اسلام میں طہارت اور حلال کا تصور اور کرونا وائرس
28 فروری 2020 2020-02-28

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اس بات پر صرف فخرہونا چاہیے کہ ہم ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جس کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہی نہیں ہمیں اس بات پر کروڑہا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہ صرف مسلمان پیدا کیا بلکہ اپنے محبوب پیارے نبی خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا جو بلاشبہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

اسلام نے قرآن اور سنت کے ذریعے جو تعلیمات ہم تک پہنچائی ہیں وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اسلام دنیا کا وہ خوبصورت مذہب ہے جو عبادات سے لے کر طہارت تک، معاشرت سے لے کے معیشت تک، گھر سے لے کر کاروبار تک اور امن سے لے کر دفاع تک ہر چیز میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ دنیا بھر کے سائنس دان ایڑی چوٹی کا زور لگا کر جب کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو وہاں پہلے سے ہی ان کی رہنمائی کے لیے سنت نبویؐ موجود ہوتی ہے۔ سائنس ہو، معیشت ہو یا فلسفہ، اقدار ہوں اطواریا تاریخ ہرپہلو پر ہمیں خوبصورت معلومات کا ذخیرہ ملتا ہے۔ غیر مسلم لاکھ مسلمانوں کو انتہا پسند کہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا ان کو جب بھی کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اسلام کی کوئی نہ کوئی خوبصورتی اپنا معجزہ لیے ان کے سامنے کھڑی ہوتی ہے پھر چاہے وہ آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ ہو جو مسلمانوں کی نماز استسقا ادا کرنے سے بجھ جائے یا پھر چین میں پھیلنے والے انتہائی خطرناک کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر ہوں جن میں دن میں تین بار اچھی طرح منہ ہاتھ دھونا یعنی وضو کرنا اور حلال کھانا لازم ہے۔ صدقے جائوں اپنے دین کے جس نے دن میں پانچ بار وضو کرنا لازم قرار دیا، جس کا تمام تر فائدہ ہماری اپنی ذات کو ہی ہے۔ کتنا خوبصورت دین ہے نا جس میں ہر اچھے عمل سے ثواب تو ملتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ جو دنیاوی فائدے ملتے ہیں وہ بھی لاجواب ہیں۔

ایک سجدہ ہی کو دیکھیے اس کی کیا کیا کرامات ہیں کہنے کو ایک سجدہ ہے جو خالق سے بندگی اور قرب کا ذریعہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ میڈیکل سائنس یہ ماننے پر مجبورہوگئی ہے کہ صرف ایک سجدہ کرنے سے انسان کی کمر کی نچلی ہڈی کا درد، ٹخنوں کا درد، انگوٹھے کا درد، گھٹنوں کا درد، کلائیوں کا درد بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔ یہی حال روزے کا ہے اس سے انسانی جسم کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں اور معدہ کے کئی امراض سے بچائوممکن ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اسلام کا حلال و حرام کا تصور بھی مسلمانوں کے لیے کتنا مفید ہے اس کا اندازہ آپ کو حالیہ کرونا وائرس سے ہوچکا ہوگا۔یہ وائرس ان حرام چیزوں کو کھانے کا نتیجہ ہے جو ہمارے ملک میں کوئی دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں آج تک جتنے بھی وائرس اور جراثیم سامنے آئے جن کی وجہ سے خطرناک وبائیں پھیلیں ان میں سے کوئی بھی مسلمان ملک سے نہیں نکلا۔ اس کی وجہ اسلام کا نظام طہارت اور حلال حرام کا تصور ہے۔ اللہ نے قرآن میں بہت واضح احکامات دئیے ہیں حلال اور حرام کے بارے میں، جس پر عمل کر کے ہم بہت سی خطرناک بیماریوں اور وبائوں سے محفوظ ہیں۔

چین میں کرونا وائرس کے انسانی حملے کے بعد دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ یہ وائرس انسانی سانس کے نظام پر حملہ آور ہوکر ہلاکت کی وجہ بن سکتا ہے اور اب تک کئی ہزار افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

کرونا وائرس کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ یہ واقعی عذاب الٰہی ہے اور اللہ تعالی کے احکام سے بغاوت کرنے کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے ہمیں جو حلال و حرام کی تمیز دی اس کی سب سے بڑی حکمت موذی اور خطرناک امراض سے بچائو ہے۔ جس نے ہمیں پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ ہم کیا کھا سکتے ہیں اور کیا نہیں! کون سا جانور ہماری طبیعت کے موافق ہے اور کونسا خلاف، کرونا وائرس اسی زہر اور آگ کا اظہار ہے۔ اسلام میں سانپ، چمگاڈر، بلی، کتا، چھپکلی،سور کا گوشت حرام ہے تو اس کے پیچھے یہی مصلحت ہے۔ پھر اگر اسلام کے نظام طہارت کی بات کریں تو آج میڈیکل سائنس جو علاج بتا رہی ہے وہ دن میں چارپانچ بار وضو کرنا ہے جبکہ ہمیں تو یہ سب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سوسال پہلے ہی بتا دیا تھا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چین میں متاثرہ افراد کی تعداد 75567 ہو گئی ہے جن میں 2239 ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ چین کے ہوبائی صوبے سے شروع ہونے والا نیا وائرس کوویڈ 19 سانس کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔

ایران میں بھی کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 18 ہو چکی ہے۔لبنان، متحدہ عرب امارات، اسرائیل،کینیڈا اور مصر میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے ایران اور لبنان کے پاس بنیادی سہولیات موجود ہیں جو وائرس کی تشخیص کر سکیں اور عالمی ادارہ صحت انھیں مزید معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔ لیکن یہ ادارہ ان ممالک میں اس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے لیے پریشان ہے جہاں صحت کا نظام بہتر نہیں ہے۔

اٹلی میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملک میں 16 سے زیادہ کیسز موجود ہیں جبکہ جنوبی کوریا کے وزیراعظم نے 100 نئے کیسز اور دوسری ہلاکت کی تصدیق کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اب یہاں کورونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد 204 ہو گئی ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چین میں یہ وائرس جیلوں میں بھی پہنچ گیا ہے جہاں 500 قیدیوں میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔صرف ووہان میں خواتین کی جیل میں متاثر ہونے والوں کی تعداد 230 ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ وائرس اب پاکستان تک پہنچ چکا ہے اور دو مریضوں میں اس کی تشخیص ہوئی ہے جو کچھ روز قبل ایران سے ہو کر آئے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان میں سرحدی راستوں اور ائیرپورٹس پر سکریننگ کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ مگر اس حوالے سے ہنگامی اقدامات بہت ضروری ہیں۔

پاکستان میں چین کے سفیر ژاوکہہ چکے ہیں کہ کرونا وائرس سے سی پیک کے منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔ ان پر کام جاری رہے گا،بہت سے چینی ماہرین اس وقت چین میں ہیں کیونکہ چین میں نئے سال کی تقریبات میں شرکت کے لیے رخصت پر گئے ہوئے ہیں۔

چینی حکومت نے انہیں واپس پاکستان جانے سے فی الحال روک دیا ہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا ہفتہ کرونا وائرس پر قابو پائے جانے کے حوالے سے اہم ہے۔ چینی ڈاکٹرز اور ماہرین کوشش کررہے ہیں کہ اس وائرس کو شکست دی جائے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ چین سمیت دنیا میں کہیں بھی اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کو صحت دے اور ہم سب کو ان خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھے آمین۔

کرونا وائرس سے بچائو کے لیے عالمی ادارہ صحت نے باتصویر ہدایات جاری کی ہیں۔جن میں بار بار اچھے صابن سے ہاتھ دھونا۔کھانسی زکام کے مریضوں سے دور رہنا۔ منہ اور ناک ڈھانپنا، پالتو جانوروں سے دور رہنا، کھانا پکاتے وقت ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا،۔ کھانا اچھی طرح پکانا شامل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کو دیکھیں اور پھر اسلامی نظام طہارت، پانچ وقت وضو اور حلال گوشت کے تصور کو دیکھیں تو پھرآپ کو اندازہ ہوگا کہ اسلام کتنی بڑی نعمت اورعظیم دین ہے اور اس پر عمل کرکے ہم کتنی بڑی مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں آج تک جتنے بھی وائرس اور جراثیم سامنے آئے جن کی وجہ سے خطرناک وبائیں پھیلیں ان میں سے کوئی بھی مسلمان ملک سے نہیں نکلا۔ اس کی وجہ اسلام کا نظام طہارت اور حلال حرام کا تصور ہے۔


ای پیپر