بل منظور کر لینا چاہئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ حکمران جماعت کے نمائندے وفاقی وزیر شفقت محمود آئے تو انہوں نے قانون سازی اور اداراتی عمل سے ہٹ کر مادری زبانوں کی کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کردیا۔


ای پیپر