پا کستا ن کا دند ا ن شکن جو ا ب!
28 فروری 2019 2019-02-28

لطف کی با ت یہ ہے کہ میں ز یر نظرِ کا لم تقر یباً مکمل کر چکا تھا کہ چو نکا دینے و ا لی مثبت خبر سننے کو ملی۔ وہ یہ کہ پا کستا ن نے اپنے اعلا ن کی لا ج ر کھتے ہو ئے بھار ت کو سر پر ا ئز دے یا۔ ستا ئیس فر وری کی صبح کو بھا ر ت کی کنٹر و ل لا ئن کی خلا ف و رزی کے جو ا ب میں پا کستان نے اس کے دو طیا رے مار گرا ئے۔ ز ند ہ با د پا ک فو ج، شکر یہ پا ک فو ج کہ آ پ نے ایک مر تبہ پھر پا کستا ن کو سر خر و ہ کر دیا دیا۔ صا حبو اب پلٹتا ہو ں اسی خبر سے جڑے اپنے کا لم کی جا نب جو میں مکمل کر نے کے قر یب تھا۔ تو با ت کچھ یو ں ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی بیان بازی کا نپے تلے انداز میں بھرپور اور مسکت جواب دے کر نہ صرف پاکستانی کی عسکری تیاریوں اور ناقابل تسخیر دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں دنیا کو آگاہ کردیا ہے بلکہ امن کی خواہش بھی واضح کردی ہے۔ کیونکہ یہی پاکستانی دفاع کا بنیادی فلسفہ ہے کہ ہماری ترجیح امن ہے، جارحیت اور جنگ نہیں اور امن کی ترجیح دفاعی صلاحیتوں کی قوت پر بفضل اللہ ٹھوس اعتماد کا اظہار ہے۔ نیز ہمارے دفاعی ادارے اپنے فرائض کو محض جذباتی نہیں پیشہ وارانہ نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، مگر بھارت چیختا زیادہ ہے۔اس وقت بھی بھارتی قیادت پر ہیجان طاری ہے۔ اسی چیخ و پکار نے ایک ڈیڑھ ہفتے سے دنیا کی توجہ بھارت کی جانب مبذول کروارکھی ہے۔ گو دنیا بھر کے عسکری ماہرین اور دفاعی ادارے جانتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کو بھارت پر کئی لحاظ سے سبقت حاصل ہے۔ صرف دفاعی سازو سامان اور اسلحے کی قوت دفاع کی گارنٹی نہیں، افواج کا معرکے میں آزمودہ کار ہونا زیادہ اہم گردانا جاتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ڈیڑھ عشرے کی جنگ نے پاکستان کی بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کو میدان جنگ کی ٹھوس مشق بہم پہنچائی ہے۔ پاکستان کا دفاعی ساز و سامان ہی نہیں سپاہ بھی میدان جنگ کی آزمائش سے تازہ تازہ گزری ے۔ اس خطے میں پاکستان کے سوا کسی ملک کی افواج کو یہ فخر حاصل نہیں کہ وہ دہشت گرد قوتوں کے خلاف پیچیدہ ترین معرکوں سے ظفریاب نکلی ہوں۔ بھارت کی کیا بساط، امریکہ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ابھی تک افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اور کسی مددگار کا منتظر ہے۔ تاہم اس صورتحال نے امن کی اہمیت اجاگر کردی ہے اور جنہوں نے اپنی جانوں پہ کھیل کر امن قائم کیا وہ امن کی قیمت کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔ یہی معقولیت پاکستان کی جانب سے بھارتی اشتعال انگیزی کا جواب ہے۔ دنیا میں بھارتی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کے اس معقول رویے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ بھارت کے خلاف یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اگلے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اس صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ معاملات کو پُرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان میں بھی بھارتی رویے پر تنقید کی گئی تھی۔ بھارت میں جو صورتحال ان دنوں بنادی گئی ہے، اس ملک کی سیاست کے داؤ پیچ سے واقف لوگ بہت پہلے اس کا اندازہ لگارہے تھے۔ گزشتہ چند مہینوں میں جوں جوں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی ناکامی نمایاں ہوتی چلی گئی اور آئندہ عام انتخابات میں اس متعصب جماعت کی شکست نوشتۂ دیوار بنتی جارہی ہے تو خیال کیا جارہا ہے کہ مودی حکومت کو اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے جو ماحول درکار ہے، سرحدوں پر طیش کی حالت ان میں سرفہرست ہے۔ چونکہ مودی حکومت اپنے پورے دور میں عوام کو سوائے جھوٹی امیدوں اور غیر ہندو آبادی کے خلاف نفرت کے کچھ نہیں دے سکی؛ چنانچہ آج بھارت سماجی سطح پر عدم تحفظ، غربت اور انتشار سے ادھڑ چکا ہے۔ لسانی، نسلی، مذہبی اور معاشی بنیادوں پر تقسیم کے گہرے اثرات بھارتی معاشرت کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس کیفیت نے بھارت کو منہ زور مگر اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ نہ صرف اس ملک کے سیاستدانوں کا ایک بڑا طبقہ نریندر مودی کی اس چال کو پہچان رہا ہے۔ بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ رائے مستحکم ہوچکی ہے کہ بھارت امن کے خلاف اقدامات میں ملوث ہو کر دنیا کے اس حصے کے لیے شدید مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہی نہیں بھارتی عوام بھی اپنے قائدین کی بودی چالوں اور پست ذہنیت کو جان چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی رویے کے خلاف بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ دہائیوں سے قربانیاں دینے والے کشمیریوں کا مقدمہ ان حالات میں مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پلوامہ واقعہ کو مقبوضہ وادی میں قابض افواج کے مظال کے ردعمل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ خود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو اس سے تحرک ملا ہے۔ پلوامہ واقعے پر بھارت کے اشتعال نے تحریک آزادئ کشمیر کو مزید نمایاں کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے معتبر عالمی فورمز پر بھارت کا مجرمانہ کردار مزید واضح ہوچکا ہے۔ عالمی ضمیر پر مقبوضہ کشمیر کے حالات کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت ہانپ رہا ہے۔ وہ اب وقت کے خلاف دیر تک اور دور تک دوڑ نہیں لگاسکے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل پر رضامندی ظاہر کرے اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا وہ حق دے جس کے حصول کے لیے وہ گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کوشاں ہیں اور اس حوالے سے لازوال قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، اس خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی اسے کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ بھارت اگر جارحیت پر آمادہ ہے تو یہ بھی موجودہ صورتحال کا حل نہیں۔ اس کی جارحیت خود اسی کے لیے عذاب بنادی جائیگی۔ پاک فوج کے ترجمان نے اپنی پریس بریفنگ میں یہ حقیقت پوری طرح واضح اور آشکار کردی ہے۔

دو سرے جا نب پلوامہ حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا سارا غصہ کشمیریوں پر نکالا جارہا ہے۔ ہر طرف کشمیری طلبہ اور تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ مقبو ضہ وا دی میں بھا رتی فو ج میں اضا فہ جا ری ہے۔ مگر کیا فو ج کی تعدا د میں اضافہ مسئلہ کا حل ثا بت ہو سکتا ہے۔؟ تا ہم یا د ر کھنے کی بات یہ ہے کہ بھا ر ت جنو نی ضر ور ہے، مگر اس کی قیا دت ا تنی بیو ا قوف نہیں کہ ایٹمی طا قت پا کستا ن سے جنگ کا خطر ہ مو ل لے لے۔ البتہ اگر ما ضی کو سامنے ر کھ کر کو ئی نتیجہ قا ئم کیا جا ئے تو واضح ہو تا ہے کہ پا کستا نی قو م جس ایشو پہ یک جا ن ہو تی ہے تو وہ بھا رت کے جنگی ما حو ل بنا نے سے متعلق ہو تی ہے۔ لہذا آپ اس وقت دیکھ سکتے ہیں کہ و طنِ عز یز میں ہر جا نب سے ایک پیج پہ آ نے کی خو ش کن خبر یں سننے کو مل رہی ہیں۔ سن پینسٹھ کا جذ پہ پھر سے جوا ن ہو تا دکھا ئی دے رہا ہے!


ای پیپر