زیرِ آسماں… !
28 فروری 2020 2020-02-28

پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے کالموں کا مجموعہ (انتخاب) ’’زیرِ آسماں‘‘ کب سے میرے پاس آیا رکھا ہے۔ مجموعے میں شامل مختلف النوع کالموں کے رنگا رنگ موضوعات ، حسنِ زبان و بیان اور خوبصورت نثر نگاری کے بارے میں اظہارِ خیال کرنا میرے جیسے ایک اوسط درجے کی اہلیت کے مالک شخص کے لیے کوئی اتنا آسان نہیں۔ تاہم پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی سے دیرینہ تعلقِ خاطر کا تقاضا ہے کہ کچھ نہ کچھ اظہارِ خیال ضرور کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ معروف ماہرِ تعلیم، انگریزی ادبیات کے نامور اُستاد اور ممتاز سکالر ہی نہیں گردانے جاتے ہیں بلکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بلند منصب پر چار سال تک فائز رہنے کے علاوہ کئی علمی اور تحقیقی کتابوں اور مقالوں کے مصنف اور ممتاز انگریزی اخبارات میں کب سے مضامین، آرٹیکلز اور ہفتہ وار کالم بھی لکھتے رہے ہیں۔ اُن کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے تعلیم وتدریس اور علم و تحقیق کے میدان میں گھاٹ گھاٹ کا پانی ہی نہیں پیا ہے بلکہ اس میدان میں بڑی محنت ، جانفشانی اور عزم و ہمت کے ساتھ اپنے لیے نمایا ں اور ممتاز مقام بھی حاصل کر رکھا ہے ،تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔اس کے ساتھ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چند سال قبل اُنہوں نے ایک قومی معاصر میں اُردو کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا تو جلد ہی انہوں نے اپنی خوبصورت نثر نگاری کا لوہا ہی نہیں منوا لیا بلکہ اس وقت بلا شبہ اُن کا شمار ملک کے ممتاز ترین کالم نگاروں میں کیا جاسکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کا تعلیمی اور تدریسی کیریئر اور اُن کا خاندانی پس منظر جس کی جھلک اُنکی کالم نگاری میں دیکھی جا سکتی ہے ، بڑا گوناگوں ہی نہیں بلکہ اُن کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو نکھارنے اور سنوارنے میں بھی ممد و معاون رہا ہے۔ اُنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لالکڑتی راولپنڈی سے حاصل کی، میٹرک سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول لالکڑتی ، ایف اے اور گریجویشن سی بی سرسید کالج راولپنڈی اور ایم اے انگلش گورنمنٹ گارڈن کالج راولپنڈی سے کیا۔ بعد ازاں اُن کو سکالر شپ پر غیر ملکی یونیورسٹیوں میں انگریزی زبان و ادب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے یونیورسٹی آف مانچسٹر UK سے ایم اے انگلش اور یونیورسٹی آف ٹورینٹو کینیڈا سے انگلش ادبیات و لسانیات میں ڈاکٹریٹ (Phd ) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بطورِ لیکچرار انگلش ملازمت کا آغاز انہوں نے گورنمنٹ کالج منڈی بہائو الدین سے کیا۔ پھر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی اور ڈیپو ٹیشن پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد اُن کے پائوں میں سینیچر ہو گیا اور اگلے کئی برسوں بلکہ ڈیڑھ دو عشروں تک وہ کہیں ایک جگہ ٹِک کر نہیں بیٹھے ۔ آج یہاں ، کل وہاں۔ اس دوران وہ کئی ممتاز اور نمایاں تعلیمی و تدریسی اداروں میںجہاں انگریزی زبان و ادب کے اُستاد اور صدر شعبہ کے طور پر ہی منسلک رہے وہاں تعلیم و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف اور تحقیق و جستجو میں بھی اُنہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اکتوبر 2014ء سے اکتوبر 2018ء تک وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر کے بلند منصب پر فائز ہوئے تو یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی شعبوں اور ڈیپارٹمنٹس کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور اُن کے تحت تصنیف و تالیف اور تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت پر ہی خصوصی توجہ نہیں دی بلکہ بطور فاصلاتی یونیورسٹی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مقام ، مرتبے اور پہچان کو بھی ایک نئی جہت دی۔ اس وقت وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج (NUML ) میں بطور ڈین سوشل سائنسز خدمات سرانجام دے رہے ہیں تو اُن کی علمی ، ادبی، تحقیقی اور تخلیقی سرگرمیوں اور صلاحیتوں میں مزید نکھار آ گیا ہے جس کا ایک خوبصورت اظہار اُن کی کالم نگاری بھی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کا تعارف کچھ طویل ہو گیا ہے ۔ واپس اُن کی کالم نگاری اور اُن کے کالموں کے مجموعے ’’زیرِ آسماں‘‘ کی طرف آتے ہیں۔ کالم نگاری کے لیے ’’زیرِ آسماں‘‘ کا سر نامہ یا Title بلا شبہ اپنے اندر بڑی معنویت، جامعیت، وسعت ، تنوع اور حسن رکھتا ہے۔ اس سر نامے کا انتخاب پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کیسے کیا اور اس انتخاب میں اُن کے قابلِ احترام بڑے بھائی معروف شخصیت ، نامور کالم نگار، خوبصورت شاعر اور صاحبِ طرز نثر نگار برادرم عرفان صدیقی اور ڈاکٹر صاحب کے ممدوح اور پسندیدہ ادیب اور ایک دور میں انتہائی مقبول اور کثیر الا شاعت ماہنامے ’’سب رنگ ڈائجسٹ ‘‘ کراچی کے مدیر محترم شکیل عادل زادہ کی مشاورت ، رہنمائی اور عملی معاونت کا کتنا ہاتھ ہے اس سے قطع نظر یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ کالم نگاری کے سر نامے کے لیے’ ’زیرِ آسماں‘‘ کی ترکیب کا استعمال یقینا اعلیٰ ذوق اور بلند ویژن کی علامت ہی نہیں بلکہ اس سے کالموں کے وسیع تر موضوعات تنوع اور رنگا رنگی کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ ’’زیرِ آسماں‘‘ کا تصور کریں تو ذہن میں آسماں کے نیچے پھیلی وسیع و عریض کائنات ، اس کے ساتھ زمین ، زمین کی موجودات اور اس پر بسنے والی مخلوقات، اس مخلوقات کے کمالات، معاملات ، حالات و واقعات اور افکار و حوادث سمیت بہت ساری باتیں گھوم جاتی ہیں۔ اس طرح ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کالم نگاری کا سرنامہ اور اُن کے کالموں کے موضوعات آپس میں باہم شیر و شکر دکھائی دیتے ہیں۔ ’’زیرِ آسماں‘‘ میں شامل کالموں کو دیکھیں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے جہاں اپنی کالم نگاری کے لیے مختلف النوع موضوعات کا انتخاب کیا ہے وہاں اُنہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم ، گہرے اور وسیع مطالعے ، بلند ویژن ، علم و تحقیق اور تصنیف و تالیف سے اور کسی حد تک اپنے آبائی (خاندانی) میلان اور وابستگی کو بھی اپنے کالموں میں سمونے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بلا شبہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ چند سال قبل اُنہوں نے ایک قومی معاصر ’’روزنامہ دُنیا‘‘ میں اپنی کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا تو شروع دن سے ہی اُن کو بے پناہ پذیرائی اور قارئین کا وسیع حلقہ ہی نصیب نہ ہوا بلکہ اُن کی خوبصورت کالم نگاری کی ہر طرف تعریف و توصیف ہونے لگی۔

’’زیرِ آسماں‘‘ میں شامل تقریباً سبھی کالم (جن کی تعداد غالباً 68 بنتی ہے)میں نے پہلے سے ہی پڑھ رکھے ہیں۔ اخبار سے براہِ راست یا واٹس ایپ پر ڈاکٹر صاحب کی پوسٹ کے ذریعے اُسی دن جلد یا بدیر کالم پڑھنا میرا معمول چلا آ رہا ہے۔ میرے لیے یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے فون پر اکثر بات ہو ہی جاتی ہے تو پھر اُن کے کالموں یا تازہ کالم کا ذکر آنا بھی لازمی ہوتا ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ کالم پڑھے بغیر کسی رائے کا اظہار ہو نہیں سکتا۔ اس لیے کالم پڑھنا میری مجبوری یا ضرورت گردانی جا سکتی ہے۔ یہ مجبوری اپنی جگہ لیکن اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے کالموں میں عام ڈگر سے ہٹ کر تاریخ و تحقیق

کا جو شعور ، تہذیب کی جو گواہی ، وطن کی مٹی سے جو محبت ، حریتِ فکر کی جو آبیاری ، اپنی اقدار روایات سے جو لگائو ، زبان و بیان کا جو حسن اور سب سے بڑھ کر محبت ، شفقت اور دعائوں کے سراپے اپنے محترم والدین اور اپنے شفیق بھائی کا ذکر اور اسکے ساتھ تربیت ، فکر و سوچ کی آبیاری کرنے اور شخصیت نگاری میں اہم کردار ادا کرنے والے قابلِ قدر اساتذہ اور ساتھیوں کا جو ذکر ملتا ہے اس کی تعریف و تحسین نہ کرنا زیادتی ہو گی۔’’ زیرِ آسمان‘‘ کا کالمی مجموعہ یقینا اس قابل ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی اپنی اس تخلیق پر فخر کر سکتے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر