مظلوم فلسطینی اور ہولو کوسٹ کا افسانہ
28 فروری 2020 2020-02-28

فلسطینیوں کے قتلِ عام کا کھیل اسی طرح کھیلا جاتا ہے جیسے یہ سب کچھ ایک ہزار سال پہلے مفتوحہ ملکوں کے شہروں ہوتا رہا ہے۔ ہم اس زمانے میں رہتے ہیں جسے مہذب قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ سول سوسائٹی کی اعلیٰ اخلاقی سرگرمیوں کے چرچے ہوتے ہیں۔ لیکن گزشتہ سات دہائیوں سے فلسطین میں قتل و غارت گری کے کیسے تجربے کئے جا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے خاموش ہیں، انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے چپ سادھی ہوئی ہے۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں، ہم سب بول نہیں سکتے، ہم لکھ نہیں سکتے۔ ہم اسلامی بلاک کے دعوے کرتے ہیں۔ ہم اسلامی امہ کا حصہ ہیں۔ ہم دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اسلامی طاقت میں شامل ہیں۔ دنیا میں ہماری تعداد سوا ارب سے بھی زیادہ ہے، ہم پر ہونے والے ظلم کو کہیں شنوائی نہیں ہے۔ نہ کوئی ہماری سنتا ہے، نہ کوئی ہماری مانتا ہے اور نہ کوئی ہم سے ڈرتا ہے۔ یہودی دنیا میں چندملین ہیں، ہمارا قبلہ اول ان کے قبضے میں۔ امریکہ اب پھر کہہ رہا ہے کہ ہمارا قبلہ اول یہودیوں کے پاس ہی رہے گا۔

حق کی خاطر فلسطینیوں کی قربانیاں کی کوئی حقیقت نہیں، لیکن چند ملین یہودیوں کے جنگِ عظیم میں 60 لاکھ لوگ مارے جانے کی کہانیاں ساری دنیا میں حقیقت سمجھی جاتی ہیں۔ ہولو کوسٹ کے بارے میں بات کرنے والا قانون کی پکڑ میں آ جاتا ہے۔ جو یہودی آج تقریباً 14 ملین ہیں ان کے 6 ملین لوگ آج سے 70 سال قبل کیسے

مارے گئے۔ یہودیوں کو نسلی وراثت میں یہ تاثر منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے کہ ان کے بارے میں کسی بھی عوامی مباحثے یا گفتگو کو نفرت کا شاخسانہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دماغوں میں یہ تصور پختہ ہے کہ یہودیوں کے حوالے سے کوئی بھی گفتگو، چاہے وہ کسی بھی تاثر کے تحت کی جا رہی ہو، لا محالہ نفرت و تعصب کی پیداوار ہوتی ہے اور وہ اسے اپنی بے عزتی سمجھ لیتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہولو کوسٹ پر بات کرنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔ اسرائیل سمیت دس کے قریب یورپی ممالک میں عوامی سطح پر ہولو کوسٹ کو نہ ماننا یا اسے نا جائز قرار دینا جرم ہے اورا س حرکت پر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ان یورپی ممالک میں جرمنی، رومانیہ، فرانس، آسٹریا، بلجیم، جمہوریہ چیک، رومانیہ، سوئٹزر لینڈ، پولینڈ، لتھوانیا اور سلیویکیا ہیں۔ ہولو کوسٹ کو جھٹلانے والے کے خلاف تادیبی کاروائی کا قانون ایک خاص پس منظر کا حامل ہے اور ہولو کوسٹ کے حوالے سے یورپی ممالک میں موجود قانون مسلمانوں کے لئے بھی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس سے پہلے ہمیں ہولو کوسٹ کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہولو کوسٹ کی اصطلاح دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر نیورمبرگ ٹرائل کے موقع پر پہلی بار استعمال ہوئی اور یہیں پہلی مرتبہ 60 لاکھ یہودیوں کے من گھڑت قتلِ عام یعنی ہولو کوسٹ کا ہوا کھڑا کیا گیا۔ اس فرضی کہانی کا اصل مقصد اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھا۔ یہودی نام نہاد مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر پوری دنیا بالخصوص مسلمانوں پر ظلم کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جرمنی میں ہٹلر کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اور دوسری جنگِ عظیم کے 12 سالہ عرصہ کے دوران 60لاکھ یہودی نازیوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترے۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد ہٹلر اور جرمنی کی نازی حکومت کے بارے میں مظالم کی جو داستانیں مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے بیان کی جاتی ہیں ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک انسان مختلف محاذوں پر بڑی جنگ بھی لڑ رہا تھا اور ادھر جرمنی میں بے مقصد قسم کے مظالم سے شغل بھی کر رہا تھا۔ اتحادی بے سروپا داستانیں پھیلا رہے تھے، ان مبالغہ آمیز کہانیوں کے پیچھے اصل مقصد یہودیوں کو مظلوم دکھا کر فائدے اٹھانا، اقتصادی طور پر طاقتور بنانا تھا اور وہ اب بن چکے۔ ہولو کاسٹ کے مطابق نازیوں نے 60 لاکھ یہودیوں کو زہریلی گیسوں اورآگ کی بھٹیوں میں جلایا تھا حالانکہ یہ قطعی ایک فرضی اور من گھڑت افسانہ ہے لیکن یہودی میڈیا نے ذرائع ابلاغ کی مدد سے اس کو اتنا اچھالا ہے کہ تقریباً ساری دنیا اسے سچ سمجھنے لگی ہے۔ یہ افسانہ محض جرمنی کی حکومت سے ایک بھاری ہرجانہ وصول کرنے، مغرب میں یہودیوں کو مراعات دلانے اور حکومت اسرائیل کو ہر طرح سے مضبوط کرنے کے لئے کھڑا کیا گیا تھا۔ امریکہ اور مغرب میں جن دانشوروں نے ہولو کوسٹ افسانے سے جھوٹ کا پردہ اٹھانے اور حقیقت آشکارا کرنے کی کوشش کی ان سب کو مجرم قرار دے کر مختلف سزاؤں کا نشانہ بنایا گیا۔ ہولو کوسٹ کا افسانہ نہ صرف یہودیوں کو ایک ریاست دلا گیا بلکہ آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "اسرائیل فلسطین حل کے منصوبے" کے مطابق 1967ء کے بعد فلسطینی علاقوں میں قائم کی گئی یہودی بستیوں کو امریکہ نے باقاعدہ تسلیم کر لیا جنہیں اقوامِ متحدہ نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔


ای پیپر