دوجنگوں اور ہجرت کاتجربہ
28 فروری 2019 2019-02-28

میں نے کبھی جنگ لڑی تو نہیں، لیکن جنگ لڑتے دیکھی ضرور ہے۔ اور اس جنگ کے اثرات کا تجربہ بھی ہے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں جب تھرپارکر کے شہر چھاچھرو ہائی اسکول میں نویں جماعت کا طالبعلم تھا تو 1965 کی جنگ ہوئی تھی۔ تب تھر میں نہ سڑکیں تھیں نہ دیگر سہولیات۔ چھاچھرو تحصیل ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس پسماندہ اور دور دراز علاقے کے باسیوں نے کبھی فوج دیکھی نہیں تھی۔ شہر میں زیر تعلیم طلباء نے بھی کسی فوجی کو نہیں دیکھا تھا۔سوائے نصاب کی کتب میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی تصویر کے یا کبھی کبھار اخبارات میں کسی فوجی تقریب کے۔ البتہ رینجرز سے واقف تھے اور تھر کے لوگ اسی کو فوج سمجھتے تھے۔ مختلف چوکیوں پر تعینات رینجرز کے پاس اونٹ ہوتے تھے۔ ان کی گاڑیان کبھی کسی افسر کے دورے کے موقع پر ہی نظر آتی تھی۔ وہ بھی تین چار ماہ میں کوئی ایک مرتبہ۔ رن آف کچھ میں لڑائی ہوئی ، اس کا ذکر بھی ریڈیو پر یا تھوڑا سا اخبار سے پتہ چلا۔ تھر کے لوگ اس لڑائی سے لاتعلق نظر آتے تھے۔ سب سمجھتے رہے کہ یہ بہت دور کی بات ہے۔ پھر اچانک شہر میں رینجرز کی نفری زیادہ آگئی۔ اور فوج بھی نظر آنے لگی۔ اگلے دو تین روز کے بعد ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے مسلمان طلباء کو بلایا اور بتایا کہ انڈیااور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اور ہم مسلمان لڑکوں کو بطور اسکاؤٹ ڈیوٹی دینی ہے۔ دیہی علاقوں سے آکر ہوسٹل میں قیام پزیر لڑکے اسکول کی اسکاؤٹ سرگرمی یا دیگرغیر نصابی سرگرمیوں میں کم ہی حصہ لیتے تھے۔ شہر میں مسلم آبادی کم تھی، جس کی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ شہر میں رہنے والے کچھ غیر مسلم لڑکے اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ ہم مسلم لڑ کوں کو اسکاؤٹنگ کے بارے میں میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ہم میں سے کسی ایک نے ہیڈ ماسٹرکو بتایا بعض غیر مسلم لڑکے اچھے اسکاؤٹ ہیں۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ نہیں۔ صرف مسلم لڑکوں کو ہی یہ کام کرنا ہے اوپر سے آرڈر ہے۔ خیر ہمیں ہمارے ڈرل ٹیچر جو کہ ایک ریٹائرڈ فوجی حولدار یا لانس نائک تھے ان کے حوالے کیا گیا۔تین تین کے گروپ بنائے گئے اور ہر گروپ کو شہر کا ایک محلہ دیا گیا۔ جہاں پر ہماری ڈیوٹی یہ تھی کہ سورج غروب ہونے کے بعد ہمیں شہر میں بلیک آؤٹ پر عمل درآمد کرانا ہے۔ کوئی روشنی نظر نہ آئے۔ ہمیں ہلکی پھلکی ہدایات اور تربیت دینے کے بعد ایک سیٹی (وسل) ایک چھوٹی سی ڈنڈی اور ایک بیج دیا گیا۔ ہم سورج غروب ہونے کے بعد رات کو بارہ بجے تک متعلقہ محلے کی گلیوں میں آوازیں لگاتے رہتے تھے کہ بتیاں بند کرو۔ چھاچھرو شہر میں تب بجلی نہیں تھی۔ لوگ مٹی کے تیل کی لالٹین جلاتے تھے۔ ایک دم شہر کا معمول بدل گیا۔ ایک یہ کہ رات کا کھانا سورج غروب ہونے سے پہلے پکالیا جاتا تھا، اور اس کے بعد اندھیرا ہوتا تھا۔ ہم مسلم لڑکے خود کو شہر کے ان غیر مسلم ہندوؤں سے بالاتر سمجھنے لگے اور یہ بھی مزہ آنے لگا کہ ہم بھی حکم چلا سکتے ہیں بلکہ چلا رہے ہیں۔ شہر میں مقیم ہندو آبادی میں بے آرامی محسوس ہو رہی تھی۔ ان میں غیر یقنینی کیفیت کو ہم محسوس تو کر رہے تھے لیکن سمجھ نہیں پارہے تھے کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ ہم لوگ بھی تو رہ رہے ہیں۔ برسوں بعد ان کی اس کیفیت کی وجہ سمجھ میں آئی۔

مزید فوج اور ر ینجرز شہر میں آنے لگی۔ ہمارے ہوسٹل کے قریب واقع سرکاری ریسٹ ہاؤس میں فوجی افسران أنے لگے۔ چھاچھرو شہر کے لوگوں نے زندگی میں پہلی بار ہیلی کاپٹر بھی دیکھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جنرل ٹکا خان جن کے پاس اس سیکٹر کی کمانڈ تھی وہ دورے پر أئے تھے۔ ہیلی کاپٹر ریسٹ ہاؤس کے پاس میدان میں اترا تو اتنازور سے شور ہوا اور مٹی اڑی تھی جس کا ہم میں سے کسی کو پہلے تجربہ نہیں تھا۔ہوسٹل کا ایک حصہ فوج اور رینجرز کے حوالے کردیا گیا۔ جہاں پر محاذ سے واپس آنے والے یا محاذ پر جانے والے سپاہیوں کو ٹھہرایا جاتا لیکن یہاں وہ سپاہی ہوتے تھے جو بیمار یا زخمی ہوتے تھے۔ ان سے کبھی کبھی کبھار محاذکے قصے کچھ حقیقی کچھ مبالغے والے سنتے تھے۔

لیکن ہماری یہ حکمرانی زیادہ دن نہیں چلی۔محاذ پر جیسے ہی تیزی آئی، اسکول اور ہوسٹل بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اور ہوسٹلرز سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے گاؤں چلے جائیں۔

جب ڈیڑھ ماہ بعد واپس آئے تو جنگ ختم ہو چکی تھی۔ رینجرز کا شہر کے مغربی حصے میں ہیڈکوارٹر بن چکا تھا۔ شہر میں بھی رینجرز کی موجودگی کو محسوس کیا جاسکتا تھا۔ بعض سرکاری عمارتیں ابھی تک رینجرز یا فوجی استعمال میں تھیں۔ یہاں تک کہ مسلم ہوسٹل بھی۔ اسکول ہیڈ ماسٹر نے بڑی جدوجہد کے بعد ہوسٹل کا ایک حصہ طلباء کے لئے خالی کرایا اور تین کمرے رینجرز کو دے دیئے گئے۔ بیچ میں دیوار کھڑی کردی گئی۔ شہر کا ماحول تبدیل تھا۔ اسکول میں حاضری کم تھی، دیہی علاقوں سے نصف بچے بھی واپس نہیں آسکے تھے۔ تب یہ پتہ چلا کہ کچھ علاقوں پر انڈیا نے قبضہ بھی کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انڈیا کے راجستھان صوبے سے ہزاروں کی تعداد میں مسلم آبادی یہاں منتقل ہو گئی ہے۔ تھر کو پہلی مرتبہ مہاجروں کا تجربہ ہوا۔ نئے آنے والوں کی جارحانہ طبع اور شہروں میںآکر مواقع پر ہاتھ کرنے کا بھی مقامی لوگوں کو تجربہ ہوا۔ جس نے تھر میں ایک نئی نفسیات اور نئے طبقے کو جنم دیا۔

بعد میں جب یونیورسٹی میں پڑھنے آئے تو پتہ چلا کہ اس جنگ میں کیا ہوا تھا۔ انڈیا کے 1617 مربع کلومیٹر علاقے پر پاکستان نے اور پاکستان کے 446 مربع کلومیٹر عالقے پر انڈیا نے قبضہ کیا۔ پاکستان آرمی نے انڈیا کے تقریبا بیس افسران، انیس جونیئر افسران اور 569 دوسر ی ر ینک کے افسران کو گرفتار کرلیا تھا۔

اس جنگ کے نتائج کیا نکلے؟ پہلا یہ کہ پہلی مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو گئی۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان ویزا آسان تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے پاس آزادی سے آجا سکتے تھے۔ کتابیں، میگزین، وغیرہ بھی۔ یہاں تک کہ پاکستانی سینما میں انڈین فلموں کی نمائش بھی ہوتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات 1948 میں نہیں بلکہ 1965 میں بنے۔ پہلے ایک سافٹ بارڈر تھا۔ اور بعض لوگوں نے پاکستان میں اپنی جائدادیں فروخت نہیں کی تھی، وہ سمجھتے تھے کہ ایک دن آئے گا کہ صورتحال تبدیل ہوگی، اور وہ واپس آجائیں گے۔ اس جنگ کے بعد یہ خواب ٹوٹ گیا۔ 1947 کی تقسیم ہند کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی حقیقی جنگ تھی۔ چھ سال بعد انڈیا کی مدد سے مشرقی پاکستان علیحدہ کر کے بنگلادیش بن گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کو انڈیا کی حملے کی کوشش نے لاہور کے لئے مستقل خبنا دیا۔ انڈیا کو یقین ہو گیا کہ پاکستان زبردستی کشمیر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یوں اس جنگ نے دشمنی کا ایک مستقل سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ ایک عجیب جنگ ہے جو کسی نے نہیں جیتی۔ پہلے پاکستان چھ ستمبر کو یوم دفاع مناتا تھا۔ بعد میں جنرل مشرف دور میں یہ دن منانا بند کردیا گیا۔ اب دوبارہ منایا جارہا ہے۔

یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ اس کے بعد پاکستان کا معاشرہ کس طرح سے فوجی سوچ یا شدت پسندی کی طرف گیا۔1971 کی جنگ اس وجہ سے انوکھی اور مختلف ہے کہ اس میں کشمیر کا مسئلہ شامل نہیں۔ بلکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان یا بعض لوگ اس کو یوں بھی لیتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن، بھٹو اور یحیٰ خان کی سیاسی جنگ کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ مشرقی پاکستان کے محاذ پر جو ہوا سو ہوا لیکن اس مغربی محاذ پر بھی جنگ ہوئی۔ انڈیا 5795 مربع کلو میٹرمیل (تقریبا پندرہ ہزار کلومیٹر) پاکستان کے علاقے پر قبضہ کرلیا یہ علاقہ سندھ کا تھر کا خطہ تھا۔ اس کی وجہ سے تھر کو ایک بار پھر آبادی کی منتقلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مرتبہ اس پندرہ ہزار مربع کلومیٹر علاقے کی تقریبا تمام آبادی نے یہ علاقہ خالی کردیاتھا۔ مسلم آبادی سندھ کے بیراج علاقے یا محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئی۔ اور ہندو آبادی کا بڑا حصہ خاص طور پر تاجر اور بالادست طبقہ انڈیا منتقل ہوگیا۔ مسلم آبادی کو انڈین رضاکاروں یا ہندو بالا دستطبقے کے ہاتھوں لوٹ مار کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نتیجے میں غریب علاقے کے غریب لوگ مزید غریب ہو گئے۔ یہ بھی ہوا کہ جب انڈیا نے مقبوضہ علاقے واپس کئے تو منتقل ہونے والی آبادی کے گھر اور دیگر سہولیات تباہ تھی۔ ایک انتقال آبادی 1965 کی جنگ میں مسلم آبادی کی انڈیا سے تھر میں ہوئی اور دوسری مرتبہ ہندو آبادی کی منتقلی بھارت کی طرف ہوئی۔ اورباقی مسلم آبادی کو بھی پرانے گھر مکانات اور املاک چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانا پڑا۔ اس تین طرح کی منتقلی نے تھر کی معیشت، معاشرت اور سیاست پر گہرے اثر چھوڑے۔ جومکمل طور پر ایک الگ باب ہے۔1972میں شملہ معاہدے کے تحت یہ علاقہ واپس پاکستان کو ملا۔تھر کو تیسری مرتبہ کارگل کے موقعہ پر بھی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈیا نے اس واقعہ کے بعد راجستھان سیکٹر پر فوج کشی کی اور جنگی تیاری کی تو لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ 1971 کی جنگ کے ڈرے ہوئے اور لٹے ہوئے تھے۔ سرحد کے قریبی سینکڑوں گاؤں کی آبادی محفوظ مقامات پر منتقل ہوئی۔ اس منتقلی کے بھی لوگوں کی معیشت، اور نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ تھرکے لوگوں نے تینوں مرتبہ اپنے ہی طورپر یہ ہجرت کی اس ضمن میں نہ انہیں کوئی سرکاری آگاہی دی گئی اور نہ ان کی مدد کی گئی۔

ایک بار پھر دو پڑوسی ملکوں کے درمیان جنگ کے گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ایک حد تک دونوں جنگ میں جا بھی چکے ہیں۔ پاک بھارت حالیہ ٹکراؤ کی وجہ سے ماضی کے تین تجربات کی روشنی میں سندھ کے سرحدی خاص طور پر تھر کے علاقے میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ سندھ حکومت نے یہ الرٹ جاری کیا ہے کہ کسی ناگہانی صورت میں علاقے خالی کرائے جاسکتے ہیں۔اس سے شدید خوف وہراس پھیل رہا ہے۔ لہٰذا اس بارے میں لوگوں کو صحیح آگاہی دی جائے اور صحیح صورتحال بتائی جائے اور یہ بھی کہ منتقلی کی صورت میں انکی مدد کی جائے۔


ای پیپر