اب ضد نہیں چلے گی
28 فروری 2019 2019-02-28

موجودہ جنگی ماحول میں پارلیمنٹیرین کو عسکری قیادت کی طرف سے دی گئی ان کیمرہ بریفنگ بڑی خوش آئند ثابت ہوئی۔بڑے عرصے کے بعد ایک خوش گوار منظر دیکھنے کو ملا۔ حکومت کی جانب سے جابرانہ انتقامی کاروائیوں کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے حالیہ پاک بھارت صورتحال منظر نامے میں بھارت کو اتحاد کا ایسا منہ توڑ جواب دیاہے کی وہ یاد رکھیں گے۔یہ عظیم اتحادوقت کی ضرورت بھی تھا۔ اپوزیشن کے ذمہ دارانہ رویے کی جس اندازسے حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود کی جانب سے تعریف ہوئی ہے۔یہ ایک اچھی روائت ہے۔ پاکستان سب کا ہے۔اس کاسہرا آرمی چیف کو جاتا ہے ان کی حکمت عملی سے جنگی ماحول گرمایا نہیں گیاان کی جانب سے ذمہ داری کا معاملہ آرہاہے پاکستان کی اکیس جماعتوں کو خود ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔اور وہ پاکستان کی تمام جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں بھی اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے ایسے ماحول میں کسی قسم کا جنگجو رویہ سامنے نہیں آیا۔ڈی جی ٓئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے بالا کوٹ حملے کے دعوے پر جو ردعمل آیا تھا، اس میں بھی اشتعال انگریز ی نہیں تھی انہوں نے پلوامہ واقعہ پر پاکستان پر لگائے جانے الزامات کے ثبوت مانگے تھے۔ ساتھ بھارت کی حکومت کو یہ بھی بتایا تھاکہ پاکستان کے خلاف جودر اندازی کی گئی ہے اس کا جواب ضرور دیں گے اور ایسا ہو بھی گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی یہی کہا تھا امن کو ایک موقع ملنا چاہیے۔ حملہ کاجواب ضرور دیں گے وقت اور جگہ کاتعین ہم کریں گے۔اور ایسا ہو بھی گیا۔ جب پاک فضائیہ نے ایک حکمت عملی تیار کی بھارت کے دو جنگی طیاروں کو گرایا گیا۔ بالا کوٹ کی سرجیکل سٹرائیک کے دعوے میں کافی جھوٹ تھا۔ جھوٹ کی ہنڈیا چوراہے میں ہی پھوٹتی ہے۔ بھارت کو بتایا گیا ہے کہ طیارے کیسے گرائے گئے اب بھارت کی اپوزیشن جماعتیں بھی کھل کر مودی کو نشانہ بنا رہی ہیں ۔بھارت کی جنگجو طبیعت نے بھارت کو ایسے ماھول میں دھکیل دیا ہے جس سے ان کے لیے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ اب اس منظر نامے میں دونوں مملک کے درمیان ماحول ٹھنڈا ہوتا بھی ہے تو اس کا نقصان آنے والے انتخاب میں مودی کو ہی ہوسکتاہے۔عوام خواہ بھارت کے ہوں یاکستان کے دونوں اپنے اپنے عوام کی تباہی کے کاروبار میں شریک نہیں ہو سکتے۔بھارت نے پہل کی جواب ملا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد بھارت کافی پریشان ہے۔ آتا ہے۔ یہ کوئی جنگی پروپیگنڈہ نہیں تھا۔ چینی وزیر خارجہ، امریکہ، برطانوی وزیراعظم اور دنیا کے اور ممالک بھی امن کی تلقین کر رہے ہیں۔دنیا بھر کی سول سوسائٹی پریشان ہے۔ بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔دنیا نے دیکھا ہے اسی طرح کے چھوٹے واقعات سے جنگیں بڑی ہوتیں ہیں۔ آج کوئی ہٹلر نہیں بن سکتا ہے، پورے ایک سو ایک سال ہوچلے ہیں جب پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تھا۔ جس نے دیکھتے دیکھتے ہی پورے یورپ کی اینٹ سے اینٹ بجا تھی۔ یہ جنگ ٰ آسٹریا کے آرک ڈیوک فرانز فرڈیننڈ کے قتل سے پیدا ہونے والے واقعات کے ایک سلسلے کا نتیجہ میں 1914 میں شروع ہونے والی پہلی جنگ عظیم کی صورت میں سامنے آیا۔ اتحادیوں (برطانیہ، فرانس، روس اور اٹلی) نے محوری طاقتوں (جرمنی، آسٹریا، ہنگری، بلغاریہ اور سلطنت عثمانیہ) کے خلاف جنگ لڑی۔ 11 نومبر 1918 کو ہونے والی یہ جنگ بندی چار سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والی لڑائی کی یاد دلاتی ہے جس میں چار کروڑ سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اسی بنا پر اس کا شمار انسانی تاریخ کی خونی ترین جنگوں میں ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس سے بھی زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔جرمنی جاپان اور دیگر ممالک کو اس کی جو قیمت ادا کرنی پڑی تھی اس کاسارا بوجھ ان عوام پر ڈالا گیا جن کی خواہش کے بغیر یہ جنگ لڑی گئی تھی۔ پاک بھارت تعلقات خطرے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ چین ، روس اوربھارت پہلے ہی مودی اور اسلام آباد ذرا سنبھل کر چلنے کا پیغام دے چکے ہیں۔ بچارے ڈاکٹر قدیر بھی بولے ہیں۔ پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔یہ موقع پاکستان کے تین مرتبہ وزیر اعظم کو خراج تحسین کا ہے جن کے ایک فیصلے نے قوم کا وقار بلند کردیا۔مگر اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے۔نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی تھی اس میں بھارت کے لیے دوستی کا پیغام تھا۔مگر انہوں نے تو پاکستان کا پرچم بلند کیا تھاپاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کے پس منظر میں نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر ایک لینڈ مارک تھی تقریر کا ایک ایک لفظ سو سو بار سوچ کر ڈرافٹ کیاگیاتھا لیکن وزیراعظم کی ڈلیوری کا لب و لہجہ، ان کا اندازِ تخاطب، زبردست تھا۔ مخرج سے ادا کرنا، دورانِ خطاب وقفے، کسی جگہ رکنا اور کسی ٹکڑے کو بیک بار پڑھ جانا اتنا واضح، صریح اور اثر انگیز تھا کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے خطاب کا سارا فوکس مقبوضہ کشمیر پر رہا، بھارت کے مظالم ،کشمیریوں کی حالتِ زار پر رہا اور کشمیریوں کی کاز کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور عزمِ صمیم پر رہا۔ ان کے خطاب میں جِنگو

ازم کے مقابلے میں امن کا پیغام بھی تھا۔ ان کا کارنامہ تھاجب 28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑ جوہری تجربے کی حدت سے پگھل گئے تھے تو یہ فیصلہ قومی وقا ر تھا بھٹو بھی اس خراج تحسین کے پورے پورے حقدار ہیں ۔ بھٹو اور ان کے جانشینوں اورنواز شریف کاپیغام جیل کی سلاخوں سے یہ ہے کہ

پاک وطن کی حرمت پر آنچ نہ آنے دینا

11 نومبر 1918 کو ہونے والی یہ جنگ بندی چار سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والی لڑائی کی یاد دلاتی ہے جس میں چار کروڑ سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اسی بنا پر اس کا شمار انسانی تاریخ کی خونی ترین جنگوں میں ہوتا ہے۔ جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو لوگوں نے سڑکوں گلیوں میں نکل کر خوشی کا اظہار کیا۔امریکہ میں ایک سال پہلے پہلی جنگ عظیم کے قومی عجائب گھر اور یادگار کے زیراہتمام سپاہیوں کے خطوط پڑھنے اور آرٹسٹ ایڈا کوچ کے جنگ میں مارے جانے والے امریکی مردوخواتین فوجیوں کی یاد میں جسموں کی نمائش بھی شامل تھی ۔ خود امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو متوقع طور پر پیرس میں دنیا بھر سے آنے والے درجنوں رہنماؤں کے ہمراہ اس جنگ میں مارے جانے والے ان کروڑوں لوگوں کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی تھی ۔ یہ ان کا سبق تھا ،دوسری جنگ ہٹلر کی اس سوچ سے پھیلی کہ وہ جمہور اور جمہورت کے فیصلے ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ وہ عوام کے مقبول لیڈر تھے۔


ای پیپر