کورونا وائرس ، خطر ے کی گھنٹی
28 فروری 2020 2020-02-28

گوہمارے اپنے ملک کے سیا سی اور معا شی حا لا ت اس قد ر د گر گو ں ہیں کہ لکھے جا نے وا لے کا لم ان کی تشنگی دور نہیں کر سکتے۔ تا ہم ایک کالم نو یس اور تجز یہ کار ہونے کے حوا لے سے بین ا لا قوا می حا لا ت پہ نظر ر کھے بناء چا ر ہ نہیں۔ سب ہی جا نتے ہیں کہ ہمسایہ ملک چین میں جنم لینے وا لا کر و نا و ا ئر س دنیا بھر کے میڈ یا کی نگا ہو ں کا مر کز بن چکا ہے۔کو ئی شک نہیں کہ بین ا لا قوا می میڈ یا اس حوا لے سے اپنی ذ مہ دا ر یا ں پو ری کر ر ہا ہے۔ اسی حو ا لے سے آ ج کے کا لم کا مقصد اپنے قا رئین کو اس ضمن میں پھیلنے وا لے خطر ا ت سے آ گا ہ کر نا ہے۔ تا دمِ تحر یر ز یرِ نظر کا لم چین میں ہلا کتو ں کی تعدا د 2700سے تجا وز کر چکی ہے۔ ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات کے بعد بلوچستان حکومت نے اپنے خطے میں اس وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی زائرین کے ایران جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ تفتان میں امیگریشن گیٹ بند کردیا گیا ہے جس کے بعد دو طرفہ آمدورفت اور ٹرانزٹ گاڑیوں کا داخلہ نہ ہوسکا۔ ابھی صورت حال کا جائزہ لیا جارہا ہے، کسی بھی خطرے کے بڑھنے کے خدشے کے باعث بلوچستان حکومت وفاقی حکومت سے ایران اور افغانستان کے ساتھ مکمل طور پر سرحد بند کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔

کورونا وائرس چین سے نکل کر ایشیا کے دیگر ممالک، یورپ اور امریکہ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایران میں اس وائرس سے مزید دس افراد زندگی کی بازی ہار گئے جس کے بعد وہاں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد30سے تجا وز کر چکی ہے۔ و ہا ں کے نائب وز یرِ صحت بھی اس سے متا ثر ہو چکے ہیں۔ اور درالحکومت تہران اور قم سمیت ایران کے 14 صوبوں میں سکول، یونیورسٹیاں اور ثقافتی مراکز بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کھیلوں کی تقریبات بھی دس روز کے لیے معطل کردی گئیں۔ افغانستان اور ترکی نے بھی ایران کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کردی ہیں۔ کویت نے اپنی بندرگاہوں پر ایرانی بحری جہازوں کی آمد ورفت معطل اور فلائٹ آپریشنز بھی بند کردیئے ہیں جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ادھر جنوبی کوریا میں بھی اب تک 556 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات میڈیا میں آئی ہیں۔ جاپان میں بھی کورونا وائرس کے 20 نئے کیس سامنے آنے پر وہاں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مغربی یورپ کے ملک اٹلی میں اس وائرس سے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اب تک 132 افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شمالی اٹلی میں منعقد ہونے والا وینس میلہ بھی منسوخ کردیا گیا ہے اور یکم مارچ تک ہر عوامی تقریب اور بڑے اجتماعات پر

پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اٹلی میں اچانک پھیلنے والی کورورنا وائرس کی وبا سے پورے یورپ میں خوف پیدا ہو گیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وائرس کا پھیلائو اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں توشاید یہ بھی پتہ نہ چل سکے کہ وہاں یہ وائرس موجود ہے۔

چین میںاس سے پھیلنے وا لے مر ض سے اسی ہزار سے زیاد ہ افر ا د متاثر ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں کورونا وائرس اب صرف چین ہی کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب چین میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مشکلات درپیش آرہی ہیں تو ترقی یافتہ ممالک کو مشترکہ طور پر اس وبا پر قابو پانے کے لیے چین کی مدد کرنا اور اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا چاہیے۔ اس معاملے میں ترقی یافتہ ممالک کی خاموشی کے باعث اب یہ وبا ان کے لیے بھی درد سر بننا شروع ہوگئی ہے۔ اٹلی ایک بڑا سیاحتی اور صنعتی ملک ہے جہاں یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگ سیاحت اور کاروبار کی غرض سے آتے ہیں، لہٰذا اٹلی میں کورونا وائرس کا پھیلنا اب پورے یورپ کے لیے خطرے کی علامت ہے کیونکہ پورے یورپ میں لاکھوں سیاح اور کاروباری افراد آتے جاتے ہیں۔ چین کے بعد اب پاکستان کے پڑوسی ملک ایران میں کورونا وائرس کا پھیلنا پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے لہٰذا اس وبا کو روکنے کے لیے ایران کے ساتھ فوری طور پر سرحد بند کرنے کا فیصلہ صائب ہے۔ ہماری حکومت کو محکمہ صحت کی ’’اعلیٰ کارکردگی‘‘ اور عوام کو فراہم کی جانے والی ’’بہترین طبّی سہولیات‘‘ کا بھی بخوبی ادراک ہے۔ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ نجی ہسپتالوں میں اخراجات بہت زیادہ ہیں اور وہاں بھی اس وائرس کے حوالے سے کوئی دوائی نہیں ہے۔ اوپر سے ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں احساس ذمہ داری کتنا ہے، اس کا بھی اس ملک کے عوام کو بخوبی پتہ ہے۔ چینی حکومت تو اس وبا پر قابو پانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور ٹیکنالوجی بروئے کار لارہی ہے کیونکہ چین ایک ترقی یافتہ ملک ہے جبکہ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ یہاں کتے کے کاٹنے کے علاج کی ویکسین تک سرکاری ہسپتالوں میں موجود نہیں اور شہری یہ ویکسین نہ ملنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دیگر بیماریوں کے مریض بھی سرکاری ہسپتالوں میں چلے جائیں تو ان کا علاج بھی نہیں ہوتا۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ہر جگہ صورتحال ایک جیسی ہے۔ دوسری جانب پولیو کے 6 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 5 کا تعلق صرف خیبرپختونخواہ کے علاقے سے ہے۔ پہلے بھی پولیو کے زیادہ تر کیسز کا تعلق خیبر پختونخواہ ہی سے رہا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں کے لوگوں کا محکمہ صحت اور پولیو ٹیموں سے عدم تعاون ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے تعاون سے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی پولیو مہم کے باوجود پولیو پر قابو نہیں پاسکے۔ ہمارے پاس طبّی سہولتوں اور وسائل کا جو فقدان ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ دل اور گردے کے مریض مناسب اور فوری علاج نہ ہونے کے سبب سرکاری ہسپتالوں میں پریشان حال پھر رہے ہیں۔ دوسری جانب ادویات کا معیار بھی کسی شک و شبہ سے بالا تر نہیں۔ وفاقی حکومت پہلے ہی طبّی سہولیات کے لیے ناکافی فنڈ فراہم کررہی ہے۔ ملک بھر میں جدید طبّی ریسرچ سنٹر موجود نہیں اور طبّی ماہرین کی شدید کمی ہے۔ ایسے میں اگر خدانخواستہ یہاں کورونا وائرس آدھمکا تو جو تشویشناک اور اذیت ناک کیفیت پیدا ہوگی اس کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ اس لیے حکومت کو سرکاری محکموں کو فعال اور متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور عوامی نمائندوں کے تعاون سے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری کردار ادا کرنا ہوگا اور وہ ممالک جو کورونا وائرس سے متاثر ہورہے ہیں وہاں کسی بھی بنیاد اور مقصد کے لیے آنے جانے والے پاکستانی شہریوں کو روکا جائے۔ شہریوں کو بھی اس سلسلے میں حکومت سے تعاون کرنا چاہیے، یہ ان اور ان کے خاندان کے لیے بھی سود مند ہے۔


ای پیپر