”توہین رسالت ایک دھندا ہے“
28 فروری 2020 2020-02-28

توہین رسالت کے الزام میں کئی برس تک پاکستان کی جیل میں قیدکاٹنے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو فرانس کی اعزازی شہریت دے دی گئی ہے ۔ اس خبر سے تہذیبوں کے تصاد م کے عنوان سے وہ کتاب یاد آجاتی ہے جسے سیموئیل ہنٹنگٹن نے تحریر کیا تھا۔ یقینی طور پر آسیہ بی بی نے فرانس کے لئے کوئی ایسی خدمات سرانجام نہیں دیں جس کی بنیاد پر انہیں اعزازی شہریت دی جاتی۔ ان پر پاکستان میں مذہب کی توہین کا الزام تھا جس پر سابق چیف جسٹس نے گواہوں کے بیانات میں تضادات ڈھونڈتے ہوئے بریت کا ڈرامائی فیصلہ دیا تھا ۔

میں نے کہا، توہین رسالت ایک کاروبار ہے جسے بڑی کامیابی کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ بہت سارے لوگ توہین رسالت محض اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ پاکستان سے باہر جا سکیں، یورپ سمیت دیگر ممالک کی سیاسی پناہ اور شہریت لے سکیں۔ توہین مذہب اور رسالت کے قوانین کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کیا جاتا ہے کہ اس جرم میں سزائے موت غیر انسانی ہے مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کاروبار کو چلانے والے اتنے طاقتور ہیں کہ انہوں نے آج تک اس جرم میں اول تو سزا ہونے نہیں دی اور اگر کہیں ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ آ بھی گیا تو اس پر عمل نہیں ہونے دیاگیا۔ میری نظر میں توہین کے حوالے سے قوانین ہی توہین کرنے والوں کے سب سے بڑ ے محافظ ہیں۔ یہ قوانین ہر ملزم کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہیں جس میں ہرگز مخالفت نہیں کرتا کہ اگر یہ قوانین نہ ہوں اور ریاستی ادارے توہین کرنے والوں کو معاشرے کے غیض و غضب سے نہ بچائیں تو کوئی ایک ملزم بھی الزام لگنے کے بعد زندہ نہ بچنے پائے۔ آپ اسے جو مرضی سمجھیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ایک مسلمان ہر قسم کے گناہ کا شکار ہو سکتا ہے مگر جب عشق رسول کی بات آتی ہے تو پھر وہ ایک طوفان بن جاتا ہے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ عجب لوگ ہیں، جو قوانین انہیں فائدہ دے رہے ہیں، انہی کے خلاف ہیں۔ یہی قوانین توہین کے ملزمان کو اتنی وی آئی پی حیثیت دیتے ہیں کہ قتل تک کے ملزموں سے تفتیش ایک عام تفتیشی کر سکتا ہے مگر توہین کے ملزمان کے لئے ایس پی ضروری ہے۔

میں نہیں جانتا کہ آسیہ بی بی پر الزام درست تھا یا غلط کہ ایک عدالت نے اس کو سزائے موت دی اور جس عدالت نے اسے رہا کیا ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے سربراہ کے بہت سارے فیصلے قانونی تقاضوں پر پورے نہیں اترتے ،میں یہاں توہین رسالت کا دھندا کرنے والوں کی طاقت اور اثرپذیری کے بارے میں مزید کہوں گا کہ ان لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کو پہلے معلوم کیا بلکہ کسی ایسے طریقے سے آسیہ بی بی کو جیل سے کینیڈا منتقل کیا کہ یہاں کے میڈیا کے ہاتھ اس کی رخصتی کی سفری دستیاویزات مثلا پاسپورٹ، ویزا اور ٹکٹ تک نہ لگ سکے۔ یہ شک کیا جاتا ہے کہ اسے کینیڈا پہنچانے کے لئے غیر معمولی ذرائع استعمال کئے گئے یعنی اعلیٰ ترین حکومتی وسائل۔ یہ گروہ اتنا طاقتور ہے کہ اس نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کو پاو¿ں کی ٹھوکر سے اڑا دیا جس میں انہوں نے فیصلے کے بعد کہا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستان کی ایک آزاد شہری ہیں، وہ جہاں چاہیں جا سکتی ہیں مگر نظرثانی کی اپیل کی وجہ سے ان کا پاسپورٹ جاری نہیں کیا جا رہا ۔

میں تہذیبوں کے تصادم کی تھیوری کے تمام اجزا پر یقین نہیں رکھتا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تصادم کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کرنا ہرگز درست نہیں بلکہ معاملہ مکمل طور پر مختلف ہے۔ کیا پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران سمیت کوئی بھی ملک کسی بھی غیر مسلم ملک میںسماج اور اکثریت کی توہین اور تذلیل کرنے کے مجرموں یا ملزموں کو سپورٹ کرتا ہے، اسے پناہ دیتا ہے، اسے شہریت دیتا ہے، چلیں، حکومتیں تو بہت کمزور ہوتی ہیں اور انہیں بہت سارے آفیشل اور ان آفیشل ڈپلومیٹک پریشرزکا سامنا ہوتا ہے مگر کیا ایک مسلمان دوسرے مذاہب کے پیغمبروں کی توہین کرتا ہے تو اس کا جواب ہے، نہیں، تمام انبیا پر ایمان اور ان کا احترام اس کے عقیدے کا حصہ ہے۔مسلمان جب یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے نبی ، ہمارے عقائد کا بھی احترام کیا جائے، جب وہ اس جائز مطالبے کے پورے نہ ہونے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں جنونی اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے ۔دوسری طرف جب مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں تو مجرم ذہنی مریض قرار پاتے ہیں، یہ کوئی مناسب طریقہ کار نہیں ہے۔

کیاآپ نے کبھی غور کیا کہ جب بھی توہین مذہب یا رسالت کا کوئی ملزم پکڑا جاتا ہے یا معاشرے کی طرف سے ردعمل کا نشانہ بن جاتا ہے تو ہمارے میڈیا پر بالعموم اور سوشل میڈیا پر بالخصوص اس کے بے گناہ ہونے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ بہت سارے ایسے لوگ جن کے نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں اور وہ کبھی ملزم سے ملے نہیں ہوتے، کسی تحقیق کے تکلف میں پڑے نہیں ہوتے وہ اوٹ پٹانگ باتوں سے ثابت کرتے ہیں کہ اس نے کوئی توہین نہیں کی، وہ عجیب و غریب قسم کے بے ڈھنگے ثبوت تراشتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہر وہ ملزم بے گناہ ہے جو پکڑا جائے یا جس کے خلا ف ردعمل آئے تو سوشل میڈیا پر اسلام اور پیغمبر اسلام مخالف سینکڑوں پیجز اور پروفائلز موجود ہیں، انہیںکون چلا رہا ہے۔یہ سب ملک سے باہر جانے کے لئے بہت مفید ، کارگر اور آزمودہ فارمولہ ہے۔ میں نے راوی روڈ کی لکڑ منڈی کے قریب مسیحی برادری کی وہ آبادی دیکھی جس کے کچھ گھروں کو مشتعل مسلمانوں نے ایک الزام کے بعد آگ لگا دی تھی۔ پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے بھاری مالی امداد دی تھی، پنجاب نے وہ تمام گھر دوبارہ تعمیر کر کے دئیے تھے اور ہر گھر میں موٹرسائیکل بھی دی گئی تھی یعنی وہ گھاٹے کا سودا نہیں رہا تھا۔ بیرون ملک جانے کے شوق میں پاگل ہوجانے والے اس مقصد کے حصول کے لئے ایک اقلیت کا نام اور پہچان بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات ہرگز حیران کن یا خفیہ نہیں کہ قادیانیت کے نام پر ویزوں وغیرہ کے حصول کے لئے باقاعدہ گروہ کام کرتے ہیں۔

بہرحال ! جب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت یہ قرار دے رہی ہو کہ آسیہ بی بی بے گناہ ہے تو یقینی طور پر اس عدالت کے جج اللہ اور اس کے رسول کی عدالت میں اپنے فیصلوں کے لئے بالعموم اور اس فیصلے پر بالخصوص جوابدہ ہیں، ہمیں اس پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم جس نبی امی کو اپنا سردار کہتے ہیں اللہ رب العالمین انہیں اپنا محبوب کہتے ہیں اور سب سے طاقتور بادشاہ کے محبوب کی عزت کا خیال ہم جیسے عامی کیسے رکھ سکتے ہیں، وہ جس کا کام ہے وہ بہتر طور پر جانتا ہے۔ مجھے شیخوپورہ کے دیہاتوں میں رُلتی ہوئی غریب عورت آسیہ بی بی کو فرانس کی شہریت ملنے پر حیرت اس لئے نہیں ہوئی کہ میں جانتا ہوں کہ تہذیبوں کے تصادم کی تھیوری میں سب غلط نہیں ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ ایک دھندا ہے جو بہت کامیابی سے چل رہا ہے۔


ای پیپر