دو سیاسی ستارے، دو مدمقابل، دو خوف
28 فروری 2020 2020-02-28

پاکستان کی سیاست میں مریم نواز اور بلاول بھٹو دو ایسے نام ہیں جو اپنا مضبوط سیاسی مستقبل رکھتے ہیں لیکن یہی دو نام سیاسی مدمقابل اور سیاسی خوف کی دو علامتیں بھی ہیں۔ آئیے مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ان تینوں پہلوئوں پر باری باری نظر ڈالتے ہیں۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کو مستقبل کے سیاسی ستارے کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ہی وہ دو سیاسی جماعتیں ہیں جو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی زیادہ سیاسی فالوورز اور زیادہ ووٹوں کے باعث بڑی سیاسی جماعتیں کہلانے کا حق رکھتی ہوں گی۔ مسلم لیگ ن میں نواز شریف کی بڑھتی عمر اور بیماری کے باعث شہباز شریف کے کندھوں پر قیادت کی ذمہ داری آتی تھی لیکن نواز شریف کے برعکس ان کا دو کشتیوں میں سوار ہونے کا مزاج انہیں عوام اور ہم عصر سیاست دانوں میں مشکوک کرگیا ہے۔ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز عرصے سے عملی سیاست میں ہیں۔ وہ اسمبلیوں کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں لیکن حمزہ شہباز بھی اپنے والد کی طرح تایا نواز شریف کی گدی سنبھالنے کے لیے عوامی امنگوں پر پورے اترتے نظر نہیں آتے۔ البتہ شہباز شریف کے دوسرے بیٹے سلمان شہباز گفتگو کی چالاکیوں، بیانات کی تیز طراریوں اور فوکس بات چیت کرنے کی فطری صلاحیت کے باعث حمزہ شہباز سے زیادہ سیاست میں اپنا مقام بناسکتے ہیں لیکن اب تک عملی سیاست میں نہ آکر وہ اتنا سیاسی وقت ضائع کرچکے ہیں کہ اس کی ریکوری آسان کام نہیں ہوگا۔ شریف فیملی کی سیاست کے اِن ورثاء میں نواز شریف کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز کاروباری معاملات کے علاوہ اپنے والد نواز شریف کے خلاف مقدمات کو زائل کرنے کے لیے مختلف کارنرز سے لابنگ کرنے اور مددگار دستاویزات تیار کرنے کے علاوہ کسی کام کے نہیں ہیں۔ حسین نواز کا مزاج اور گفتگو کا لہجہ سیاسی وارث سے زیادہ کاروباری وارث کا ہے جبکہ حسن نواز کے مزاج اور سیاسی گفتگو کے لہجے میں سلمان شہباز کی طرح سیاسی رعب کا دم خم موجود ہے لیکن وہ بھی اپنے کزن سلمان شہباز کی طرح اب تک عملی سیاست میں نہ آکر سیاسی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی اِن اولادوں میں مریم نواز نے بہت کم وقت میں جو سیاسی مائیلج حاصل کی ہے وہ شریف خاندان کی سیاسی وراثت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے علاوہ مریم نواز مسلم لیگ ن کے کسی حد تک مزاحمتی مزاج کے قائد نواز شریف کی تربیت پر بھی پوری اتری ہیں۔ عموماً مزاحمتی مزاج ہی عوام اور ووٹروں کو اپنی طرف آسانی سے متوجہ کرلیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل نہیں ہوگا کہ اگر مسلم لیگ ن خارجی سازشوں اور دبائو سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر بچ نکلی تو اس جماعت کی مستقبل کی لیڈر مریم نواز ہی ہوں گی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی مستقبل کی قیادت کا معاملہ مسلم لیگ ن سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ایسے کہ پیپلز پارٹی کے اندر سیاسی وراثت کا کوئی مقابلہ نہیں ہے کیونکہ

بلاول بھٹو عملی سیاست میں آنے کے بعد بلاشرکت غیرے پیپلز پارٹی کے قائد طے پاچکے ہیں۔ بیشک آصف علی زرداری نے ناقابل تسخیر سیاسی ذہانت کے باعث بلاول بھٹو کو جس طرح عملی سیاست میں پلانٹ کیا اور کامیاب بنایا یہ جہاں آصف علی زرداری کا ہی خاصہ تھا وہیں پیپلز پارٹی کے سیاسی مزاج کابھی حصہ ہے۔ یہ جماعت اپنے قائد کو قبول کرنے میں زیادہ نکتہ چینی نہیں کرتی بلکہ اعلان ہونے کے بعد قیادت کو دل و جان سے قبول کرلیتی ہے۔ اس طرح بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے لیے خاندان اور پارٹی کے اندر سے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ جہاں پاکستان کے مستقبل کی سیاست میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اہم کردار ہوگا وہیں مریم نواز اور بلاول بھٹو پاکستان کے سیاسی مستقبل کے دو اہم ستارے ہوں گے۔ اب اِن دو ستاروں کے دوسرے پہلو پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے یہ دونوں سیاسی ستارے آپس میں مدمقابل بھی ہیں۔ یعنی یہ دونوں جماعتیں پاکستان کی سیاست کو اپنے نام کرنے کے لیے مستقبل میں خوب ہاتھ پائوں ماریں گی جس کا فطری ردعمل یہ ہوگا کہ مریم نواز اوربلاول بھٹو آمنے سامنے ہوں گے۔ اس فطری ردعمل کی ہلکی سی جھلک گزشتہ دنوں بلاول بھٹو کے اُس بیان سے دیکھی جاسکتی ہے جس میں انہوں نے نواز شریف کو بھی عمران خان کی طرح کا سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ دیا تھا۔ جہاں یہ بیان ن لیگ کو برا لگا وہیں مستقبل کی پیشین گوئی بھی کرگیا کہ کسی بھی نئے سیاسی مقابلے میں بلاول بھٹو اور مریم نواز ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے مدمقابل کو شکست دینا ضروری ہوتا ہے۔ دیکھنایہ ہے کہ یہ دونوں مدمقابل نوے کی دہائی کی سیاست کی گندگی اور ایجنٹی کو دوبارہ سے اپنی سیاست کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا میچور سیاسی اور جمہوری اصولوں پر ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہماری سیاست میں خارجی سازشیں اور دبائو کشش ثقل سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے اس لیے مریم نواز اوربلاول بھٹو کو نوے کی دہائی کی گندگی اور ایجنٹی سے بچنے کے لیے غیرمعمولی جمہوری طاقت اور بے پناہ سیاسی بردباری کی ضرورت ہوگی۔ مریم نواز اوربلاول بھٹو سے جڑا تیسرا پہلو خوف کا ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی قیادت کے بارے میں خوف ایک دوسرے کے حوالے سے بھی ہوگا اور خارجی طاقتوں کو بھی لاحق ہوگا۔ مریم نواز کی قیادت کا خوف مسلم لیگ ن کے اندر بھی ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی اس خوف سے کسی قدر محفوظ رہے گی کیونکہ مسلم لیگ ن کے اندر مریم نواز کے مدمقابل کئی درپردہ امیدوار ہیں۔ مریم نواز کی کامیابی ان سب کی شکست ہوگی۔ اس کے علاوہ مریم نواز سے پیپلز پارٹی کو بھی خوف لاحق ہوگا۔ یہ خوف مریم نواز کے انتخابات جیتنے سے زیادہ ایک خاتون کا ملکی رہنما بن جانے کا ہے کیونکہ اب تک یہ اعزاز صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے کہ بینظیر بھٹو کی صورت میں ملک کو ایک خاتون وزیراعظم ملی۔ اس اعزاز کو بلند رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی والے عموماً محترمہ فاطمہ جناح کو بھی ایک حد سے آگے ڈسکس نہیں کرتے۔ لہٰذا وہ مریم نواز کو یہ اعزاز حاصل کرنے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ مریم نواز نے اپنی اب تک کی مختصر سیاسی زندگی میں جو مزاحمتی مزاج ڈویلپ کیا ہے اُس سے خارجی عناصر کو ہروقت دھڑکا لگا رہے گا۔ بلاول بھٹو کی سیاست پر گرپ پیپلز پارٹی کے مضبوط پارٹی سٹرکچر اور مخلص ایکٹو کارکنوں کی وجہ سے ہے۔ اس کے برعکس مریم نواز کی گرپ نواز شریف کے مزاج کو آگے بڑھانے اور خود مریم نواز کے ذاتی فطری سیاسی اوصاف کے باعث ہے۔ مریم نواز کی سیاست میں ان کی والدہ کلثوم نواز کی بردباری بھی شامل ہوگی۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کو لے کر سب سے بڑا خوف دوسروں کو ہوگا اور وہ خوف مریم نواز اور بلاول بھٹو کی سیاسی میچورٹی اور جمہوریت پر یقین کا ہوگا۔ لہٰذا مریم نواز اوربلاول بھٹو دونوں بڑی پارٹیوں کے سربراہ ہوں گے، دونوں وزرائے اعظم کی اولادوں میں سے ہوں گے، دونوں بچپن سے سیاست کو براہِ راست دیکھتے آرہے ہوں گے۔ لہٰذا جہاں یہ دونوں پاکستان کے مستقبل کے سیاسی ستارے ہوں گے وہیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے اور ان سے کچھ خوف بھی جڑے ہوں گے۔


ای پیپر