پھر بدلے تیور؟
28 فروری 2020 2020-02-28

حزب اختلاف کی طرف سے ایک بار پھر موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لئے جلسے جلوسوں کے انعقاد کے پروگرام کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت ، حکومتی امور نمٹانے کے اہل نہیں ہے اسی لیے اس کے ڈیڑھ برس کے عرصے میں وہ مہنگائی ، بیروزگاری اور ناجائز منافع خوروں پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔

اسے یہ سب کہنا چاہیے کیونکہ جب وہ اقتدار میں تھی تو عام آدمی خوشحال تھا، انصاف سستا اور آسان تھا، تھانوں اور پٹوار خانوں میں رشوت بالکل نہیں تھی، سرکاری اداروں میں توسائلین کو دوپہر کاکھانا مفت ملتا تھا۔ سرکاری کارندوں کی اکثریت گھرجا جا کر مسائل بارے استفسار کرتی تھی کہ جناب عالی! کوئی دکھ تکلیف؟

غرض امن و سکون اور محبت کا دور دورہ تھا مگر اس عمران خان نے آ کر سب کچھ ختم کر دیا۔ مہنگائی آکاس بیل کی طرح پھیل گئی۔ انصاف بھی کہیں کسی کونے میں سکڑ سمٹ گیا، تھانوں اور پٹوار خانوں میں لوگوں سے پیسے لے کر کام کرنے کا رواج ہو گیا ، مافیاز نے بھی جنم لے لیا جو آج عوام کی زندگیوں میں زہر گھول رہے ہیں اور اپنی من مرضی کرتے ہیں حکومت انہیں کچھ نہیں کہتی اگر کہتی بھی ہے تو برائے نام یعنی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتی ہے۔ جدھر دیکھو ’’انی پئی ہوئی اے‘‘

اس لیے حزب اختلاف نے عمران خان کو گھر بھجوانے کا عندیہ دیا ہے تا کہ وہ دور واپس لایا جا سکے جس میں عوام جو جی میں آتا کرتے موجیں لگیں ہوئی تھیں۔ مگر اب وہ سب ایک خواب ہوتا جا رہا ہے۔

قارئین کرام!

تسلیم کہ حکومت عوام کو راحت وسکون مہیا کرنے میں فی الحال ناکام نظر آتی ہے مگر کیا اس کی نیت بھی خراب ہے یہاں میں عمران خان کی بات کر رہا ہوں ان میں بدعنوانی کی ایک بھی جھلک کبھی بھی دکھائی نہیں دی ۔ مہنگائی بڑھی ان سے کنٹرول نہ ہوئی انہوں نے مان لیا کہ اس میں ان کی کاہلی ونااہلی تھی۔ کیونکہ جو بڑھی اس میں مصنوعی زیادہ تھی جسے روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی مگر پنجاب کے اندر عثمان بزدار سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کامیاب کیوں نہیں ہوئے انہیں پی ٹی آئی کو مقبول جماعت کے طور سے ابھارنے کا

جب ہدف دیا گیاتھا تو وہ کیوں ایسا نہیں کرسکے کہیں درپردہ ان کے تعلقات دوبارہ ماضی کی حکمران جماعت سے تو نہیں قائم ہو گئے ؟؟

بہر حال یہ پہلا وزیراعظیم دیکھا گیاہے کہ جو اپنی غلطی کوتاہی اور کمی کو سر عام مانتا ہے اور اسے اس میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی مگر کیا پچھلی حکومتوں کے سربراہان نے بھی ایسا کیا نہیں وہ مسلسل سب اچھا کی گردان کرتے رہے ہیں اور جھوٹ بول کر عوام کو اطمینان دلانے کی کو شش میں مصروف نظر آئے اور اب وہ اپنی چالاکیوں کے دور کو دوبارہ واپس لانا چاہتے ہیں اور عمران حکومت کے خلاف دوبارہ احتجاج کے لیے پرتول رہے ہیں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے انہیں بتارہے ہیں کہ وہ تو اُن کے ساتھ ہونے والے ’’حسن سلوک‘‘ جو گرانی اور ناجائز منافع خوری کی صورت میں ہورہا ہے کی وجہ سے حکومت سے چھٹکارے کا سوچ رہے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ حکومت اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود بدعنوانی کے سخت خلاف ہے اس میں ناجائز منافع خوری ہویا مہنگائی کو قطعی برداشت نہیں کرتی ۔ دراصل حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتیں اس پکڑ دھکڑ کو پسند نہیں کرتیں وہ سمجھتی ہیں کہ انہیں ہر طرح سے استثناء حاصل ہے وہ سیاہ کریں یا سفید عوام کو چھتر ماریں یا ذہنی ازیت دیں انہیں پوچھا نہ جائے۔وہ پریشان نہ ہوں بس پوچھا ہی تو جاتا ہے اور کیا ہوتا ہے کہ ادھر انہیں حراست میں لیا جاتا ہے ادھر آزاد کردیاجاتا ہے۔ انہیں برابر ریلیف مل رہا ہے ان کی عزت و تکریم کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے لہٰذا انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور حکومت سے پیچھا چھڑانے کی کسی مہم کا آغاز نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی مہنگائی و گرانی کا شکوہ ہے اور اپنے ساتھ ہونے والے ریاستی سلوک کا گلہ ہے تو وہ عوام کوہے مگر اب وہ محسوس کررہے ہیں کہ عمران خان نے ان کی جائز شکایات پر کان دھرنا شروع کر دیئے ہیں لہٰذا انہوں نے عوام کے حق میں سخت فیصلے کرنے کی عندیہ دیا ہے ۔ مثال کے طور سے انہوں نے کہا ہے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوںکو نہیں چھوڑا جائے گااگرچہ ان کے سیاسی مخالفین اس پر اُن کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ انہوں نے نوازشریف اور زرداری سے متعلق بھی کہا تھاکہ نہیں چھوڑیں گے اور وہ چھوٹ گئے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کی راہ کھوٹی کی جاتی رہی تو عین ممکن ہے وہ اپنے ہاتھ کھڑے کردیں اور کہہ اٹھیں کہ انہیں مافیاز جو بڑے طاقتور ہیں نے ناکام بنانے کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کر ڈالیں۔ خیر وزیراعظم نے یہ تاثر دے دیاہے کہ وہ فرنٹ فٹ پر آکر کھیلیں گے اور بالکل نہیں گھبرائیں گے لہٰذا انہوں نے بجلی کی قیمتیں نہ بڑھانے کی تجویز دی ہے جبکہ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ جون کے بعد قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔

عوامی بھلائی کے جتنے بھی منصوبے ہیں اُن کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا حکم دیا ہے یہی وجہ ہے کہ جن صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کرنے کا پروگرام ترتیب دے دیا ہے کہا جا رہا ہے کہ کپتان نے ایسے لوگوں کی مشاورت سے بھی توبہ کر لی ہے جنہوں نے اس ڈیڑھ برس میں مشورے لیے اور انہیں تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔

بہر کیف حزب اختلاف حکومت کو اتنا آسان نہ لے جتنا وہ سمجھ رہی ہے کیونکہ اس کو آج اگر پریشان کیا جا تا ہے تو کل وہ ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے یہ سیاست کاری اور حکومتوں کو اُن کی معینہ مدت سے پہلے ہٹانا سراسر غیر جمہوری عمل ہے اگرچہ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ اسے آئینی طریقے سے ہٹایا جائے گا مگر اسے آئین کے مطابق پورے پانچ سال بھی کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے ویسے بلاول بھٹو نے حکومت میں آ کر کیا کرنا ہے یہی کچھ کہ جو وہ سندھ کے اندر کر رہے ہیں بھوک ننگ اور نا انصافی۔ لہٰذا حکومت کو اس کے آخری دن تک دیکھا جائے عوام کی بہتری وہ کر سکی تو دوبارہ اُسے موقع دے دیں گے اگر ایسا نہیں کرتی تو پھر وہ کسی دوسرے کو اقتدار میں لے آئیں گے مگر اگر ذاتی خواہشات کی خاطر حکومت کا دھڑن تختہ کیا جاتا ہے تو وہ مزاحمت کرے گی اس کی کوشش ہو گی کہ اس کے بد خواہ اقتدار میں نہ آ سکیں لہٰذا حکومت پر تنقید کی جائے اسے تجاویز دی جائیں تبدیل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا جائے مگر کیا کیا جائے اقتدار کے سنگھاسن پر بھی تو بیٹھنا ہے؟

حرف آخر یہ کہ عمران خان نے کسی تبدیلی کے لیے خود کو تبدیل کر لیا ہے اب وہ ہر محاذ پر سینہ تان کر کھڑے نظر آئیں گے کیونکہ وہ مزید عوامی تنقید اور نفرت کو برداشت نہیں کر سکتے !


ای پیپر