ٹرمپ کا دورئہ بھارت اور ہماری خوش فہمی
28 فروری 2020 2020-02-28

ڈونلڈ ٹرمپ روایتی صدر نہیں بلکہ کافی منہ پھٹ ہیں اور اُنھیں جو کہنا ہوتا ہے وہ موقع محل کو خاطر میں لائے بغیر کہہ جاتے ہیں جسے کچھ لوگ صاف گوئی قرار دیتے ہیں مگر کچھ اصحاب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ٹرمپ کو دنیا کی واحد سُپر طاقت کے صدر ہونے کا احساس ہے اسی بنا پر کسی کو خاطر میں نہیں لاتے کیونکہ وہ جانتے ہیں امریکہ دنیا کے لیے اہم ہے اور کوئی ملک نظر انداز نہیں کر سکتا لیکن قیافے اوراندازے لگاتے ہوئے ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ بطورصدارتی امیدوار بھی انھوں نے مسلم دنیا کے خلاف متنازع باتیں کیں اور پھر منتخب ہو کر متنازعہ باتوں کو عملی جامہ بھی پہنایا جس سے یہ تاثر پیداہوا کہ خاص طور پر اسلام اُن کے نشانے پر ہے بھارت کے پہلے دورے پر بھی انھوں نے کئی متنازعہ باتیں کی ہیں لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ اِتنے بھی سادہ نہیں جتنے نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں وہ منہ پھٹ ہی سہی مگرجس بات سے امریکی مفادات پر زک کا اندیشہ ہو بولتے ہوئے یا توخاموش رہتے ہیں یا پھر متوازن لہجہ اپنالیتے ہیں ۔

چار سالہ صدارتی مدت کے دوران ٹرمپ پہلی بار بھارت کے دورے پر آئے اور نریندرمودی کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے میزبان نے اپنے مہمان کو خوش کرنے کے لیے کیا جتن نہیں کیے غربت چُھپانے کے لیے راستوں کے اطراف میں دیواریں تک بنا ڈالیں تاکہ مہمان اچھا تاثر لے کر جائے حالانکہ متنازعہ شہریت کا قانون بنانے کی وجہ سے بھارت کے طول وعرض میں انتشار وافراتفری ہے مظاہرے و احتجاج روز کا معمول ہیں کشمیر کی خصوصی حثیت کا خاتمہ اقوامِ عالم کے روبرو کیے وعدوں سے پھرنے کے مترادف ہے جس کے بعد دنیا میں بھارت کے بارے اچھا تاثر زائل ہو گیا ہے اِس لیے بھارت کی صورتحال سے کوئی مہمان خوش نہیں ہو سکتا مگر بھارت کو کسی کی اب پرواہ نہیں انتہا پسندوں کے اقتدار میں آنے سے مذہبی رواداری ختم ہو گئی ہے ہر جگہ ہندوتواکا شور ہے اور اقلیتوں کا بُرا حال ہے لیکن ایک ارب تیس کروڑ کی منڈی کی وجہ سے کوئی ملک کُھلم کُھلا تنقید کرنے کی جسارت نہیں کرتا بلکہ سب نے اپنے معاشی مفادات کی وجہ سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اسی لیے نریندرمودی کی موجودگی میں احمد آباد میں خیرمقدمی تقریب میں ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میںاچھے کلمات بولے مگر اچھے کلمات سے ہمیں خوشی فہمی کا شکارہونے کی بجائے سوچ سمجھ کر ہی اعتبار یا اعتماد کرناچاہیے ۔

نمستے ٹرمپ کی تقریب میں امریکی صدر کا پاکستان سے اچھے مراسم کے ذکر اور دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات کی تعریف سے بھارت قدرے پریشان ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مودی کی مُہم کی ناکامی ظاہر ہوئی ہے لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ گزشتہ چودہ برس کے دوران کسی امریکی صدر نے پاکستان کا دورہ کرنے کی زحمت نہیں کی حالانکہ سرد جنگ کے دوران امریکی مفادات کے تحفظ کی پاداش میں پاکستان نے بہت نقصان اُٹھایا ہے روس کی دشمنی مول لی جارج بش مارچ 2006میں مختصر دورے پر پاکستان آئے لیکن پاکستان کوشش کے باوجود اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ نہیں کر سکا جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری میں دلچسپی ہی نہیں وجہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت جیسی بڑی اور کوئی منڈی نہیں بھارت کے ساتھ امریکہ کا تجارتی حجم ایک سو پچاس ارب ڈالر کے ہندسوں کو چھونے لگا ہے جبکہ پاک امریکہ تجارت چھ ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے چین کی معیشت اور قوت کاتوڑ بھارت کے سواکوئی نظر نہیں آتا۔

خیر مقدمی تقریب میں میزبان کی منشا کے خلاف پاکستان کے حق میں اچھے کلمات کی وجہ یہ ہے کہ افغان امن معاہدے کے لیے واشنگٹن انتظامیہ کو ابھی پاکستان کی ضرورت ہے نیز علاقے میں روس،چین ،ترکی اور پاکستان کے بڑھتے مراسم کو اتحاد بننے سے روکنا ہے ا سی لیے فوجی تربیت کا پروگرام بحال کیا ہے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے جواب میں ریاست کو بھارت کا حصہ بنانے کا مودی کا عجلت میں کیا فیصلہ ٹرمپ کو اچھا نہیں لگا لیکن اِس فیصلے کو وہ ختم کرانے کا بھی خواہشمند نہیں اور پاکستان کو کسی طرح مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے مگرعمران خان کی موجودگی میں اب ڈرادھمکا کر کام نہیں لیا جا سکتا وہ بھی ٹرمپ کی طرح منہ پھٹ ہیں اسی لیے اب دوستی جتا کر بات چیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے احمد آباد میں عوامی اجتماع میں ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیاجس پر مودی بھونچکا رہ گئے اور بھارتی میڈیا نے ٹرمپ پر تنقید شروع کر دی حالانکہ امریکہ و بھارت مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کو دہشت گردوں کو زمین استعمال نہ کرنے دینے اور ممبئی و پٹھان کوٹ حملوں کے ملزموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے مشترکہ اعلامیہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں

ممالک کی سوچ ایک ہے اِس لیے چند اچھے الفاظ سُن کر پاکستان کو احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

امریکہ کی زوال پذیر اسلحے کی صنعت کو اچھے خریداروں کی اشد ضرورت ہے چاہے سعودی عرب یااسرائیل یا بھارت ہو اُسے ناز برداری کے بدلے میں اسلحہ بیچنے میں دلچسپی ہے کسی ملک میں انسانی حقوق پامال ہوں یا نسل کشی ہورہی ہو اگرخریدار بڑاہوتو تمام خرابیوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کشمیر سمیت مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پرمودی سے ہونے والی تفصیلی بات چیت کی تصدیق کی مگر ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے قول وفعل میں تضاد ہے تبھی توبھارت نے ٹرمپ کی کسی نصیحت پر عمل نہیں کیا دہلی چار دنوں سے جل رہا ہے اٹھائیس مسلمان جانوں سے ہاتھ دھو چکے لیکن صورتحال بہتر نہیں ہورہی بلکہ دارالحکومت میں بلوائیوں کے مسلمانوں پر حملوں اور املاک نظرآتش کرنے کے دوران پولیس بھرپور معاونت کرتی ہے کیا یہ ظلم وبربریت ٹرمپ کی نظر سے اوجھل رہی ؟یا غریب بستیوں کو چُھپانے کے لیے دیوار بنانے کی طرح یہاں بھی مودی کا کرشمہ کام کر گیا ؟ دنیا بھر کا میڈیا ہندوئوں کی سفاکیاں دکھا رہا ہے مگرٹرمپ خاموش ہیں مبادا تین ارب ڈالر اسلحے کا معاہدہ خطرے میں پڑ جائے ٹرمپ اسلحے کے تاجر کی حیثیت سے تو خاصے کامیاب ہیں مگر نوبل انعام کے لیے اُنھیں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے گزشتہ برس پانچ اگست سے کشمیر میں کرفیو ہے اور نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر فوج قتل کر رہی ہے پھر بھی مودی کی تعریفیں کی جارہی ہے دوغلے پن سے مسائل بھلا حل ہو سکتے ہیں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے خطے کا یہ دیرینہ مسلہ حل نہیں ہو سکتا جب تک عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا تب تک ثالثی کی باتوں سے مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔

اِس میں شائبہ نہیں کہ مملکتوں کے تعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں مودی کی آرزو تھی کہ ٹرمپ کو بھارت بلا کر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مُہم چلائی جائے اور دنیا کو اپنی امن پسندی کا یقین دلایا جائے لیکن یہ آرزو یا چال بُری طرح ناکام ہو گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ ابھی ناراض نہیں کر سکتا لیکن اُس کے مفادات بھارت سے وابستہ ہیںحالانکہ دنیا نہ تو بھارت کو ذمہ دار ملک سمجھتی ہے اور نہ ہی اب سیکولر تسلیم کرنے کو تیار ہے لیکن تعلق بنا کررکھنا چاہتی ہے ٹرمپ نے پاکستان اور عمران خان کی تعریف تو کردی لیکن کشمیر میں جنم لینے والے انسانی المیے کو نظر انداز کر دیا ہے جس کامطلب ہے کہ بھارت سے اُسے الفت ہے کیونکہ بڑی منڈی ہونے کے ساتھ وہ اسلحے کا بھی اچھا خریدار ہے پاکستانی قیادت کو کشمیر پر ثالثی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے حکمت و تدبر اور احتیاط کا مظاہر ہ کر نا چاہیے کیونکہ ٹرمپ نے فلسطین کی طرح کا اگر حل تھوپ دیاتو ہم کیسے انکار کریں گے اور انکار کا جواز کیا پیش کریں گے ؟محتاط رہنے میں ہی عافیت ہے خوش فہمی کا شکار ہو کر نقصان اُٹھانا دانشمندی نہیں۔


ای پیپر